Monthly Archives: December 2015

One year of Amry Public school

شہزادہ فہد۔۔۔
16دسمبر2014کوپشاورکے آرمی پبلک سکول پردہشت گردحملہ میںاپنے پیاروںکوکھویایہ سانحہ محض دہشت گردی کی واردات نہیںبلکہ ایک طرف یہ معصوم بچوںپرظلم وبربریت کادل دہلادینے والاانسانیت سوزواقعہ تھاجس میںسب سے زیادہ متاثروہ مائیںتھیںجنہوںنے16دسمبرکی صبح اپنے جگرکے ٹکڑوںکوتیارکراکے ان کے ماتھے چھوم کراس امیداورمعمول کے ساتھ سکول روانہ کیاکہ وہ اس درس گاہ میںدن گزارکرسہ پہرمیںگھروںکوپہنچیںگے بچوںکی سکول روانگی کے بعدیہ مائیںگھرکے دوسرے کام کاج کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کے پسندیدہ کھانوںکے بارے میںبھی سوچتی رہی ہوںگی لیکن گھنٹہ ڈیڑھ ہی میںیہ خبران پرقیامت کی طرح ٹوٹ پڑی کہ سکول جانے والے ان کے معصوم پھول بارودکی آگ میںجھلس رہے ہیںاورپھریہ مائیںسب کچھ چھوڑکرپشاورکے ورسک روڈکی جانب دیوانہ واردوڑپڑیںجہاںواقع آرمی پبلک سکول میںگھس آنے والے حملہ آورمعصوم بچوںکونشانہ بنارہے تھے آج ایک سال گزرنے پران عظیم ماﺅںکوتحسین کاخراج پیش کیاجارہاہے بچوںکے ساتھ ساتھ ان کی کئی بہادراستانیاںبھی اس بے رحمانہ حملہ میںشہیدہوئیںجن میںآرمی پبلک سکول کی کلاس ہشتم کی ٹیچر سحرافشاںبھی شامل تھیںسحرافشاںکی والدہ شمیم اخترنے اپنی شہیدبیٹی کاذکر شروع کیاتوان کی آنکھیںپرنم ہوئیںانہوںنے بتایاکہ اپنے شوہرکی وفات کے بعدانہوںنے اپنے بچوںکی بہترین پرورش اورتربیت کی حتی المقدورکوششیںکیںاوراپنے بچوںکوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے پرخصوصی توجہ دی یہی وجہ تھی کہ ماسٹرزکرنے کے بعدان کی صاحبزادی سحرافشاںنے بحیثیت ٹیچرآرمی پبلک سکول سے وابستگی اختیارکی کیونکہ وہ حصول تعلیم اورعلم پھیلانے سے خصوصی شغف رکھتی تھیںاوراس کااندازہ سے امرسے لگایاجاسکتاہے کہ وہ آرمی پبلک سکول میںپڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت کومزیدبہتربنانے کیلئے ایم فل کررہی تھیںبچوںکوپڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے اوربھی کئی ارمان تھے جن میںایک فریضہ حج کی ادائیگی کاارمان بھی شامل تھالیکن قسمت نے انہیںمہلت نہ دی اوروہ اپنے یہ ارمان دل میںلے کردنیاسے رخصت ہوئیں16دسمبرکو اپنے معمول کے مطابق سحرافشاںعلی الصبح بیدارہوئیںاورناشتہ کرکے ڈیوٹی کیلئے روانہ ہوئیںتقریباڈیڑھ گھنٹہ بعدہی ان کے بھائی فوادگل نے ٹیلی فون کیاکہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پرحملہ کردیاہے چونکہ سحرافشاںبھی وہاںپرموجودتھیںتواپنی بیٹی کیلئے ان کی پریشانی لازمی اورقابل فہم امرتھالیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سکول میںموجودسینکڑوںبچوںاوردیگراساتذہ وتدریسی عملہ کی حفاظت وہ خیریت کیلئے بھی دعاگورہیںاورتقریبا7گھنٹے تک اپنی زندگی کی شدیدترین اذیت سے گزرنے کے بعدتقریباپانچ بجے انہیںاطلاع ملی کہ سحرافشاںشہیدکاجسدخاکی کمبائنڈملٹری ہسپتال پشاورپہنچادیاگیاہے جس کے بعدفوادگل ہسپتال جاکروہاںسے سحرافشاںکاجسدخاکی لے کرآئے اپنے آنسوﺅںسے