Category Archives: Uncategorized

Kite Flying In Peshawar

شہزادہ فہد

مو سم بہار آتے ہی پشاور میں روایاتی تہوار پتنگ بازی عروج پر پہنچ جاتی ہے، پتنگ بازی ایک ایسا شغل ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں پایا جاتا ہے، ملک بھرمیں مقبولیت کی وجہ سے پتنگ سازی ایک چھوٹی صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں پتنگ بازی ہما رے کلچر کا حصہ ہے ، اسے مشغلہ کے ساتھ کھیل بھی کہا جاسکتا ہے ،یہاں تک کہ مختلف دیہاتوں میں تو پتنگوں کے میچ رکھے جاتے ہیں، اور ان کی خوب ذوق و شوق سے تیاری کی جاتی ہے، پتنگ کی ڈور کو تیز دھار بنایا جاتا ہے تاکہ پیچ لگتے ہی حریف کی پتنگ کاٹ دی جائے،بڑے شہروں میں تو پتنگ، مانجھا، اور چرخی وغیرہ خرید کر اس شوق کو پورا کیا جاتا ہے، جبکہ دیہاتوں میں پتنگ، مانجھا، اور چرخی خود تیار کی جاتی ہیں، پشاور میں مو سم بہار کی آمد کے ساتھ یکہ توت میں پتنگ بازی کا بازارلگ جاتا ہے جہاں پنجاب کے مختلف علاقوں سے منگوائی گئی پتنگ اور ڈور جیسے پشتو، ہندکو اور پنجابی میں مانجھا کہا جا تا ہے فروخت کی جا تی ہے ، لوکل مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگ اور مانجھا لاہور ، فیصل آباد، جھنگ اور دیگر شہروں سے منگوایا جاتا ہے ، اس وقت صوبے بھر میں یکہ توت میں پرچون کی واحد مارکیٹ ہے جس میں پتنگ بازی کاسامان فروخت کیا جاتا ہے ، مارکیٹ میں کا غذ کی بنائی جانے والی گڈی کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں پانچ روپے سے لے کر چار سو روپے تک کی گڈی فروخت کی جا تی ہے ، گڈی پر نقش و نگار اس کی قیمت دوگنا بنادیتے ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی سیزن کے طور پر لیا جاتا ہے سال میں صرف دو ماہ ہی ان کا کاروبار چلتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پتنگ بازی کا شوق صرف بچوں تک محدود ہے ،جس کی وجہ سے پتنگ بازی کا رجحان قدرے کم ہو رہا ہے ،بدقسمتی سے اس مشغلے کا کئی غیر قانونی طریقوں کے استعمال کی وجہ سے صدیوں پرانی روایت زوال ہو رہی ہے، پنجاب میں تو باقاعدہ طور پر پتنگ بازی پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، خیبر پختونخوا میں پتنگ بازی پر کو ئی قدغین نہیںہے، پشاور کی پرچون مارکیٹ کے دکانداوں کا کہنا ہے کہ پشاور میں دھاتی منجھے کو کوئی نہیں جانتا ، یکہ توت میں پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے والے دکانداروں کی یونین کے ارکان باقاعدگی سے دکانوں کی چیکنگ کر تے ہیں جس میں ممنوع چیزیں ریکھنے کی ممانت کی جاتی ہے ،دنیا بھر میں پتنگ بازی کو ایک کھیل کے طور پر منایا جاتا ہے سرکاری سطح پر میلوں کے انعقاد سے نا صرف اس قدیم روایات کو تقویت ملتی ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کر نا کا سبب گردانہ جاسکتا ہے ،اگر پشاور میں بھی پتنگ بازی کے لیے سال میں ایک دفعہ کوئی کھلی جگہ مخصوص کردی جائے تو پتنگ بازی جو ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، نہ صرف بچایا جاسکتا ہے، بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے باعث کشش ہوسکتا ہے جس سے سیکڑوں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے اور تفریح کے ساتھ ساتھ کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے ا اور پوری دنیا میں ہماری ثقافت متعارف کروائی جاسکتی ہے۔

