peshawar mei baghat

پھولوں اور باغات کاشہر پشاور صرف کتابوں میں باقی رہ گیا
آج سے چند سول سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی، زیادہ تر صفحہ ہستی سے مٹا دئےے گئے
، موجودہ نسلیں ایک درجن سے زائد باغوں کے ناموں اور تاریخ سے واقف ہی نہیں
حکومتی عدم تو جہی سے پشاور میں موجود چند با غ بھی اپنی حالت زار بیا ن کر رہے ہیںباغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے
پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے

پشاور (شہزادہ فہد)وادی پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کا محصور تھا یہاں کی ہوا اور موسم زیادہ تر معتدل رہتا ہے زمانہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں اسے ”پشاپورا“ کے نام سے پکارا گیا ہے جس کے معنی ہیں” پھولوں کا شہر “ پشاور باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کےلئے جانے جاتے تھے پشاور ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مسکن مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں اور جن کی ماضی میں کئی مرتبہ پذیرائی بھی کی جا چکی ہے پشاور شہر ، چھاﺅنی اور جامعہ پشاور میں درختوں اور سبزہ زاروں کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ اہلیان پشاور قدیم زمانے ہی سے باغبانی ، پارک بنانے اور سبزہ زاہ لگانے کے بے حد شوقین ہی نہ تھے بلکہ اُنکی حفاظت کے معاملے میں کافی باشعوربھی تھے جسکی وجہ سے بعض صدیوں پرانے باغات آج بھی موجود ہیںجبکہ ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے چند سو سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی اس کے اردگرد قدرتی جنگل واقع تھے جس میں شہنشاہ بابر نے گینڈوں کا شکار اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پشاور کے یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے اردگرد نہ وہ قدرتی جنگل ہیں اور نہ ہی اس کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخ باغات، رفتہ رفتہ سب کچھ مٹ گیا ہماری موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال، جونی اور بہار کیسی تھی نہ صرف بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی غالب اکثر واقف نہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں ان میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراﺅنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئےر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیںبڑھتی ہوئی آباد ی کے باعث پشاورکے موجودہ باغات کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے باغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے پشاور کے باغوں اور سبزہ زاروں کو اُجاڑنے میں سیاسی اور انتظامی شخصیات ہی شریک نہیں رہیں بلکہ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے ماضی قریب میں اند رو ن شہر مسجد نمکمنڈی کی جگہ ایک بہت بڑا پارک تھا یہ پارک اور اسکے ساتھ لائبریری بجوڑی گیٹ ، ڈبگری گیٹ ، سرکی گیٹ اور اس سے ملحقہ محلوں کے لوگوں کےلئے آسودگی اور تفریح کا باعث تھا روزانہ لائبریری میں سینکڑوں افراد مطالعہ کرتے اور پارک میں چہل قدمی کرتے مگر ہمارے مذہبی رہنماﺅں کو یہ بات پسند نہ آئی پاک، لائبریری اور اسکے ساتھ چھوٹی مسجد کو راتوں رات ایک بڑی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اہلیان پشاور پر یہ ظلم عظیم تھا کیونکہ اس مسجد سے ایک کمند کے فاصلے پر نمکمنڈی کی جامع مسجد اور کشمیری مسجد یہاں تک کہ ہر گلی ہر محلے میں ایک مسجد واقع تھی

fahadصو با ئی دالحکومت پشاور میں جہا ں باغات ختم ہو رہے ہیں اور شہریو ں کو شہری تفریحی کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں وہا ں رہی سہی کسر پارکوں کے انٹری ٹکٹوں اور نا مناسب سہولیات نے پو ری کر دی ہے پشاور شہر میں واقع پا رک انتظامیہ کی غفلت کے ویرانی کی صورت پیش کر رہے ہیں۔ پارک میں خود ساختہ ریٹ مقرر ہو نے سے شہری پارک میں جانے سے کترانے لگے۔انٹری ٹکٹ ، جھولے اور پا رکنگ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔اہلیان پشاور نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہر کے باسیوں کو تفریح کے موثر مواقع فراہم کئے جائےنگے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s