پرنم آنکھوںکے ساتھ شمیم اخترنے کہاکہ جس پھول سی پیاری بیٹی کوانہوںنے صبح ڈیوٹی کیلئے رخصت کیاتھاانہیںبے جان حالت میںدیکھنے پران پرجوگزری وہ ان کیلئے ناقابل بیان ہے اپنی بیٹی کےلئے ان کے بہت سے ارمان تھے لیکن جس طرح سحرافشاںشہیدایم فل کرنے، فریضہ حج اداکرنے اوردیگرارمانوںکواپنے دل میںلئے دوسرے جہاںسدھارگئیںاسی طرح اپنی بیٹی کیلئے میرے یہ ارمان بھی میرے دل ہی میںرہ گئے ہیںسحرافشاںان کیلئے پوری کائنات تھیںوہ بہت رحم دل ،ملنساراورہنس مکھ تھیںضرورت مندوںکی مددکرنے سے دریغ نہیںکرتیںاسی طرح سکول میںدن بھرکی محنت کے بعدوہ ان کے ساتھ گھرکے کاموںمیںہاتھ بٹاتی،خصوصاسوداسلف خریدنے (شاپنگ کرنے)میںخاص دلچسپی لیتیںاور16دسمبرکوبھی انہوںنے ڈیوٹی سے واپس آنے پرمیرے ہمراہ بازارجاکرخریداری کرنے کاپروگرام بنایاتھالیکن قدرت نے ان کیلئے کوئی اورہی پروگرام سوچ رکھاتھامیری سحرافشاں16دسمبرکوسکول سے واپس آئیںلیکن اپنے پیروںکی بجائے تابوت میںلائی گئیںان کی باتیںآج بھی انہیںیادآتی ہیںپشاورکے معروف رہائشی علاقہ گل بہارکالونی کی باہمت فرح ناز16دسمبرکے سانحہ میںشہیدہونے والے آرمی پبلک سکول کی کلاس نہم کے طالبعلم 15سالہ عزیراحمدکی والدہ ہیںعزم اوراستقامت کی علامت فرح نازکے مطابق ان کالخت جگرعزیراحمدپہلی کلاس سے آرمی پبلک سکول میںداخل کرایاگیاتھاکیونکہ یہ سکول آرمی کے زیر انتظام چل رہا ہے اور یہاں سے پڑھنے والے والے تمام بچے دوسرے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت ذیادہ ذہین اور شاطر ہوتے ہیں یہاں سے میٹرک پاس کرکے عزیز احمد کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےلئے امریکہ بھیجنا تھا لیکن دہشت گردوں نے عزیر اور اس کے والدین کے تمام خوابوں کو مٹی میں دفنا دیا شہید عزیز احمد پوزیشن ہولڈر تھا اور اسے اپنی کتابیں اور کاپیاں بہت پسند تھی وہ کسی کو بھی اپنی کتاب یا کاپی نہیں دیتا تھا 16دسمبر2014کو پیش آنے والے سانحہ کے بعد شہید عزیر احمد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی کتابیں ، کاپیاںاور بستہ وغیرہ سکول سے لا کر اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ اس کا بیٹاکسی کو اپنی کتابیں نہیں دیتا تھا اسی سانحہ میں شہید ہونے والے والے جماعت نہم کے طالب علم احمد الہیٰ کی والدہ سمیرا صدیقی نے بتایا کہ وہ آرمی گرلز کالج میں ٹیچر ہے اور اس کے دو بیٹے ایک احمد الہیٰ جو 16دسمبر کو دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہوگیا جبکہ دوسرا اسی سکول میں اولیول میں پڑھتا ہے انہوں نے بتایا کہ وہ خود اسی سکول میں ٹیچر ہے تو اس وجہ سے اس نے اپنے شہید بیٹے کو بھی آرمی پبلک سکول میں داخل کرایا کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا وہ بچپن ہی سے ذہین تھا اور خطاطی کرنے کا بے حدبہت شوق تھا جب بھی فارغ بیٹھتاتوقرآن کے آیات لکھتاتھااحمدالہی نے دوسپارے حفظ کئے ہوئے تھے جبکہ اسے اذان دینے کابھی بہت شوق تھاسمیراصدیقی کے مطابق ان کا بیٹاعصراورمغرب کی اذان بھی دیتاتھا16دسمبرکومیںڈیوٹی