Category Archives: history report

Pigeon Shooting In Peshawar (پشاور میں کبوتر بازی)

سروے رپورٹ و تصاویر ، شہزادہ فہد

کبوترباز کبوتر پکڑنے اور کبوتروں کو پالنے والے کو کہا جا تا ہے، کبوتر بازی ایک مشغلہ ہنرکے ساتھ ساتھ ایک منافع بخش کاروباربھی بن چکا ہے، اس کے شوقین افراد کبوتروں کی افزائش اور نئی اور اعلٰی نسل کے لیے کبوتروں کی مخلوط نسلوں کا جوڑا بناتے ہیں کبوتروں کی نسلوں کے بارے یہی لوگ باآسانی اندازا لگا سکتے ہیں، ایک اندازنے کے مطابق دنیا بھر میں کبوتروں کی تقریبا289 سے زائد اقسام ہیں ،کبوتروں کی نسلوں کا فرق ان کی شکل و صورت کے ساتھ اڑان کا دورانیہ اڑان کی بلندی اور طوراطوار سے ظاہر ہوتاہے دنیا بھر میں کبوتروں کے مقابلے ہوتے ہیں جس میں بھاری جوا لگایا جاتا ہے، معاشرتی طور پر کبوتر بازی کو روپے اور وقت کا زیاع سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود تقریباً ہر محلے میں کبوتر باز موجود ہیں کبوتر بازی کا مرکز پاک ہند کو سمجھا جاتا ہے شعرا نے اپنے کلام میں کبوتر پر شعر لکھے ہیں عام طور پر شعروں میں کبوتر کا پیغام رساں اور قاصد پرندہ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔صوبا ئی دارلحکومت پشا ومیں سیکڑوں افراد کبوتر باز ی کے شوق میں مبتلا ہیں ، پشاور میں زیادہ تر پنجاب کے کبوتر پسند کئے جا تے ہیںاور نھیں لوکل کبوتروں پر ترجیح دی جا تی ہے ، اس حوالے سے روزنامہ ایکسپریس میں کبوتر بازی کے متعلق سروے میں مختلف علاقوں کے افراد سے معلومات لی گئی ہیں ، پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ لوکل کبوتر چند دن بعد اپنے مالک کے پاس واپس چلا جاتا ہے، پشاور میں سرگودھا ، فتح جنگ ، ملتان ، ڈی آئی خان ، خوشاب اور دیگر جگہوں سے کبوتر وں کو فروخت کےلئے لایا جاتا ہے ، ایک اندازے کے مطابق 200 کبوتر وں کی افزائش پر یومیہ تین سو روپے سے چار سو روپے تک خرچہ آتا ہے ،کبوتر بازی واحد مشغلہ ہے کہ جس میں کبوتر خود اپنا دانہ پانی پیدا کر تے ہیں ، ریس کے کبوتر ہر ہفتہ اپنے ساتھ کو ئی نیا کبوتر لاتے ہیں جس کو مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے،کبوتر بازی سے لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں آئے روز نا خشگوار واقعات نے اس مشغلے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے ، دیہی علاقوں میں کبوتربازی کا رجحان شہری علاقوں سے زیادہ پایا جاتا ہے

پشاور میں کبوتر بازی کی منڈیاں
صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کےلئے باقاعدہ منڈیاں لگائی جا تی ہیں ، پشاو رمیں فردوس پھا ٹک ، سیفن بڈھ بیر، با ڑہ اور رنگ روڈ پر جمعہ اور اتوار کے روز منڈیاں سجائی جا تی ہیں ، منڈیوں میں ہفتے بھر میں پکڑے جانے والے کبوتروں کو فروخت کےلئے لایا جا تا ہے ، منڈیوں میں جہاں کبوتر کی خرید فروخت کی جا تی ہے وہاں کبوتر بازی سے منسلک سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے ، ان میں کبوتر پکڑنے والا جال جو کہ لوکل افراد اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں یہ جال 250روپے تک فروخت کیا جاتا ہے اسی طرح کبوترو ں کے پاوں میں ڈالے جانے والے گھنگرو اور دیگر اشیاءکا بازار بھی لگایا جاتا ہے جس سے درجنوں افراد برسرروزگار ہیں

غیرملکی کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی
پشاو ر میں امریکی، جرمن ، اسرائیلی، ڈینش اور چائینہ کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی ہیں ، یورپی کبوتر 70 ہزارسے زائد تک جوڑا فروخت کیا جا رہا ہے ، پشاور کے کبوتر باز لوکل کبوتر پر یورپی کبوترو ں کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ خوبصورتی ، رنگت اور طویل اڑان بتائی جا تی ہے،پشاور میں امریکی ، جرمن ، ڈینش، اسرائیلی کبوتروں کی جو ڑی 70 ہزار روپے یا س سے زائد میں فروخت کی جا تی ہے جبکہ لوکل کبوترجن میں تو ر شیزای ، سبز چپ، تو رڈھنڈے مار، شیت رو، غورہ ، زرد جو گی ، لا ل جو گی ،سیاح چپ اور دیگر کی قیمتیں غیرملکی کبوتروں سے قدرے کم ہیں ، ان کی قیمت عام مارکیٹ میں 300 سے 500 تک بنائی جاتی ہے جبکہ ان میں خاص کبوتر کی قیمت10 ہزار تک بتائی جاتی ہے

