Tag Archives: cm kpk

پانی کا عالمی دن: معاشرہ کی بےحسی

khana badosh basti (2)رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد

دنیا بھر میں 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منا یا جاتا ہے، خیبر پختونخوا سیمت ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے تقاریب منعقد کی جا تی ہیں تاہم صوبائی دارلحکومت پشاور میں رنگ روڈ پر ایسی دنیا آباد جو کہ حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے رہنما سے اوجھل ہے ، رنگ روڈ پر 70 سے زائد خیموں میں آباد سیکڑوں خانہ بدوش صاف پانی کی بو ند بو ند کو ترس رہے ہیں ، شائد ان کا قصور یہ ہے کہ ان کے ووٹ نہیں ہیں ، رنگ روڈ پر واقع بے نظیر ہسپتال کی اراضی میں مقیم پنجاب اور بلوچستا ن کے خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ،بجلی پانی اور گیس جیسی ضروریات نہ ہونے پر انھیں کو ئی ملال نہیں لیکن انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی عدم دستیابی پر یہ لوگ حکومت اداروں اور سیاسی جماعتوں سے نالاں نظر آتے ہیں ، یہاں رہنے والے ایک خانہ بدوش افضل کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد خاندان کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ چھ سوسے زائد افراد یہاں آباد ہیں جن میں پنجاب کے علاقہ ملتان کے خانہ بندوش اور بلوچستان کے خانہ بدوش موجود ہیں ،جو کہ بنیادی سہولت سے محروم ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوشوں پاکستان شہری ہیں ان میں بیشتر افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہے لیکن شائد ان کو نظر انداز اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کا ووٹ انداج نہیں ہوا ،حکومت کی جانب بنیادی سہولیات فراہم ہر شہری کا حق ہے ، ہمارا معاشرہ اتنا بے حسی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے یہاں صرف مفادات کی خاطر کام کئے جا تے ہیں ،پانی کی قدر ان لوگوں سے کو ئی پوچھے ،صوبائی دارلحکومت میں جہاں دیگر مسائل سے شہری پریشان ہیں وہاں دیگر علاقوں میں بھی پینے کے صاف پا نی کے گو ںنا گوں مسائل حل ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے، سرکا ری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میںغیر رجسٹرڈ67 ہزار سے زائد ا فراد کا لے یرقان میں مبتلا ہیں اور لاکھوں افراد پیٹ کی بیماریوں اور دیگر بیما ریوں بھی مبتلا ہیں،ماہرین ِ طب کے مطابق یرقان اور پیٹ کی بیما ریاں گندا پا نی پینے سے لا حق ہو تی ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کے آتے ہی شہری سہولیات کےلئے محکمہ بنایا گیاتاہم بیشتر علاقوںمیں شہریوں کو پینے کا صاف پا نی میسر نہ ہو سکا ، دو دن بعد پا نی کے عالی دن کے موقع پر پشاور میں این جی او اور دیگر اداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر تقاریب کے انعقاد کیا جا ئے جو کہ اخبارات اور ایکٹرانک میڈیا کی حد تک رہے گا، رنگ روڈ پر قائم سیکٹروں خانہ بدوش اس دن بھی پینے کے صاف پانی کے منتظر رہیں گے کہ شائد کو ئی تو ان کی آواز سن لے ۔

خانہ بدوش بستی میں پانی روپوں پر فروخت ہوتا ہے
پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے کہ زمین کی طر ح دیگر سیاروں میں پانی کے اثارات کی موجود گی پر دنیا بھر کے سائنس دان اس سیارے پر زندگی کا وجود تلاش کرنے لگتے ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوش بستی میں جہاں حکومتی سطح پر پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے وہاں چند افراد نے دور دراز علاقوں سے پلاسٹک گیلن اور چھوٹے کین میں پانی لا کر فروخت کرتے ہیں ، بڑا گیلن 25 روپے جبکہ چھو ٹا15 روپے میں فورخت کیا جاتا ہے جس سے خانہ بدوش روپوں کے عوض پانی خرید نے پر مجبور ہیں، بستی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے یہاں مقیم ہیں ، حکومت کی جانب سے چند ہیندپمپ لگانے سے سیکڑوں افراد کو پانی میسر ہو جا ئے گا