نئی نسل بے خبر
نئی نسل ہاتھ سے بنائے جانے والے مانجھے سے ناآشنا ہے ، چائینہ سے تیار آنے والے کیمیکل جو کہ ما نجھے کا متبادل مانا جاتا جس سے ایک طر ف تو پتنگ بازی کی ساخت سے نقصان پہنچا ہے تو دوسری جانب سے نئی نسل کو ہاتھ سے بنائے جانے مانجھے سے نا واقف رکھنے کی وجہ ٹھرایا جاتا ہے ، ایک دہائی قبل پتنگ کو اڑانے والے مانجھے کی تیاری کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ سوتی دھاگے کی ریلیں یا گولا لیا جاتا ہے، اور اسے کسی بھی سہارے یا درختوں کے گرد گھما دیا جاتا ہے، جس طرح بجلی کی تاریں ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک لگائی جاتی ہیںاور مچھلی سریش اور شیشے کی بنائی جانے والے محلول کو دھاگے پر گزار جاتا ہے ،مرحلے کے ختم ہونے کے بعد ان دھاگوں کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جب یہ دھاگے اچھی طرح سوکھ جاتے ہیں تو پھر اسے چرخی پر یا ایک گولے کی شکل میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب یہ تیار ہوتا ہے تو اس کی دھار کو چیک کرنے کے لیے اس تیار مانجھے کو کسی دوسرے مانجھے سے ٹکرایا جاتا ہے، معمولی سی رگڑ سے دوسرے مانجھے کو کاٹنے والے مانجھے کو تیز قرار دیا جاتا ہے

پتنگ بازی تاریخ
پتنگ کو اڑتے یا اڑاتے دیکھیں تو یہ سوال ذہن میں ضرور آتا تھا کہ سب سے پہلے پتنگ کس نے بنائی ہوگی، اور اسے یہ بنانے کی کیا سوجھی ہوگی یا پھر جب پہلی بار پتنگ بنائی گئی ہوگی، تو وہ اسی شکل کی ہوگی وغیرہ وغیرہ،جب اس بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کی تو بہت ہی دلچسپ اور حیران کن معلومات میسر آئیں،تاریخِ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاو¿ ڈال رکھا تھا، لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنا پڑے گی، اس لیے اس نے پڑاو¿ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی،اس نے دیکھا کہ ہوا اس سمت کی ہی چل رہی ہے جہاں وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاو¿ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑتے جاتے ہیں۔ بس یہ دیکھ کر اس نے ایک کاغذ لیا، اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیے تاکہ اسے ہوا کا دباو¿ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہو، اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا،جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے ناپ کر واپس کھینچ لیا، اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا، یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی، جو ایک جنگی مقصد حاصل کرنے کے لیے اڑائی گئی تھی۔ پھر قدیم چین میں پتنگ سازی فوجی استعمال کے لیے کی جانے لگی، جس میں فوج کا جاسوسی کا کام بھی تھا۔ اپنے ہی فوجیوں کو ایک پڑاو¿ سے دوسرے پڑاو¿ تک پیغام رسانی، اور اپنے ساتھیوں کو اپنی پوزیشن بتانے کے لیے پتنگیں اڑائی گئیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیار تک ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پتنگوں سے پہنچائے گئے،پھر اس کے بعد چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔ وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے، جس کی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے دیکھا، اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔ جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لیے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ مان کر نہ دیے۔ آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی، اور اس کی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اس طرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی،فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بدھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لیے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

خیبر پختونخوا میں بنائی جانے والی پلاسٹک شاپر کی منفرد پتنگ
کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، خیبر پختونخوا میںپلاسٹک شاپر سے بنائی جانے والی پتنگ کی مثال نہیں ملتی اس کو بھی ضرورت کے تحت ایجاد کیا گیا ،گھر میں پلاستک شاپر اور جھا ڑوں کے تیلوں سے بنائی جانے والی پتنگ پر کو ئی روپے خرچ نہیں ہو تے، دنیا بھر میں پلاسٹک سے بنائی جانے والی مفت کی پتنگ صرف اور صرف خیبر پختونخوا میں بنانے کا رواج ہے، مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کس طرح برصغیر پاک و ہند پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی، البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں،سولہویں صدی کی تصویروں میں اکثر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ عاشقِ زار اپنے دل کا احوال کاغذ پر لکھ کر ایک پتنگ سے باندھتا ہے، پھر یہ پتنگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر کوچہءمحبوب کی فضاو¿ں میں پہنچتی ہے اور معشوقہءدلنواز کی چھت پر منڈلانے لگتی ہے،