کبوتر بازی کی تاریخ
کبوتر بازی کا شوق 700سال قبل شروع ہوا تھا بابر بادشاہ نے اس کی افتتاح کی بعد از اں وہ ایران اور ترکمانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ اپنے پالتو کبوتر بھی لے آئے یہ شوق اکبر بادشاہ کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور تقریباً ہر چھٹی کے روز اس کے باقائدہ مقابلے ہوتے تھے اور جو کبوترسب سے زیادہ دیر تک فذا میں رہتا اس کے مالک کو شاندار کھانے کھلائے جاتے اور اسے انعامات بھی دیئے جاتے، بادشاہوں نے اپنے کبوتروں کو ٹرینڈ کرنے کے لئے پیشہ وار ملازم بھی رکھے ہوئے تھے۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جاتے تھے اگر کوئی ٹرینی کبوتر کو زیادہ مہارت سکھاتا تو اس کا اسپیشل انعام رکھاجاتا،700سال قبل بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے تھے اور بادشاہ کے ساتھ وزراءدرباری اور دیگر لوگ بھی اس میں شرکت کرتے اور انہیں بھی موقع دیا جاتا کہ وہ کبوتر بازی دیکھیں،اس وقت کے مطابق بتایا جاتا رہاہے کہ یہ کھیل امیروں، نوابوں، مہاراجوں اور امیر لوگوں کا کھیل ہوا کرتا تھا،برصغیر میں آنے کے بعد اس شوق میں کبوتروں پر جواءلگایا جانے لگاkabotar-2

سہ ماہی نوکھی کبوتر ریس
کبوتروں کے شوقین افراد اپنے آپ کو مشغول رکھنے کے ساتھ اس پر بھا ری جوا بھی لگاتے ہیں ، پشاور کے مختلف مقامات پر کبوتروں کی ریس کا انعقاد کیا جا تا ہے ، ایک خاص مقام پر کبوتروں کو چھوڑا جاتا ہے اور سب سے پہلے گھر پہنچنے والا کبوتر فاتح قرار دیا ہے ، حاجی کیمپ کمبوہ میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کی جانب سے ایک انوکھی سہ ماہی ریس کا انعقاد کیا جاتا ہے ، راولپنڈی پیر ودائی اڈے سے کبوتر باز دو کبوتروں کو فضاءمیں چھو ڑ دیتے ہیں جس میں پہلے گھر پہنچنے والے کبوتر کے مالک کو رقم کے ساتھ ہا رنے والا شخص سفر کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے ، خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر کبوتر بازی کے مقابلوں کا انعقاد کرنے سے کبوتر باز ی کے میدان میں ایک صحت مندازنہ مقابلے کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے،

Mystical Singer Sain Zahoor in Peshawar

شہزادہ فہد ۔

This slideshow requires JavaScript.

صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی کے ساتھ صوف پوش (سادہ لباس) ہو اور نفسانی خواہو، صوفی موسیقی کا تعلق بھی صوفیاء کرام سے بتایا جاتا ہے جسے رومی ،بلھے شاہ اور امیر خسرو جیسے صوفی شاعروں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہے، قوالی صوفی موسیقی کی سب سے معروف صورت ہے جس کا تعلق برصغیر سے ہے، نیز یہ موسیقی ترکی،مراکش اور افغانستان جیسے ممالک میں وجود رکھتی ہے، پاکستان میں عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ، ان ہی میں سے ایک مقبول و معروف نام سائیں ظہور جو کہ پاکستان کے شہر اوکاڑہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکار ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے۔ 2006ءسے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا تاہم عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئے تھے، سائیں ان کا نام نہیں بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے ، سائیں ظہور ساہیوال ڈویژن کے ضلع اوکا ڑہ میں 1937ءمیں پیدا ہو ئے ، وہ اپنے گھرانے میں سب سے چھوٹے ہیں انھوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کردیا تھا ، دس سال کی عمر میں انھوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر دربار اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنالیا ، 2006 ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے منظر عام پر آیا ، 2007 ءمیں انھوں نے ایک پاکستانی فلم ’ ’ خدا کے لئے“گانا گایا جو بھی بے حد مقبول ہوا ، انھوں نے ایک برطانوی فلم” ویسٹ از ویسٹ “ کےلئے گانا گانے کے ساتھ ساتھ اس فلم میں اداکاری بھی کی، خیبر پختونخوا میں صوفی ازم سے لگاو رکھنے والے افراد کے لئے نشترہال پشاور میں محکمہ کلچر و ثقافت کے زیر اہتمام بین الاقومی شہرت یافتہ صو فی گلوکار سائیں ظہور کی شاندار روحانیت اور فقر پر مبنی کلام کے محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت وثقافت، آرکیالوجی ،میوزیم اور امور نوجوانان محمد طارق، ڈائریکٹر کلچر اجمل خان، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد، ایس ایس پی ٹریفک صادق بلوچ سمیت مختلف فیمیلز، خواتین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، تقریب میں کمپئرنگ کے فرائض معروف آرٹسٹ ارشد حسین اور نمرہ خان نے سر انجام دئیے،صوفی شاعر بابا بلے کے کلام کو آپنی جا دوئی آواز میں گانے پر محفل میں موجود افراد نے خوب سراہا ، دو گھنٹوں سے زائد کی پرفارمنس کے دوران گلوکار سائیں ظہور نے میرا عشق بھی توں، تیرے عشق نے نچایا چل چھیاں چھیاں ، لال میری اور دیگر صوفیانہ کلام پیش کئے ، بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار سائیں ظہور نے اس موقع پر کہا کہ پشاور آکر یہاں کے لوگوں کا پیار اور مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا جس کو ہمیشہ یاد رکھوں گا اور اگر موقع ملا زندگی میں تو دوبارہ بھی پشاور میں آکر پرفارم کرونگا ، انہوں نے کہاکہ اپنی زندگی میں زیادہ تر صوفیانہ کلام پیش کئے کیونکہ مجھے شروع سے صوفیانہ کلام سے لگاﺅ رہا ہے ،سیکرٹری کلچر و ٹوررازم طا رق خان کا کہنا تھا کہ سائیں ظہور کو پشاور بلانے اور یہاں پر پروگرام کے انعقاد کا مقصد صوبہ کی عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی صوبائی ثقافت کی رونمائی کرنا بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ پشاورمیں صوفی گلوکاری سے لگاو رکھنے والے سائیں ظہور کو پنجاب جا کر سن پاتے تھے یا پھر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھنا اور سننا نصیب ہوتا تھا ، سائیں ظہور کا شمار پاکستان بلکہ دنیا کے نامور موسیقارمیں کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں زیادہ ترصوفیانہ کلام پیش کئے اور 2006میں بی بی سی وائس آف ایئر کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا، سائیں ظہور کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اکاڑہ سے ہے انہوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کا آغاز کیا ، سائیں ظہور کی2گھنٹوں سے زائد براہ راست پرفارمنس پر شہری جھوم اٹھے ، خیبر پختونخوا میں صوفیانہ کلام کے فروغ کےلئے اٹھائے گئے پہلے قدم کے مثبت نتائج آنا شروع ہو جا ئینگے ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی گلوکار کی پشاور آمد سے عارفانہ کلام کے روجحان کو فروغ ملے گا ، پاکستان کے دیگر صوبوں کے حکام کو بلا تفریق عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو پروموٹ کرنے کے لئے اس قسم کی محافل کا انعقاد کرنا ہو گا

