Monthly Archives: March 2016

REWATI TOPI (QARAQULI)

رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد
عزت و احترام کی نشانی اور تاریخی اہمیت کی حامل قراقلی شب و روز کی گردش ایام کا نشانہ بنتے ہو ئے ما ضی کا حصہ بن گئی جو کہ بھولے سے یاد نہیں آتی رہی سہی کسر اس کے بنا ئے جا نے کی حقیقت نے پو ری کر دی۔ پشاور میں بنا ئے جا نے والی قراقلی دنیا بھر میں مشہور ہو نے کے ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ تین دہا ئی قبل پشاور میں قراقلی کی پچاس سے زائد دکانوں میں صرف دو دکا نیں با قی ہیں جبکہ اس پیشے سے منسلک سیکڑوں گا ریکر کا م نہ ہو نے کی وجہ سے پیشہ تبدیل کر چکے ہیں ۔ قراقلی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث شہر یوں نے اپنی روایات کا خیر آباد کہہ دیا ہے ۔ تین دہا ئی قبل جو قراقلی تین سو سے سات سو روپے میں میں ملتی تھی آج اس کی قیمت آٹھ ہزار سے با رہ ہزار روپے ہو گئی ہے ۔ قراقلی کے تا جر وں کے مطابق اس کو بنا ئے جا نے میں استعمال ہو نے والی کھال انتہا ئی مہنگی ہو گئی ہے جس کے باعث اس کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ قراقلی مو جود ہ حالات میں صرف شادی بیا ہ کے موقع پر پہنی جا رہی ہے جبکہ مو جود ہ حالا ت میں یہ روایات بھی دم توڑنے لگی ہیں ۔ مقامی دکانداروں کے مطابق مہینوں تک قراقلی کا کو ئی گا ہک نہیں آتا جس کے باعث دکاندار اور کا ریگروں کا مشکلات درپیش ہیں ۔ قراقلی بھیڑ کے کم سن بچے کی کھال سے بنا ئی جا تی ہے یہ بھیڑیں ایک خاص نسل کی ہو تی ہیں جو کہ افغانستان میں پا ئی جا تی ہیں ۔ مقامی دکاندروں نے بتایا کہ اس خاص نسل کو دیگر علاقوں میں افزائش نسل کےلئے لا نے کے تجربات کئے گئے ہیں تاہم تمام تجربات ناکام ہو ئے ہیں ۔ کم سن بچے کو ذبع کر نے کے بعد اس کی کھال کو نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے اور پھر اسے کا رخانے دار پر فروخت کر دیتے ہیں جو کہ صفائی کے بعد اس کو بیوپاریوں کے ہا تھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔قصہ خوا نی قراقلی کی صرف دو دکانیں با قی رہ گئی ہیں دہشت گر دی سے متاثر پشاورکے متعدد تا جر دیگر شہریوں کو منتقل ہو گئے ہیں وہاں قراقلی کے کا روبار کی تنزلی کے باوجود اس کا روبار سے منسلک تا جر ثقافت کے زندہ امین ہیں جن کا صلہ انھیں ملنا چا ئیے ۔

قراقلی کو ” جنا ح کیپ “ بھی کہا جا تا ہے جس کو با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے ۔ قراقلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پا کستانی کر نسی میں محمد علی جناح کی تصویر میں نمایا ں دیکھی جا سکتی ہے پاکستا نی کر نسی میں ایک روپے کے سکے سے پا نچ ہزار کے نو ٹ تک تمام تصاویر میں قراقلی واضح ہے ۔ قراقلی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تلے والی ، سلیٹی ، کا لی اور بادامی قراقلی مشہور ہیں ۔ قراقلی کو سرکا ری ملازمین پہنتے تھے جس کی روایات بھی ختم ہو چکی ہے ۔ پا کستان پیپلز پارٹی کے بانی زولفقار علی بھٹو ، جزل ایوب خان ، جزل فضل حق اور دیگر معروف شخصیات بھی قراقلی شوق سے پہنا کر تے تھے ۔ مقامی دکانداروں نے بتا یا کہ ان تمام شخصیات کےلئے پشاور کے کاریگر اسپیشل قراقلی بناتے تھے ۔

