Monthly Archives: August 2017

Crime Six Month Data 2017

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور جرائم کی شرح سب سے زیادہ پشاور میں رہی جبکہ نوشہرہ دوسرے نمبر پر رہا ، دہشت گردی اور جرائم کے لحاظ سے ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا ،صوبے میں امن کے باوجود چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 واقعات ہو ئے جبکہ ہر ماہ اوسطا پانچ افراد مختلف اضلاع سے اغواءہوتے رہے ، چھ ماہ میں 20 افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور 327 افراد کو مختلف تنازعات میں قتل کیا گیا ، بھتہ خور بدستور صوبے کے مختلف اضلاع میں راج کر تے رہے ، چھ ماہ میں بھتہ خوری کے 17 واقعات ہو ئے جبکہ بھتہ خوری کے غیر رجسٹرڈ واقعات اس سے کئی زیادہ بتائے جاتے ہیں ، صوبائی حکومت کی جانب سے حاصل کر دہ اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے 25 اضلاع میں 6 ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 ، بھتہ خوری کے 17 ، اغوائیگی کے 32 واقعات رونما ہو ئے، جبکہ 6 ماہ کے دوران 20 افراد کوٹارگٹ کلنگ کا بھی نشانہ گیا،چھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں 20 ڈکیتیاں رونما crime-scene-4ہو ئی اور 327 افراد کو مختلف تنازعات پر قتل کیا گیا، دہشت گردی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ پشاورسرفہرست رہا، پشاور میں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے26 واقعات ، بھتہ خوری کے 8 واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے 5 واقعات رونما ہو ئے، اغوائیگی اور ڈکیتوں میںنوشہرہ سر فہرست رہا چھ ماہ کے دوران 6 افراد کو تاوان کی غرض سے اغواءکیا گیا اسی طرح چھ ماہ کے دوران 8 ڈکیتوں میں شہریوں کا لوٹا گیا ، اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوارن صوبے کے تمام اضلاع پشاور ، چارسدہ، نوشہرہ ، مردان ،صوابی ، سوات، بونیر شانگلہ، دیر، چترال ، کرک ، ہنگو، کوہاٹ ، مانسہرہ ، ہری پور ، بٹگرام ، کوہستان ، ایبٹ آباد ، تورغر، ڈی آئی خان ، ٹانک ،بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کے 88 واقعات ، ٹارگٹ کلنگ کے 20 ،بھتہ خوری کے 17 ، اغواءکار ی کے 32 ، واقعات رونما ہو ئے اسی طر ح چھ ماہ کے دوران 327 افراد کو مختلف تنازعات کی صورت میں قتل کیا گیا ، چھ ماہ کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں ڈکیتوں کے 20 واقعات میں شہریوں کو جمع پونچی سے محروم کیا گیا ، اسی طرح ڈکیتی اوراغوائیگی میں نوشہرہ تمام اضلاع کی نسبت سہر فہرست رہا ، چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ نوشہر ہ میں 6 افراد کو اغواءکیا گیا اور ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں 8 ڈکتیاں رونما ہوئی ، خیبر پختونخوا میں چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا جہاں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوائیگی، ڈکیتی اور قتل کی کوئی واردات رونما نہیں ہو ئی ۔

Advertisements