Category Archives: Uncategorized

Nadra Mega Center Peshawar

شہزادہ فہد

وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے پشاور میں بنائے جانے والا پہلا نادرہ میگا سنٹر میں کرائے کی عمارت قائم کیا گیا ، پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی عمارت پرتعزین و آرائش کی مد میں 15 کروڑ روپے پھونک دئیے گئے ، سنٹر کے قیام کے بعد قریبی 4 ناردہ سنٹر بند کئے جا ئینگے ، شہری نئے شناختی کارڈ کے حصول کےلئے سنٹر میں نارمل سمارٹ قومی شناختی کارڈ کی بجائے ایگزیکٹو کارڈ کی فیس ادا کر ینگے ، سنٹر میں ارجنٹ پارسپورٹ کی فیس بھی نارمل سے زیادہ وصول کی جائیگی ، نادرہ غریب شہریوں کو سہولیات ختم کر کے امرءکو سہولیات دینے پر عمل پیرا ہو گیا ، خیبر پختونخوا میں پہلے نادرہ میگا سنٹر کے قیام بغیر منصوبہ بندی کئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے ، تہکال میں نادرہ میگا سنٹر کےلئے پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی بلڈنگ کی تعزین و آرائش پر 15 کروڑ روپے خرچ کر دئیے گئے ہیں ، جبکہ سنٹر کے لئے منتخب عمارت کا لاکھوں رپوں ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے گا ، میگا سنٹر کے قیام کے بعد کوہاٹ روڈ ، ڈینز پلازہ ، ابدارہ روڈ اور کینٹ فاٹا میں قائم نادرہ دفاتر ختم کئے جا ئینگے ، چار سنٹرز کی بندش پر پشاور کے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہو نگے ، نواحی و مضافاتی علاقوں کے شہری ،کوہا ٹ روڈ ، پشاور کینٹ ،اور فاٹا کے رہائشی شناختی کارڈ کے حصول کےلئے یونیورسٹی روڈ کے چکر کاٹیں گے، واضح رہے کہ نادرہ دفاترمیں ہرامیر و غریب سے سمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 400 کی بجائے8 سو اور 16 سو روپے وصول کئے جا رہے ہیں، کارڈ گم ہو نے کی صورت میں بھی 16 سو روپے وصول کئے جاتے ہیں، نادرہ وفاقی محکمہ ہو نے کی وجہ سے اہلکاروں کی من مانیاں عروج پر ہیں جبکہ فیس اور سہولیات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،

 