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

kp adopt culture

پشاور( رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد )
خیبرپختو نخوا کے باسی شادی بیاہ کے دوران جہا ں اپنے اپنے ریت و رواج کے مطابق رسوما ت ادا کر تے ہیں وہا ں ایک ایسی رسم بھی ہے جو کہ ہر قوم و نسل کے

لوگوں میں یکساں پا ئی جا تی ہے ۔ شادی بیاد کے مواقع پر دولہے کو دوست و اقارب کی جانب سے سہرا پہنایاایک معمول ہے اس رسم 1971 میں جدت آئی جب خیبر پختو نخوا کے لو گوں نے پنجاب میں سہرا بندی کے دوران نو ٹوں سے مزئین ہار پہنا نے کا رواج اپنا یا ۔ اس نئی رسم نے خیبر پختو نخوا میں جلد ی مقبو لت اختیار کرلی ۔ نو ٹوں کے سہر ے میں آ تے ہی مقا می دکا نداروں نے نت نئے تجربات شروع کر دئیے 1990 میں خیبر پختونخوا کے جنو بی اضلاع سہرے میں گھڑیا ں کا رواج عام ہوا اور تا حال یہ رواج قائم ہے ۔ شادی بیا ہ کے تقاریب میں نو ٹوں کے سہروں کے رواج کو بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی نے ہضم کر لیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روپے ، دو روپے اور پانچ روپے کرنسی نو ٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی سہرا بند ی میں نو ٹوں کا رواج زوال پذیر ہو ا ۔ شہرے میں کرنسی نو ٹوں کی ضرورت ہو تی ہے اور حکومت کی جانب چھو ٹے کاغذی نو ٹوں کے خاتمے کے بعد دس روپے کے نوٹ سے سہرے بنانے میں کمی واقع ہو ئی ہے شہریوں کے مطابق مہگا ئی اور بے روزگا ری کی وجہ سے دس روپے والے سہروں کو خرید نے سے قاصر ہیں ۔ صوبے بھر میں قدیمی روایت نو ٹوں والے سہروں کی جگہ چا ئینہ ڈیکوریشن تحائف نے لے لی ہے شادی بیاہ میں نو ٹوں کے رواج کے ختم ہو نے ہی شہریوں اپنے دوستو ں ، رشتہ داروں کو نقدی یا ڈیکوریشن والے تحائف دینےلگےہیں ۔ نو ٹوں والے سہروں کی ما نگ میں کمی کے بعد دکا نداروں نے ڈیکوریشن تحائف کے ساتھ کپڑے والے سہروں کو متعارف کر وایا ہے یہنو ٹوں سہرے کی نسبت انتہا ئی کم قیمت پر فروخت کئے جا تے ہیں نو ٹوں والے سہروں کی قیمت 1500 سے شروع ہو تی ہے اور اپنی مرضی کے ہزارو ں روپے اس میں لگا سکتے ہیں جبکہ کپڑے والے سہرے 30 سے 90 روپوں کے درمیان فروخت کئے جا تے ہیں اسی لئے زیا دہ تر شہریوں قو ت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے والے سہروں کو ترجیح دیتے ہیں

سہروں میں ڈالر ، دینا ر، درہم لگا نے کا نیا رواج ۔۔
مہنگا ئی کی وجہ سے جہاں نو ٹوں والے سہروں کا رواج ختم ہو رہا ہے وہا ں بعض افراد سہرے میں پاکستانی کر نسی کے ساتھ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں کو سہرے میں لگا کر اپنے عزیزوں اور دستوں کو شادی بیاہ پر پہناتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں میں ڈالر ، دینا ر ، ریا ل ، درہم اور دیگر نو ٹوں کے سہرے دولہا کے عزیز، دوست و اقاراب شو آف کے طورپر پہنا نے کا نیا رواج قائم ہو رہا ہے
دکا ندروں کے مطابق دیگر کر نسی نو ٹوں کی مانگ میں اضا فہ ہو رہا ہے

