Category Archives: yearly report

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Advertisements

رضائی کلچر خیبر پختونخوا

پشاوررضائیاں بنانے کا کاروبار مندی کا شکار،کاریگر بے روزگار ہونے لگے
ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ،رضائیاں دیگر شہروں سمیت افغانستان ،ایران بھی بھیجی جاتی ہیں
سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگرپیشہ چھوڑ نے پر مجبور ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے،دکانداروں کی بات چیت

IMG_20171221_135438

شہزادہ فہد              

سردی سے بچاو کے لئے انسان مختلف قسم کے جتن کرتا آیا ہے ، گرمی ہو یا سردی انسان اپنی سہولت کےلئے تمام وسائل بروکار لاتا ہے ، ویسے توپاکستان موسم کے لحاظ سے ایک آئیڈیل ملک ہے، پاکستان میں آپ گرمی ،سردی، بہار اور خزاں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ،سردی کی آمد سے قبل ہی اس کی شدت سے محفوظ رہنے کےلئے انتظامات شروع کردیئے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں سردی تمام ملک کی نسبت زیادہ پڑتی ہے ،اسی لئے سردی کی شدت سے بچا و کےلئے صوبے بھر میں رضائی کااستعمال کیا جاتا ہے، سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی رضائیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کے دن بھی پھر جاتے ہیں ، ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ہیں جہاں بنائی جانے والی رضائیاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دیگر ممالک جن میں افغانستان ، ایران شامل ہیں بھیجی جاتی ہیں ، مقامی دکانداروں کے مطابق سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ملاکنڈ ، ہزارہ ، کشمیر اور قبائلی ایجنسیوں میں رضائی کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے ،دکانداروں کا کہنا ہے کہ صر ف سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگر یہ پیشہ چھوڑ نے پر مجبور ہیں ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے جبکہ رضائیوں کے کاروبار سے وابسطہ افراد بھی نہ ہونے کے برابر ہو نگے، ان کا کہنا تھا کہ اس پیشے سے وابسطہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنے سے جہاں بے روزگاری میں کمی واقع ہو گی وہاں قدیم کلچر کا تخفظ اور دنیا بھرمیں تشہیر میں ممکن ہو سکے گی ۔

رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ
دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے 100روپے فی رضائی کے حساب سے اجرت دیتے ہیں
پشاور میں رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ ہیں ، شاہ قبول بازار میں رضائی فروخت کر نے والے دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے روزانہ کی بنیاد پر کام دیتے ہیں ، پشاور کے نواحی و مضافاتی علاقوں میں خواتین فی رضائی 100 روپے وصول کرتی ہیں ، دکانداروں کے مطابق ایک خاتون دن میں دو سے تین رضائیوں کی سلائی کر تی ہے ،

کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی
کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی واقع ہو ئی ہے ، جدیدزمانے میں جہاں فیشن اور نت نئے انداز سے کلچر پر یلغار کی ہے وہاں رضائی کلچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ، خریداروں کے مطابق رضائی ایک پرانا فیشن ہے جو کہ نئی نسل کو قابل قبول نہیں ہے دوسری جانب خواتین بھی رضائی پر کمبل کو ترجیح دیتی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کمبل کی دھلائی رضائی کی نسبت زیادہ آسان ہوتی ہے۔

شادی بیاہ وتقریبات کے لئے رضائی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں
پشاور سمیت صوبے بھرمیں رضائی کرائے پر دینے کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے ، شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات مین رضائیاں کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں جوڈ بگریی بازار میں باآسانی دستیاب ہو تی ہیں، ایک رضائی 50 روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ پر دی جاتی ہے،علاج معالجے کےلئے دیگر اضلاع سے پشاور آنے والے افراد کےلئے ہسپتالوں کے سامنے بستر اور رضائیاں کرائے پر فراہم کی جاتی ہیں جو کہ پیشگی رقم اور شناختی کارڈ کی ضمانت پر دی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول
خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول ہیں، دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا کی رضائی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے ،نرخ میں کم اور پائیدار رضائی کی مانگ دیگر صوبوںمیں بھی زیادہ ہے ، دیگر صوبوں میں پولسٹر کی رضائی جو کہ قیمت میں زیادہ لیکن کم پائیدار ہوتی ہے جس کے مدمقابل کالی اور سفید روئی سے بنائی جانے والی رضائی شہری زیادہ پسند کر تے ہیں،مشین کی نسبت ہاتھ کی سلائی بھی اس کی مانگ میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔

استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی سے بھی رضائیاں بنائی جانے لگیں
مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے جبکہ سفید روئی 40 روپے میں دستیاب
رضائی بنانے میں استعمال ہونے والی قدرتی روئی کی جگہ استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی نے لے لی ہے ، قدرتی روئی جو کہ قیمت میں زیادہ ہو تی ہے جس سے بنائی جانے والی رضائی مہنگی فروخت ہو تی ہے،تاہم اس کی جگہ کپڑوں سے بنائی جانے والے روئی نے لے لی ہے،عام مار کیٹ میں پولسٹر 120 روپے کلو فروخت ہو تا ہے جبکہ مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے کلو جبکہ سفید کپڑوں سے بنائی روئی 40 روپے میں دستیاب ہو تی ہے ، پولسٹر سے بنائی جانے والی رضائی 1 ہزار ، کالی روئی سے بنائی جانی والی رضائی 4 سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے ، شاہ قبول میں کپڑ ے سے روئی بنانے کی 10 سے زائد مشینیں لگائی گئی ہیں ۔

Thousands Suspended Officials Were Restored in Kp Police (سپاہی سے کم عہدہ نہیں ہے اور متنی کے بعد تھانہ نہیں ہے)

 سابق آئی جی پی کے دور میں معطل ہونے والے 5ہزار سے زائد پولیس اہلکار بحال
 سابق آئی جی پی کے دور میں کرپشن ،اختیارات کے ناجائزاستعمال کی پاداش میں معطل ہونے والے 6 ہزارسے زائد اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی تھی،صرف749کو برطرف کیا گیا
کرپشن اور بدعنوانیوں پر معطل افسر اوراہلکار مختلف فورمز سے رجوع اور کیس جیت کر دوبارہ بحال ہوگئے ہیں، متعدد اہلکاروں کو ڈی موٹ اور انکریمنٹ کاٹے گئے
تین سال کے دوران 18ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے خلاف کارروائی کی گئی جن میں 10کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 8کو دیگر سزائیں دی گئی،7 انسپکٹرز کو برطرف کیا گیا
 
پولیس میں سزا کا نظام کمزور ہونے کے بعد پی ایس پی افسروں کےخلاف بھی پولیس حکام کو شکایات موصول ہوئیں تاہم کسی
کےخلاف کارروائی نہیں ہو سکی
شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا پولیس میں سابق آئی جی پی ناصر خان درانی کے دور میں کرپشن ، بدعنوانیوں،اختیارات کے ناجائزاستعمال ,جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تعلقات اوردیگرجرائم کی پاداش میں معطل ہونے والے 6 ہزارسے زائد پولیس آفسروں اور اہلکاروں میں سے 5323اہلکاروں اور افسروں کو ملازمت پر بحال کردیا گیا جبکہ صرف 749پولیس آفسروں اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ،سابق آئی جی ناصر خان دورانی کی جانب سے پولیس ایکسسز سروس کے قیام کے بعد پولیس اہلکاروں اور افسروں کےخلاف شکایت میں تیزی آئی تھی تاہم سابق آئی جی پی ناصر درانی کے سبکدوش ہونے کے بعد متعلقہ ڈی پی او اور ڈی ایس پی کی نگرانی اور پولیس دباو کی وجہ سے پولیس کیخلاف عوامی شکایت درج کرانے میں کمی واقع ہو ئی ہے،سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے دستیاب دستاویز کے مطابق تین سالوں کے دوران 5056 افراد نے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف شکایات درج کروائیں ، 2014 ءسے 2017ءتک پولیس کے خلاف سب سے زیادہ 1303 شکایت پشاور کے شہریوں نے درج کرائی تھیں جبکہ سب سے کم122 شکایات ڈی آئی خان سے موصول ہوئیں،ذرائع کے مطابق کرپشن اور بدعنوانیوں پر معطل افسر اوراہلکار مختلف فورمز سے رجوع اور کیس جیت کر دوبارہ بحال ہوگئے ہیں،دوسری جانب سے متعد د مقدمات میں ملوث کسی ایک پی ایس پی آفسر کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی اور شکایات پر صرف چند ایک کو ایک عہدے سے ہٹا کر دوسری جگہ تعینات کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق گزشتہ 3سالوں کے دوران مبینہ بد عنوانیوں کرپشن اور دیگر جرائم کی بنا ءپر 6072پولیس آفسروں اور اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی گئی اور انکو معطل کیا گیا جن میں سے صرف749افسروں اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 5323افسرو ں اور اہلکاروں کو دیگر سزائیں دی گئی ہیں، ان میں متعدد اہلکاروں کو ڈی موٹ اور انکریمنٹ کاٹے گئے ہیں ،گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی طور پر 18ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے خلاف کارروائی کی گئی جن میں 10کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 8کو دیگر سزائیں دی گئی،متعدد کیسوں میں ملوث64انسپکٹروں میں 7کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 57کو دیگر سزائیں دی گئی 414سب انسپکٹروں میں 44کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 370کو دیگر سزائیں دی گئی ہیں،470اسسٹنٹ سب انسپکٹروں میں سے 36کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 434کو دیگر سزائیں دی گئیں 607ہیڈ کانسٹیبلوں میں سے 54کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 553کو دیگر سزائیں دی گئیں ،4499کانسٹیبلوں کےخلاف کارروائی کی گئی جن میں 598کو ملازمت سے برطرف کیا گیا اور 3901کو دیگر سزائیں دی گئیں ان تین سالوں کے دوران بعض پی ایس پی افسروں کےخلاف بھی پولیس حکام کو شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن ان میں کسی کےخلاف کارروائی نہیں کی گئی،پولیس میں سزا کے کمزور نظام کی وجہ سے پولیس فورس میں ایک جملہ زبان زد عام ہے کہ
سپاہی سے کم عہدہ نہیں ہے اور متنی کے بعد تھانہ نہیں ہے۔