گیتوں اور نغموں میں پتنگ کا استعمال اور عقائد
پتنگ بازی کو پشتو ، اردو اور پنجابی گیتوں میں شو ق و زوق سے استعمال کیا گیا ، فلموں اور ڈراموں پتنگ بازی کے بارے میں مختلف گیت اس کی عکاسی کر تے ہیں، چینیوں کے پتنگ کے بارے میں حیران کن اور دلچسپ عقائدہیں کہ پتنگ جتنی اونچی اڑے گی آپ کی پریشانیاں آپ سے اتنی ہی دور ہوجائیں گی، کسی کی چھت پر کٹی پتنگ گرجائے تو اسے بدشگونی سمجھا جاتا ہے، اور اس پتنگ کو پھاڑ کر جلادیا جاتا ہے، چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ جاپان میں ایک سخت قانون نافذ کر دیا گیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران، اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی۔

Waistcoat (واسکٹ)

 شہزادہ فہد
فیشن کو ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی جو ڑا جاتا ہے لیکن اس دوڑ میں مرد بھی کسی سے کم نہیں ہیں بدلتے موسم میں جہاں نت نئے کپڑوں کی تیا ری کےلئے جتن کئے جا تے ہیں وہاں قدیم روایتی اورعزت ورتبے کی نشانی نئے زمانے کے فیشن میں اہم مقام رکھنے والی واسکٹ کی تیا ری کا خصو صی اہتمام بھی معمول بن چکا ہے، واسکٹ کو پختون معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے، خیبر پختونخوا کے کلچر میں واسکٹ لباس کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے ۔ نوجوان واسکٹ کو خوشی کے موقع پر پہنتے ہیں شادی بیا ہ کی تقریب واسکٹ دولہا اور اس کے قریبی دوست ایک رنگ کی واسکٹ سلوانے کا رواج بھی پروان چڑ رہا ہے،شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر واسکٹ نوجو ان اور بزرگوں کا پسندید ہ پہناوا قرار دیا جاسکتا ہے ، اسی لئے درزیوں کی جانب سے عید الفطر پر واسکٹ کی تیاری کےلئے رمضان کے مہینے میں ہی بکنگ بند کی جا تی ہے جس کی وجہ اس کی تیا ری میں کا فی وقت کا روکا ر ہو نا بتا یا گیا ہے ، واسکٹ کی پا نچ سے زائد اقسام ہیں جن میں گول گلہ ، کلا ٹی اور وی شیپ واسکٹ کا فی مقبول ہیں، خیبر پختونخوا کے کلچرو ثقافت میں واسکٹ کورعب و عزت کی نشانی سمجھا جا تا ہے ، واسکٹایسا پہناو ا ہے جو کہ گرمی اور سردی میںیکساں تن پوش کیا جا تا ہے ،گرمیوں میں ہلکے کپڑے جبکہ سردیوں کے موسم میں بھا ری کپڑے کی واسکٹ تیار کی جا تی ہے ،

 :واسکٹ کی تاریخ

This slideshow requires JavaScript.

کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ اس کی ابتداءایران سے ہو ئی اور یہ افغانستان سے ہو تی ہوئی پاکستان پہنچی۔ کنگ چارلس دوئم کی لیڈ ی کلر شخصیات نے 1666 عیسوی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا ، 1789 عیسوی میں فرانس کے صنعتی انقلاب آیا تو لو گوں کے پاس پیسہ زیادہ ہو نے لگا تو لوگوں نے واسکٹ کا استعمال شروع کر دیا ، 1800 عیسوی میں اس کے ڈیزائن میں تبدیلی رونما ہو ئی اور فٹنگ والی واسکٹ کا رواج شروع ہو ا ، 19 ویں صدی میں اس کا سائز مزید چھو ٹا ہو گیا۔

:قیمتوں میں اضافہ سے روایت میں کمی واقع ہو رہی ہے :
عید کےلئے واسکٹ کی سلا ئی نرخوں میں خو دساختہ اضافہ کیا جا تا ہے،عام دنوں میں سلا ئی کے با رہ سو روپے جبکہ عید کےلئے پندرہ سو سے اٹھا رہ سو روپے تک وصول کئے جا تے ہیں ۔ شہریوں کے مطابق سلائی میں خود ساختہ اضا فے کی وجہ سے وہ قدیم روایا تی لباس سے محروم ہو نے لگے ہیں نرخوں میں اضافے کے باعث شہری مارکیٹ میں تیار واسکٹ کو ترجیح دیتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں تیار واسکٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس پر شہریوں نے موقف اختیا رکیا ہے کہ سلا ئی اضافے اور درزیوں کی من مانیوں کی وجہ سے تیار واسکٹ بہترین متبادل قرار دی جا رہی ہے ، قصہ خوانی ، صدر ، خیبر بازار میں تیار واسکٹ فروخت کیا جا رہی ہیں جو کہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے تک فروخت ہو رہی ہیں ۔