تقسیم پاکستان سے قبل قصہ خوانی میں ” کو چہ گل فروشان “
خیبر پختو نخوا میں نو ٹوں والے سہروں کے رواج سے قبل پھو لو ں کا ہار پہنایا جا تا تھا پھولوں کے بار ے میں کہا جا تا ہے کہ یہ واحد چیز ہے جو غم اور خوشی میں انسان کے ساتھ ہو تی ہے ۔ شاد ی بیاہ میں دولہے دلہن کے گھروالوں کو پھو لو ں کے سہرے پہنانے کا رواج آج بھی قائم ہے ۔ تقسیم پاکستان نے قبل پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوا نی ایک مخصوص گلی جسے ”کو چہ گل فروشان “ کہتے تھے تا حال مو جود ہے پشاور کے دورے پر آنے والے سیا ح کو چہ گل فروشان ضرور دیکھتے لیکن شادی بیاہ میں شادی شادی ہا لوں کے رواج نے جہا ں بہت سے دیگر رسومات کو ختم کر دیا ہے وہا ں پھو لو ں کے کا روبار کر نے والے کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ پھو لو ں کے سہروں میں کمی کی وجہ سے زیا دہ تر دکا ندار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں ۔ پھو لو ں کا شادی بیا ہ ، فریضہ حج کی ادئیگی کے ساتھ فوتگی کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مہگا ئی کی وجہ سے پھو لو ں کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ سہروں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور ابھی شادی بیا ہ کے موقع ہر شازر و نادر اس کا استعمال کیا جا تا ہے

پشاور میں تا حال پھولوں کے باغات ۔۔
پھو لو ں کا شہر کہلا نے والے پشاور شہر میں جہا ں باغات کی بھتا ت تھی وہا ں گلبر گ ، چارخانہ ، لنڈی ارباب میں کسان پھو لو ں کی کاشت کےلئے زمینیں اجا رہ پر لیتے تھے جو کہ ایک بڑ ی امد ن کا زریعہ ہو تا ہے۔ آباد ی میں اضافے کےساتھ پھو لو ں کے باغات کے خاتمے کے ساتھ اس کی کا شت بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ پشاور کے نو احی علا قوں بازید خیل ، شہا ب خیل ، شیخ محمدی میں تا حال پھو لو ں کے باغات قائم ہیں ان علا قو ں کا پھول پشاور سیمت پو رے صوبے میں سپلا ئی کیا جا تا ہے پشاور میں پھو لو ں کی منڈ ی رامداس بازار میں لگا ئی جا تی ہے ۔ مضا فاتی علاقوں میں کاشت کئے جا نے والے پھو لو ںمیں گلا ب کے پھول کے ساتھ گیندے کا پھول جس میں سفید اور زرد پھو ل ہو تا ہے ، اور شبو کا پھو ل قابل ذکر ہیں یہ پھو ل شادہ بیاہ اور فوتگی میں سہروں میں پیروئے جا تے ہیں اور یہاں کے پھول پو رے صو بے میں گل فروشوں کو بھجوائے جا تے ہیں

REWATI TOPI (QARAQULI)

رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد
عزت و احترام کی نشانی اور تاریخی اہمیت کی حامل قراقلی شب و روز کی گردش ایام کا نشانہ بنتے ہو ئے ما ضی کا حصہ بن گئی جو کہ بھولے سے یاد نہیں آتی رہی سہی کسر اس کے بنا ئے جا نے کی حقیقت نے پو ری کر دی۔ پشاور میں بنا ئے جا نے والی قراقلی دنیا بھر میں مشہور ہو نے کے ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ تین دہا ئی قبل پشاور میں قراقلی کی پچاس سے زائد دکانوں میں صرف دو دکا نیں با قی ہیں جبکہ اس پیشے سے منسلک سیکڑوں گا ریکر کا م نہ ہو نے کی وجہ سے پیشہ تبدیل کر چکے ہیں ۔ قراقلی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث شہر یوں نے اپنی روایات کا خیر آباد کہہ دیا ہے ۔ تین دہا ئی قبل جو قراقلی تین سو سے سات سو روپے میں میں ملتی تھی آج اس کی قیمت آٹھ ہزار سے با رہ ہزار روپے ہو گئی ہے ۔ قراقلی کے تا جر وں کے مطابق اس کو بنا ئے جا نے میں استعمال ہو نے والی کھال انتہا ئی مہنگی ہو گئی ہے جس کے باعث اس کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ قراقلی مو جود ہ حالات میں صرف شادی بیا ہ کے موقع پر پہنی جا رہی ہے جبکہ مو جود ہ حالا ت میں یہ روایات بھی دم توڑنے لگی ہیں ۔ مقامی دکانداروں کے مطابق مہینوں تک قراقلی کا کو ئی گا ہک نہیں آتا جس کے باعث دکاندار اور کا ریگروں کا مشکلات درپیش ہیں ۔ قراقلی بھیڑ کے کم سن بچے کی کھال سے بنا ئی جا تی ہے یہ بھیڑیں ایک خاص نسل کی ہو تی ہیں جو کہ افغانستان میں پا ئی جا تی ہیں ۔ مقامی دکاندروں نے بتایا کہ اس خاص نسل کو دیگر علاقوں میں افزائش نسل کےلئے لا نے کے تجربات کئے گئے ہیں تاہم تمام تجربات ناکام ہو ئے ہیں ۔ کم سن بچے کو ذبع کر نے کے بعد اس کی کھال کو نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے اور پھر اسے کا رخانے دار پر فروخت کر دیتے ہیں جو کہ صفائی کے بعد اس کو بیوپاریوں کے ہا تھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔قصہ خوا نی قراقلی کی صرف دو دکانیں با قی رہ گئی ہیں دہشت گر دی سے متاثر پشاورکے متعدد تا جر دیگر شہریوں کو منتقل ہو گئے ہیں وہاں قراقلی کے کا روبار کی تنزلی کے باوجود اس کا روبار سے منسلک تا جر ثقافت کے زندہ امین ہیں جن کا صلہ انھیں ملنا چا ئیے ۔

