All posts by fahad shahzada

About fahad shahzada

culture reporter daily express peshawar

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Advertisements

Nadra Mega Center Peshawar

شہزادہ فہد

وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے پشاور میں بنائے جانے والا پہلا نادرہ میگا سنٹر میں کرائے کی عمارت قائم کیا گیا ، پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی عمارت پرتعزین و آرائش کی مد میں 15 کروڑ روپے پھونک دئیے گئے ، سنٹر کے قیام کے بعد قریبی 4 ناردہ سنٹر بند کئے جا ئینگے ، شہری نئے شناختی کارڈ کے حصول کےلئے سنٹر میں نارمل سمارٹ قومی شناختی کارڈ کی بجائے ایگزیکٹو کارڈ کی فیس ادا کر ینگے ، سنٹر میں ارجنٹ پارسپورٹ کی فیس بھی نارمل سے زیادہ وصول کی جائیگی ، نادرہ غریب شہریوں کو سہولیات ختم کر کے امرءکو سہولیات دینے پر عمل پیرا ہو گیا ، خیبر پختونخوا میں پہلے نادرہ میگا سنٹر کے قیام بغیر منصوبہ بندی کئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے ، تہکال میں نادرہ میگا سنٹر کےلئے پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی بلڈنگ کی تعزین و آرائش پر 15 کروڑ روپے خرچ کر دئیے گئے ہیں ، جبکہ سنٹر کے لئے منتخب عمارت کا لاکھوں رپوں ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے گا ، میگا سنٹر کے قیام کے بعد کوہاٹ روڈ ، ڈینز پلازہ ، ابدارہ روڈ اور کینٹ فاٹا میں قائم نادرہ دفاتر ختم کئے جا ئینگے ، چار سنٹرز کی بندش پر پشاور کے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہو نگے ، نواحی و مضافاتی علاقوں کے شہری ،کوہا ٹ روڈ ، پشاور کینٹ ،اور فاٹا کے رہائشی شناختی کارڈ کے حصول کےلئے یونیورسٹی روڈ کے چکر کاٹیں گے، واضح رہے کہ نادرہ دفاترمیں ہرامیر و غریب سے سمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 400 کی بجائے8 سو اور 16 سو روپے وصول کئے جا رہے ہیں، کارڈ گم ہو نے کی صورت میں بھی 16 سو روپے وصول کئے جاتے ہیں، نادرہ وفاقی محکمہ ہو نے کی وجہ سے اہلکاروں کی من مانیاں عروج پر ہیں جبکہ فیس اور سہولیات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،

 