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

Rakhi celibarates in peshawar

رپورٹ ،شہزادہ فہد

بہن بھائی کا رشتہ خون کے رشتوں میں ایسا رشتہ ہے کو کہ کسی بھی مذہب میں ہواپنی مٹھاس اور مضبو طی ہمیشہ قائم رکھتا ہے ،رکشا بندھن یا راکھی کا تہوار بہن بھائیوں کے پیار، ان کے خوبصورت اٹوٹ رشتے کا تہوار ہے جو دنیا بھر میں موجود ہندو برادری روایتی جوش و خروش سے منا تی ہے۔ راکھی کا تہوار یا رکھشا بندھن بھی ملنے ملانے اور گھر والوں کے ساتھ خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اس دن ہندو گھرانوں میں بہنیں دیا، چاول اور راکھیوں سے سجی پوجا کی تھالی تیار کرتی ہیں اور اپنے بھائیوں کی کلائی پر پیار سے راکھی باندھ کر ان کی صحت مندی، عمردرازی اور کامیابیوں کے لئے دعا کرتی ہیں۔ محبت کے اس اظہار کے جواب میں بھائی اپنی بہن سے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے اور اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور اسے تحفہ دیتا ہے۔رکشہ بندھن یا راکھی ہندو برادری کا تہوار ہے، راکھشا بندھن کے حوالے بتا یا جا تا ہے کہ ہندو مت کے مذہبی رہنما گوگا پیر جن کو زندہ پیر کے نام سے بھی جانا جا تا ہے جو پیر فقیری میں دنیا سے کنا رہ کشی اختیار کر گئے تھے اور رکشھا بندھن کے دن اپنی بہن کو راکھی باھندنے آئے تھے ، ملک بھر کی طر ح خیبر پختونخوا میں ہندو براری کی جانب سے مذبہی تہوار ” رکھشا بندھن جو ش و خروش سے منا یا گیا ، خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادری کی جانب سے آذادانہ مذہبی تہوا ر منا نا اس بات کی دلیل ہے کہ خیبر پختونخوا میں تمام مذاہب کو مکمل اختیار اور تحفظ حاصل ہے، گزشتہ روز پشاور کینٹ کے کالی با ڑی مندر میں والمیک سماج صبا ح کے زیر اہتمام ہند و براری نے مذہبی تہوار کھڑی رکھشا بندھن کو دھوم دھام سے منایا اس موقع پر ہند و مذہب سے تعلق رکھنے والی بہنوں نے اپنے بھائیوں کو رکھشا بندھن بھاندا اور تلک لگائی اور مذہبی رسومات ادا کیں ، اس موقع پر والمیک سماج سبھا سول بیڑا کے صدر رام لعل کا کہنا تھا کہ ہر سال اگست کے مہینے میں رکھشا بندھن کا تہوار منا یا جاتا ہے ، تہوار میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ سال بھراس خاص دن کا انتظار رہتا ہے اور صبح سے ہی اس کی تیار یا ں شروع کر دی جاتی ہیں اس دن بھا ئیوں کے من پسند پکوان تیار کئے جا تے ہیں اور رکھشا بندھن کے موقع پر ان کو راکھی بھاند کر ان کی لمبی عمر کی دعائیں کی جا تی ہیں اس موقع پر ہندو برادری مذہبی رسومات بھی ادا کرتی ہے جن میں سکھ برادری کے افراد بھی شریک ہو تے ہیں ، پشاور میں ہندو برادری کے مجموعی طور پر پانچ مندر مو جود ہیں، کالی با ڑی ، احاطہ چراسی ، تحصیل گورگھٹری میں گورتھ ناتھ مندر، کریم پورہ میں پیر رتن نا تھ جبکہ آرے بازار میں واقع مندر 1999 میں ہندو سکھ تنازعہ کی وجہ سے بند پڑا ہے ، والمیک سماج سبھا سول بیڑا کے صدر رام لعل کے مطابق پشاور میں 700 سے زائد گھرونوں میں تقریبا¿ آٹھ ہزار ہندو آباد ہیں پشاور کے مختلف علاقوں لال کرتی، سواتی پھاٹک ، باڑہ گیٹ ، یونیورسٹی ٹاون ، حیات آباد پو سٹل کالونی ،رامداس ، ڈبگری اور شعبہ بازار ہندو آباد ی رہائش پذیر ہے ، پشاور کینٹ میں واقع کالی باڑی مندر 1861 میں تعمیر کیا گیا مذکورہ مندر کے قریب 7 پیپل کے درخت ہوا کر تے تھے جن میں ابھی صرف ایک درخت بچا ہے ، پیپل کے درخت کو ہندو مذہب میں مقدس سمجھا جا تا ہے ، راکھشا بندھن کی مرکزی تقریب کالی با ڑی مندر میں منعقد کی گئی،اس موقع پر تقریب میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رکھشا بندھن کا تہوار جولا ئی کے مہینے سے شروع ہوجاتا ہے اس دوران منت مانگے والے گوشت ، مرغی ، انڈا نہیں کھا تے صرف سبزیاں کھائی جا تی ہیں جبکہ اس دوران پاوں میں جو تے بھی نہیں پہنے جا تے ہیں راکھشا بندھن ہندو برادری کے ساتھ سکھ مذہب کے مانے والے بھی مناتے ہیں ،