پشاور میں بنا ئی جانے والی قراقلی امریکہ ،جاپا ن، لندن اور دیگر ممالک میں رہنے والے افراد کےلئے خصوصی آڈر پر تیار کی جا تی ہے ۔ قراقلی کی روایات کشمیری رہنما وں میں تاحال مقبول ہے ۔ حکومت کی جانب سے تاریخی اہمیت کی حامل اور پاکستانی رویات کی امین قراقلی کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔جس جے باعث آنے والے نسلوں کو شاید قراقلی کا نام بھی یاد نہ رہے ۔ ایک وقت تھا کہ یہ رویات عام تھیں کہ ہر گھر میں بزرگوں اور خاندان کے بڑوںکے پاس قراقلی ہو تی تھی اور شاد ی بیاہ کے موقعہ پر اسے پہنا جا تا تھا

قراقلی جما عت اسلامی کے امراءباقاعدگی سے پہنتے تھے جبکہ مو جود ہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے یہ رویات ختم کر دی ہے۔ جما عت اسلامی کے بانی ابو اعلی مو دودی ، میاں محمد طفیل ، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن قراقلی باقاعدہ پہنتے تھے جماعت اسلامی میں قراقلی کا رواج تا حال قائم ہے مو جود ہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اپنی علاقائی روایا تی ٹوپی استعمال کر تے ہیں جس کی وجہ قراقلی کی روایات ختم ہو گئی ہے ۔

fahad(1).jpg

Advertisements

peshawar mei baghat

پھولوں اور باغات کاشہر پشاور صرف کتابوں میں باقی رہ گیا
آج سے چند سول سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی، زیادہ تر صفحہ ہستی سے مٹا دئےے گئے
، موجودہ نسلیں ایک درجن سے زائد باغوں کے ناموں اور تاریخ سے واقف ہی نہیں
حکومتی عدم تو جہی سے پشاور میں موجود چند با غ بھی اپنی حالت زار بیا ن کر رہے ہیںباغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے
پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے

پشاور (شہزادہ فہد)وادی پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کا محصور تھا یہاں کی ہوا اور موسم زیادہ تر معتدل رہتا ہے زمانہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں اسے ”پشاپورا“ کے نام سے پکارا گیا ہے جس کے معنی ہیں” پھولوں کا شہر “ پشاور باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کےلئے جانے جاتے تھے پشاور ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مسکن مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں اور جن کی ماضی میں کئی مرتبہ پذیرائی بھی کی جا چکی ہے پشاور شہر ، چھاﺅنی اور جامعہ پشاور میں درختوں اور سبزہ زاروں کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ اہلیان پشاور قدیم زمانے ہی سے باغبانی ، پارک بنانے اور سبزہ زاہ لگانے کے بے حد شوقین ہی نہ تھے بلکہ اُنکی حفاظت کے معاملے میں کافی باشعوربھی تھے جسکی وجہ سے بعض صدیوں پرانے باغات آج بھی موجود ہیںجبکہ ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے چند سو سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی اس کے اردگرد قدرتی جنگل واقع تھے جس میں شہنشاہ بابر نے گینڈوں کا شکار اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پشاور کے یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے اردگرد نہ وہ قدرتی جنگل ہیں اور نہ ہی اس کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخ باغات، رفتہ رفتہ سب کچھ مٹ گیا ہماری موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال، جونی اور بہار کیسی تھی نہ صرف بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی غالب اکثر واقف نہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں ان میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراﺅنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئےر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیںبڑھتی ہوئی آباد ی کے باعث پشاورکے موجودہ باغات کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے باغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے پشاور کے باغوں اور سبزہ زاروں کو اُجاڑنے میں سیاسی اور انتظامی شخصیات ہی شریک نہیں رہیں بلکہ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے ماضی قریب میں اند رو ن شہر مسجد نمکمنڈی کی جگہ ایک بہت بڑا پارک تھا یہ پارک اور اسکے ساتھ لائبریری بجوڑی گیٹ ، ڈبگری گیٹ ، سرکی گیٹ اور اس سے ملحقہ محلوں کے لوگوں کےلئے آسودگی اور تفریح کا باعث تھا روزانہ لائبریری میں سینکڑوں افراد مطالعہ کرتے اور پارک میں چہل قدمی کرتے مگر ہمارے مذہبی رہنماﺅں کو یہ بات پسند نہ آئی پاک، لائبریری اور اسکے ساتھ چھوٹی مسجد کو راتوں رات ایک بڑی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اہلیان پشاور پر یہ ظلم عظیم تھا کیونکہ اس مسجد سے ایک کمند کے فاصلے پر نمکمنڈی کی جامع مسجد اور کشمیری مسجد یہاں تک کہ ہر گلی ہر محلے میں ایک مسجد واقع تھی