Police SMS Complaint System Failed In KP

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بنائے جانے والا ایس ایم ایس سسٹم ناکام ہو گیا ، تین سالوں کے دوران صوبے بھر سے شہریوں نے پولیس اہلکاروں اور ذاتی معاملات کی 5680 شکایا ت بذریعہ ایس ایم ایس کیں ، تین سالوں کے دوران سنٹرل پولیس آفس کو صوبے بھر سے 5 ایس ایم ایس یومیہ موصول ہو ئے ، صوبے بھر میںسب سے زیادہ ایس ایم ایس ضلع پشاور کے شہریوں کی جانب کئے گئے ، اسی طرح تین سالوں میں ڈی آئی خان کے شہریوں نے 304 ایس ایم ایس کے ذریعے پولیس کا اپنی ساتھ ہو نے والی زیادتی سے آگاہ کیا ، سابق آئی جی خیبر پختونخوا نا صر خان دورانی کی نگرانی میں محکمہ پولیس نے 5 جولائی 2013ءکو سنٹرل پولیس آفس میں پولیس تک رسائی کے نام سے ایک کمپلنٹ سیل قائم کیا،کمپلنٹ سیل میں شہریوں کو اپنے ساتھ ہو نے والی ذیادتی کے تدارک کے لئے آئی جی پولیس اور ایک دیگر موبائل نمبر فراہم کیا گیا جبکہ ، فیکس ، ای امیل ، آن لائن ایف آئی آر کے اندراج کےلئے پولیس وئب سائیڈ پر ایک فارم پر کرنے کے بعد آئی ڈی بنانے کا عمل ترتیب دیا گیا، ایس ایم ایس سسٹم کی بہتری کے لئے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے اور فوری عمل درآمد نہ ہو نے کے باعث صوبے کے شہریوں نے پولیس کو بذریعہ ایس ایم ایس شکایات درج کرنے کے عمل میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے، ایس ایم ایس سسٹم کے مطابق شکایت کنندہ کا میسج سنٹرل پولیس آفس موصول ہو تا ہے جس کے بعد شہری کی شکایت متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سمیت ریجنل پولیس آفیسر کو شکایات فاروڈ ہو جاتی ہیں ،سنٹرل پولیس آفس کو ایس ایم ایس کر نے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او شکایب کنندہ کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کی جاتی ہیں ،تاہم پولیس کے خلاف ایس ایم ایس کر نے کے بعد شکایات کنندہ پر متعلقہ پولیس کا دباو¾ شروع ہو جاتا ہے جس کے بعد اعلیٰ پولیس حکام کو فریقین کے مابین صلح کی رپورٹ دی جا تی ہے ، سنٹرل پولیس آفیس سے دستیاب دستاویز کے مطابق 12 نومبر 2014ءسے 29 ستمبر 2017 ءتک مجموعی طور پر صوبے بھر سے شہریوں نے تین سالوں کے دوران 5680 ایس ایم ایس سینڈ کئے ، جس میں سب سے زیادہ 1735 ایس ایم ایس پشاور کے شہریوں نے کئے ، دوسرے نمبر پر 1554 ایس ایم ایس مردان کے شہریوں کی جانب سے کئے گئے ، ملاکنڈ 406 ، بنوں 538 ، کوہاٹ 371 ، ہزارہ 772 جبکہ تمام اضلاع سب سے کم شکایات بذریعہ ایس ایم ایس ڈی آئی خان سے موصول ہو ئیں جہاں شہریوں نے تین سالوںمیں 304 ایس ایم ایس کر کے جدید شکایاتی نظام کو استعمال کیا، محکمہ پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے جدید نظام کے زریعے شکایات کے اندارج میںکمی واقع ہو ئی ہے ، دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت کنندہ کا موبائل نمبر متعلقہ ایس ایچ اور اور ڈی پی او کو دستیاب ہو نے سے شکایات کنندہ پر دباو¾ بڑ جاتا ہے جس کے بعد فریقین کے مابین صلح کروا کر اعلی ٰ افسران کی آنکھوںمیں دھول جونکی جا تی ہے ۔

 

Interest Rate Rise In Khyber Pukhtoonkhwa (خیبر پختونخوامیں سود خوری)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون ہونے کے باوجود صوبے میں سود خوری عروج پر پہنچ گئی ، سودخوروں نے قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نئے حربے ایجاد کر لئے،

شہزادہ فہد ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سود کے خلاف قانون کارآمدثابت نہ ہوسکا ، سود خوروں نے قانون کومات دینے او ر پولیس کی گرفت سے بچنے کےلئے نیا حربہ اپنا لیا ، قرضہ دیتے مجموعی رقم میں سود شامل کرکے کاغذئی کاروائی کی جانے لگی ہے، قرضے کے حصول کےلئے مجبور شخص ا سٹاپ پر دستخط کرکے سودخوروں کو محفوظ بنا دیتے ہیں ، پولیس حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،2016ءمیں خیبر پختونخوا اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور کے مختلف تھانوں میں 92 افراد کے خلاف سود ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے گئے جن میں 60 افراد گرفتار ہو چکے ہیں ،تھانہ بڈھ بیر میں سب سے زیادہ سودخوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ گلبہار دوسرے نمبر پر رہا ،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے،سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی،مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکے گی ،اسی طرح عدالت فریقین کے مابین کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی،بل کے تحت اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی نہیں کریگا،عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی ، دوسری جانب سودخوروں نے قانون کی گرفت سے بچنے کےلئے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے ، قرضے کی رقم میں سود شامل کرکے مجموعی رقم کا معاہدہ کرنے پر قانون کے شکنجے سے محفوظ ہونے لگے ، 2016 ءخیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور پولیس نے 92 افراد کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جن میں 72 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ، صوبائی دارلحکومت پشاو رکے 30 تھانوں میں سب سے زیادہ 22 مقدمات بڈھ بیرمیں درج کئے گئے ، اسی طرح دوسرے نمبر پر گلبہار میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے مھترا میں 8 ،یونیورسٹی میں 6، گلبرگ،خرانہ اور پشتخرہ میں 4/4 مقدمات جبکہ شاہ قبول، بھانہ ماڑی، پھندو، اور داود زئی میں 3/3 مقدمات درج کئے گئے ہیں ، تھانہ خان رزاق ،فقیر آباد،پہاڑی پورہ،شرقی، حیات آباد،تاتارہ،ریگی ماڈل ٹاون، چمکنی میں کو ئی مقدمہ درج نہ کیا جاسکا ہے ۔