Advertisements

Police SMS Complaint System Failed In KP

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بنائے جانے والا ایس ایم ایس سسٹم ناکام ہو گیا ، تین سالوں کے دوران صوبے بھر سے شہریوں نے پولیس اہلکاروں اور ذاتی معاملات کی 5680 شکایا ت بذریعہ ایس ایم ایس کیں ، تین سالوں کے دوران سنٹرل پولیس آفس کو صوبے بھر سے 5 ایس ایم ایس یومیہ موصول ہو ئے ، صوبے بھر میںسب سے زیادہ ایس ایم ایس ضلع پشاور کے شہریوں کی جانب کئے گئے ، اسی طرح تین سالوں میں ڈی آئی خان کے شہریوں نے 304 ایس ایم ایس کے ذریعے پولیس کا اپنی ساتھ ہو نے والی زیادتی سے آگاہ کیا ، سابق آئی جی خیبر پختونخوا نا صر خان دورانی کی نگرانی میں محکمہ پولیس نے 5 جولائی 2013ءکو سنٹرل پولیس آفس میں پولیس تک رسائی کے نام سے ایک کمپلنٹ سیل قائم کیا،کمپلنٹ سیل میں شہریوں کو اپنے ساتھ ہو نے والی ذیادتی کے تدارک کے لئے آئی جی پولیس اور ایک دیگر موبائل نمبر فراہم کیا گیا جبکہ ، فیکس ، ای امیل ، آن لائن ایف آئی آر کے اندراج کےلئے پولیس وئب سائیڈ پر ایک فارم پر کرنے کے بعد آئی ڈی بنانے کا عمل ترتیب دیا گیا، ایس ایم ایس سسٹم کی بہتری کے لئے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے اور فوری عمل درآمد نہ ہو نے کے باعث صوبے کے شہریوں نے پولیس کو بذریعہ ایس ایم ایس شکایات درج کرنے کے عمل میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے، ایس ایم ایس سسٹم کے مطابق شکایت کنندہ کا میسج سنٹرل پولیس آفس موصول ہو تا ہے جس کے بعد شہری کی شکایت متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سمیت ریجنل پولیس آفیسر کو شکایات فاروڈ ہو جاتی ہیں ،سنٹرل پولیس آفس کو ایس ایم ایس کر نے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او شکایب کنندہ کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کی جاتی ہیں ،تاہم پولیس کے خلاف ایس ایم ایس کر نے کے بعد شکایات کنندہ پر متعلقہ پولیس کا دباو¾ شروع ہو جاتا ہے جس کے بعد اعلیٰ پولیس حکام کو فریقین کے مابین صلح کی رپورٹ دی جا تی ہے ، سنٹرل پولیس آفیس سے دستیاب دستاویز کے مطابق 12 نومبر 2014ءسے 29 ستمبر 2017 ءتک مجموعی طور پر صوبے بھر سے شہریوں نے تین سالوں کے دوران 5680 ایس ایم ایس سینڈ کئے ، جس میں سب سے زیادہ 1735 ایس ایم ایس پشاور کے شہریوں نے کئے ، دوسرے نمبر پر 1554 ایس ایم ایس مردان کے شہریوں کی جانب سے کئے گئے ، ملاکنڈ 406 ، بنوں 538 ، کوہاٹ 371 ، ہزارہ 772 جبکہ تمام اضلاع سب سے کم شکایات بذریعہ ایس ایم ایس ڈی آئی خان سے موصول ہو ئیں جہاں شہریوں نے تین سالوںمیں 304 ایس ایم ایس کر کے جدید شکایاتی نظام کو استعمال کیا، محکمہ پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے جدید نظام کے زریعے شکایات کے اندارج میںکمی واقع ہو ئی ہے ، دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت کنندہ کا موبائل نمبر متعلقہ ایس ایچ اور اور ڈی پی او کو دستیاب ہو نے سے شکایات کنندہ پر دباو¾ بڑ جاتا ہے جس کے بعد فریقین کے مابین صلح کروا کر اعلی ٰ افسران کی آنکھوںمیں دھول جونکی جا تی ہے ۔

 

Interest Rate Rise In Khyber Pukhtoonkhwa (خیبر پختونخوامیں سود خوری)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون ہونے کے باوجود صوبے میں سود خوری عروج پر پہنچ گئی ، سودخوروں نے قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نئے حربے ایجاد کر لئے،

شہزادہ فہد ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سود کے خلاف قانون کارآمدثابت نہ ہوسکا ، سود خوروں نے قانون کومات دینے او ر پولیس کی گرفت سے بچنے کےلئے نیا حربہ اپنا لیا ، قرضہ دیتے مجموعی رقم میں سود شامل کرکے کاغذئی کاروائی کی جانے لگی ہے، قرضے کے حصول کےلئے مجبور شخص ا سٹاپ پر دستخط کرکے سودخوروں کو محفوظ بنا دیتے ہیں ، پولیس حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،2016ءمیں خیبر پختونخوا اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور کے مختلف تھانوں میں 92 افراد کے خلاف سود ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے گئے جن میں 60 افراد گرفتار ہو چکے ہیں ،تھانہ بڈھ بیر میں سب سے زیادہ سودخوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ گلبہار دوسرے نمبر پر رہا ،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے،سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی،مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکے گی ،اسی طرح عدالت فریقین کے مابین کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی،بل کے تحت اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی نہیں کریگا،عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی ، دوسری جانب سودخوروں نے قانون کی گرفت سے بچنے کےلئے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے ، قرضے کی رقم میں سود شامل کرکے مجموعی رقم کا معاہدہ کرنے پر قانون کے شکنجے سے محفوظ ہونے لگے ، 2016 ءخیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور پولیس نے 92 افراد کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جن میں 72 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ، صوبائی دارلحکومت پشاو رکے 30 تھانوں میں سب سے زیادہ 22 مقدمات بڈھ بیرمیں درج کئے گئے ، اسی طرح دوسرے نمبر پر گلبہار میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے مھترا میں 8 ،یونیورسٹی میں 6، گلبرگ،خرانہ اور پشتخرہ میں 4/4 مقدمات جبکہ شاہ قبول، بھانہ ماڑی، پھندو، اور داود زئی میں 3/3 مقدمات درج کئے گئے ہیں ، تھانہ خان رزاق ،فقیر آباد،پہاڑی پورہ،شرقی، حیات آباد،تاتارہ،ریگی ماڈل ٹاون، چمکنی میں کو ئی مقدمہ درج نہ کیا جاسکا ہے ۔

