A story of a tomb in peshawar

شہزادہ فہد ۔۔۔۔IMG-20151103-WA0007 IMG-20151103-WA0003 IMG-20151103-WA0004 IMG-20151103-WA0005
پشاور شہر کے معروف اور تاریخی اہمیت کے حامل وزیر باغ روڈ جو شہر کے جنوب میں واقع ہے پر ایک نہایت تاریحی گنبد جو ”بیجو کی قبر“ کے نام پر مشہور ہے اب جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا ہے اور آہستہ آہستہ یہ تاریحی ورثے کا نام و نشان ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آج بھی یہ برج سیا حوں کو اپنی طرف راغب کر تا ہے ۔ مورخین کے مطابق شیح حبیب بابا کے مزار کے باہر ایک نہایت تاریحی گنبد صدیوں پہلے بنایا گیا تھا آج بھی یہ برج سیاحوں کو اپنی طرف مرغوب کرتی ہے۔یہ برج اپنے پس منظر میں ایک درانی بادشاہ کی رومانوی داستان رکھتا ہے۔مگر اس کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے تاریخ سے محبت اور دلچسپی رکھنے والے لوگ ا س سے نہایت پریشان ہیںکیونکہ اس کے مٹنے سے تاریخ کا ایک زندہ اور توانا باب ختم ہوگا۔اس قبر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ تیمو ر بادشاہ جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا وہ اپنے باپ کے وفات کے بعد 1773 عیسوی کو تحت شاہی پر بیٹھ گیا۔اس کی ایک بیوی مغل شہزادی تھی اس کی خدمت کیلئے شاہی محل میںا یک لونڈی تھی جو اپنے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین اور فطین بھی تھی۔اس لونڈی کا اصل نام بیگم جان تھا جس نے اپنی ذہنیت اور قابلیت کی وجہ سے بادشاہ کے ہاں بہت عزت پائی تھی اور پورے محل میں اس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔اپنے دور حکومت میں بادشاہ اکثر ریاستی اور حکومتی معاملات میں اس سے مشورے بھی طلب کرتے تھے۔تیمور بادشاہ کے ساتھ بیگم جان کی اتنی قربت اس کی مغل بیوی اور دربار کے دیگر لوگوں کیلئے ناقابل برداشت تھااور اس کی وجہ سے وہ بیگم جان سے حسد کرنے لگے بیگم جان کی حاکم وقت بادشاہ تیمور کے ساتھ اس قدر قربت نے بادشاہ کی ملکہ اور دیگر ملازمین کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکادی۔یہی وجہ ہے کہ ملکہ اور دیگر ملازمین اسے بیگم جان کی بجائے ”بی بو“ کہہ کر پکارتے تھے اور رفتہ رفتہ ان کا نام بی بو سے” بی جو“ پڑ گئی۔ بی جو پشتو زبان کے لفظ ”بی زو“ یعنی بندر سے ملتا جلتا ہے اور اسے حسد کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے ۔مغل خاندان کے اکابرین بھی بادشاہ اور بیگم جان کے درمیان اس قدر گہرے تعلقات کو اپنے لئے خطرہ ہ محسوس کرتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بیگم جان اپنی ذہن اور عقل سے بادشاہ کو مغل خاندان کے ہر قسم کے سازشوں سے بچانے کے مشورے دیتی تھی اور ان کو بچانے کیلئے ضروری قدم اٹھاتی اسی وجہ سے تمام لوگ کوشش میں لگے تھے کہ کسی طریقے سے بیگم جان کو اپنے راستے سے ہٹالے۔مغل اکابرین نے بادشاہ کی ملکہ کے ہاں ایک خادمہ تعینات کی جو ہر وقت اس کی دل میں بیگم جان کے خلاف نفرت بھڑکاتی تھی بادشاہ کی ملکہ اب اس بات پر تیار ہوئی کہ بیگم جان کو ہمیشہ کیلئے اپنے راستے سے ہٹادےا اپنے اس مذموم منصوبے کو کامیاب بنانے کےلئے خادمہ نے ایک مشروب میں زہر ملا کر بیگم جان کو پلا دیاجس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے آبدی نیند سوگئی بادشاہ نے اس وفادار لونڈی کی قبر پر ایک نہایت شاندار گنبد اور برج تیار کیا جو ایک لازوال تاریحی اور رومانوی داستان کے طور پر پشاور کے ثقافتی منظر کو پیش کرتی ہے

2۔۔۔پشاوروزیر باغ روڈ پر واقع یہ گنبد اب وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر مٹ چکا ہے متعلقہ محکمہ کی عد م دلچپی کے باعث آنے والی نسل وفا کے اس پیکر کا نام ونشان مٹ کر صرف کتابوں میں اس کے بارے میں پڑھیں گے اور تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔برج کے ساتھ دو چھوٹی چھوٹی قبریں بھی تھیں جن کے نشانات شاید اب نہیں رہے یہ بیگم جان کی پالی ہوئی مرغیاں تھی اس نے وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد ان مرغیوں کو بھی ذبح کرکے اس کی قبر کے ساتھ دفنائی جائے لینڈ مافیا اس تاریحی قبرستان اور گنبد کے احاطے پر قبضہ جمانے کی کوشش میں لگے ہیںجس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں مقامی معزرین بزگورں کا کہنا ہے کہ یہ نادرشاہ کے وقت کا نہایت تاریحی اہمیت کا اثاثہ ہے جو حکام کی غفلت کی وجہ سے اب ختم ہورہا ہےمقامی لوگ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کو نئے نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے وفا کے اس پیکر کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات ا ٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی تصویریں صرف کتابوں میں ملے۔

3۔۔۔ محمہ آثار قدیمہ کے مطابق 1920 سے قبل جو بھی پرا نی عمارت ہو اسے ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے پشاور میں درجنوں قدیم اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں ۔جن میں گورگٹھری ، محلہ سیھٹیان ، مسجد مہابت خان ، پلوسی پیران ، کو ٹلہ محسن خان میں موجود مقبرے ، اور لنڈے ارباب میں قدیمی مقرے شامل ہیں ان قدیم تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ورثہ قرار دیا گیا لیکن ابھی درجنوں ایسی عمارتیں اور مقامات جو کہ حکومتی عدم توجہ کے باعث ختم ہو نے کے قریب ہیں ان میں چوہا گجر میں موجود” بو لی مسجد“ چوہا گجر میں موجود ”مغل پل“ ”دلدار مسجد “ اور وزیر باغ میں موجود بیجو قبر حکومتی نظروںسے اوجھل ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s