 

Woman Harassment In Khyber Pukhtoonkhwa

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں خواتین کو کام کے جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے محتسب موجود نہ ہو نے سے صوبے بھر میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015سے ابتک مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں 500سے زائد خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور صحت سے کیسز رجسٹرد ہوئے صرف پشاور یونیورسٹی سے300سے زائد خواتین نے ہراسمنٹ کے کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والی محتسب کی نشست گزشتہ سات سالوں سے خالی ہے، ایکٹ کے مطابق ہر ادارے میں ہراساں کئے جانے کے خلاف کمیٹی لازمی قرار دی گئی جس میں ایک خاتون کی نمائندگی بھی ضرروی ہے تاہم صوبے بھر میں سرکاری و نجی اداروں میں کمیٹی کا تصور ہی نہیں ہے، تھانہ کلچر کی وجہ سے ہراساں کی جانے والی خواتین پولیس کو رپورٹ درج کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں ، مارچ 2010 میں وفاقی حکومت نے کام کے جگہوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کارروائی کے بل کو منظور کیا تھا جس کے بعد سے وفاق، پنجاب اور سندھ میں محتسب کو مقرر کیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں محتسب موجود نہیں ہے، سزا کا عمل تیز نہ ہونے سے صوبے بھر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز نہ روز اضافہ ہورہا ہے ،اور واقعہ میں ملوث ملزموں کوشہہ مل رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سات سال قبل خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے لیے بنائی گئی ایکٹ (ہراسمنٹ آف وومن آن ورک پلیس ) میں کام کرنے کی جگہ خواتین کو ہراساں کے جرم ثابت ہونے پر3سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،تعزیرات پاکستان سیکشن509تحت بھی خواتین اپنی ہراسمنٹ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرسکتی لیکن تھانہ کلچر کی وجہ سے اکثر خواتین اس اذیت ناک صورت حال کی بجائے خاموشی کو بہتر سمجھتی ہیں، ایکٹ کے مطابق کہ ہر نجی اور سرکاری اداروں تین رکنی کمیٹی ہوگی جس میں خواتین کی نمائیندگی ضروری ہوگی جو کہ کسی بھی شکایات کے ازالہ کرنے کے لیے کام کریگی جبکہ اس قانو ن کے تحت ادارے ضابطہ اخلاق بنانے کے بھی پابند ہیں لیکن ابھی تک کسی ادارے مین ضابطہ اخلاق اس حوالے سے نہیں بنائے گئے ۔ ان مرحلوں سے گزر کرایک لڑکی 509کے تحت ایف آئی آر درج کرسکتی ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس حوالے کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے جو کہ اس صوبے کے خواتین کے ساتھ نا انصافی ہے ، خیبر پختونخوا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کام کر نی والی نجی فلاحی تنظیم کی چئیر پرسن خورشید بانو کا کہنا تھا کہ کہ خیبر پختون خوا میں سالانہ 2 سے 3سو خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں صرف پشاور یونیورسٹی سے 300سے زائد کیسز موصول ہوئے لیکن محتسب نہ ہونے کے باعث وہ کیسز خراب ہوجاتے ہیں اور کسی کو سزا نہ ملنے کے باعث ایسے مردوں کو شہہ ملتی ہے، انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ نشست سات سال سے خالی ہونے کے خلاف رٹ بھی کررکھی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ویلفیر کے مطابق بجٹ ،عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہے لیکن پھر بھی صوبائی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جو کہ اس صوبے کے اُن خواتین کے ساتھ ظلم ہے جو کام کے دوران جنسی ہراساں کے شکار ہوجاتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے واقعات کے خلاف کسی کو سزا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہے اور دوسری جانب ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

