4 years child kidnap from ps pahari pura

شہزادہ فہد۔۔۔۔۔
یہ 16 دسمبر کی شام تھی جب رحمت اللہ اپنی شہد کی دکان میں کام کرنے میں مصروف تھا اچانک اس کے گھر سے فون آیا کہ اس کے چار سالہ بچے کو کسی نے اغواء کر لیا ہے تو ایسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کے بدن سے کسی سے روح زبردستی کھینچ لی ہو۔یکدم سے وہ زمین پرگر پڑا،ہوش میں آتے ہی وہ گھر پہنچا جہاں اسے اس کی بیوی نے بتایا کہ تین افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ اور کہا کہ چاول لے لوتب اس نے ڈرکے مار ے دروازہ نہیں کھولا اکیلے ہونے کے ڈر سے وہ حواس باختہ ہوچکی تھی تا ہم ا سی دوران بیس منٹ گزر چکے تھے اورایک بارپھر دروازے پر دستک ہوئی۔دروازے کے پیچھے سے ایک بچی کی آواز آئی ،پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ وہ پڑوسیوں کی بچی ہے جو معمول کے مطابق کوڑا کرکٹ لیجانے آتی ہے۔دروازہ کھولتے ہی اسے جھٹکامحسوس ہوا،تین افرا دجو کہ پہلے ہی سے اسی تاک میں تھے کہ کسی طرح سے دروازہ کھلے اور ہم اندرداخل ہوں او ر ایسا ہی ہوا ،دروازہ کھلتے ہی وہ تینوں جوکہ مسلح بھی تھے ہمارے گھر میں داخل ہوئے اورمیرے دوسالہ بیٹے مصطفی کودبوچ لیا۔دوسرے لمحے انہوںنے دیکھا کہ مصطفی کا بھائی سہیل جو عمر میں اس سے بڑا ہے کواٹھا کر بھاگنے لگے ۔ان کے اس اقدام پرگھر میں کہرام مچ گیا گھر میں چیخ و پکار شروع ہوگئی تھی ملزم وارادات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔جب رحمت اللہ نے اپنی بیوی کی زبانی یہ ساراقصہ سنا تو باہر محلے میں دیوانہ وارچیخنے لگااور محلے والوں کوبرا بھلا کہنے لگا کہ تم میں سے مرد کوئی نہ تھا جو میرے بچے کو ان سے بچاتا ۔اسی طرح دن گزرتے رہے اور ہر دن اس کے گھر میں ماتم ہوتا ۔ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا رحمت اللہ اپنے گھروالوں کو تسلی دیتا رہا۔ اس کی بیوی دیوانوں کی طرح اپنے بچے کو پکارتی اور یاد کرتی رہی ۔آخر کا راسے ایک نامعلوم نمبرسے ایک کال موصول ہوئی جس میں نامعلوم ملزمان نے اس سے اس کے بچے کی رہائی کے لئے دوکروڑ کی رقم کا مطالبہ کیا۔رحمت کے مطابق میں اپنے بچے کی خاطراپنا سب کچھ بیچنے کیلئے تیار تھا۔ اسی دوران اس نے پولیس کو بھی واقعے کی اطلاع دی تھی، وہ بے خبر اپنے بچے کی یاد میں گم سم رہتا تھاکہ ایک دن اسے پولیس کی جانب سے اطلاع ملی کہ اس کے بچے کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔یہ دن اس کے لئے عید کاد ن تھا وہ دن آہ گیا تھا جب وہ اپنے بچے کو بھر سے اپنی باہنوں میں اٹھا سکتا تھا جیسے ہی وہ اپنے بیٹے کے پاس قریب پہنچا بیٹا نے اسے پہچانے سے انکار کر رہا تھاڈیڑھ ماہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ اپنے باپ کی نہیں پہچان رہا تھا