peshawar mei baghat

پھولوں اور باغات کاشہر پشاور صرف کتابوں میں باقی رہ گیا
آج سے چند سول سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی، زیادہ تر صفحہ ہستی سے مٹا دئےے گئے
، موجودہ نسلیں ایک درجن سے زائد باغوں کے ناموں اور تاریخ سے واقف ہی نہیں
حکومتی عدم تو جہی سے پشاور میں موجود چند با غ بھی اپنی حالت زار بیا ن کر رہے ہیںباغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے
پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے

پشاور (شہزادہ فہد)وادی پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کا محصور تھا یہاں کی ہوا اور موسم زیادہ تر معتدل رہتا ہے زمانہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں اسے ”پشاپورا“ کے نام سے پکارا گیا ہے جس کے معنی ہیں” پھولوں کا شہر “ پشاور باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کےلئے جانے جاتے تھے پشاور ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مسکن مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں اور جن کی ماضی میں کئی مرتبہ پذیرائی بھی کی جا چکی ہے پشاور شہر ، چھاﺅنی اور جامعہ پشاور میں درختوں اور سبزہ زاروں کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ اہلیان پشاور قدیم زمانے ہی سے باغبانی ، پارک بنانے اور سبزہ زاہ لگانے کے بے حد شوقین ہی نہ تھے بلکہ اُنکی حفاظت کے معاملے میں کافی باشعوربھی تھے جسکی وجہ سے بعض صدیوں پرانے باغات آج بھی موجود ہیںجبکہ ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے چند سو سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی اس کے اردگرد قدرتی جنگل واقع تھے جس میں شہنشاہ بابر نے گینڈوں کا شکار اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پشاور کے یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے اردگرد نہ وہ قدرتی جنگل ہیں اور نہ ہی اس کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخ باغات، رفتہ رفتہ سب کچھ مٹ گیا ہماری موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال، جونی اور بہار کیسی تھی نہ صرف بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی غالب اکثر واقف نہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں ان میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراﺅنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئےر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیںبڑھتی ہوئی آباد ی کے باعث پشاورکے موجودہ باغات کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے باغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے پشاور کے باغوں اور سبزہ زاروں کو اُجاڑنے میں سیاسی اور انتظامی شخصیات ہی شریک نہیں رہیں بلکہ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے ماضی قریب میں اند رو ن شہر مسجد نمکمنڈی کی جگہ ایک بہت بڑا پارک تھا یہ پارک اور اسکے ساتھ لائبریری بجوڑی گیٹ ، ڈبگری گیٹ ، سرکی گیٹ اور اس سے ملحقہ محلوں کے لوگوں کےلئے آسودگی اور تفریح کا باعث تھا روزانہ لائبریری میں سینکڑوں افراد مطالعہ کرتے اور پارک میں چہل قدمی کرتے مگر ہمارے مذہبی رہنماﺅں کو یہ بات پسند نہ آئی پاک، لائبریری اور اسکے ساتھ چھوٹی مسجد کو راتوں رات ایک بڑی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اہلیان پشاور پر یہ ظلم عظیم تھا کیونکہ اس مسجد سے ایک کمند کے فاصلے پر نمکمنڈی کی جامع مسجد اور کشمیری مسجد یہاں تک کہ ہر گلی ہر محلے میں ایک مسجد واقع تھی