 

Woman Harassment In Khyber Pukhtoonkhwa

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں خواتین کو کام کے جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے محتسب موجود نہ ہو نے سے صوبے بھر میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015سے ابتک مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں 500سے زائد خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور صحت سے کیسز رجسٹرد ہوئے صرف پشاور یونیورسٹی سے300سے زائد خواتین نے ہراسمنٹ کے کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والی محتسب کی نشست گزشتہ سات سالوں سے خالی ہے، ایکٹ کے مطابق ہر ادارے میں ہراساں کئے جانے کے خلاف کمیٹی لازمی قرار دی گئی جس میں ایک خاتون کی نمائندگی بھی ضرروی ہے تاہم صوبے بھر میں سرکاری و نجی اداروں میں کمیٹی کا تصور ہی نہیں ہے، تھانہ کلچر کی وجہ سے ہراساں کی جانے والی خواتین پولیس کو رپورٹ درج کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں ، مارچ 2010 میں وفاقی حکومت نے کام کے جگہوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کارروائی کے بل کو منظور کیا تھا جس کے بعد سے وفاق، پنجاب اور سندھ میں محتسب کو مقرر کیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں محتسب موجود نہیں ہے، سزا کا عمل تیز نہ ہونے سے صوبے بھر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز نہ روز اضافہ ہورہا ہے ،اور واقعہ میں ملوث ملزموں کوشہہ مل رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سات سال قبل خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے لیے بنائی گئی ایکٹ (ہراسمنٹ آف وومن آن ورک پلیس ) میں کام کرنے کی جگہ خواتین کو ہراساں کے جرم ثابت ہونے پر3سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،تعزیرات پاکستان سیکشن509تحت بھی خواتین اپنی ہراسمنٹ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرسکتی لیکن تھانہ کلچر کی وجہ سے اکثر خواتین اس اذیت ناک صورت حال کی بجائے خاموشی کو بہتر سمجھتی ہیں، ایکٹ کے مطابق کہ ہر نجی اور سرکاری اداروں تین رکنی کمیٹی ہوگی جس میں خواتین کی نمائیندگی ضروری ہوگی جو کہ کسی بھی شکایات کے ازالہ کرنے کے لیے کام کریگی جبکہ اس قانو ن کے تحت ادارے ضابطہ اخلاق بنانے کے بھی پابند ہیں لیکن ابھی تک کسی ادارے مین ضابطہ اخلاق اس حوالے سے نہیں بنائے گئے ۔ ان مرحلوں سے گزر کرایک لڑکی 509کے تحت ایف آئی آر درج کرسکتی ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس حوالے کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے جو کہ اس صوبے کے خواتین کے ساتھ نا انصافی ہے ، خیبر پختونخوا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کام کر نی والی نجی فلاحی تنظیم کی چئیر پرسن خورشید بانو کا کہنا تھا کہ کہ خیبر پختون خوا میں سالانہ 2 سے 3سو خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں صرف پشاور یونیورسٹی سے 300سے زائد کیسز موصول ہوئے لیکن محتسب نہ ہونے کے باعث وہ کیسز خراب ہوجاتے ہیں اور کسی کو سزا نہ ملنے کے باعث ایسے مردوں کو شہہ ملتی ہے، انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ نشست سات سال سے خالی ہونے کے خلاف رٹ بھی کررکھی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ویلفیر کے مطابق بجٹ ،عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہے لیکن پھر بھی صوبائی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جو کہ اس صوبے کے اُن خواتین کے ساتھ ظلم ہے جو کام کے دوران جنسی ہراساں کے شکار ہوجاتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے واقعات کے خلاف کسی کو سزا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہے اور دوسری جانب ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

