khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s