Tag Archives: culture

Mahabat Khan Mosque Condition unspecified flow

شہزادہ فہد
مغلیہ دور حکومت میں بنائی جانی والی تاریخی اہمیت کی حامل مسجد مہابت خان کی حالت ناگفتہ بہہ ہو گئی ، حکومتی عدم توجہ کے باوجود مغل طرز تعمیر کا شاہکار صدیوں پرانی مسجد اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہو ئے ہے، مسجد کے اطراف میں بنائی جانےوالی غیر قانونی دکانیں پلازے مسجد کی تا ریخی حیثیت پر اثر انداز ہو نے لگے ہیں، مختلف قوموں کی پشاور پر حکمرانی کی گواہ مسجد جو زلزلوں اور موسم کی شدت کو تو سہہ گئی تاہم انسانوں نے مسجد کے قریب غیر قانونی تعمیرات کر کے مسجد کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا، مسجد کے قریب پلازوں اور دکانوں کی آباد کاری سے مسجد کی بنیادیں کھوکھلی ہو گئی ہیں جسکی وجہ سے مسجد کی دیواریں کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہیں، صحن کا فرش اور کئی حصے بیٹھ چکے ہیں ، مسجد کو نمی اور قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کےلئے9فٹ اونچائی پر بنایا گیا تھا اور اطراف میں بر آمدے بنائے گئے تھے جس پر دکاندار قابض ہو گئے ہیں اور دکانوں کو وسیع بنانے کےلئے کھدائی کی گئی ہے جس سے مسجد کی دیواریں اور فرش بیٹھ گیا ہے، صدیوں سے آباد پشاور شہر کی تاریخ صرف کتابوں میں ہی نہیں ملتی بلکہ اس کے ثبوت بھی موجود ہیں، یوں تو پشاور بھر میںدرجنوں مقامات ہیں جس سے اس خطے میں آباد رہنے والی قوموں بارے آگاہی ملتی ہے ، ان میں سے ایک مسجد مہابت خان بھی ہے جو کہ مغل طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے ، پشاو رمیں واقع تاریخی اہمیت کی حامل قدیم مسجد مہابت خان حکومتی عدم توجہی کا شکار رہی ہے ، کئی حکومتیں گزر گئی تاریخی حیثیت کے حامل مسجد کی حفاظت کے لئے کسی بھی دور حکومت میں جامع حکمت عملی نہ بنائی جاسکی ،مسجد کے اطراف میں قائم دکانیں اورپلازے انٹکویٹی ایکٹ کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ تاریخی مسجد کی بقاءکےلئے خطرہ ثابت ہو نے لگے ہیں،اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ مسجد کی اصل حالت برقرار رکھنے کےلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں ناز سینما روڈ پر پانچ پانچ دکانوں کو خالی کرایا جائےگا،حکومت کی جانب سے مسجد کی مرمت و بحالی کےلئے 8 کروڑ 77 لاکھ روپے کا فنڈجاری کیا گیا ہے جس میں رواں سال 2کروڑ روپے جون کے مہینے تک خرچ کئے جائینگے، دوسری جانب مسجد کے اطراف میں قائم تجاوزات اور مسجد کی دکانوں میں موجود کرائے داروں کے باعث کام سست روی کا شکار ہے، دکانوں کو خالی کرانے کےلئے تمام تاجروں کو نوٹسز جا ری کر دئیے گئے تاہم تاجروں کی جانب سے مرحلہ دار دکانیں خالی کر انے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، مسجد کی عمارت کو محفوظ بناکر اس کی تاریخی اہمیت کو بحال رکھا جاسکتا ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

مسجد مہابت خان کسی شخصیت کا نام نہیں تھا بلکہ یہ کابل ، پشاور کے گورنر کا لقب تھا۔
پشاور میں واقع تاریخی مسجد مہابت خان کا نام مغلیہ حکمران یا کسی اہم شخصیت کے نام سے منسوب نہیں گیا ، مہابت خان کابل اور پشاو رکے گورنرلقب تھا جوکہ چار صدی قبل باپ بیٹے کو دیا گیا تھا ،مغل بادشاہ شاہ جہان اور اورنگزیب کے دور حکومت میں زمانہ بیگ کو کابل اور پشاو رکا گورنر نامزد کیا گیا ، زمانہ بیگ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مرزا لوراسپ کو 1658 ءمیں گورنر نامزد کیا گیا جنھوں نے مسجد مہابت خان کی تعمیر میں دلچسپی لی اور دو سال میں مسجد کی تعمیر مکمل کی ۔