Third Death anniversary of Army Public School Tragedy (Story of a Teacher)

تحریر :شہزادہ فہد

دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

ننھی پری خولہ کے والد کا حوصلہ بلند
بیٹی کھونے اور پسلیاں ٹوٹنے کے باوجود استاد اے پی ایس سے منسلک رہے

بابا یہ لوگ بچوں کو کیوں ماررہے ہیں، شہید ننھی پری خولہ کا آخری سوال

ستمبر2014ء میں آرمی پبلک سکول میں تعینات ہونے والے پروفیسر الطاف کی اکلوتی بیٹی سانحہ کے دن اپنے بھائی اور بابا کے ساتھ سکول آئی تھی

ننھی پری خولہ اپنے بابا کے ساتھ کلاس میں پہنچی ہی تھی کہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا،تین گولیاں سینے میں لگیں اوربابا کے سینے سے لپٹے ہوئے شہید ہوگئی

سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ، پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلہ افراد تعلیم کے دشمن اور بچوں کے قاتلوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے

بابا یہ” گولیاں کیوں “چل رہی ہیں، یہ ”کو ن لوگ ہیں“ یہ ”  بچوں کو کیوں مار رہے ہیں“ ،ں سوالوں کے جواب کی منتظر بچی باپ کی توجہ اس کے گولیوں سے چھلنی سینے کی جانب دلاتے ہوئے کہتی ہے کہ بابا آپ کا ”خون“ نکل رہا ہے، اس کے ساتھ ہی اس ننھی پھول جیسی بچی کی آواز بند ہو جاتی ہے، یہ پروفسیر الطاف کی کانوں میں گونجنے والی وہ آواز ہے جو سانحہ آرمی پبلک سکول میں ہمیشہ کیلئے خاموش کردی گئی، سانحہ اے پی ایس کے دوران یہ ننھی بچی سکول میں اپنے پہلے ہی دن سفاک قاتلوں کی درندگی کانشانہ بنی اور اپنے بابا کے سینے سے لپٹی ننھی پری خولہ شہادت کے رتبہ پرفائز ہوگئی، پروفیسر الطاف کا تعلق بالاکو ٹ کی ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے ، ایم اے انگلش اور ایم اے اسلامیات کے بعد بالا کوٹ کے ایک نجی کالج میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ستمبر2014ء میں انہیں پشاور آرمی پبلک سکول سے فون کال آتی ہے جس میں انہیں سکول میں پڑھانے کی آفر دی جا تی ہے ، پروفیسر الطاف اپنے عزیروں واقارب سے مشورے کے بعد پشاور منتقل ہو جا تے ہیں،16 دسمبر 2014ءکا سورج طلوع ہوتا ہے ، معمول کے مطابق پروفسیر الطاف سکول جانے کی تیاری میں مصروف ہو جا تے ہیں ان کا بیٹا یونیفارم پہن کر سکول جانے کےلئے تیار کھڑا ہے اس دوران اکلوتی بیٹی خولہ اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ سکول جانے کی ضد کر تی ہے،بیٹی کے اسرار پر والد حامی بھر لیتے ہیں ، راستے میں بیٹی اپنے والد کو کہتی ہے کہ آج میں اپنے بھائی کے ساتھ سکول جاتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہی ہوں، پروفسیر الطاف جب سکول پہنچے تو اپنی بیٹی کو پرنسپل کے کمرے میں لے گئے جہاں پرنسپل سے مختصر تعارف کے بعد بچی کو سکول میں داخلے کی اجازت مل جاتی ہے، پرنسپل کے آفس سے نکل کر وہ کلاسزلینے چلے گئے اور بچی سے کہا کہ بیٹا کہ پرنسپل سے بات ہوگئی ہے آپ کل سے باقاعدہ یونیفارم میں آکر اپنی کلاس جوائن کرلوگی یہی باتیں کرتا وہ کلاس روم پہنچا اور کچھ ہی لمحوں کے بعد ایک زوردار دھماکہ کی آواز آتی ہے جب وہ بالکنی سے جھانکا تو مسلح افراد اوپر آرہے ہوتے ہیں جس پرپروفیسر نے کمرہ کادروازہ بند کرتے ہوئے بچوں کوزمین پرلیٹ جانے کیلئے کہا جبکہ اپنی بچی خولہ کوبھی اپنی آغوش میں لے لیا،دہشت گرد کمرے کا دروازہ توڑ کر اند ر داخل ہو تے ہی پروفیسر الطاف پرگولیوں کی بو چھاڑ کر دیتے ہیں جن میں تین گولیاں ان کے جسم کو چیرتی ہو ئی ان کی بچی کے جسم میں پیوست ہو جا تی ہیں ، پروفیسر الطاف کو ہو ش آتا ان کے زبان پر بے ساختہ خولہ کا نام آتا ہے وہ بد حواس ہو کر اپنی بچی کےلئے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا جسم زخموں سے چور چور ہوتا ہے ، ان کی پسلیاں کٹ چکی ہوتی ہیں، گھروالے انھیں بناتے ہیں کہ خولہ شہید ہو چکی ہے ، ہسپتال میں صحت یاب ہو کر انھیں آبائی گھر لایا جا تا ہے ، عزیر و اقارب انھیں بالا کورٹ میں کو ئی چھو ٹا مو ٹے کاروبار کا مشورہ دیتے ہیں، پروفسیر الطاف دوبارہ پشاور جانے پر بضد ہوتے ہیں صحت یابی کے بعد وہ اپنی کٹی پسلیوں کے ساتھ ایک بار پھر اپنے بلند اداروں اور ایک نئے عزم کے ساتھ آرمی پبلک سکول جانے کا ادادہ کر تے ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر واپس پشاور آ جا تے ہیں ، سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ہے، شہید بچوں کا خون رائیگاں نہیں گیا ، آج پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلے افراد دہشت گردوں کےلئے عبرت کا نشاں ہیں ، بیٹی کی شہادت اور جسمانی طور پر معذوری ان کے پہا ڑ جیسے عزم کے سامنے چیونٹی کی طر ح ثابت ہو ئی ہے ،یہ ہوتی ہے زندہ قوموں کی نشانی ہمیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولنا چایہے، میں ایک شاعر تو نہیں ہوں لیکن اس واقعہ کو لکھتے ہوئے  میرے ذہین میں غزل کا ایک مصرہ آیا ہے کاش میں اسے پورا کر سکتا ۔

   IMG-20161217-WA0005دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

Target Killing In Khyber Pukhtoon Khwa 9 Month Data 2017

خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 9ماہ مین 31 افراد کی ٹارگٹ کلنگ

عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ پشاور کے شہری،دوسرے نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے، پہلے تین ماہ صوبہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے بھاری رہے

ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں 90 ہوئیں،دستاویزات میں انکشاف

شہزادہ فہد

خییبر پختونخوامیں رواں سال کے نوماہ کے دوران 31 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پشاور کے شہریوں کی ہے جبکہ دوسری نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا،خیبر پختونخوا میں رواں سال کے نو ماہ کے دوران مختلف اضلا ع میں 31 افراد کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ 5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے ، دستاویز کے مطابق 2017ء کے جنوری،فروری،مارچ میں ٹارگٹ کلنگ کے14 واقعات رونما ہوئے ، رواں سال کے پہلے تین ماہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لحاظ سے بھاری رہے ، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبے بھر میں ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا،صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں ہوئیں 90 افراد کوقتل کیا گیا

target-killings

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔

 

Crime Six Month Data 2017

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور جرائم کی شرح سب سے زیادہ پشاور میں رہی جبکہ نوشہرہ دوسرے نمبر پر رہا ، دہشت گردی اور جرائم کے لحاظ سے ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا ،صوبے میں امن کے باوجود چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 واقعات ہو ئے جبکہ ہر ماہ اوسطا پانچ افراد مختلف اضلاع سے اغواءہوتے رہے ، چھ ماہ میں 20 افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور 327 افراد کو مختلف تنازعات میں قتل کیا گیا ، بھتہ خور بدستور صوبے کے مختلف اضلاع میں راج کر تے رہے ، چھ ماہ میں بھتہ خوری کے 17 واقعات ہو ئے جبکہ بھتہ خوری کے غیر رجسٹرڈ واقعات اس سے کئی زیادہ بتائے جاتے ہیں ، صوبائی حکومت کی جانب سے حاصل کر دہ اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے 25 اضلاع میں 6 ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 ، بھتہ خوری کے 17 ، اغوائیگی کے 32 واقعات رونما ہو ئے، جبکہ 6 ماہ کے دوران 20 افراد کوٹارگٹ کلنگ کا بھی نشانہ گیا،چھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں 20 ڈکیتیاں رونما crime-scene-4ہو ئی اور 327 افراد کو مختلف تنازعات پر قتل کیا گیا، دہشت گردی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ پشاورسرفہرست رہا، پشاور میں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے26 واقعات ، بھتہ خوری کے 8 واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے 5 واقعات رونما ہو ئے، اغوائیگی اور ڈکیتوں میںنوشہرہ سر فہرست رہا چھ ماہ کے دوران 6 افراد کو تاوان کی غرض سے اغواءکیا گیا اسی طرح چھ ماہ کے دوران 8 ڈکیتوں میں شہریوں کا لوٹا گیا ، اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوارن صوبے کے تمام اضلاع پشاور ، چارسدہ، نوشہرہ ، مردان ،صوابی ، سوات، بونیر شانگلہ، دیر، چترال ، کرک ، ہنگو، کوہاٹ ، مانسہرہ ، ہری پور ، بٹگرام ، کوہستان ، ایبٹ آباد ، تورغر، ڈی آئی خان ، ٹانک ،بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کے 88 واقعات ، ٹارگٹ کلنگ کے 20 ،بھتہ خوری کے 17 ، اغواءکار ی کے 32 ، واقعات رونما ہو ئے اسی طر ح چھ ماہ کے دوران 327 افراد کو مختلف تنازعات کی صورت میں قتل کیا گیا ، چھ ماہ کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں ڈکیتوں کے 20 واقعات میں شہریوں کو جمع پونچی سے محروم کیا گیا ، اسی طرح ڈکیتی اوراغوائیگی میں نوشہرہ تمام اضلاع کی نسبت سہر فہرست رہا ، چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ نوشہر ہ میں 6 افراد کو اغواءکیا گیا اور ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں 8 ڈکتیاں رونما ہوئی ، خیبر پختونخوا میں چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا جہاں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوائیگی، ڈکیتی اور قتل کی کوئی واردات رونما نہیں ہو ئی ۔