Police Stations in FATA

شہزادہ فہد

فاٹا اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کےلئے عملی سطح پر تیاریاں روز و شور سے کی جا رہی ہیں ، تمام ایجنسیوں کے پولٹیکل ایجنٹس کو اپنی اپنی ضروریات کے مطابق تھانوں کی تعداد اور علاقوں کا تعین کر نے کی ہدایات جا ری کر دی گئیں ہیں ، پولیٹکل ایجنٹس نے اپنی ایجنسیوں کے عمائدین کو اعتماد میں لے لیا ہے ، قبائلی علاقوں میں تھانوں کے قیام کا آغاز فرنٹیر ریجن( ایف آرز) سے کیا جائے گا، خیبر پختونخوا کی 7 ایجنسیوں میں تھانے قائم ہو نگے جس کے لئے ابتدائی طور پرپولیس کی نفری خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مہیا کی جائے گی ، ایجنسیوں میں تعینات خاصہ دار فورس اور لیویز کو پولیس ٹرینگ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ قابلیت اور معیار پر پورا نہ ہونے والے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو ممکنہ طور پر ہینڈ شیک دیا جائے گا ، اس سے قبل پشاورکے بندوبستی اورفاٹا کی باﺅنڈری پر 31 راکٹ اور بلٹ پروف چوکیاں قائم کی جا چکی ہیں، متنی، اصحاب بابا ، ریگی للمہ، جالہ بیلہ ، شاغلی، مچنی گیٹ اور پشاور سے ملحقہ دیگر علاقوں میں چوکیوں میں ابتدائی طور چیک پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں،ان میں سے ہر چوکی پر 32 اہلکاوں پر مشتمل پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے کیا جا ئے گا ،پولیس حکام کے مطابق مذکورہ چوکیوں کے قیام سے شرپسندوں کے انٹری پوائنٹ سمیت ان کے چور راستے بند ہو جا ئینگے اور پشاور کی سیکورٹی میں مزید بہتری آئے گی ،پولیس چیکنگ پوائنٹ سے اسلحہ و بارود کی سپلائی کی روک تھام میںبھی مدد ملے گی اورآنے والے وقتوں میں پولیس کےلئے کا رآمد ثابت ہو نگی ،فاٹا کی تمام ایجنسیوں بشمول ایف آر ز تک تھانہ کلچر منتقل کرنے کےلئے سروے مکمل کیا جا چکا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحصیل جمرود کو ایک آفیشل لیٹر بھی موصول ہوا تھا جس میں خیبرایجنسی کے انتظامیہ سے پولیس سٹیشنز بنانے کیلئے ایجنسی میں جگہ منتخب اور اعداد شمار دینے کا کہا گیا ہے

پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے ایجنسی میں مجوزہ 76پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے لیے سیکرٹری لائاینڈ آرڈرکو خط

خیبر پختونخوامیں فاٹا انضمام کے اثرات ظاہرہوتے ہی پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے سیکرٹری لا ءکو ایجنسی میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خط ارسال کردیا جس کے مطابق ایجنسی میں 76پولیس اسٹیشنز قائم کئے جاسکتے ہیں،خط کے مطابق تحصیل سرویکئی میں 9پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ لدھا میں 22پولیس اسٹیشن قائم کئے جاسکتے ہیں اسی طر ح خط میں وانا تحصیل میں 45پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہیں، پولٹیکل انتظامیہ کے خط کے مطابق ان پولیس اسٹیشنز میں نو ہزار 160پولیس عملہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔

 

Target Killing In Khyber Pukhtoon Khwa 9 Month Data 2017

خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 9ماہ مین 31 افراد کی ٹارگٹ کلنگ

عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ پشاور کے شہری،دوسرے نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے، پہلے تین ماہ صوبہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے بھاری رہے

ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں 90 ہوئیں،دستاویزات میں انکشاف

شہزادہ فہد

خییبر پختونخوامیں رواں سال کے نوماہ کے دوران 31 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پشاور کے شہریوں کی ہے جبکہ دوسری نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا،خیبر پختونخوا میں رواں سال کے نو ماہ کے دوران مختلف اضلا ع میں 31 افراد کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ 5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے ، دستاویز کے مطابق 2017ء کے جنوری،فروری،مارچ میں ٹارگٹ کلنگ کے14 واقعات رونما ہوئے ، رواں سال کے پہلے تین ماہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لحاظ سے بھاری رہے ، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبے بھر میں ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا،صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں ہوئیں 90 افراد کوقتل کیا گیا