fahadصو با ئی دالحکومت پشاور میں جہا ں باغات ختم ہو رہے ہیں اور شہریو ں کو شہری تفریحی کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں وہا ں رہی سہی کسر پارکوں کے انٹری ٹکٹوں اور نا مناسب سہولیات نے پو ری کر دی ہے پشاور شہر میں واقع پا رک انتظامیہ کی غفلت کے ویرانی کی صورت پیش کر رہے ہیں۔ پارک میں خود ساختہ ریٹ مقرر ہو نے سے شہری پارک میں جانے سے کترانے لگے۔انٹری ٹکٹ ، جھولے اور پا رکنگ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔اہلیان پشاور نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہر کے باسیوں کو تفریح کے موثر مواقع فراہم کئے جائےنگے

discovery of buddha remains


پشاور : رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد۔
ہر ی پور کے علا قہ خانپور سے 6 کلو میٹر فاضلے پر بھمالہ کے مقام پر پاکستان میں پہلی بار بد ھ مت تہذیب کا عظیم و شان شاہکاردریا فت ہو ا ہے۔ 45 فٹ مجسمے میں بد مت مت کے پیشواکامو ت کا منظر پیش کیا گیا ہے جو کہ قدامت کے لحاظ سے پاکستان کی تایخی کا سب سے بڑا مجسمہ ہے ۔ کنجورین پتھر سے بنائے جا نے والے مجسمہ کھد ائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا جس کو محکمہ آرکیا لوجی کی جانب سے ڈرائنگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ، خیبر پختونخوا میں ٹیکسلا خانپور سے 6 کلو میٹر ایک پر فضاءمقام بھمالہ میں بد مت تہذیب کے آثار دریا فت کئے گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق بھمالہ ہا رو دریا کے قریب ایک پر فضاءمقام ہے بدھ مت کے پیر وکا ر بھمالہ کے راستے کشمیر اور ٹیکسلا کاروبار کے سلسلے میں جا تے تھے اور اس مقا م پر قیام کیا جا تا جہاں انھوں نے خانقاہیں بنا ئی تھیںاس مقام پر سر جان مارشل نے 1930 میں کھد ائی شروع کی تھی جان مارشل اس وقت ڈائر یکٹر جزل آرکیا لو جی فرنٹئیر ریجن تھے جنھوں نے بھمالہ کے مقام پر بد ھ مت کی پر چار کےلئے بنا ئی جا نے والی دیگرعبا دگا ہیں بھی دریا فت کی تھی ۔اس مقام پر صلیبی شکل کا اسٹوپہ جو کہ جسامت میں پاکستان کا سب سے بڑا اسٹوپہ ہے بھی دریافت ہو چکا ہے جو کہ چاروں اطراف سے عبا دت کےلئے استعمال ہو تا تھا ۔ گزشتہ سال محکمہ آرکیا لوجی خیبر پختونخوا کی جانب سے 85 سال بعد سروے کے بعد بد ھا کے مو ت کا منظر پیش کر نے والا مجسمہ دریا فت کیا گیا ہے جس میں بد ھ مت کے پیشوا کے انتقال کا منظر دیکھایا گیا ہے یہ مجسمہ کنجو رین سٹون سے بنایا گیا تھا ماہر آرکیا لو جی اور فیلڈ ڈائر یکٹر بھمالہ عبدالحمید نے بتا یا کہ کنجو رین سٹون جو کہ کمزور پتھر ہے جس کے باعث کھد ائی کے دوران مجسمہ ٹوٹ گیا محکمہ کی جانب سے اس کو دوبا رہ ڈرائینگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ۔ ڈبل سٹوری پر محیط یہ دیو ہیکل مجسمے میں مو جو دہ حالت میں بد ھا کے پا وں کی حالت باآسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔ فیلڈ ڈائر یکٹرعبد الحمید نے بتا یا کہ مو ت کا منظر پیش کرنے والے مجسمہ میں پہلی بار دو ہیلو ( جو کہ شان و شوکت کا نشان سمجھا جا تا تھا ) کے اثار ملے ہیں اس نو یت کا مجسمہ پہلے کبھی دریا فت نہیں کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ اس ریجن میں محکمہ کی جانب سے سروے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ گندھارہ ریجن میں جہاں اب تک بد ھ مت کے بے شمار اثرات ملے ہیں وہا ں اس ریجن میں مزید کتنی چیزیں دریا فت ہو تی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔

تھا ئی زبان میں کہا وت سے کہ” علم سیکھنا ہے تو گند ھا را جا و“اس کی تصدیق چین کے تاریخی دانوں نے کی ہے چینی مورخین کے مطابق گندھا را ریجن جو کہ بد ھ مت کےلئے ایک مقدس زمین کی حیثیت رکھتا ہے مو رخین کے مطابق 3 صد ی عیسوی میں گندھا را ریجن میں 6 ہزار سے زائد یو نیورسٹیاں( خانقاہیں ) قائم تھیں جن میں دینی علوم کے ساتھ دنیا وی علوم کی بھی ترغیب دی جا تی ۔ اس ریجن میں بد ھ مت کے بیشتر اثارات ملے ہیں جو کہ اس کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ”جو لیاں “ بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جولیا ں کے با رے میں مقا می لو گو ں کا یہ خیال ہے یہ لفظ جے ولیاں سے نکلا ہے یہ آرکیا لوکل سائٹ 17 سے 18 سو سال پر انی ہے اس سائٹ کو سپر ڈنٹنڈ ٹ فرنٹیئر ریجن و ڈی جی آرکیا لو جی سر جا ن مارشل نے پنڈت نسیتار یار کی نگر انی میں 1916 میں دریافت کیا تھا ۔ ماہر ین آرکیا لو جی خیبر پختو نخوا کے مطابق یہ پا کستان کی واحد آرکیالوجکل سائٹ ہے کہ بہتر حالت میں ہے ۔ جو لیا ں کوپا نچویں صدی عیسوں میں وائٹ ہنر جو کہ سنٹرل ایشیاءکے قبا ئل اور آتش پرست تھے نے تبا ہ کیا تھا ۔

صو بائی دارلحکومت پشارو میں بد ھ مت کے اثار کثیر تعداد میں ملے ہیں جن کے نام و نشان نا منا سب انتظامات نہ ہو نے کی وجہ سے مٹ چکے ہیں یہ میں تہکال اسٹوپہ ، شاہ جی کی ڈھیری ، زر ڈھیری اور دیگر شامل ہیں ۔ تہکال اسٹوپہ جو کہ صلیبی شکل میں1871 میں دریا فت کیا گیا اس شکل کے اسٹوپہ شاد و نادر ہی دریافت ہو ئے ہیں یہ اسٹوپہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اس کا نا م تو با قی ہے لیکن کو ئی نشا ن با قی نہیں ۔اسی طر ح زر ڈھیری میں صلیبی شکل کے دیو قامت اسٹوپہ دریافت ہو چکے ہیں پشاور میں شاجی کی ڈھیر ی میں بد ھ مت کے اثار جو کہ 1908 سے 1916 کے درمیان دریا فت کئے گئے تھے بیہ مقام بھی تجا وزات ما فیا کی زد میں اپنی اصل حالت کھو چکا ہے

دنیا کا تیسرا بڑا شما ر کئے جا نے والا مذہب ”بد ھ مت“ تھا ئی لینڈ ، نیپا ل ، جاپا ن ، کو ریا ، سر ی لنکا میں سرکا ری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ما نے والے پاکستا نی کی سرزمین کو مقدس زمین تصویر کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے بد ھ مت کے آثار کی منا سب دیکھ بحال نہ ہو نے سے اس کے آثار ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ بد ھ مت کے آثار سے متعلق پشاور میں تاریخی اہمیت کی حامل سائٹ شاہ جی کی ڈھیری میں بد ھ مت کے پیشوا بد ھا کے زیر استعمال بیش بہا قیمتی ہیر ے کا ڈبہ بھی ملا ہے جو کہ پشاور میو زیم میں نما ئش کےلئے رکھا گیا ہے اس طر ح بد ھ مت سے متعلق دیگر نو ازدات پشاور میو زیم اورملک بھر کے عجا ئب گھروں کی زینت بنے ہو ئے ہیں ، حکومت بد ھ مت کے ملنے والے آثار قد یمہ پر قلیل رقم خرچ کر کے اس سیاحوں کو راغب کر نے کا زریعہ بنا سکتی ہے جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