پانی کا عالمی دن: معاشرہ کی بےحسی

khana badosh basti (2)رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد

دنیا بھر میں 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منا یا جاتا ہے، خیبر پختونخوا سیمت ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے تقاریب منعقد کی جا تی ہیں تاہم صوبائی دارلحکومت پشاور میں رنگ روڈ پر ایسی دنیا آباد جو کہ حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے رہنما سے اوجھل ہے ، رنگ روڈ پر 70 سے زائد خیموں میں آباد سیکڑوں خانہ بدوش صاف پانی کی بو ند بو ند کو ترس رہے ہیں ، شائد ان کا قصور یہ ہے کہ ان کے ووٹ نہیں ہیں ، رنگ روڈ پر واقع بے نظیر ہسپتال کی اراضی میں مقیم پنجاب اور بلوچستا ن کے خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ،بجلی پانی اور گیس جیسی ضروریات نہ ہونے پر انھیں کو ئی ملال نہیں لیکن انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی عدم دستیابی پر یہ لوگ حکومت اداروں اور سیاسی جماعتوں سے نالاں نظر آتے ہیں ، یہاں رہنے والے ایک خانہ بدوش افضل کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد خاندان کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ چھ سوسے زائد افراد یہاں آباد ہیں جن میں پنجاب کے علاقہ ملتان کے خانہ بندوش اور بلوچستان کے خانہ بدوش موجود ہیں ،جو کہ بنیادی سہولت سے محروم ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوشوں پاکستان شہری ہیں ان میں بیشتر افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہے لیکن شائد ان کو نظر انداز اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کا ووٹ انداج نہیں ہوا ،حکومت کی جانب بنیادی سہولیات فراہم ہر شہری کا حق ہے ، ہمارا معاشرہ اتنا بے حسی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے یہاں صرف مفادات کی خاطر کام کئے جا تے ہیں ،پانی کی قدر ان لوگوں سے کو ئی پوچھے ،صوبائی دارلحکومت میں جہاں دیگر مسائل سے شہری پریشان ہیں وہاں دیگر علاقوں میں بھی پینے کے صاف پا نی کے گو ںنا گوں مسائل حل ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے، سرکا ری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میںغیر رجسٹرڈ67 ہزار سے زائد ا فراد کا لے یرقان میں مبتلا ہیں اور لاکھوں افراد پیٹ کی بیماریوں اور دیگر بیما ریوں بھی مبتلا ہیں،ماہرین ِ طب کے مطابق یرقان اور پیٹ کی بیما ریاں گندا پا نی پینے سے لا حق ہو تی ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کے آتے ہی شہری سہولیات کےلئے محکمہ بنایا گیاتاہم بیشتر علاقوںمیں شہریوں کو پینے کا صاف پا نی میسر نہ ہو سکا ، دو دن بعد پا نی کے عالی دن کے موقع پر پشاور میں این جی او اور دیگر اداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر تقاریب کے انعقاد کیا جا ئے جو کہ اخبارات اور ایکٹرانک میڈیا کی حد تک رہے گا، رنگ روڈ پر قائم سیکٹروں خانہ بدوش اس دن بھی پینے کے صاف پانی کے منتظر رہیں گے کہ شائد کو ئی تو ان کی آواز سن لے ۔

خانہ بدوش بستی میں پانی روپوں پر فروخت ہوتا ہے
پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے کہ زمین کی طر ح دیگر سیاروں میں پانی کے اثارات کی موجود گی پر دنیا بھر کے سائنس دان اس سیارے پر زندگی کا وجود تلاش کرنے لگتے ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوش بستی میں جہاں حکومتی سطح پر پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے وہاں چند افراد نے دور دراز علاقوں سے پلاسٹک گیلن اور چھوٹے کین میں پانی لا کر فروخت کرتے ہیں ، بڑا گیلن 25 روپے جبکہ چھو ٹا15 روپے میں فورخت کیا جاتا ہے جس سے خانہ بدوش روپوں کے عوض پانی خرید نے پر مجبور ہیں، بستی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے یہاں مقیم ہیں ، حکومت کی جانب سے چند ہیندپمپ لگانے سے سیکڑوں افراد کو پانی میسر ہو جا ئے گا

