REWATI TOPI (QARAQULI)

رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد
عزت و احترام کی نشانی اور تاریخی اہمیت کی حامل قراقلی شب و روز کی گردش ایام کا نشانہ بنتے ہو ئے ما ضی کا حصہ بن گئی جو کہ بھولے سے یاد نہیں آتی رہی سہی کسر اس کے بنا ئے جا نے کی حقیقت نے پو ری کر دی۔ پشاور میں بنا ئے جا نے والی قراقلی دنیا بھر میں مشہور ہو نے کے ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ تین دہا ئی قبل پشاور میں قراقلی کی پچاس سے زائد دکانوں میں صرف دو دکا نیں با قی ہیں جبکہ اس پیشے سے منسلک سیکڑوں گا ریکر کا م نہ ہو نے کی وجہ سے پیشہ تبدیل کر چکے ہیں ۔ قراقلی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث شہر یوں نے اپنی روایات کا خیر آباد کہہ دیا ہے ۔ تین دہا ئی قبل جو قراقلی تین سو سے سات سو روپے میں میں ملتی تھی آج اس کی قیمت آٹھ ہزار سے با رہ ہزار روپے ہو گئی ہے ۔ قراقلی کے تا جر وں کے مطابق اس کو بنا ئے جا نے میں استعمال ہو نے والی کھال انتہا ئی مہنگی ہو گئی ہے جس کے باعث اس کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ قراقلی مو جود ہ حالات میں صرف شادی بیا ہ کے موقع پر پہنی جا رہی ہے جبکہ مو جود ہ حالا ت میں یہ روایات بھی دم توڑنے لگی ہیں ۔ مقامی دکانداروں کے مطابق مہینوں تک قراقلی کا کو ئی گا ہک نہیں آتا جس کے باعث دکاندار اور کا ریگروں کا مشکلات درپیش ہیں ۔ قراقلی بھیڑ کے کم سن بچے کی کھال سے بنا ئی جا تی ہے یہ بھیڑیں ایک خاص نسل کی ہو تی ہیں جو کہ افغانستان میں پا ئی جا تی ہیں ۔ مقامی دکاندروں نے بتایا کہ اس خاص نسل کو دیگر علاقوں میں افزائش نسل کےلئے لا نے کے تجربات کئے گئے ہیں تاہم تمام تجربات ناکام ہو ئے ہیں ۔ کم سن بچے کو ذبع کر نے کے بعد اس کی کھال کو نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے اور پھر اسے کا رخانے دار پر فروخت کر دیتے ہیں جو کہ صفائی کے بعد اس کو بیوپاریوں کے ہا تھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔قصہ خوا نی قراقلی کی صرف دو دکانیں با قی رہ گئی ہیں دہشت گر دی سے متاثر پشاورکے متعدد تا جر دیگر شہریوں کو منتقل ہو گئے ہیں وہاں قراقلی کے کا روبار کی تنزلی کے باوجود اس کا روبار سے منسلک تا جر ثقافت کے زندہ امین ہیں جن کا صلہ انھیں ملنا چا ئیے ۔

قراقلی کو ” جنا ح کیپ “ بھی کہا جا تا ہے جس کو با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے ۔ قراقلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پا کستانی کر نسی میں محمد علی جناح کی تصویر میں نمایا ں دیکھی جا سکتی ہے پاکستا نی کر نسی میں ایک روپے کے سکے سے پا نچ ہزار کے نو ٹ تک تمام تصاویر میں قراقلی واضح ہے ۔ قراقلی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تلے والی ، سلیٹی ، کا لی اور بادامی قراقلی مشہور ہیں ۔ قراقلی کو سرکا ری ملازمین پہنتے تھے جس کی روایات بھی ختم ہو چکی ہے ۔ پا کستان پیپلز پارٹی کے بانی زولفقار علی بھٹو ، جزل ایوب خان ، جزل فضل حق اور دیگر معروف شخصیات بھی قراقلی شوق سے پہنا کر تے تھے ۔ مقامی دکانداروں نے بتا یا کہ ان تمام شخصیات کےلئے پشاور کے کاریگر اسپیشل قراقلی بناتے تھے ۔

پشاور میں بنا ئی جانے والی قراقلی امریکہ ،جاپا ن، لندن اور دیگر ممالک میں رہنے والے افراد کےلئے خصوصی آڈر پر تیار کی جا تی ہے ۔ قراقلی کی روایات کشمیری رہنما وں میں تاحال مقبول ہے ۔ حکومت کی جانب سے تاریخی اہمیت کی حامل اور پاکستانی رویات کی امین قراقلی کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔جس جے باعث آنے والے نسلوں کو شاید قراقلی کا نام بھی یاد نہ رہے ۔ ایک وقت تھا کہ یہ رویات عام تھیں کہ ہر گھر میں بزرگوں اور خاندان کے بڑوںکے پاس قراقلی ہو تی تھی اور شاد ی بیاہ کے موقعہ پر اسے پہنا جا تا تھا

قراقلی جما عت اسلامی کے امراءباقاعدگی سے پہنتے تھے جبکہ مو جود ہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے یہ رویات ختم کر دی ہے۔ جما عت اسلامی کے بانی ابو اعلی مو دودی ، میاں محمد طفیل ، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن قراقلی باقاعدہ پہنتے تھے جماعت اسلامی میں قراقلی کا رواج تا حال قائم ہے مو جود ہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اپنی علاقائی روایا تی ٹوپی استعمال کر تے ہیں جس کی وجہ قراقلی کی روایات ختم ہو گئی ہے ۔

fahad(1).jpg

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s