دینے کیلئے اپنے دونوںبیٹوںکے ہمراہ گھرسے نکلی تھی احمدالہی کوسکول میںچھوڑنے کے بعدمیںاپنے سکول چلی گئی اورتقریبا10بجے کے قریب کورہیڈکوارٹرسے ہمارے کالج میںفون ہواکہ آرمی پبلک سکول پرحملہ ہواہے ہم سمجھے کہ شاہدچھوٹاساحملہ ہوگاہماری افواج اسے پسپاکردیںگے لیکن جب بعدمیںہمیںاپنے رشتہ داروںکی جانب سے ٹیلی فون کالیںآناشروع ہوئی توہمیںمعاملہ سنگین معلوم ہوااورمیں اپنے سکول سے نکل کر بیٹے کے سکول کی جانب جانے لگی توراستہ میںڈیفنس پارک میںسینکڑوںزخمی بچوںکولٹایاگیا تھاوہاںدیکھاتومیرا بیٹا ان میںنہیںتھاجس کے بعدمیںسی ایم ایچ روانہ ہوگئی لیکن وہاںکسی کواندرنہیں چھوڑا جارہا تھاجہاں 3 گھنٹے انتظارکرنے کے بعد سپیکر پرآوازدی گئی کہ شہیداحمدالہی کے والدین نعش وصول کرنے آجائیںیہ اعلان سنتے ہی ہم پرآسمان ٹوٹ پڑا16دسمبر 2014کوآرمی پبلک سکول ورسک روڈپشاورپرہونے والے دہشت گردحملہ کے چندشہداءکی ماﺅںپرگزرنے والے قیامت کی مختصر داستانیںہیںوگرنہ اس روزپیش آنے والے سانحہ نے جہاںپشاورکے سینکڑوںگھروںمیںصفت ماتم بچھاڈالی وہاںاس ظلم وبربریت کانشانہ بننے والے شہداءکے ماﺅںکی عظیم قربانیوںکاہی نتیجہ اورثمرہے کہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان پرمسلط دہشت گردی کے آسیب جس نے 50ہزارسے زائدپاکستانیوںکی جانیںلیں،قومی معیشت کو100ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچایااورتعلیم ،ثقافت سمیت ہرشعبہ زندگی میںتباہی و بربادی برپاکی اس آسیب کے بارے میںمنتشرالخیال پاکستانی قوم پہلی مرتبہ یکسو،یک جان اوریک آوازہوگئی ۔

Advertisements

story of a garden in peshawar wazir bagh

شہزادہ فہد۔۔۔fffffff
مغلیہ دور کی یادگاروزیر باغ زبوں حالی کا شکار ہے تاریخی باغ کے تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی مٹی اور گندگی سے بھرے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے ،میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی یہ شاندار یادگار کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل ہو چکا ہے پھولوں اور باغات کا خوبصورت شہر پشاورکو اب پھولوں اور باغات کا شہر نہےں کہا جا سکتا ہے شاہی باغ، جناح باغ، وزیر باغ، کمپنی باغ سمیت بہت سارے باغات اس شہر کی خوبصورتی کے ضامن تھے بڑھتی آبادی، نا مناسب منصوبہ بندی اور چاروں طرف پھیلتے شہر نے یہاں کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح چاٹ لیادہشتگردی اور بد امنی کے بعد حکومتی عدم دلچسپی کے باعث شہر پشاور مےں واقع مغلیہ دور کی یادگار وزیر باغ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے مغل دورکی یادگار وزیر باغ درانی حکمران پرنس شاہ محمود درانی کے دور میں سردار فتح محمد خان برکزئی عرف وزیر کی طرف سے تعمیر کیا گیا سردار فتح محمد خان نے پشاور میں شاہ شجاع کی حکمرانی کے بعد 1810 میںاس باغ کی بنیاد رکھی، باغ چار باڑوں پر مشتمل تھا اور کنویں کے ساتھ ساتھ ایک پویلین، مسجد، فٹ بال گراو ¿نڈ، دو کشادہ لان اور تالاب بنائے گئے