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

A story of a tomb in peshawar

شہزادہ فہد ۔۔۔۔IMG-20151103-WA0007 IMG-20151103-WA0003 IMG-20151103-WA0004 IMG-20151103-WA0005
پشاور شہر کے معروف اور تاریخی اہمیت کے حامل وزیر باغ روڈ جو شہر کے جنوب میں واقع ہے پر ایک نہایت تاریحی گنبد جو ”بیجو کی قبر“ کے نام پر مشہور ہے اب جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا ہے اور آہستہ آہستہ یہ تاریحی ورثے کا نام و نشان ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آج بھی یہ برج سیا حوں کو اپنی طرف راغب کر تا ہے ۔ مورخین کے مطابق شیح حبیب بابا کے مزار کے باہر ایک نہایت تاریحی گنبد صدیوں پہلے بنایا گیا تھا آج بھی یہ برج سیاحوں کو اپنی طرف مرغوب کرتی ہے۔یہ برج اپنے پس منظر میں ایک درانی بادشاہ کی رومانوی داستان رکھتا ہے۔مگر اس کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے تاریخ سے محبت اور دلچسپی رکھنے والے لوگ ا س سے نہایت پریشان ہیںکیونکہ اس کے مٹنے سے تاریخ کا ایک زندہ اور توانا باب ختم ہوگا۔اس قبر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ تیمو ر بادشاہ جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا وہ اپنے باپ کے وفات کے بعد 1773 عیسوی کو تحت شاہی پر بیٹھ گیا۔اس کی ایک بیوی مغل شہزادی تھی اس کی خدمت کیلئے شاہی محل میںا یک لونڈی تھی جو اپنے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین اور فطین بھی تھی۔اس لونڈی کا اصل نام بیگم جان تھا جس نے اپنی ذہنیت اور قابلیت کی وجہ سے بادشاہ کے ہاں بہت عزت پائی تھی اور پورے محل میں اس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔اپنے دور حکومت میں بادشاہ اکثر ریاستی اور حکومتی معاملات میں اس سے مشورے بھی طلب کرتے تھے۔تیمور بادشاہ کے ساتھ بیگم جان کی اتنی قربت اس کی مغل بیوی اور دربار کے دیگر لوگوں کیلئے ناقابل برداشت تھااور اس کی وجہ سے وہ بیگم جان سے حسد کرنے لگے بیگم جان کی حاکم وقت بادشاہ تیمور کے ساتھ اس قدر قربت نے بادشاہ کی ملکہ اور دیگر ملازمین کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکادی۔یہی وجہ ہے کہ ملکہ اور دیگر ملازمین اسے بیگم جان کی بجائے ”بی بو“ کہہ کر پکارتے تھے اور رفتہ رفتہ ان کا نام بی بو سے” بی جو“ پڑ گئی۔ بی جو پشتو زبان کے لفظ ”بی زو“ یعنی بندر سے ملتا جلتا ہے اور اسے حسد کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے ۔مغل خاندان کے اکابرین بھی بادشاہ اور بیگم جان کے درمیان اس قدر گہرے تعلقات کو اپنے لئے خطرہ ہ محسوس کرتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بیگم جان اپنی ذہن اور عقل سے بادشاہ کو مغل خاندان کے ہر قسم کے سازشوں سے بچانے کے مشورے دیتی تھی اور ان کو بچانے کیلئے ضروری قدم اٹھاتی اسی وجہ سے تمام لوگ کوشش میں لگے تھے کہ کسی طریقے سے بیگم جان کو اپنے راستے سے ہٹالے۔مغل اکابرین نے بادشاہ کی ملکہ کے ہاں ایک خادمہ تعینات کی جو ہر وقت اس کی دل میں بیگم جان کے خلاف نفرت بھڑکاتی تھی بادشاہ کی ملکہ اب اس بات پر تیار ہوئی کہ بیگم جان کو ہمیشہ کیلئے اپنے راستے سے ہٹادےا اپنے اس مذموم منصوبے کو کامیاب بنانے کےلئے خادمہ نے ایک مشروب میں زہر ملا کر بیگم جان کو پلا دیاجس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے آبدی نیند سوگئی بادشاہ نے اس وفادار لونڈی کی قبر پر ایک نہایت شاندار گنبد اور برج تیار کیا جو ایک لازوال تاریحی اور رومانوی داستان کے طور پر پشاور کے ثقافتی منظر کو پیش کرتی ہے