story of a garden in peshawar wazir bagh

شہزادہ فہد۔۔۔fffffff
مغلیہ دور کی یادگاروزیر باغ زبوں حالی کا شکار ہے تاریخی باغ کے تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی مٹی اور گندگی سے بھرے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے ،میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی یہ شاندار یادگار کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل ہو چکا ہے پھولوں اور باغات کا خوبصورت شہر پشاورکو اب پھولوں اور باغات کا شہر نہےں کہا جا سکتا ہے شاہی باغ، جناح باغ، وزیر باغ، کمپنی باغ سمیت بہت سارے باغات اس شہر کی خوبصورتی کے ضامن تھے بڑھتی آبادی، نا مناسب منصوبہ بندی اور چاروں طرف پھیلتے شہر نے یہاں کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح چاٹ لیادہشتگردی اور بد امنی کے بعد حکومتی عدم دلچسپی کے باعث شہر پشاور مےں واقع مغلیہ دور کی یادگار وزیر باغ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے مغل دورکی یادگار وزیر باغ درانی حکمران پرنس شاہ محمود درانی کے دور میں سردار فتح محمد خان برکزئی عرف وزیر کی طرف سے تعمیر کیا گیا سردار فتح محمد خان نے پشاور میں شاہ شجاع کی حکمرانی کے بعد 1810 میںاس باغ کی بنیاد رکھی، باغ چار باڑوں پر مشتمل تھا اور کنویں کے ساتھ ساتھ ایک پویلین، مسجد، فٹ بال گراو ¿نڈ، دو کشادہ لان اور تالاب بنائے گئے لیکن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ہزاروں سال پرانی مسجد خستہ حالی کا شکار ہے ، تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے جبکہ تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی گرد و غبار سے اٹے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے بزرگوں کےلئے تازہ ہوا کا ذریعہ اورایک عمدہ تفریح گاہ وزیر باغ تو کہانیوں مےں رہ گیا مغلیہ عہد کا یہ شاندار باغ اب زبان حال سے پکار پکار کر حکومتی بے حسی کا رونا رو رہا ہے درختوں اور سبزے کا وجود بس صرف برائے نام رہ گیا ہے میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا جبکہ ایک چمن مےں جھولے لگائے ہےں لیکن ان جھولوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی انتظامیہ کی بڑی ذمہ داری ہے بد تہذیب نوجوان جھولوں کا ستیاناس کر دیتے ہےں اور بچے دیکھتے ہی رہ جاتے ہےں وزیر باغ پشاور میں سب سے قدیم اور بڑا باغ سمجھا جاتا ہے یہ باغ ایک عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہے پرانی روایت کے مطابق یہ باغ خوبانی، آڑو، انار، ناشپاتی اور رنگا رنگ پھولوں سے بھرا ہوا تھا انگریزی سفیر سر الیگزینڈرنے 1832 میں دورے کے دوران اس تاریخی وزیر باغ میں قیام کیا تھا تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی لوگوںنے اس شاندار یادگار کو کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل کر دیادور جدید مےں تقریبا اس کی ہریالی ختم ہورہی ہے اس باغ کو ماضی میں ایک پکنک کی جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور خاص طور پر اس پیپل کے درخت اس کی خوبصورتی پر غور کیا گیا باغ کی زیادہ تر خوبصورتی کو تباہ کر دیاگیا ہے سماجی کارکنوں نے کئی بار اس پر خدشات اٹھائے ہیں لیکن کوئی شنوائی حاصل نہ ہو سکی وزیر باغ مغلیہ دور کی نشانی ہے سابقہ ادوار میں حکومت نے وزیر باغ کی دیکھ بھال کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن کے مو جود ہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعدمغلیہ دور کے ان باغات کی دیکھ بھال کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے قبضے کر کے پارک کو چھوٹا کر دیا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ تاریخی باغات کو اصل حالت میں لانے لیے حکومت اقدامات کرے۔

صوبا ئی دارلحکومت پشاور پھولوں کا شہر کے نام سے جانا جاتا تھا حکومتی عدم تو جہی پھول ، با غا ت قصہ پارینہ بن چکے ہیں شہر بھر میں تفریحی مقامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔شہر میں کنتی کے چند باغ ہیں جن میں باغ ناران ، شالیمار باغ مشہو ر ہیں جبکہ شاہی باغ ، وزیر باغ کو کرکٹ گراونڈ کے طور پر جا نا جا تا ہے ۔ پشاور میں باغات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور پارکوں میں انٹری فیس سے لے کر پارکنگ فیس کی من مانی وصولی سے شہری گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں باغات کی دیکھ بھال اور تفریحی فراہم کر نا حکومت کی زمہ داری ہے