اے ایس پی فقیر آباد بلال فرقان کا موقف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ایس پی فقیر آباد فرقان بلال کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے 27 چھاپے مارے ملزم بہت شاطر تھے۔اخر کار ملزم قانون کے شکنجے میں آہ چکے تھے پولیس نے یوسف آباد میں مکان پر چھاپہ مار کر دو اغواء کاروں کو گرفتار کرلیاجبکہ گروہ کے سرغنہ اور پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر سمیت دیگر 4 اغواء کار فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کیلئے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں پولیس نے دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انکی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں اے ایس پی فرقان بلا ل نے مزید کہا ملزموں نے چند دنوں بعد ملزمان نے مغوی کے والد سے بچے کی رہائی کیلئے 2کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کردیا تھا جبکہ نہ دینے کی صورت میں بچے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ۔پولیس نے دو اغواء کار وںزبیر ولد بخت لعلی سکنہ ٹیلہ بنداوروقار حسن ولد گل حسن سکنہ شگئی ہندکیان کو گرفتار کرلیاہے جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنے دیگر ساتھیوں سہیل،شہزاد،بلال،مسماة سیمااورکبیر خان کے نام اگلتے ہوئے بتایا کہ مغوی بچہ ان کے قبضہ میں ہے جس پر پولیس نے ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری اور بچے کی بازیابی کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیا پولیس کی جانب سے مسلسل چھاپوں کی وجہ سے ملزمان نے اپنی گرفتاری کے ڈر سے مغوی بچے سہیل کو بغیر کسی تاوان وصول کئے علاقہ یوسف آباد میں چھوڑ دیا جسے انہوں نے تحویل میں لے کراس کے والدین کے حوالہ کردیا اے ایس پی فرقان کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان میں پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر مسماةسیما بھی شامل ہیں جو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت قبائلی علاقہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں جن کی جدید سائنسی خطوط پر نشاندہی کی گئی ہے اور عنقریب انہیں بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا ۔

بازیاب ہونے والے بچے کے والد کا موقف ۔۔
بازیاب ہونے والے 4 سالہ سہیل کے والد نے کہا ہے کہ لخت جگر کے اغواء ہونے کے بعد راتوں کی نیند اڑ چکی تھی اپنی بیوی کو تسلی دیتا رہا لیکن خود اپنا غم دل میں دبائے رکھا گھر والوں کے حوصلے کے لئے ان کے سامنے کبھی نہیں رویا یہاں تک کہ آنکھوں کے پتلوں میں آنسوں دب کر رہ گئے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ جلد ازجلد آنکھوں کا آپریشن کیا جائے اگر اس میں تاخیر کی گئی تو آنکھ بینائی سے محروم ہوجائے گی مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے کو اغواء کاروں کے چنگل سے باحفاظت بازیاب کر وایا گیا یہ دن میں زندگی کا اہم تر ین دن تھا

ایک وہ معلمہ بھی تھی کہ جس نے سانحہ پشاور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے سرخروہوگئی اور ایک یہ معلمہ ہے جس نے چندروپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازا رنیلام کردیا
کسی بھی معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے جتناکردارایک استا دکا ہوتا ہے اتنا شاید ہی کسی اور کا ہواور چونکہ ہم ایک اسلامی معاشرہ کے باسی ہیں اس لئے ہمیںاپنے آخر ی نبی حضرت محمد ۖ کے اس ارشاد کی طرف بھی غور کرنا ہوگاجو انہوںنے فرما کے ہمارے لئے آسان کردیا ارشاد فرماتے ہیں”کہ بے شک میں معلم بنا کربھیجا گیا ہوں”۔آپۖ کے اسی ارشاد کے پیش نظرایک مسلمان استاد کے فرائض سامنے آتے ہیں ا س پر با ت کرنا بہت ہی آسان ہے۔کیونکہ جب ہمارے پیارے نبی ۖ ہی معلم بنا کر بھیجے گئے او ر جنہوںنے عرب کی جاہل او رگری ہوئی قوم کوآسمان کی بلندیوں پر اپنے بہترین اخلاق کی بدولت پہنچا دیا جس کی مثال قیامت تک کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔او ربطورمسلمان اگر ہم بھی معلمی جیسے پیغمبری پیشے کو اپناتے ہیں تو ہمیں بھی ان صفات کو اپنے اندر لانے کی سعی کرنی ہو گی جو صفات ایک معلم کے اندرمعلمانہ صفات بناتی ہیں اور جس کی وجہ سے ایک معلم اپنے شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں قوم کے مستقبل کے لئے تیار کرتاہے۔ لیکن اگرمعلم ہی اپنے فرائض سے اغراض کرکے معاشرہ کو ترقی کی بجائے تنزلی عطا کرے تو یقینامعاشرہ جلد یا بدیراپنی ساخت کھو بیٹھتا ہے ۔اورجیساکہ پشاورحالیہ واقعہ کہ جس میں ایک معصوم نونہال کے اغواء میں ایک معلمہ ملوث پائی گئی کاکرداراگرمعاشرہ دیکھتا ہے تو یقینالوگوں اور خاص طورسے بچوں کے اذہان میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ ہمارا آج کا معلم ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ایک طرف وہ معلمہ تھی جس نے سانحہ پشاورمیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سرخرو ہوگئی او رایک یہ معلمہ ہے جس نے روپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازارنیلام کردیا۔ffffffffffffffffff

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s