discovery of buddha remains


پشاور : رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد۔
ہر ی پور کے علا قہ خانپور سے 6 کلو میٹر فاضلے پر بھمالہ کے مقام پر پاکستان میں پہلی بار بد ھ مت تہذیب کا عظیم و شان شاہکاردریا فت ہو ا ہے۔ 45 فٹ مجسمے میں بد مت مت کے پیشواکامو ت کا منظر پیش کیا گیا ہے جو کہ قدامت کے لحاظ سے پاکستان کی تایخی کا سب سے بڑا مجسمہ ہے ۔ کنجورین پتھر سے بنائے جا نے والے مجسمہ کھد ائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا جس کو محکمہ آرکیا لوجی کی جانب سے ڈرائنگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ، خیبر پختونخوا میں ٹیکسلا خانپور سے 6 کلو میٹر ایک پر فضاءمقام بھمالہ میں بد مت تہذیب کے آثار دریا فت کئے گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق بھمالہ ہا رو دریا کے قریب ایک پر فضاءمقام ہے بدھ مت کے پیر وکا ر بھمالہ کے راستے کشمیر اور ٹیکسلا کاروبار کے سلسلے میں جا تے تھے اور اس مقا م پر قیام کیا جا تا جہاں انھوں نے خانقاہیں بنا ئی تھیںاس مقام پر سر جان مارشل نے 1930 میں کھد ائی شروع کی تھی جان مارشل اس وقت ڈائر یکٹر جزل آرکیا لو جی فرنٹئیر ریجن تھے جنھوں نے بھمالہ کے مقام پر بد ھ مت کی پر چار کےلئے بنا ئی جا نے والی دیگرعبا دگا ہیں بھی دریا فت کی تھی ۔اس مقام پر صلیبی شکل کا اسٹوپہ جو کہ جسامت میں پاکستان کا سب سے بڑا اسٹوپہ ہے بھی دریافت ہو چکا ہے جو کہ چاروں اطراف سے عبا دت کےلئے استعمال ہو تا تھا ۔ گزشتہ سال محکمہ آرکیا لوجی خیبر پختونخوا کی جانب سے 85 سال بعد سروے کے بعد بد ھا کے مو ت کا منظر پیش کر نے والا مجسمہ دریا فت کیا گیا ہے جس میں بد ھ مت کے پیشوا کے انتقال کا منظر دیکھایا گیا ہے یہ مجسمہ کنجو رین سٹون سے بنایا گیا تھا ماہر آرکیا لو جی اور فیلڈ ڈائر یکٹر بھمالہ عبدالحمید نے بتا یا کہ کنجو رین سٹون جو کہ کمزور پتھر ہے جس کے باعث کھد ائی کے دوران مجسمہ ٹوٹ گیا محکمہ کی جانب سے اس کو دوبا رہ ڈرائینگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ۔ ڈبل سٹوری پر محیط یہ دیو ہیکل مجسمے میں مو جو دہ حالت میں بد ھا کے پا وں کی حالت باآسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔ فیلڈ ڈائر یکٹرعبد الحمید نے بتا یا کہ مو ت کا منظر پیش کرنے والے مجسمہ میں پہلی بار دو ہیلو ( جو کہ شان و شوکت کا نشان سمجھا جا تا تھا ) کے اثار ملے ہیں اس نو یت کا مجسمہ پہلے کبھی دریا فت نہیں کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ اس ریجن میں محکمہ کی جانب سے سروے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ گندھارہ ریجن میں جہاں اب تک بد ھ مت کے بے شمار اثرات ملے ہیں وہا ں اس ریجن میں مزید کتنی چیزیں دریا فت ہو تی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔

تھا ئی زبان میں کہا وت سے کہ” علم سیکھنا ہے تو گند ھا را جا و“اس کی تصدیق چین کے تاریخی دانوں نے کی ہے چینی مورخین کے مطابق گندھا را ریجن جو کہ بد ھ مت کےلئے ایک مقدس زمین کی حیثیت رکھتا ہے مو رخین کے مطابق 3 صد ی عیسوی میں گندھا را ریجن میں 6 ہزار سے زائد یو نیورسٹیاں( خانقاہیں ) قائم تھیں جن میں دینی علوم کے ساتھ دنیا وی علوم کی بھی ترغیب دی جا تی ۔ اس ریجن میں بد ھ مت کے بیشتر اثارات ملے ہیں جو کہ اس کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ”جو لیاں “ بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جولیا ں کے با رے میں مقا می لو گو ں کا یہ خیال ہے یہ لفظ جے ولیاں سے نکلا ہے یہ آرکیا لوکل سائٹ 17 سے 18 سو سال پر انی ہے اس سائٹ کو سپر ڈنٹنڈ ٹ فرنٹیئر ریجن و ڈی جی آرکیا لو جی سر جا ن مارشل نے پنڈت نسیتار یار کی نگر انی میں 1916 میں دریافت کیا تھا ۔ ماہر ین آرکیا لو جی خیبر پختو نخوا کے مطابق یہ پا کستان کی واحد آرکیالوجکل سائٹ ہے کہ بہتر حالت میں ہے ۔ جو لیا ں کوپا نچویں صدی عیسوں میں وائٹ ہنر جو کہ سنٹرل ایشیاءکے قبا ئل اور آتش پرست تھے نے تبا ہ کیا تھا ۔

صو بائی دارلحکومت پشارو میں بد ھ مت کے اثار کثیر تعداد میں ملے ہیں جن کے نام و نشان نا منا سب انتظامات نہ ہو نے کی وجہ سے مٹ چکے ہیں یہ میں تہکال اسٹوپہ ، شاہ جی کی ڈھیری ، زر ڈھیری اور دیگر شامل ہیں ۔ تہکال اسٹوپہ جو کہ صلیبی شکل میں1871 میں دریا فت کیا گیا اس شکل کے اسٹوپہ شاد و نادر ہی دریافت ہو ئے ہیں یہ اسٹوپہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اس کا نا م تو با قی ہے لیکن کو ئی نشا ن با قی نہیں ۔اسی طر ح زر ڈھیری میں صلیبی شکل کے دیو قامت اسٹوپہ دریافت ہو چکے ہیں پشاور میں شاجی کی ڈھیر ی میں بد ھ مت کے اثار جو کہ 1908 سے 1916 کے درمیان دریا فت کئے گئے تھے بیہ مقام بھی تجا وزات ما فیا کی زد میں اپنی اصل حالت کھو چکا ہے

دنیا کا تیسرا بڑا شما ر کئے جا نے والا مذہب ”بد ھ مت“ تھا ئی لینڈ ، نیپا ل ، جاپا ن ، کو ریا ، سر ی لنکا میں سرکا ری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ما نے والے پاکستا نی کی سرزمین کو مقدس زمین تصویر کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے بد ھ مت کے آثار کی منا سب دیکھ بحال نہ ہو نے سے اس کے آثار ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ بد ھ مت کے آثار سے متعلق پشاور میں تاریخی اہمیت کی حامل سائٹ شاہ جی کی ڈھیری میں بد ھ مت کے پیشوا بد ھا کے زیر استعمال بیش بہا قیمتی ہیر ے کا ڈبہ بھی ملا ہے جو کہ پشاور میو زیم میں نما ئش کےلئے رکھا گیا ہے اس طر ح بد ھ مت سے متعلق دیگر نو ازدات پشاور میو زیم اورملک بھر کے عجا ئب گھروں کی زینت بنے ہو ئے ہیں ، حکومت بد ھ مت کے ملنے والے آثار قد یمہ پر قلیل رقم خرچ کر کے اس سیاحوں کو راغب کر نے کا زریعہ بنا سکتی ہے جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s