2۔۔۔پشاوروزیر باغ روڈ پر واقع یہ گنبد اب وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر مٹ چکا ہے متعلقہ محکمہ کی عد م دلچپی کے باعث آنے والی نسل وفا کے اس پیکر کا نام ونشان مٹ کر صرف کتابوں میں اس کے بارے میں پڑھیں گے اور تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔برج کے ساتھ دو چھوٹی چھوٹی قبریں بھی تھیں جن کے نشانات شاید اب نہیں رہے یہ بیگم جان کی پالی ہوئی مرغیاں تھی اس نے وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد ان مرغیوں کو بھی ذبح کرکے اس کی قبر کے ساتھ دفنائی جائے لینڈ مافیا اس تاریحی قبرستان اور گنبد کے احاطے پر قبضہ جمانے کی کوشش میں لگے ہیںجس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں مقامی معزرین بزگورں کا کہنا ہے کہ یہ نادرشاہ کے وقت کا نہایت تاریحی اہمیت کا اثاثہ ہے جو حکام کی غفلت کی وجہ سے اب ختم ہورہا ہےمقامی لوگ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کو نئے نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے وفا کے اس پیکر کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات ا ٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی تصویریں صرف کتابوں میں ملے۔

3۔۔۔ محمہ آثار قدیمہ کے مطابق 1920 سے قبل جو بھی پرا نی عمارت ہو اسے ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے پشاور میں درجنوں قدیم اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں ۔جن میں گورگٹھری ، محلہ سیھٹیان ، مسجد مہابت خان ، پلوسی پیران ، کو ٹلہ محسن خان میں موجود مقبرے ، اور لنڈے ارباب میں قدیمی مقرے شامل ہیں ان قدیم تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ورثہ قرار دیا گیا لیکن ابھی درجنوں ایسی عمارتیں اور مقامات جو کہ حکومتی عدم توجہ کے باعث ختم ہو نے کے قریب ہیں ان میں چوہا گجر میں موجود” بو لی مسجد“ چوہا گجر میں موجود ”مغل پل“ ”دلدار مسجد “ اور وزیر باغ میں موجود بیجو قبر حکومتی نظروںسے اوجھل ہے ۔

mughal empire in peshawar is going to death pti

سروے رپورٹ ۔۔
پشاور(شہزادہ فہد )چمکنی کے قریب گاو¿ں چوہا گوجر میں مغل دور حکومت میں بنائی گئی مسجد رفتہ رفتہ ایک سست موت مر رہی ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی یادگار کی بحالی اور تحفظ کےلئے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اقدامات ان کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔مقامی لوگوں کیجانب سے اس مسجد کو ” بولی “ طور پر جانا جاتا ہے ۔ زرعی کھیتوں اور باغات کے درمیان کھڑی یہ مسجد کے قریب ہر سال آبادی میں جکڑی جا رہی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث مقامی لوگوں کی جانب سے مسجد کو ختم کر نے کی کوششیںکی جا رہی ہیں۔اور اس حقیقت کو پس پردہ رکھا جا رہا ہے کہ مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔مسجد مغل طرز تعمیر کا ایک بہترین شاہکار ہے ۔مسجد کی تعمیر وزیری اینٹوں اور چونے کے پتھر وں سے کی گئی ہے۔مورخین کے مطابق یہ مسجد جہانگیر کے دور میں 17 صدی کے دوران تعمیر کی گئی ہے اور اس مسجد کی تعمیر کا مقصد برصغیر کے دیگر حصوں میں وسطی ایشیا اور افغانستان سے آنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے تھا۔مسجد کی اونچائی میں 12 فٹ، اور چوڑائی 15سے 30 فٹ ہے مسجد کے مرکز میں ایک بڑا محراب ہے جو کہ خستہ حالی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ڈھانچے پر موجود عمارت کے چاروں کو نوں پر میناروں کا نام و نشان غائب ہو چکا ہے جو کہ کچھ عرصہ پہلا موجود تھے ۔ کچھ لو گوں کو خیال ہے کہ اس مقام پر مسجد کے سامنے ایک بڑا پانی کا کنوں تھا جس سے وضو کے لئے پا نی استعمال کیا جاتا تھا اور مسجد کے کے سامنے ایک کھلی زمین بھی تھی جس میں مسافر آرام کر تے تھے ۔
2۔۔۔
گاوں چوہا گجر میں موجود قدیم بو لی مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ آرکیالوجی ایکٹ کے مطابق 70 سال سے زائد عرصہ گزر جا نے والی عمارتیں تاریخ کا حصہ بن جا تی ہیں پشاور میں بیسیوں تاریخی عمارتیں ہیں جو کہ خستہ حال ہیں حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ پر کا م کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے شہر کے گرد Fahad express storyوال سٹی اور دیگر قدیم عمارتوں کو محفوظ کر نے کے باتیں کی جا تی ہیں لیکن تاحال ان منصوبو ں پر کو ئی عمل درآمد نہ ہو نے کے برابر ہے چوہا گجر میں واقع بو لی مسجد کی کی بحالی کے لئے کو ئی بھی ذمہ داری قبول نہیں ر ہا اور متعلقہ حکام کا بولی مسجد کی اہمیت کو نظر انداز کر نا صوبے میں تبدلی کے دعوﺅں کی نفی کر تا ہے