target-killings

Kite Flying In Peshawar

شہزادہ فہد

مو سم بہار آتے ہی پشاور میں روایاتی تہوار پتنگ بازی عروج پر پہنچ جاتی ہے، پتنگ بازی ایک ایسا شغل ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں پایا جاتا ہے، ملک بھرمیں مقبولیت کی وجہ سے پتنگ سازی ایک چھوٹی صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں پتنگ بازی ہما رے کلچر کا حصہ ہے ، اسے مشغلہ کے ساتھ کھیل بھی کہا جاسکتا ہے ،یہاں تک کہ مختلف دیہاتوں میں تو پتنگوں کے میچ رکھے جاتے ہیں، اور ان کی خوب ذوق و شوق سے تیاری کی جاتی ہے، پتنگ کی ڈور کو تیز دھار بنایا جاتا ہے تاکہ پیچ لگتے ہی حریف کی پتنگ کاٹ دی جائے،بڑے شہروں میں تو پتنگ، مانجھا، اور چرخی وغیرہ خرید کر اس شوق کو پورا کیا جاتا ہے، جبکہ دیہاتوں میں پتنگ، مانجھا، اور چرخی خود تیار کی جاتی ہیں، پشاور میں مو سم بہار کی آمد کے ساتھ یکہ توت میں پتنگ بازی کا بازارلگ جاتا ہے جہاں پنجاب کے مختلف علاقوں سے منگوائی گئی پتنگ اور ڈور جیسے پشتو، ہندکو اور پنجابی میں مانجھا کہا جا تا ہے فروخت کی جا تی ہے ، لوکل مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگ اور مانجھا لاہور ، فیصل آباد، جھنگ اور دیگر شہروں سے منگوایا جاتا ہے ، اس وقت صوبے بھر میں یکہ توت میں پرچون کی واحد مارکیٹ ہے جس میں پتنگ بازی کاسامان فروخت کیا جاتا ہے ، مارکیٹ میں کا غذ کی بنائی جانے والی گڈی کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں پانچ روپے سے لے کر چار سو روپے تک کی گڈی فروخت کی جا تی ہے ، گڈی پر نقش و نگار اس کی قیمت دوگنا بنادیتے ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی سیزن کے طور پر لیا جاتا ہے سال میں صرف دو ماہ ہی ان کا کاروبار چلتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پتنگ بازی کا شوق صرف بچوں تک محدود ہے ،جس کی وجہ سے پتنگ بازی کا رجحان قدرے کم ہو رہا ہے ،بدقسمتی سے اس مشغلے کا کئی غیر قانونی طریقوں کے استعمال کی وجہ سے صدیوں پرانی روایت زوال ہو رہی ہے، پنجاب میں تو باقاعدہ طور پر پتنگ بازی پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، خیبر پختونخوا میں پتنگ بازی پر کو ئی قدغین نہیںہے، پشاور کی پرچون مارکیٹ کے دکانداوں کا کہنا ہے کہ پشاور میں دھاتی منجھے کو کوئی نہیں جانتا ، یکہ توت میں پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے والے دکانداروں کی یونین کے ارکان باقاعدگی سے دکانوں کی چیکنگ کر تے ہیں جس میں ممنوع چیزیں ریکھنے کی ممانت کی جاتی ہے ،دنیا بھر میں پتنگ بازی کو ایک کھیل کے طور پر منایا جاتا ہے سرکاری سطح پر میلوں کے انعقاد سے نا صرف اس قدیم روایات کو تقویت ملتی ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کر نا کا سبب گردانہ جاسکتا ہے ،اگر پشاور میں بھی پتنگ بازی کے لیے سال میں ایک دفعہ کوئی کھلی جگہ مخصوص کردی جائے تو پتنگ بازی جو ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، نہ صرف بچایا جاسکتا ہے، بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے باعث کشش ہوسکتا ہے جس سے سیکڑوں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے اور تفریح کے ساتھ ساتھ کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے ا اور پوری دنیا میں ہماری ثقافت متعارف کروائی جاسکتی ہے۔