Pushto Film review 2016

شہزادہ فہد ۔

2016ء پشتو فلم انڈسٹری بحران کا شکار رہی ‘صرف گیارہ فلمیں ریلیز ہوئیں
گزشتہ سال سنیما انڈسٹری شدید بحران سے دوچار رہی ‘ پشتو فلم کا بزنس صرف عید تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ سنیما کلچر کا خاتمہ مالکان شدید پریشان
پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پاکستانی فلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم بہترین معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ،

نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی جاری ہے پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ سے بحران کا شکا ر ہے، سینما کلچر میں کمی اور فلم سنسر بورڈ نہ ہو نے سے فلمی صنعت سے وابسطہ افراد دیگر کا روبارکےلئے سرگرداں ہیں ، پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پشتوفلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ، فلمی صنعت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی زوال پذیر ی کی بڑی وجہ نئے ڈائریکٹرز،پروڈیوسرز،کہانی نویس ،سرمایہ کاروںسمیت نئے چہروں کے نہ آنے اورجدیدٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل نہ کرناہے،جب کہ فلمیں بنانے کے حوالے سے ہی تیس سالہ پرانی سوچ اپنائی جاتی ہے، اسی طرح حکومتی سردمہری بھی فلم انڈسٹری کی تباہی کی ایک وجہ بھی ہے، موجودہ دورمیں پشتو فلم انڈسٹری نے اس صنعت کوسہارادے رکھاہے،گزشتہ پندرہ سال سے پشتو فلم انڈسٹری ترقی کی جانب گامزن ہے یایوں بھی کہا جاسکتاہے کہ پوری فلم انڈسٹری کوپشتوفلموں نے سہارادے رکھاہے جس کے دم قدم سے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے گرم ہیں، لیکن گزشتہ سال کی صورت حال نے پشتو فلموں کے ہدایت کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ،سال میں چندایک فلمیں انڈسٹری ہٹ ہو تی ہیں ،اگر یہی حالات رہے اور ہدایت کار ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کردھرے بیٹھ گئے توپشتو فلم انڈسٹری کا نام ونشان مٹنے کے ساتھ سینکڑوں خاندان بھی فاقے کرنے پر مجبورہوجاہیں گے،یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتو فلموں کے شائقین چاروں صوبوں کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان سمیت دنیاکے کونے کونے میں موجودہیںاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد پشتو فلموں کی منتظر ہو تی ہے ،2016ءپشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا ثابت ہوا سال بھر میں گیارہ پشتو فلمیں سنیماﺅں کی زینت بنیں گزشتہ سال پشتو فلم انڈسٹری کیلئے بحران کا سال ثابت ہوا او ر سنیما انڈسٹری زوال پذیر رہی گزشتہ سال پشتو فلموںکے معروف ہدایتکار ارشد خان کی تین پشتو فلمیں لیونئی پختون ،راجہ اور بدمعاشی بہ منے ،نوجوان ہدایتکار شاہد عثمان کی تین فلمیں جشن ،گندہ گیری نہ منم اور غلام ،ہدایتکار حاجی نادر خان کی دو پشتو فلمیں محبت کار د لیونئی دے ،خیر دے یار پہ نشہ کے دے ،ہدایتکار اور لکھاری امجد نوید کی ایک پشتو فلم نادان اور نوجوان ہدایتکار سید منتظم شاہ کی پشتو فلم زہ پاگل یم اور ہدایتکار ولکھاری سعید تہکالے کی ایک پشتو فلم بدمعاشی نہ منم ریلیز ہوئی تاہم 2016ءپشتو فلموں او ر انڈسٹری کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور پشتو فلمیں شدید بحران کا شکار رہیں‘ سنیما انڈسٹری زوال کی طرف گامزن ہوئی ‘پشتو فلموں کے معروف ڈائریکٹر ارشد خان ،شاہد عثمان نے بتایا کہ گزشتہ سال پشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا سال ثابت ہوا اور سنیما انڈسٹری مزید زوال پذیر ہے اور فلموں کا بزنس صرف عید تک محدود ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ فلموں کا بزنس صرف پشاور میں رہ گیا ہے صوبے کے دیگر اضلاع میں سنیما نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سینماہال کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے بصورت دیگر رہی سہی پشتو فلم انڈسٹری بھی بندہوجائے گی اور سنیما مالکان اپنے سنیماﺅں کو شاپنگ مالز میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ،صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں۔