قراقلی کو ” جنا ح کیپ “ بھی کہا جا تا ہے جس کو با نی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے ۔ قراقلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پا کستانی کر نسی میں محمد علی جناح کی تصویر میں نمایا ں دیکھی جا سکتی ہے پاکستا نی کر نسی میں ایک روپے کے سکے سے پا نچ ہزار کے نو ٹ تک تمام تصاویر میں قراقلی واضح ہے ۔ قراقلی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تلے والی ، سلیٹی ، کا لی اور بادامی قراقلی مشہور ہیں ۔ قراقلی کو سرکا ری ملازمین پہنتے تھے جس کی روایات بھی ختم ہو چکی ہے ۔ پا کستان پیپلز پارٹی کے بانی زولفقار علی بھٹو ، جزل ایوب خان ، جزل فضل حق اور دیگر معروف شخصیات بھی قراقلی شوق سے پہنا کر تے تھے ۔ مقامی دکانداروں نے بتا یا کہ ان تمام شخصیات کےلئے پشاور کے کاریگر اسپیشل قراقلی بناتے تھے ۔

پشاور میں بنا ئی جانے والی قراقلی امریکہ ،جاپا ن، لندن اور دیگر ممالک میں رہنے والے افراد کےلئے خصوصی آڈر پر تیار کی جا تی ہے ۔ قراقلی کی روایات کشمیری رہنما وں میں تاحال مقبول ہے ۔ حکومت کی جانب سے تاریخی اہمیت کی حامل اور پاکستانی رویات کی امین قراقلی کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔جس جے باعث آنے والے نسلوں کو شاید قراقلی کا نام بھی یاد نہ رہے ۔ ایک وقت تھا کہ یہ رویات عام تھیں کہ ہر گھر میں بزرگوں اور خاندان کے بڑوںکے پاس قراقلی ہو تی تھی اور شاد ی بیاہ کے موقعہ پر اسے پہنا جا تا تھا

قراقلی جما عت اسلامی کے امراءباقاعدگی سے پہنتے تھے جبکہ مو جود ہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے یہ رویات ختم کر دی ہے۔ جما عت اسلامی کے بانی ابو اعلی مو دودی ، میاں محمد طفیل ، قاضی حسین احمد ، سید منور حسن قراقلی باقاعدہ پہنتے تھے جماعت اسلامی میں قراقلی کا رواج تا حال قائم ہے مو جود ہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اپنی علاقائی روایا تی ٹوپی استعمال کر تے ہیں جس کی وجہ قراقلی کی روایات ختم ہو گئی ہے ۔

fahad(1).jpg

peshawar mei baghat

پھولوں اور باغات کاشہر پشاور صرف کتابوں میں باقی رہ گیا
آج سے چند سول سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی، زیادہ تر صفحہ ہستی سے مٹا دئےے گئے
، موجودہ نسلیں ایک درجن سے زائد باغوں کے ناموں اور تاریخ سے واقف ہی نہیں
حکومتی عدم تو جہی سے پشاور میں موجود چند با غ بھی اپنی حالت زار بیا ن کر رہے ہیںباغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے
پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے

پشاور (شہزادہ فہد)وادی پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کا محصور تھا یہاں کی ہوا اور موسم زیادہ تر معتدل رہتا ہے زمانہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں اسے ”پشاپورا“ کے نام سے پکارا گیا ہے جس کے معنی ہیں” پھولوں کا شہر “ پشاور باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کےلئے جانے جاتے تھے پشاور ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مسکن مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں اور جن کی ماضی میں کئی مرتبہ پذیرائی بھی کی جا چکی ہے پشاور شہر ، چھاﺅنی اور جامعہ پشاور میں درختوں اور سبزہ زاروں کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ اہلیان پشاور قدیم زمانے ہی سے باغبانی ، پارک بنانے اور سبزہ زاہ لگانے کے بے حد شوقین ہی نہ تھے بلکہ اُنکی حفاظت کے معاملے میں کافی باشعوربھی تھے جسکی وجہ سے بعض صدیوں پرانے باغات آج بھی موجود ہیںجبکہ ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے چند سو سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی اس کے اردگرد قدرتی جنگل واقع تھے جس میں شہنشاہ بابر نے گینڈوں کا شکار اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پشاور کے یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے اردگرد نہ وہ قدرتی جنگل ہیں اور نہ ہی اس کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخ باغات، رفتہ رفتہ سب کچھ مٹ گیا ہماری موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال، جونی اور بہار کیسی تھی نہ صرف بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی غالب اکثر واقف نہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں ان میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراﺅنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئےر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیںبڑھتی ہوئی آباد ی کے باعث پشاورکے موجودہ باغات کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے باغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے پشاور کے باغوں اور سبزہ زاروں کو اُجاڑنے میں سیاسی اور انتظامی شخصیات ہی شریک نہیں رہیں بلکہ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے ماضی قریب میں اند رو ن شہر مسجد نمکمنڈی کی جگہ ایک بہت بڑا پارک تھا یہ پارک اور اسکے ساتھ لائبریری بجوڑی گیٹ ، ڈبگری گیٹ ، سرکی گیٹ اور اس سے ملحقہ محلوں کے لوگوں کےلئے آسودگی اور تفریح کا باعث تھا روزانہ لائبریری میں سینکڑوں افراد مطالعہ کرتے اور پارک میں چہل قدمی کرتے مگر ہمارے مذہبی رہنماﺅں کو یہ بات پسند نہ آئی پاک، لائبریری اور اسکے ساتھ چھوٹی مسجد کو راتوں رات ایک بڑی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اہلیان پشاور پر یہ ظلم عظیم تھا کیونکہ اس مسجد سے ایک کمند کے فاصلے پر نمکمنڈی کی جامع مسجد اور کشمیری مسجد یہاں تک کہ ہر گلی ہر محلے میں ایک مسجد واقع تھی