مسجد کی تعمیر میں دال چاول انڈے پیس کر میٹریل میں مکس گئے تاکہ مضبوطی کافی عرصہ تک قائم رہے چونے اور کنجور سٹون بھی استعما ل کیا گیا۔
مسجد مہابت خان انجنیئرنگ کے لحاظ مغلیہ دور حکومت کی بہترین تعمیرات کا شاندار نمونہ ہے ، مسجد کو سیم سے محفوظ رکھنے کےلئے اونچائی پر بنا یا گیا ، مسجد کی عمارت کے نیچے مٹی کی بھرائی کی گئی اور مسجد کے باہر کھلے برآمدے بنائے گئے ، تاکہ مسجد قدرتی حادثات سے محفوظ رہے، مسجد کی عمارت زمین سے 9 فٹ اونچائی پر بنائی گئی ، مسجد کی تعمیر میں چونے اور کنجور سٹون کا استعمال کیا گیا ، مختلف دیواروںمیں دال چاول انڈے پیس کر تعمیراتی میٹریل میں مکس کئے گئے ، مسجد کی دیواروں پر اسلامی پینٹنگ (سٹکو) اور کھڑکیوں میں رنگین شیشے لگائے گئے ۔

 

Advertisements

TENANT INFORMATION FORM (TIF)

شہزادہ فہد
اگر آپ نے ڈاکہ نہیں ڈالا ، چوری نہیں کی ، منشیات فروشی میں بھی ملوث نہیں ہیں کسی کو قتل بھی نہیں کیا لیکن اگر آپ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں تو آپ مجرم ہیں ، جی ہاں آپ ٹیچنگ جسیے مقدس شعبے سے وابسطہ ہیں یا محنت مزدری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن آپ کا ذاتی گھر نہیں ہے تو آپ کی کوئی عزت نہیں ، آپ کو آدھی رات کو گھر سے نکال کر تھانے لایا جائے گا ، تعلق نہ ہوتو ساری رات حوالات میں بھی بند پڑے رہیں گے، پھر عدالتوں کے چکر اور نجانے کیا کیا ، ذلت و خوار ہونے کے بعد پتہ چلا کہ کرائے کے گھر میں مقیم ہو نے اور پولیس کوکوائف جمع نہ کر نے آپ کو سزاملی ، صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی پاداش میں بنائے جانے والا 10 تحفظ آرڈینس پاکستان  بلا شعبہ اگر بہترین ایکٹ ہے ، اس سے جہاں سیکورٹی اداروں اور پولیس کو ایرے غیرے کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے تو وہاں کسی بھی ناخشگوار واقعہ کے بعد ملزموں تک آسانی پہنچا جاسکتا ہے ، ایکٹ کی افادیت اپنی جگہ لیکن جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے اس پر مجھ سمیت ہر کرائے کے گھر میں مقیم شہری کوتحفظات ہیں ، ہر سیاسی حکومت اپنے دور میں کئے گئے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر تی ہے اوراس مدد میں لاکھوں کروڑں روپے خرچ کئے جاتے ہیں،بلوچستان کے بعد دوسرے نمبر دہشت گردی سے متاثر صوبے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت سوشل میڈیا پر چھائی ہو ئی ہے، اب تو جوں جوں الیکشن قریب آتا جارہا ہے صوبائی حکومت نے اخبارات پراشتہارات کی جیسے بارش کر دی ہو ،آئے دن کچھ نیا کرنے کا دعوی ٰ سننے کو ملتا ہے ، چلیں چھو ڑیں موضوع پر آتے ہیں ، بات 10 تحفظ آرڈینس پاکستان  کی ہو رہی ہے ، بہت سے لوگوں شائداس سے ناآشنا ہیں لیکن کرائے کے گھر وں میں مقیم شہریوں کےلئے یہ ایسا ہی ہی جیسے محلے میں کسی نے خیرات کی ہوں ، حکومت کی جانب سے بنائے گئے ایکٹ کے بعدموثرآگاہی مہم نہ ہو نے کی وجہ سے10 تخفظ آرڈینس پاکستان قانون پر شہری عمل درآمد کرنے سے گریزاں ہیں، چار سالوں کے دوران آرڈینس کے تحت 10ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ کرائے کے گھروں میں مقیم 27ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا ،تھانہ اور کچہری کے چکرکھانے کے بعد 24 ہزار سے زائد شہریوں نے خود کو رجسٹرڈکروایا، حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے پر 10 تحفظ آرڈینس پاکستان کے نا م سے قانون بنایا گیا ، صوبے میں سب سے پہلا مقدمہ پشاور کے کوتوالی تھانے میں درج ہوا ، کوتوالی کی حدود میں گرفتار ہونے والے دہشت گرودں کو پنا ہ دینے کے جرم میں یہ مقدمہ 5 مئی 2014 ءکو درج کیا گیا، ایکٹ میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر شہریوں کو پولیس کے پاس کوائف جمع کرنے کا پابند بنایا گیاتھا، تاہم موثر آگاہی مہم نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں نے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا شائد وہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے واقف نہ تھے، بھر اچانک دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے بعد 2014 ءمیں 10 تحفظ ارڈینس پاکستان پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاون شروع کیا گیا، سرچ و ٹارگٹ آپریشنز کے دوران مطلوبہ کوائف پیش نہ کرنے پر چار سالوں میں 10103 مکانات میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر 27433 شہریوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کئے گئے ، اور انھوں نے حوالات کی ہوا کھائی تو عقل ٹھکانے آئی جسکے بعد 24587 افراد نے پولیس کے پاس اپنے کوائف جمع کرائے ،یقین جانیں کہ ایکٹ پر بات نہیں کی جارہی ،بات تو پولیس رویئے اور نا مناسب حکمت عملی پر ہو رہی ہے ، ایک مہذب شہری کے حقوق کے لئے ہو رہی ہے،اب ہم سارا ملبہ پولیس پر تو نہیں ڈال سکتے ، ہمیں خود بھی چاہیے کہ ایک اچھے اورمحب وطن شہری ہو نے کے ناطے اپنے کوائف جمع کروائیں ، پولیس بیچاری کیاکر ے علاقے میں جرائم پر قابو پانا ہے امن و امان کی صورت حال کنٹرول کرنی ہے ، یہ مہم وہیم کے چکر میں پڑ جائے تو سارے کام رہ جائیں گے، تو بزرگوں ، یاروں اور پیاروں لائن میں لگ جاو ، سب آپ نے ہی کر نا ہے۔