نئی نسل بے خبر
نئی نسل ہاتھ سے بنائے جانے والے مانجھے سے ناآشنا ہے ، چائینہ سے تیار آنے والے کیمیکل جو کہ ما نجھے کا متبادل مانا جاتا جس سے ایک طر ف تو پتنگ بازی کی ساخت سے نقصان پہنچا ہے تو دوسری جانب سے نئی نسل کو ہاتھ سے بنائے جانے مانجھے سے نا واقف رکھنے کی وجہ ٹھرایا جاتا ہے ، ایک دہائی قبل پتنگ کو اڑانے والے مانجھے کی تیاری کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ سوتی دھاگے کی ریلیں یا گولا لیا جاتا ہے، اور اسے کسی بھی سہارے یا درختوں کے گرد گھما دیا جاتا ہے، جس طرح بجلی کی تاریں ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک لگائی جاتی ہیںاور مچھلی سریش اور شیشے کی بنائی جانے والے محلول کو دھاگے پر گزار جاتا ہے ،مرحلے کے ختم ہونے کے بعد ان دھاگوں کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جب یہ دھاگے اچھی طرح سوکھ جاتے ہیں تو پھر اسے چرخی پر یا ایک گولے کی شکل میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب یہ تیار ہوتا ہے تو اس کی دھار کو چیک کرنے کے لیے اس تیار مانجھے کو کسی دوسرے مانجھے سے ٹکرایا جاتا ہے، معمولی سی رگڑ سے دوسرے مانجھے کو کاٹنے والے مانجھے کو تیز قرار دیا جاتا ہے

پتنگ بازی تاریخ
پتنگ کو اڑتے یا اڑاتے دیکھیں تو یہ سوال ذہن میں ضرور آتا تھا کہ سب سے پہلے پتنگ کس نے بنائی ہوگی، اور اسے یہ بنانے کی کیا سوجھی ہوگی یا پھر جب پہلی بار پتنگ بنائی گئی ہوگی، تو وہ اسی شکل کی ہوگی وغیرہ وغیرہ،جب اس بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کی تو بہت ہی دلچسپ اور حیران کن معلومات میسر آئیں،تاریخِ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاو¿ ڈال رکھا تھا، لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنا پڑے گی، اس لیے اس نے پڑاو¿ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی،اس نے دیکھا کہ ہوا اس سمت کی ہی چل رہی ہے جہاں وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاو¿ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑتے جاتے ہیں۔ بس یہ دیکھ کر اس نے ایک کاغذ لیا، اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیے تاکہ اسے ہوا کا دباو¿ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہو، اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا،جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے ناپ کر واپس کھینچ لیا، اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا، یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی، جو ایک جنگی مقصد حاصل کرنے کے لیے اڑائی گئی تھی۔ پھر قدیم چین میں پتنگ سازی فوجی استعمال کے لیے کی جانے لگی، جس میں فوج کا جاسوسی کا کام بھی تھا۔ اپنے ہی فوجیوں کو ایک پڑاو¿ سے دوسرے پڑاو¿ تک پیغام رسانی، اور اپنے ساتھیوں کو اپنی پوزیشن بتانے کے لیے پتنگیں اڑائی گئیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیار تک ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پتنگوں سے پہنچائے گئے،پھر اس کے بعد چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔ وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے، جس کی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے دیکھا، اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔ جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لیے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ مان کر نہ دیے۔ آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی، اور اس کی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اس طرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی،فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بدھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لیے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

خیبر پختونخوا میں بنائی جانے والی پلاسٹک شاپر کی منفرد پتنگ
کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، خیبر پختونخوا میںپلاسٹک شاپر سے بنائی جانے والی پتنگ کی مثال نہیں ملتی اس کو بھی ضرورت کے تحت ایجاد کیا گیا ،گھر میں پلاستک شاپر اور جھا ڑوں کے تیلوں سے بنائی جانے والی پتنگ پر کو ئی روپے خرچ نہیں ہو تے، دنیا بھر میں پلاسٹک سے بنائی جانے والی مفت کی پتنگ صرف اور صرف خیبر پختونخوا میں بنانے کا رواج ہے، مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کس طرح برصغیر پاک و ہند پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی، البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں،سولہویں صدی کی تصویروں میں اکثر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ عاشقِ زار اپنے دل کا احوال کاغذ پر لکھ کر ایک پتنگ سے باندھتا ہے، پھر یہ پتنگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر کوچہءمحبوب کی فضاو¿ں میں پہنچتی ہے اور معشوقہءدلنواز کی چھت پر منڈلانے لگتی ہے،

گیتوں اور نغموں میں پتنگ کا استعمال اور عقائد
پتنگ بازی کو پشتو ، اردو اور پنجابی گیتوں میں شو ق و زوق سے استعمال کیا گیا ، فلموں اور ڈراموں پتنگ بازی کے بارے میں مختلف گیت اس کی عکاسی کر تے ہیں، چینیوں کے پتنگ کے بارے میں حیران کن اور دلچسپ عقائدہیں کہ پتنگ جتنی اونچی اڑے گی آپ کی پریشانیاں آپ سے اتنی ہی دور ہوجائیں گی، کسی کی چھت پر کٹی پتنگ گرجائے تو اسے بدشگونی سمجھا جاتا ہے، اور اس پتنگ کو پھاڑ کر جلادیا جاتا ہے، چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ جاپان میں ایک سخت قانون نافذ کر دیا گیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران، اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی۔