لیکن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ہزاروں سال پرانی مسجد خستہ حالی کا شکار ہے ، تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے جبکہ تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی گرد و غبار سے اٹے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے بزرگوں کےلئے تازہ ہوا کا ذریعہ اورایک عمدہ تفریح گاہ وزیر باغ تو کہانیوں مےں رہ گیا مغلیہ عہد کا یہ شاندار باغ اب زبان حال سے پکار پکار کر حکومتی بے حسی کا رونا رو رہا ہے درختوں اور سبزے کا وجود بس صرف برائے نام رہ گیا ہے میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا جبکہ ایک چمن مےں جھولے لگائے ہےں لیکن ان جھولوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی انتظامیہ کی بڑی ذمہ داری ہے بد تہذیب نوجوان جھولوں کا ستیاناس کر دیتے ہےں اور بچے دیکھتے ہی رہ جاتے ہےں وزیر باغ پشاور میں سب سے قدیم اور بڑا باغ سمجھا جاتا ہے یہ باغ ایک عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہے پرانی روایت کے مطابق یہ باغ خوبانی، آڑو، انار، ناشپاتی اور رنگا رنگ پھولوں سے بھرا ہوا تھا انگریزی سفیر سر الیگزینڈرنے 1832 میں دورے کے دوران اس تاریخی وزیر باغ میں قیام کیا تھا تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی لوگوںنے اس شاندار یادگار کو کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل کر دیادور جدید مےں تقریبا اس کی ہریالی ختم ہورہی ہے اس باغ کو ماضی میں ایک پکنک کی جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور خاص طور پر اس پیپل کے درخت اس کی خوبصورتی پر غور کیا گیا باغ کی زیادہ تر خوبصورتی کو تباہ کر دیاگیا ہے سماجی کارکنوں نے کئی بار اس پر خدشات اٹھائے ہیں لیکن کوئی شنوائی حاصل نہ ہو سکی وزیر باغ مغلیہ دور کی نشانی ہے سابقہ ادوار میں حکومت نے وزیر باغ کی دیکھ بھال کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن کے مو جود ہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعدمغلیہ دور کے ان باغات کی دیکھ بھال کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے قبضے کر کے پارک کو چھوٹا کر دیا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ تاریخی باغات کو اصل حالت میں لانے لیے حکومت اقدامات کرے۔

صوبا ئی دارلحکومت پشاور پھولوں کا شہر کے نام سے جانا جاتا تھا حکومتی عدم تو جہی پھول ، با غا ت قصہ پارینہ بن چکے ہیں شہر بھر میں تفریحی مقامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔شہر میں کنتی کے چند باغ ہیں جن میں باغ ناران ، شالیمار باغ مشہو ر ہیں جبکہ شاہی باغ ، وزیر باغ کو کرکٹ گراونڈ کے طور پر جا نا جا تا ہے ۔ پشاور میں باغات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور پارکوں میں انٹری فیس سے لے کر پارکنگ فیس کی من مانی وصولی سے شہری گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں باغات کی دیکھ بھال اور تفریحی فراہم کر نا حکومت کی زمہ داری ہے