Police Stations in FATA

شہزادہ فہد

فاٹا اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کےلئے عملی سطح پر تیاریاں روز و شور سے کی جا رہی ہیں ، تمام ایجنسیوں کے پولٹیکل ایجنٹس کو اپنی اپنی ضروریات کے مطابق تھانوں کی تعداد اور علاقوں کا تعین کر نے کی ہدایات جا ری کر دی گئیں ہیں ، پولیٹکل ایجنٹس نے اپنی ایجنسیوں کے عمائدین کو اعتماد میں لے لیا ہے ، قبائلی علاقوں میں تھانوں کے قیام کا آغاز فرنٹیر ریجن( ایف آرز) سے کیا جائے گا، خیبر پختونخوا کی 7 ایجنسیوں میں تھانے قائم ہو نگے جس کے لئے ابتدائی طور پرپولیس کی نفری خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مہیا کی جائے گی ، ایجنسیوں میں تعینات خاصہ دار فورس اور لیویز کو پولیس ٹرینگ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ قابلیت اور معیار پر پورا نہ ہونے والے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو ممکنہ طور پر ہینڈ شیک دیا جائے گا ، اس سے قبل پشاورکے بندوبستی اورفاٹا کی باﺅنڈری پر 31 راکٹ اور بلٹ پروف چوکیاں قائم کی جا چکی ہیں، متنی، اصحاب بابا ، ریگی للمہ، جالہ بیلہ ، شاغلی، مچنی گیٹ اور پشاور سے ملحقہ دیگر علاقوں میں چوکیوں میں ابتدائی طور چیک پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں،ان میں سے ہر چوکی پر 32 اہلکاوں پر مشتمل پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے کیا جا ئے گا ،پولیس حکام کے مطابق مذکورہ چوکیوں کے قیام سے شرپسندوں کے انٹری پوائنٹ سمیت ان کے چور راستے بند ہو جا ئینگے اور پشاور کی سیکورٹی میں مزید بہتری آئے گی ،پولیس چیکنگ پوائنٹ سے اسلحہ و بارود کی سپلائی کی روک تھام میںبھی مدد ملے گی اورآنے والے وقتوں میں پولیس کےلئے کا رآمد ثابت ہو نگی ،فاٹا کی تمام ایجنسیوں بشمول ایف آر ز تک تھانہ کلچر منتقل کرنے کےلئے سروے مکمل کیا جا چکا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحصیل جمرود کو ایک آفیشل لیٹر بھی موصول ہوا تھا جس میں خیبرایجنسی کے انتظامیہ سے پولیس سٹیشنز بنانے کیلئے ایجنسی میں جگہ منتخب اور اعداد شمار دینے کا کہا گیا ہے

پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے ایجنسی میں مجوزہ 76پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے لیے سیکرٹری لائاینڈ آرڈرکو خط

خیبر پختونخوامیں فاٹا انضمام کے اثرات ظاہرہوتے ہی پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے سیکرٹری لا ءکو ایجنسی میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خط ارسال کردیا جس کے مطابق ایجنسی میں 76پولیس اسٹیشنز قائم کئے جاسکتے ہیں،خط کے مطابق تحصیل سرویکئی میں 9پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ لدھا میں 22پولیس اسٹیشن قائم کئے جاسکتے ہیں اسی طر ح خط میں وانا تحصیل میں 45پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہیں، پولٹیکل انتظامیہ کے خط کے مطابق ان پولیس اسٹیشنز میں نو ہزار 160پولیس عملہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔

 

رضائی کلچر خیبر پختونخوا

پشاوررضائیاں بنانے کا کاروبار مندی کا شکار،کاریگر بے روزگار ہونے لگے
ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ،رضائیاں دیگر شہروں سمیت افغانستان ،ایران بھی بھیجی جاتی ہیں
سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگرپیشہ چھوڑ نے پر مجبور ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے،دکانداروں کی بات چیت