3۔۔۔۔
صوبا ئی دارلحکومت پشاورکا شما ر ا ان شہر وں میں ہوتا ہے جہاں مختلف ادوار میں تہذ بیں پنبتی رہی ہیں۔ پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جو کہ ہر وقت آباد رہا ہے ۔جس کے خدوخا ل آج بھی شہر اور گردونواح میں موجود کھنڈارات میں محسوس کئے جا سکتے ہیں یہ کھنڈارات ہمیں اس تاریخی شہر کی ہزاروں سال تہذیب اور اس میں بسنے والی ہنر مندوںں کی ؑظمت کا پتا دیتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ جس قوم میں کھنڈارات نہیں ہو تے ان کی تاریخ نہیں ہو تی ۔ صوبا ئی حکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں تمام کھنڈارت کی بحالی کےلئے اقدامات کرے تاکہ ہمارا قومی ورثہ محفوظ رہے ۔

kpk police ko dar pish masail… wifaq ko sochna pary ga …

شہزادہ فہد

ملک میں جاری دہشت گردی سے جہاں عوام کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے وہاں خیبر پختون خواہ پولیس کی قربانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایک طرف دہشت گردی کا نشانہ بنے والے کسی کے پیارے ہوتے ہیں تو وہاں دوسری طرف وردی میں ملبوس خیبر پختون خواہ کے جوان بھی کسی کے بیٹے ، بھائی اور شوہر ہوتے ہیں جو سخت ترین ڈیوٹی کر کے عوام کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں۔ خیبر پختون خواہ پولیس پاکستان میں تمام صوبوں کی پولیس پرسبقت رکھتی ہے جس کی حقیقت پر چشم پوشی نہیں کی جاسکتی چودہ سالوں سے جاری دہشت گردی میں کے پی پولیس کے گیارہ سو سے زائد پولیس اہلکا ر افسران جس میں اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک نے ملک کی سلامتی کے لئے جان کی قربانی پیش کر چکے ہیں اور دو ہزار سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیںیہ اعداد و شمار پاکستان میں تعینات تمام پولیس فورس میں سب سے زیادہ ہے۔ 2011 سے لے کر 2015 تک خیبر پختون خواہ پولیس پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے 2009 میں ہونے والے آرمی کاسوات آپریشن کے پی پولیس کے لئے سب سے بھاری رہا جس میںدو سو سے زائد نو جوانوں شہید ہوئے خیبر پختون خواہ جس کے طول و عرض میں فاٹا ایجنسیاں موجود ہیں پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔خیبر پختونخواہ پولیس وطن عزیز کی خاطر قربانیوں میں اول نمبرپر ہے جہاں پولیس کے سیکڑوں جوان اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں وہاں خیبر پختون خواہ پولیس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ وفاق کی جانب سے بلوچستان اور گلگت بلتستان کو پولیس کے لئے حساس علاقہ (ہارڈ ایریا) قرار دیا گیا ہے پی ایس پی یا پی اے ایس پولیس آفیسر کی ترقی کے لیے تین سال ہارڈ ایریا میں ڈیوٹی سرانجام دیتی لازم ہوتی ہے جوکہ ہر اعلی آفیسر اپنی ترقی کے لیے ہارڈ ایریا میںڈیوٹی دیتاہے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ نا تو بلوچستان میں حالات خیبر پختون خواہ کی طرح نازک ہیں اور ناہی گلگت بلتستان میں حالات خراب ہیں حساس علاقہ( ہارڈ ایریا) قرار دیئے جانے کے بعد تمام آفیسرز اپنی خدمات صوبے کو پیش کر دیتے ہیں اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی سے جہاں حالات بہتر ہوتے تو وہاں صوبے میں امن وامان کی صورت حال بھی اطمینان بخش رہتی ہے۔