fahadصو با ئی دالحکومت پشاور میں جہا ں باغات ختم ہو رہے ہیں اور شہریو ں کو شہری تفریحی کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں وہا ں رہی سہی کسر پارکوں کے انٹری ٹکٹوں اور نا مناسب سہولیات نے پو ری کر دی ہے پشاور شہر میں واقع پا رک انتظامیہ کی غفلت کے ویرانی کی صورت پیش کر رہے ہیں۔ پارک میں خود ساختہ ریٹ مقرر ہو نے سے شہری پارک میں جانے سے کترانے لگے۔انٹری ٹکٹ ، جھولے اور پا رکنگ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔اہلیان پشاور نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہر کے باسیوں کو تفریح کے موثر مواقع فراہم کئے جائےنگے

discovery of buddha remains


پشاور : رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد۔
ہر ی پور کے علا قہ خانپور سے 6 کلو میٹر فاضلے پر بھمالہ کے مقام پر پاکستان میں پہلی بار بد ھ مت تہذیب کا عظیم و شان شاہکاردریا فت ہو ا ہے۔ 45 فٹ مجسمے میں بد مت مت کے پیشواکامو ت کا منظر پیش کیا گیا ہے جو کہ قدامت کے لحاظ سے پاکستان کی تایخی کا سب سے بڑا مجسمہ ہے ۔ کنجورین پتھر سے بنائے جا نے والے مجسمہ کھد ائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا جس کو محکمہ آرکیا لوجی کی جانب سے ڈرائنگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ، خیبر پختونخوا میں ٹیکسلا خانپور سے 6 کلو میٹر ایک پر فضاءمقام بھمالہ میں بد مت تہذیب کے آثار دریا فت کئے گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق بھمالہ ہا رو دریا کے قریب ایک پر فضاءمقام ہے بدھ مت کے پیر وکا ر بھمالہ کے راستے کشمیر اور ٹیکسلا کاروبار کے سلسلے میں جا تے تھے اور اس مقا م پر قیام کیا جا تا جہاں انھوں نے خانقاہیں بنا ئی تھیںاس مقام پر سر جان مارشل نے 1930 میں کھد ائی شروع کی تھی جان مارشل اس وقت ڈائر یکٹر جزل آرکیا لو جی فرنٹئیر ریجن تھے جنھوں نے بھمالہ کے مقام پر بد ھ مت کی پر چار کےلئے بنا ئی جا نے والی دیگرعبا دگا ہیں بھی دریا فت کی تھی ۔اس مقام پر صلیبی شکل کا اسٹوپہ جو کہ جسامت میں پاکستان کا سب سے بڑا اسٹوپہ ہے بھی دریافت ہو چکا ہے جو کہ چاروں اطراف سے عبا دت کےلئے استعمال ہو تا تھا ۔ گزشتہ سال محکمہ آرکیا لوجی خیبر پختونخوا کی جانب سے 85 سال بعد سروے کے بعد بد ھا کے مو ت کا منظر پیش کر نے والا مجسمہ دریا فت کیا گیا ہے جس میں بد ھ مت کے پیشوا کے انتقال کا منظر دیکھایا گیا ہے یہ مجسمہ کنجو رین سٹون سے بنایا گیا تھا ماہر آرکیا لو جی اور فیلڈ ڈائر یکٹر بھمالہ عبدالحمید نے بتا یا کہ کنجو رین سٹون جو کہ کمزور پتھر ہے جس کے باعث کھد ائی کے دوران مجسمہ ٹوٹ گیا محکمہ کی جانب سے اس کو دوبا رہ ڈرائینگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ۔ ڈبل سٹوری پر محیط یہ دیو ہیکل مجسمے میں مو جو دہ حالت میں بد ھا کے پا وں کی حالت باآسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔ فیلڈ ڈائر یکٹرعبد الحمید نے بتا یا کہ مو ت کا منظر پیش کرنے والے مجسمہ میں پہلی بار دو ہیلو ( جو کہ شان و شوکت کا نشان سمجھا جا تا تھا ) کے اثار ملے ہیں اس نو یت کا مجسمہ پہلے کبھی دریا فت نہیں کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ اس ریجن میں محکمہ کی جانب سے سروے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ گندھارہ ریجن میں جہاں اب تک بد ھ مت کے بے شمار اثرات ملے ہیں وہا ں اس ریجن میں مزید کتنی چیزیں دریا فت ہو تی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔

تھا ئی زبان میں کہا وت سے کہ” علم سیکھنا ہے تو گند ھا را جا و“اس کی تصدیق چین کے تاریخی دانوں نے کی ہے چینی مورخین کے مطابق گندھا را ریجن جو کہ بد ھ مت کےلئے ایک مقدس زمین کی حیثیت رکھتا ہے مو رخین کے مطابق 3 صد ی عیسوی میں گندھا را ریجن میں 6 ہزار سے زائد یو نیورسٹیاں( خانقاہیں ) قائم تھیں جن میں دینی علوم کے ساتھ دنیا وی علوم کی بھی ترغیب دی جا تی ۔ اس ریجن میں بد ھ مت کے بیشتر اثارات ملے ہیں جو کہ اس کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ”جو لیاں “ بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جولیا ں کے با رے میں مقا می لو گو ں کا یہ خیال ہے یہ لفظ جے ولیاں سے نکلا ہے یہ آرکیا لوکل سائٹ 17 سے 18 سو سال پر انی ہے اس سائٹ کو سپر ڈنٹنڈ ٹ فرنٹیئر ریجن و ڈی جی آرکیا لو جی سر جا ن مارشل نے پنڈت نسیتار یار کی نگر انی میں 1916 میں دریافت کیا تھا ۔ ماہر ین آرکیا لو جی خیبر پختو نخوا کے مطابق یہ پا کستان کی واحد آرکیالوجکل سائٹ ہے کہ بہتر حالت میں ہے ۔ جو لیا ں کوپا نچویں صدی عیسوں میں وائٹ ہنر جو کہ سنٹرل ایشیاءکے قبا ئل اور آتش پرست تھے نے تبا ہ کیا تھا ۔

صو بائی دارلحکومت پشارو میں بد ھ مت کے اثار کثیر تعداد میں ملے ہیں جن کے نام و نشان نا منا سب انتظامات نہ ہو نے کی وجہ سے مٹ چکے ہیں یہ میں تہکال اسٹوپہ ، شاہ جی کی ڈھیری ، زر ڈھیری اور دیگر شامل ہیں ۔ تہکال اسٹوپہ جو کہ صلیبی شکل میں1871 میں دریا فت کیا گیا اس شکل کے اسٹوپہ شاد و نادر ہی دریافت ہو ئے ہیں یہ اسٹوپہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اس کا نا م تو با قی ہے لیکن کو ئی نشا ن با قی نہیں ۔اسی طر ح زر ڈھیری میں صلیبی شکل کے دیو قامت اسٹوپہ دریافت ہو چکے ہیں پشاور میں شاجی کی ڈھیر ی میں بد ھ مت کے اثار جو کہ 1908 سے 1916 کے درمیان دریا فت کئے گئے تھے بیہ مقام بھی تجا وزات ما فیا کی زد میں اپنی اصل حالت کھو چکا ہے

دنیا کا تیسرا بڑا شما ر کئے جا نے والا مذہب ”بد ھ مت“ تھا ئی لینڈ ، نیپا ل ، جاپا ن ، کو ریا ، سر ی لنکا میں سرکا ری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ما نے والے پاکستا نی کی سرزمین کو مقدس زمین تصویر کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے بد ھ مت کے آثار کی منا سب دیکھ بحال نہ ہو نے سے اس کے آثار ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ بد ھ مت کے آثار سے متعلق پشاور میں تاریخی اہمیت کی حامل سائٹ شاہ جی کی ڈھیری میں بد ھ مت کے پیشوا بد ھا کے زیر استعمال بیش بہا قیمتی ہیر ے کا ڈبہ بھی ملا ہے جو کہ پشاور میو زیم میں نما ئش کےلئے رکھا گیا ہے اس طر ح بد ھ مت سے متعلق دیگر نو ازدات پشاور میو زیم اورملک بھر کے عجا ئب گھروں کی زینت بنے ہو ئے ہیں ، حکومت بد ھ مت کے ملنے والے آثار قد یمہ پر قلیل رقم خرچ کر کے اس سیاحوں کو راغب کر نے کا زریعہ بنا سکتی ہے جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