IMG_20171221_135438

شہزادہ فہد              

سردی سے بچاو کے لئے انسان مختلف قسم کے جتن کرتا آیا ہے ، گرمی ہو یا سردی انسان اپنی سہولت کےلئے تمام وسائل بروکار لاتا ہے ، ویسے توپاکستان موسم کے لحاظ سے ایک آئیڈیل ملک ہے، پاکستان میں آپ گرمی ،سردی، بہار اور خزاں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ،سردی کی آمد سے قبل ہی اس کی شدت سے محفوظ رہنے کےلئے انتظامات شروع کردیئے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں سردی تمام ملک کی نسبت زیادہ پڑتی ہے ،اسی لئے سردی کی شدت سے بچا و کےلئے صوبے بھر میں رضائی کااستعمال کیا جاتا ہے، سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی رضائیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کے دن بھی پھر جاتے ہیں ، ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ہیں جہاں بنائی جانے والی رضائیاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دیگر ممالک جن میں افغانستان ، ایران شامل ہیں بھیجی جاتی ہیں ، مقامی دکانداروں کے مطابق سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ملاکنڈ ، ہزارہ ، کشمیر اور قبائلی ایجنسیوں میں رضائی کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے ،دکانداروں کا کہنا ہے کہ صر ف سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگر یہ پیشہ چھوڑ نے پر مجبور ہیں ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے جبکہ رضائیوں کے کاروبار سے وابسطہ افراد بھی نہ ہونے کے برابر ہو نگے، ان کا کہنا تھا کہ اس پیشے سے وابسطہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنے سے جہاں بے روزگاری میں کمی واقع ہو گی وہاں قدیم کلچر کا تخفظ اور دنیا بھرمیں تشہیر میں ممکن ہو سکے گی ۔

رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ
دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے 100روپے فی رضائی کے حساب سے اجرت دیتے ہیں
پشاور میں رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ ہیں ، شاہ قبول بازار میں رضائی فروخت کر نے والے دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے روزانہ کی بنیاد پر کام دیتے ہیں ، پشاور کے نواحی و مضافاتی علاقوں میں خواتین فی رضائی 100 روپے وصول کرتی ہیں ، دکانداروں کے مطابق ایک خاتون دن میں دو سے تین رضائیوں کی سلائی کر تی ہے ،

کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی
کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی واقع ہو ئی ہے ، جدیدزمانے میں جہاں فیشن اور نت نئے انداز سے کلچر پر یلغار کی ہے وہاں رضائی کلچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ، خریداروں کے مطابق رضائی ایک پرانا فیشن ہے جو کہ نئی نسل کو قابل قبول نہیں ہے دوسری جانب خواتین بھی رضائی پر کمبل کو ترجیح دیتی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کمبل کی دھلائی رضائی کی نسبت زیادہ آسان ہوتی ہے۔

شادی بیاہ وتقریبات کے لئے رضائی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں
پشاور سمیت صوبے بھرمیں رضائی کرائے پر دینے کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے ، شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات مین رضائیاں کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں جوڈ بگریی بازار میں باآسانی دستیاب ہو تی ہیں، ایک رضائی 50 روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ پر دی جاتی ہے،علاج معالجے کےلئے دیگر اضلاع سے پشاور آنے والے افراد کےلئے ہسپتالوں کے سامنے بستر اور رضائیاں کرائے پر فراہم کی جاتی ہیں جو کہ پیشگی رقم اور شناختی کارڈ کی ضمانت پر دی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول
خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول ہیں، دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا کی رضائی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے ،نرخ میں کم اور پائیدار رضائی کی مانگ دیگر صوبوںمیں بھی زیادہ ہے ، دیگر صوبوں میں پولسٹر کی رضائی جو کہ قیمت میں زیادہ لیکن کم پائیدار ہوتی ہے جس کے مدمقابل کالی اور سفید روئی سے بنائی جانے والی رضائی شہری زیادہ پسند کر تے ہیں،مشین کی نسبت ہاتھ کی سلائی بھی اس کی مانگ میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔

استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی سے بھی رضائیاں بنائی جانے لگیں
مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے جبکہ سفید روئی 40 روپے میں دستیاب
رضائی بنانے میں استعمال ہونے والی قدرتی روئی کی جگہ استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی نے لے لی ہے ، قدرتی روئی جو کہ قیمت میں زیادہ ہو تی ہے جس سے بنائی جانے والی رضائی مہنگی فروخت ہو تی ہے،تاہم اس کی جگہ کپڑوں سے بنائی جانے والے روئی نے لے لی ہے،عام مار کیٹ میں پولسٹر 120 روپے کلو فروخت ہو تا ہے جبکہ مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے کلو جبکہ سفید کپڑوں سے بنائی روئی 40 روپے میں دستیاب ہو تی ہے ، پولسٹر سے بنائی جانے والی رضائی 1 ہزار ، کالی روئی سے بنائی جانی والی رضائی 4 سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے ، شاہ قبول میں کپڑ ے سے روئی بنانے کی 10 سے زائد مشینیں لگائی گئی ہیں ۔

