mughal empire in peshawar is going to death pti

سروے رپورٹ ۔۔
پشاور(شہزادہ فہد )چمکنی کے قریب گاو¿ں چوہا گوجر میں مغل دور حکومت میں بنائی گئی مسجد رفتہ رفتہ ایک سست موت مر رہی ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی یادگار کی بحالی اور تحفظ کےلئے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اقدامات ان کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔مقامی لوگوں کیجانب سے اس مسجد کو ” بولی “ طور پر جانا جاتا ہے ۔ زرعی کھیتوں اور باغات کے درمیان کھڑی یہ مسجد کے قریب ہر سال آبادی میں جکڑی جا رہی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث مقامی لوگوں کی جانب سے مسجد کو ختم کر نے کی کوششیںکی جا رہی ہیں۔اور اس حقیقت کو پس پردہ رکھا جا رہا ہے کہ مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔مسجد مغل طرز تعمیر کا ایک بہترین شاہکار ہے ۔مسجد کی تعمیر وزیری اینٹوں اور چونے کے پتھر وں سے کی گئی ہے۔مورخین کے مطابق یہ مسجد جہانگیر کے دور میں 17 صدی کے دوران تعمیر کی گئی ہے اور اس مسجد کی تعمیر کا مقصد برصغیر کے دیگر حصوں میں وسطی ایشیا اور افغانستان سے آنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے تھا۔مسجد کی اونچائی میں 12 فٹ، اور چوڑائی 15سے 30 فٹ ہے مسجد کے مرکز میں ایک بڑا محراب ہے جو کہ خستہ حالی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ڈھانچے پر موجود عمارت کے چاروں کو نوں پر میناروں کا نام و نشان غائب ہو چکا ہے جو کہ کچھ عرصہ پہلا موجود تھے ۔ کچھ لو گوں کو خیال ہے کہ اس مقام پر مسجد کے سامنے ایک بڑا پانی کا کنوں تھا جس سے وضو کے لئے پا نی استعمال کیا جاتا تھا اور مسجد کے کے سامنے ایک کھلی زمین بھی تھی جس میں مسافر آرام کر تے تھے ۔
2۔۔۔
گاوں چوہا گجر میں موجود قدیم بو لی مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ آرکیالوجی ایکٹ کے مطابق 70 سال سے زائد عرصہ گزر جا نے والی عمارتیں تاریخ کا حصہ بن جا تی ہیں پشاور میں بیسیوں تاریخی عمارتیں ہیں جو کہ خستہ حال ہیں حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ پر کا م کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے شہر کے گرد Fahad express storyوال سٹی اور دیگر قدیم عمارتوں کو محفوظ کر نے کے باتیں کی جا تی ہیں لیکن تاحال ان منصوبو ں پر کو ئی عمل درآمد نہ ہو نے کے برابر ہے چوہا گجر میں واقع بو لی مسجد کی کی بحالی کے لئے کو ئی بھی ذمہ داری قبول نہیں ر ہا اور متعلقہ حکام کا بولی مسجد کی اہمیت کو نظر انداز کر نا صوبے میں تبدلی کے دعوﺅں کی نفی کر تا ہے

3۔۔۔۔
صوبا ئی دارلحکومت پشاورکا شما ر ا ان شہر وں میں ہوتا ہے جہاں مختلف ادوار میں تہذ بیں پنبتی رہی ہیں۔ پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جو کہ ہر وقت آباد رہا ہے ۔جس کے خدوخا ل آج بھی شہر اور گردونواح میں موجود کھنڈارات میں محسوس کئے جا سکتے ہیں یہ کھنڈارات ہمیں اس تاریخی شہر کی ہزاروں سال تہذیب اور اس میں بسنے والی ہنر مندوںں کی ؑظمت کا پتا دیتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ جس قوم میں کھنڈارات نہیں ہو تے ان کی تاریخ نہیں ہو تی ۔ صوبا ئی حکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں تمام کھنڈارت کی بحالی کےلئے اقدامات کرے تاکہ ہمارا قومی ورثہ محفوظ رہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s