اس کے بر عکس خیبر پختون خواہ جہاں امن کی صورت حال روز بہ روزبد سے بدتر ہو رہی ہے وہاں پولیس کے اعلیٰ افسران کی کمی محکمہ پولیس خیبر پختون خواہ امن کے قیام کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔سنٹرل پولیس آفیس کے مطابق صوبے کو محکمہ پولیس کو 56سے زائد اعلیٰ ترین آفیسرز کی کمی کاسامنہ ہے تفصیلات کے مطابق18گریڈ کے منظور شدہ 74آفیسر میں 44 آفیسرز صوبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ 30 افسران کی کمی کا سامنہ ہے اسی طرح 19 گریڈ کے منظور شدہ 33 اعلی افسران میں 21 افسران موجود ہیں جبکہ12 اعلی آفیسرز کی کمی کے مسائل درپیش ہیں ۔گریڈ20 فل ڈی آجی میں 18 منظور شدہ سیٹوں پر صرف 5 ڈی آئی جیز خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ13 ڈی آجیز کی کمی کے پیدا ہونے والے مسائل بھی کم نہیں ہیں صوبے کے معاملات کو دیکھنے کے لیئے ایڈیشنل آجی کی منظور شدہ 5 سیٹوں پر سرف 2 ایڈیشنل آجیز کام کر رہے ہیں جبکہ 3 سیٹیںتاحال خالی ہیں ۔صوبے میں امن و امان کی صورت حال یقینی طور پر اعلی افسران ہی سنبھال سکتے ہیں موجودہ حالات میں صوبے جونیئر افسران خالی سیٹوں پر تعینات کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے حالات میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور سینئر آفیسرزکی پوسٹوں پر جونیئرافسران کی تعیناتی سے مسائل حل ہونے کی بجائے گمبیر ہونے لگے ہیں محکمہ پولیس خیبر پختون خواہ میں مجموعی طور پر 56 اعلی افسران کی کمی ہیپ ۔دہشت گردی سے متاثر صوبہ جہاں حالت جنگ میں ہو آئے روز پولیس اہلکار و افسران کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا جا رہا ہو پولیس کو مراعات بھی میسرنہ ہوں تووہاں کیوں کرکوئی پولیس آفیسرزڈیوٹی کرنے کے لیئے آمادہ ہو گاحتیٰ کے خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی اپنی خدمات صوبے کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںجو بہت بدقسمتی کی بات ہے اگر خیبر پختون خواہ کو حساس علاقہ( ہارڈ ایریا) قرار دیا جائے تو صوبے میں جاری اعلیٰ افسران کا بحران ختم ہو جائے گااور صوبے میں امن وامان کی صورت حال بھی بہتر ہوگی خیبر پختون خواہ کو حساس ایریا قرار دیئے جانے پرموجودہ حالات میں ڈیوٹی دینے والے اعلی افسران کو بھی فائدہ ہو گا جو کے سخت حالات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی صوبے میں خدمات پیش کرینگے اوراپنی تمام ترتوانائیاںصوبے میں امن و امان کی بحالی کے لئے بروئے کار لائیں گے وفاق کو چاہیے کے خیبر پختون خواہ میں امن کی بحالی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے جو کے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے اعلی افسران پاکستان کے دیگر صوبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران بھی خیبرپختون خواہ آنے سے کتراتے ہیں ایک دہائی قبل اعلی افسران خیبرپختون خواہ میں تعیناتی کے لئے سفارش کر تے تھے۔ پی ایس پی اور پی اے ایس میں ٹاپ کر نے والوں کو کی اولین ترجیی تھی کہ وہ خیبرپختونخوا میں تعینات کئے جائیںلیکن حالات اس کے بر عکس ہوچکے ہیں دیگر صوبوں کے اعلی افسران یہاں آنے کی بجائے گلگت بلتستان اور بلوچستان جاتے ہیں جہاں ان کو اضافی مراعات بھی دی جاتی ہیں ۔ چیف منسٹر خیبرپختون خواہ کی جانب سے وفاقی حکومت کوافسران کی کمی کو پورا کرنے لئے خط بھی لکھا گیا ہے وفاق حکومت خیبرپختون خواہ میں امن و امان کی بحالی کے لئے خیبر پختون خواہ کو ہارڈ ایریا قرار دینا ہوگا تاکہ صوبے میں تعینات اعلی افسران کو ان کی محنت کا ثمر مل سکے10338716_770723729682088_4104551166527158926_n