Thousands Suspended Officials Were Restored in Kp Police (سپاہی سے کم عہدہ نہیں ہے اور متنی کے بعد تھانہ نہیں ہے)

 سابق آئی جی پی کے دور میں معطل ہونے والے 5ہزار سے زائد پولیس اہلکار بحال
 سابق آئی جی پی کے دور میں کرپشن ،اختیارات کے ناجائزاستعمال کی پاداش میں معطل ہونے والے 6 ہزارسے زائد اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی تھی،صرف749کو برطرف کیا گیا
کرپشن اور بدعنوانیوں پر معطل افسر اوراہلکار مختلف فورمز سے رجوع اور کیس جیت کر دوبارہ بحال ہوگئے ہیں، متعدد اہلکاروں کو ڈی موٹ اور انکریمنٹ کاٹے گئے
تین سال کے دوران 18ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے خلاف کارروائی کی گئی جن میں 10کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 8کو دیگر سزائیں دی گئی،7 انسپکٹرز کو برطرف کیا گیا
 
پولیس میں سزا کا نظام کمزور ہونے کے بعد پی ایس پی افسروں کےخلاف بھی پولیس حکام کو شکایات موصول ہوئیں تاہم کسی
کےخلاف کارروائی نہیں ہو سکی
شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا پولیس میں سابق آئی جی پی ناصر خان درانی کے دور میں کرپشن ، بدعنوانیوں،اختیارات کے ناجائزاستعمال ,جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تعلقات اوردیگرجرائم کی پاداش میں معطل ہونے والے 6 ہزارسے زائد پولیس آفسروں اور اہلکاروں میں سے 5323اہلکاروں اور افسروں کو ملازمت پر بحال کردیا گیا جبکہ صرف 749پولیس آفسروں اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ،سابق آئی جی ناصر خان دورانی کی جانب سے پولیس ایکسسز سروس کے قیام کے بعد پولیس اہلکاروں اور افسروں کےخلاف شکایت میں تیزی آئی تھی تاہم سابق آئی جی پی ناصر درانی کے سبکدوش ہونے کے بعد متعلقہ ڈی پی او اور ڈی ایس پی کی نگرانی اور پولیس دباو کی وجہ سے پولیس کیخلاف عوامی شکایت درج کرانے میں کمی واقع ہو ئی ہے،سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے دستیاب دستاویز کے مطابق تین سالوں کے دوران 5056 افراد نے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف شکایات درج کروائیں ، 2014 ءسے 2017ءتک پولیس کے خلاف سب سے زیادہ 1303 شکایت پشاور کے شہریوں نے درج کرائی تھیں جبکہ سب سے کم122 شکایات ڈی آئی خان سے موصول ہوئیں،ذرائع کے مطابق کرپشن اور بدعنوانیوں پر معطل افسر اوراہلکار مختلف فورمز سے رجوع اور کیس جیت کر دوبارہ بحال ہوگئے ہیں،دوسری جانب سے متعد د مقدمات میں ملوث کسی ایک پی ایس پی آفسر کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی اور شکایات پر صرف چند ایک کو ایک عہدے سے ہٹا کر دوسری جگہ تعینات کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق گزشتہ 3سالوں کے دوران مبینہ بد عنوانیوں کرپشن اور دیگر جرائم کی بنا ءپر 6072پولیس آفسروں اور اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی گئی اور انکو معطل کیا گیا جن میں سے صرف749افسروں اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 5323افسرو ں اور اہلکاروں کو دیگر سزائیں دی گئی ہیں، ان میں متعدد اہلکاروں کو ڈی موٹ اور انکریمنٹ کاٹے گئے ہیں ،گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی طور پر 18ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے خلاف کارروائی کی گئی جن میں 10کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 8کو دیگر سزائیں دی گئی،متعدد کیسوں میں ملوث64انسپکٹروں میں 7کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 57کو دیگر سزائیں دی گئی 414سب انسپکٹروں میں 44کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 370کو دیگر سزائیں دی گئی ہیں،470اسسٹنٹ سب انسپکٹروں میں سے 36کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 434کو دیگر سزائیں دی گئیں 607ہیڈ کانسٹیبلوں میں سے 54کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 553کو دیگر سزائیں دی گئیں ،4499کانسٹیبلوں کےخلاف کارروائی کی گئی جن میں 598کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 3901کو دیگر سزائیں دی گئیں ان تین سالوں کے دوران بعض پی ایس پی افسروں کےخلاف بھی پولیس حکام کو شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن ان میں کسی کےخلاف کارروائی نہیں کی گئی،پولیس میں سزا کے کمزور نظام کی وجہ سے پولیس فورس میں ایک جملہ زبان زد عام ہے کہ
سپاہی سے کم عہدہ نہیں ہے اور متنی کے بعد تھانہ نہیں ہے۔