fahadصو با ئی دالحکومت پشاور میں جہا ں باغات ختم ہو رہے ہیں اور شہریو ں کو شہری تفریحی کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں وہا ں رہی سہی کسر پارکوں کے انٹری ٹکٹوں اور نا مناسب سہولیات نے پو ری کر دی ہے پشاور شہر میں واقع پا رک انتظامیہ کی غفلت کے ویرانی کی صورت پیش کر رہے ہیں۔ پارک میں خود ساختہ ریٹ مقرر ہو نے سے شہری پارک میں جانے سے کترانے لگے۔انٹری ٹکٹ ، جھولے اور پا رکنگ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔اہلیان پشاور نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہر کے باسیوں کو تفریح کے موثر مواقع فراہم کئے جائےنگے

discovery of buddha remains


پشاور : رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد۔
ہر ی پور کے علا قہ خانپور سے 6 کلو میٹر فاضلے پر بھمالہ کے مقام پر پاکستان میں پہلی بار بد ھ مت تہذیب کا عظیم و شان شاہکاردریا فت ہو ا ہے۔ 45 فٹ مجسمے میں بد مت مت کے پیشواکامو ت کا منظر پیش کیا گیا ہے جو کہ قدامت کے لحاظ سے پاکستان کی تایخی کا سب سے بڑا مجسمہ ہے ۔ کنجورین پتھر سے بنائے جا نے والے مجسمہ کھد ائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا جس کو محکمہ آرکیا لوجی کی جانب سے ڈرائنگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ، خیبر پختونخوا میں ٹیکسلا خانپور سے 6 کلو میٹر ایک پر فضاءمقام بھمالہ میں بد مت تہذیب کے آثار دریا فت کئے گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق بھمالہ ہا رو دریا کے قریب ایک پر فضاءمقام ہے بدھ مت کے پیر وکا ر بھمالہ کے راستے کشمیر اور ٹیکسلا کاروبار کے سلسلے میں جا تے تھے اور اس مقا م پر قیام کیا جا تا جہاں انھوں نے خانقاہیں بنا ئی تھیںاس مقام پر سر جان مارشل نے 1930 میں کھد ائی شروع کی تھی جان مارشل اس وقت ڈائر یکٹر جزل آرکیا لو جی فرنٹئیر ریجن تھے جنھوں نے بھمالہ کے مقام پر بد ھ مت کی پر چار کےلئے بنا ئی جا نے والی دیگرعبا دگا ہیں بھی دریا فت کی تھی ۔اس مقام پر صلیبی شکل کا اسٹوپہ جو کہ جسامت میں پاکستان کا سب سے بڑا اسٹوپہ ہے بھی دریافت ہو چکا ہے جو کہ چاروں اطراف سے عبا دت کےلئے استعمال ہو تا تھا ۔ گزشتہ سال محکمہ آرکیا لوجی خیبر پختونخوا کی جانب سے 85 سال بعد سروے کے بعد بد ھا کے مو ت کا منظر پیش کر نے والا مجسمہ دریا فت کیا گیا ہے جس میں بد ھ مت کے پیشوا کے انتقال کا منظر دیکھایا گیا ہے یہ مجسمہ کنجو رین سٹون سے بنایا گیا تھا ماہر آرکیا لو جی اور فیلڈ ڈائر یکٹر بھمالہ عبدالحمید نے بتا یا کہ کنجو رین سٹون جو کہ کمزور پتھر ہے جس کے باعث کھد ائی کے دوران مجسمہ ٹوٹ گیا محکمہ کی جانب سے اس کو دوبا رہ ڈرائینگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ۔ ڈبل سٹوری پر محیط یہ دیو ہیکل مجسمے میں مو جو دہ حالت میں بد ھا کے پا وں کی حالت باآسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔ فیلڈ ڈائر یکٹرعبد الحمید نے بتا یا کہ مو ت کا منظر پیش کرنے والے مجسمہ میں پہلی بار دو ہیلو ( جو کہ شان و شوکت کا نشان سمجھا جا تا تھا ) کے اثار ملے ہیں اس نو یت کا مجسمہ پہلے کبھی دریا فت نہیں کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ اس ریجن میں محکمہ کی جانب سے سروے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ گندھارہ ریجن میں جہاں اب تک بد ھ مت کے بے شمار اثرات ملے ہیں وہا ں اس ریجن میں مزید کتنی چیزیں دریا فت ہو تی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔

تھا ئی زبان میں کہا وت سے کہ” علم سیکھنا ہے تو گند ھا را جا و“اس کی تصدیق چین کے تاریخی دانوں نے کی ہے چینی مورخین کے مطابق گندھا را ریجن جو کہ بد ھ مت کےلئے ایک مقدس زمین کی حیثیت رکھتا ہے مو رخین کے مطابق 3 صد ی عیسوی میں گندھا را ریجن میں 6 ہزار سے زائد یو نیورسٹیاں( خانقاہیں ) قائم تھیں جن میں دینی علوم کے ساتھ دنیا وی علوم کی بھی ترغیب دی جا تی ۔ اس ریجن میں بد ھ مت کے بیشتر اثارات ملے ہیں جو کہ اس کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ”جو لیاں “ بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جولیا ں کے با رے میں مقا می لو گو ں کا یہ خیال ہے یہ لفظ جے ولیاں سے نکلا ہے یہ آرکیا لوکل سائٹ 17 سے 18 سو سال پر انی ہے اس سائٹ کو سپر ڈنٹنڈ ٹ فرنٹیئر ریجن و ڈی جی آرکیا لو جی سر جا ن مارشل نے پنڈت نسیتار یار کی نگر انی میں 1916 میں دریافت کیا تھا ۔ ماہر ین آرکیا لو جی خیبر پختو نخوا کے مطابق یہ پا کستان کی واحد آرکیالوجکل سائٹ ہے کہ بہتر حالت میں ہے ۔ جو لیا ں کوپا نچویں صدی عیسوں میں وائٹ ہنر جو کہ سنٹرل ایشیاءکے قبا ئل اور آتش پرست تھے نے تبا ہ کیا تھا ۔

صو بائی دارلحکومت پشارو میں بد ھ مت کے اثار کثیر تعداد میں ملے ہیں جن کے نام و نشان نا منا سب انتظامات نہ ہو نے کی وجہ سے مٹ چکے ہیں یہ میں تہکال اسٹوپہ ، شاہ جی کی ڈھیری ، زر ڈھیری اور دیگر شامل ہیں ۔ تہکال اسٹوپہ جو کہ صلیبی شکل میں1871 میں دریا فت کیا گیا اس شکل کے اسٹوپہ شاد و نادر ہی دریافت ہو ئے ہیں یہ اسٹوپہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اس کا نا م تو با قی ہے لیکن کو ئی نشا ن با قی نہیں ۔اسی طر ح زر ڈھیری میں صلیبی شکل کے دیو قامت اسٹوپہ دریافت ہو چکے ہیں پشاور میں شاجی کی ڈھیر ی میں بد ھ مت کے اثار جو کہ 1908 سے 1916 کے درمیان دریا فت کئے گئے تھے بیہ مقام بھی تجا وزات ما فیا کی زد میں اپنی اصل حالت کھو چکا ہے

دنیا کا تیسرا بڑا شما ر کئے جا نے والا مذہب ”بد ھ مت“ تھا ئی لینڈ ، نیپا ل ، جاپا ن ، کو ریا ، سر ی لنکا میں سرکا ری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ما نے والے پاکستا نی کی سرزمین کو مقدس زمین تصویر کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے بد ھ مت کے آثار کی منا سب دیکھ بحال نہ ہو نے سے اس کے آثار ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ بد ھ مت کے آثار سے متعلق پشاور میں تاریخی اہمیت کی حامل سائٹ شاہ جی کی ڈھیری میں بد ھ مت کے پیشوا بد ھا کے زیر استعمال بیش بہا قیمتی ہیر ے کا ڈبہ بھی ملا ہے جو کہ پشاور میو زیم میں نما ئش کےلئے رکھا گیا ہے اس طر ح بد ھ مت سے متعلق دیگر نو ازدات پشاور میو زیم اورملک بھر کے عجا ئب گھروں کی زینت بنے ہو ئے ہیں ، حکومت بد ھ مت کے ملنے والے آثار قد یمہ پر قلیل رقم خرچ کر کے اس سیاحوں کو راغب کر نے کا زریعہ بنا سکتی ہے جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