Waistcoat (واسکٹ)

 شہزادہ فہد
فیشن کو ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی جو ڑا جاتا ہے لیکن اس دوڑ میں مرد بھی کسی سے کم نہیں ہیں بدلتے موسم میں جہاں نت نئے کپڑوں کی تیا ری کےلئے جتن کئے جا تے ہیں وہاں قدیم روایتی اورعزت ورتبے کی نشانی نئے زمانے کے فیشن میں اہم مقام رکھنے والی واسکٹ کی تیا ری کا خصو صی اہتمام بھی معمول بن چکا ہے، واسکٹ کو پختون معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے، خیبر پختونخوا کے کلچر میں واسکٹ لباس کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے ۔ نوجوان واسکٹ کو خوشی کے موقع پر پہنتے ہیں شادی بیا ہ کی تقریب واسکٹ دولہا اور اس کے قریبی دوست ایک رنگ کی واسکٹ سلوانے کا رواج بھی پروان چڑ رہا ہے،شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر واسکٹ نوجو ان اور بزرگوں کا پسندید ہ پہناوا قرار دیا جاسکتا ہے ، اسی لئے درزیوں کی جانب سے عید الفطر پر واسکٹ کی تیاری کےلئے رمضان کے مہینے میں ہی بکنگ بند کی جا تی ہے جس کی وجہ اس کی تیا ری میں کا فی وقت کا روکا ر ہو نا بتا یا گیا ہے ، واسکٹ کی پا نچ سے زائد اقسام ہیں جن میں گول گلہ ، کلا ٹی اور وی شیپ واسکٹ کا فی مقبول ہیں، خیبر پختونخوا کے کلچرو ثقافت میں واسکٹ کورعب و عزت کی نشانی سمجھا جا تا ہے ، واسکٹایسا پہناو ا ہے جو کہ گرمی اور سردی میںیکساں تن پوش کیا جا تا ہے ،گرمیوں میں ہلکے کپڑے جبکہ سردیوں کے موسم میں بھا ری کپڑے کی واسکٹ تیار کی جا تی ہے ،

 :واسکٹ کی تاریخ

This slideshow requires JavaScript.

کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ اس کی ابتداءایران سے ہو ئی اور یہ افغانستان سے ہو تی ہوئی پاکستان پہنچی۔ کنگ چارلس دوئم کی لیڈ ی کلر شخصیات نے 1666 عیسوی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا ، 1789 عیسوی میں فرانس کے صنعتی انقلاب آیا تو لو گوں کے پاس پیسہ زیادہ ہو نے لگا تو لوگوں نے واسکٹ کا استعمال شروع کر دیا ، 1800 عیسوی میں اس کے ڈیزائن میں تبدیلی رونما ہو ئی اور فٹنگ والی واسکٹ کا رواج شروع ہو ا ، 19 ویں صدی میں اس کا سائز مزید چھو ٹا ہو گیا۔

:قیمتوں میں اضافہ سے روایت میں کمی واقع ہو رہی ہے :
عید کےلئے واسکٹ کی سلا ئی نرخوں میں خو دساختہ اضافہ کیا جا تا ہے،عام دنوں میں سلا ئی کے با رہ سو روپے جبکہ عید کےلئے پندرہ سو سے اٹھا رہ سو روپے تک وصول کئے جا تے ہیں ۔ شہریوں کے مطابق سلائی میں خود ساختہ اضا فے کی وجہ سے وہ قدیم روایا تی لباس سے محروم ہو نے لگے ہیں نرخوں میں اضافے کے باعث شہری مارکیٹ میں تیار واسکٹ کو ترجیح دیتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں تیار واسکٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس پر شہریوں نے موقف اختیا رکیا ہے کہ سلا ئی اضافے اور درزیوں کی من مانیوں کی وجہ سے تیار واسکٹ بہترین متبادل قرار دی جا رہی ہے ، قصہ خوانی ، صدر ، خیبر بازار میں تیار واسکٹ فروخت کیا جا رہی ہیں جو کہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے تک فروخت ہو رہی ہیں ۔

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،