Third Death anniversary of Army Public School Tragedy (Story of a Teacher)

تحریر :شہزادہ فہد

دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

ننھی پری خولہ کے والد کا حوصلہ بلند
بیٹی کھونے اور پسلیاں ٹوٹنے کے باوجود استاد اے پی ایس سے منسلک رہے

بابا یہ لوگ بچوں کو کیوں ماررہے ہیں، شہید ننھی پری خولہ کا آخری سوال

ستمبر2014ء میں آرمی پبلک سکول میں تعینات ہونے والے پروفیسر الطاف کی اکلوتی بیٹی سانحہ کے دن اپنے بھائی اور بابا کے ساتھ سکول آئی تھی

ننھی پری خولہ اپنے بابا کے ساتھ کلاس میں پہنچی ہی تھی کہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا،تین گولیاں سینے میں لگیں اوربابا کے سینے سے لپٹے ہوئے شہید ہوگئی

سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ، پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلہ افراد تعلیم کے دشمن اور بچوں کے قاتلوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے

بابا یہ” گولیاں کیوں “چل رہی ہیں، یہ ”کو ن لوگ ہیں“ یہ ”  بچوں کو کیوں مار رہے ہیں“ ،ں سوالوں کے جواب کی منتظر بچی باپ کی توجہ اس کے گولیوں سے چھلنی سینے کی جانب دلاتے ہوئے کہتی ہے کہ بابا آپ کا ”خون“ نکل رہا ہے، اس کے ساتھ ہی اس ننھی پھول جیسی بچی کی آواز بند ہو جاتی ہے، یہ پروفسیر الطاف کی کانوں میں گونجنے والی وہ آواز ہے جو سانحہ آرمی پبلک سکول میں ہمیشہ کیلئے خاموش کردی گئی، سانحہ اے پی ایس کے دوران یہ ننھی بچی سکول میں اپنے پہلے ہی دن سفاک قاتلوں کی درندگی کانشانہ بنی اور اپنے بابا کے سینے سے لپٹی ننھی پری خولہ شہادت کے رتبہ پرفائز ہوگئی، پروفیسر الطاف کا تعلق بالاکو ٹ کی ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے ، ایم اے انگلش اور ایم اے اسلامیات کے بعد بالا کوٹ کے ایک نجی کالج میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ستمبر2014ء میں انہیں پشاور آرمی پبلک سکول سے فون کال آتی ہے جس میں انہیں سکول میں پڑھانے کی آفر دی جا تی ہے ، پروفیسر الطاف اپنے عزیروں واقارب سے مشورے کے بعد پشاور منتقل ہو جا تے ہیں،16 دسمبر 2014ءکا سورج طلوع ہوتا ہے ، معمول کے مطابق پروفسیر الطاف سکول جانے کی تیاری میں مصروف ہو جا تے ہیں ان کا بیٹا یونیفارم پہن کر سکول جانے کےلئے تیار کھڑا ہے اس دوران اکلوتی بیٹی خولہ اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ سکول جانے کی ضد کر تی ہے،بیٹی کے اسرار پر والد حامی بھر لیتے ہیں ، راستے میں بیٹی اپنے والد کو کہتی ہے کہ آج میں اپنے بھائی کے ساتھ سکول جاتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہی ہوں، پروفسیر الطاف جب سکول پہنچے تو اپنی بیٹی کو پرنسپل کے کمرے میں لے گئے جہاں پرنسپل سے مختصر تعارف کے بعد بچی کو سکول میں داخلے کی اجازت مل جاتی ہے، پرنسپل کے آفس سے نکل کر وہ کلاسزلینے چلے گئے اور بچی سے کہا کہ بیٹا کہ پرنسپل سے بات ہوگئی ہے آپ کل سے باقاعدہ یونیفارم میں آکر اپنی کلاس جوائن کرلوگی یہی باتیں کرتا وہ کلاس روم پہنچا اور کچھ ہی لمحوں کے بعد ایک زوردار دھماکہ کی آواز آتی ہے جب وہ بالکنی سے جھانکا تو مسلح افراد اوپر آرہے ہوتے ہیں جس پرپروفیسر نے کمرہ کادروازہ بند کرتے ہوئے بچوں کوزمین