A story of a tomb in peshawar

شہزادہ فہد ۔۔۔۔IMG-20151103-WA0007 IMG-20151103-WA0003 IMG-20151103-WA0004 IMG-20151103-WA0005
پشاور شہر کے معروف اور تاریخی اہمیت کے حامل وزیر باغ روڈ جو شہر کے جنوب میں واقع ہے پر ایک نہایت تاریحی گنبد جو ”بیجو کی قبر“ کے نام پر مشہور ہے اب جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا ہے اور آہستہ آہستہ یہ تاریحی ورثے کا نام و نشان ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آج بھی یہ برج سیا حوں کو اپنی طرف راغب کر تا ہے ۔ مورخین کے مطابق شیح حبیب بابا کے مزار کے باہر ایک نہایت تاریحی گنبد صدیوں پہلے بنایا گیا تھا آج بھی یہ برج سیاحوں کو اپنی طرف مرغوب کرتی ہے۔یہ برج اپنے پس منظر میں ایک درانی بادشاہ کی رومانوی داستان رکھتا ہے۔مگر اس کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے تاریخ سے محبت اور دلچسپی رکھنے والے لوگ ا س سے نہایت پریشان ہیںکیونکہ اس کے مٹنے سے تاریخ کا ایک زندہ اور توانا باب ختم ہوگا۔اس قبر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ تیمو ر بادشاہ جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا وہ اپنے باپ کے وفات کے بعد 1773 عیسوی کو تحت شاہی پر بیٹھ گیا۔اس کی ایک بیوی مغل شہزادی تھی اس کی خدمت کیلئے شاہی محل میںا یک لونڈی تھی جو اپنے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین اور فطین بھی تھی۔اس لونڈی کا اصل نام بیگم جان تھا جس نے اپنی ذہنیت اور قابلیت کی وجہ سے بادشاہ کے ہاں بہت عزت پائی تھی اور پورے محل میں اس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔اپنے دور حکومت میں بادشاہ اکثر ریاستی اور حکومتی معاملات میں اس سے مشورے بھی طلب کرتے تھے۔تیمور بادشاہ کے ساتھ بیگم جان کی اتنی قربت اس کی مغل بیوی اور دربار کے دیگر لوگوں کیلئے ناقابل برداشت تھااور اس کی وجہ سے وہ بیگم جان سے حسد کرنے لگے بیگم جان کی حاکم وقت بادشاہ تیمور کے ساتھ اس قدر قربت نے بادشاہ کی ملکہ اور دیگر ملازمین کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکادی۔یہی وجہ ہے کہ ملکہ اور دیگر ملازمین اسے بیگم جان کی بجائے ”بی بو“ کہہ کر پکارتے تھے اور رفتہ رفتہ ان کا نام بی بو سے” بی جو“ پڑ گئی۔ بی جو پشتو زبان کے لفظ ”بی زو“ یعنی بندر سے ملتا جلتا ہے اور اسے حسد کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے ۔مغل خاندان کے اکابرین بھی بادشاہ اور بیگم جان کے درمیان اس قدر گہرے تعلقات کو اپنے لئے خطرہ ہ محسوس کرتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بیگم جان اپنی ذہن اور عقل سے بادشاہ کو مغل خاندان کے ہر قسم کے سازشوں سے بچانے کے مشورے دیتی تھی اور ان کو بچانے کیلئے ضروری قدم اٹھاتی اسی وجہ سے تمام لوگ کوشش میں لگے تھے کہ کسی طریقے سے بیگم جان کو اپنے راستے سے ہٹالے۔مغل اکابرین نے بادشاہ کی ملکہ کے ہاں ایک خادمہ تعینات کی جو ہر وقت اس کی دل میں بیگم جان کے خلاف نفرت بھڑکاتی تھی بادشاہ کی ملکہ اب اس بات پر تیار ہوئی کہ بیگم جان کو ہمیشہ کیلئے اپنے راستے سے ہٹادےا اپنے اس مذموم منصوبے کو کامیاب بنانے کےلئے خادمہ نے ایک مشروب میں زہر ملا کر بیگم جان کو پلا دیاجس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے آبدی نیند سوگئی بادشاہ نے اس وفادار لونڈی کی قبر پر ایک نہایت شاندار گنبد اور برج تیار کیا جو ایک لازوال تاریحی اور رومانوی داستان کے طور پر پشاور کے ثقافتی منظر کو پیش کرتی ہے

2۔۔۔پشاوروزیر باغ روڈ پر واقع یہ گنبد اب وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر مٹ چکا ہے متعلقہ محکمہ کی عد م دلچپی کے باعث آنے والی نسل وفا کے اس پیکر کا نام ونشان مٹ کر صرف کتابوں میں اس کے بارے میں پڑھیں گے اور تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔برج کے ساتھ دو چھوٹی چھوٹی قبریں بھی تھیں جن کے نشانات شاید اب نہیں رہے یہ بیگم جان کی پالی ہوئی مرغیاں تھی اس نے وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد ان مرغیوں کو بھی ذبح کرکے اس کی قبر کے ساتھ دفنائی جائے لینڈ مافیا اس تاریحی قبرستان اور گنبد کے احاطے پر قبضہ جمانے کی کوشش میں لگے ہیںجس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں مقامی معزرین بزگورں کا کہنا ہے کہ یہ نادرشاہ کے وقت کا نہایت تاریحی اہمیت کا اثاثہ ہے جو حکام کی غفلت کی وجہ سے اب ختم ہورہا ہےمقامی لوگ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کو نئے نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے وفا کے اس پیکر کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات ا ٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی تصویریں صرف کتابوں میں ملے۔

3۔۔۔ محمہ آثار قدیمہ کے مطابق 1920 سے قبل جو بھی پرا نی عمارت ہو اسے ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے پشاور میں درجنوں قدیم اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں ۔جن میں گورگٹھری ، محلہ سیھٹیان ، مسجد مہابت خان ، پلوسی پیران ، کو ٹلہ محسن خان میں موجود مقبرے ، اور لنڈے ارباب میں قدیمی مقرے شامل ہیں ان قدیم تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ورثہ قرار دیا گیا لیکن ابھی درجنوں ایسی عمارتیں اور مقامات جو کہ حکومتی عدم توجہ کے باعث ختم ہو نے کے قریب ہیں ان میں چوہا گجر میں موجود” بو لی مسجد“ چوہا گجر میں موجود ”مغل پل“ ”دلدار مسجد “ اور وزیر باغ میں موجود بیجو قبر حکومتی نظروںسے اوجھل ہے ۔