پرلیٹ جانے کیلئے کہا جبکہ اپنی بچی خولہ کوبھی اپنی آغوش میں لے لیا،دہشت گرد کمرے کا دروازہ توڑ کر اند ر داخل ہو تے ہی پروفیسر الطاف پرگولیوں کی بو چھاڑ کر دیتے ہیں جن میں تین گولیاں ان کے جسم کو چیرتی ہو ئی ان کی بچی کے جسم میں پیوست ہو جا تی ہیں ، پروفیسر الطاف کو ہو ش آتا ان کے زبان پر بے ساختہ خولہ کا نام آتا ہے وہ بد حواس ہو کر اپنی بچی کےلئے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا جسم زخموں سے چور چور ہوتا ہے ، ان کی پسلیاں کٹ چکی ہوتی ہیں، گھروالے انھیں بناتے ہیں کہ خولہ شہید ہو چکی ہے ، ہسپتال میں صحت یاب ہو کر انھیں آبائی گھر لایا جا تا ہے ، عزیر و اقارب انھیں بالا کورٹ میں کو ئی چھو ٹا مو ٹے کاروبار کا مشورہ دیتے ہیں، پروفسیر الطاف دوبارہ پشاور جانے پر بضد ہوتے ہیں صحت یابی کے بعد وہ اپنی کٹی پسلیوں کے ساتھ ایک بار پھر اپنے بلند اداروں اور ایک نئے عزم کے ساتھ آرمی پبلک سکول جانے کا ادادہ کر تے ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر واپس پشاور آ جا تے ہیں ، سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ہے، شہید بچوں کا خون رائیگاں نہیں گیا ، آج پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلے افراد دہشت گردوں کےلئے عبرت کا نشاں ہیں ، بیٹی کی شہادت اور جسمانی طور پر معذوری ان کے پہا ڑ جیسے عزم کے سامنے چیونٹی کی طر ح ثابت ہو ئی ہے ،یہ ہوتی ہے زندہ قوموں کی نشانی ہمیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولنا چایہے، میں ایک شاعر تو نہیں ہوں لیکن اس واقعہ کو لکھتے ہوئے  میرے ذہین میں غزل کا ایک مصرہ آیا ہے کاش میں اسے پورا کر سکتا ۔

   IMG-20161217-WA0005دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

Target Killing In Khyber Pukhtoon Khwa 9 Month Data 2017

خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 9ماہ مین 31 افراد کی ٹارگٹ کلنگ

عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ پشاور کے شہری،دوسرے نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے، پہلے تین ماہ صوبہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے بھاری رہے

ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں 90 ہوئیں،دستاویزات میں انکشاف

شہزادہ فہد

خییبر پختونخوامیں رواں سال کے نوماہ کے دوران 31 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پشاور کے شہریوں کی ہے جبکہ دوسری نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا،خیبر پختونخوا میں رواں سال کے نو ماہ کے دوران مختلف اضلا ع میں 31 افراد کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ 5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے ، دستاویز کے مطابق 2017ء کے جنوری،فروری،مارچ میں ٹارگٹ کلنگ کے14 واقعات رونما ہوئے ، رواں سال کے پہلے تین ماہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لحاظ سے بھاری رہے ، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبے بھر میں ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا،صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں ہوئیں 90 افراد کوقتل کیا گیا

target-killings