۔

چار سالوں کے دوران آرڈینس کے تحت 10ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ کرائے کے گھروں میں مقیم 27ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا

دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے بعد 2014 ءمیں 10 تحفظ آرڈینس پاکستان پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاون شروع کیا گیا تھا

 

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Woman Harassment In Khyber Pukhtoonkhwa

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں خواتین کو کام کے جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے محتسب موجود نہ ہو نے سے صوبے بھر میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015سے ابتک مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں 500سے زائد خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور صحت سے کیسز رجسٹرد ہوئے صرف پشاور یونیورسٹی سے300سے زائد خواتین نے ہراسمنٹ کے کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والی محتسب کی نشست گزشتہ سات سالوں سے خالی ہے، ایکٹ کے مطابق ہر ادارے میں ہراساں کئے جانے کے خلاف کمیٹی لازمی قرار دی گئی جس میں ایک خاتون کی نمائندگی بھی ضرروی ہے تاہم صوبے بھر میں سرکاری و نجی اداروں میں کمیٹی کا تصور ہی نہیں ہے، تھانہ کلچر کی وجہ سے ہراساں کی جانے والی خواتین پولیس کو رپورٹ درج کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں ، مارچ 2010 میں وفاقی حکومت نے کام کے جگہوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کارروائی کے بل کو منظور کیا تھا جس کے بعد سے وفاق، پنجاب اور سندھ میں محتسب کو مقرر کیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں محتسب موجود نہیں ہے، سزا کا عمل تیز نہ ہونے سے صوبے بھر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز نہ روز اضافہ ہورہا ہے ،اور واقعہ میں ملوث ملزموں کوشہہ مل رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سات سال قبل خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے لیے بنائی گئی ایکٹ (ہراسمنٹ آف وومن آن ورک پلیس ) میں کام کرنے کی جگہ خواتین کو ہراساں کے جرم ثابت ہونے پر3سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،تعزیرات پاکستان سیکشن509تحت بھی خواتین اپنی ہراسمنٹ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرسکتی لیکن تھانہ کلچر کی وجہ سے اکثر خواتین اس اذیت ناک صورت حال کی بجائے خاموشی کو بہتر سمجھتی ہیں، ایکٹ کے مطابق کہ ہر نجی اور سرکاری اداروں تین رکنی کمیٹی ہوگی جس میں خواتین کی نمائیندگی ضروری ہوگی جو کہ کسی بھی شکایات کے ازالہ کرنے کے لیے کام کریگی جبکہ اس قانو ن کے تحت ادارے ضابطہ اخلاق بنانے کے بھی پابند ہیں لیکن ابھی تک کسی ادارے مین ضابطہ اخلاق اس حوالے سے نہیں بنائے گئے ۔ ان مرحلوں سے گزر کرایک لڑکی 509کے تحت ایف آئی آر درج کرسکتی ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس حوالے کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے جو کہ اس صوبے کے خواتین کے ساتھ نا انصافی ہے ، خیبر پختونخوا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کام کر نی والی نجی فلاحی تنظیم کی چئیر پرسن خورشید بانو کا کہنا تھا کہ کہ خیبر پختون خوا میں سالانہ 2 سے 3سو خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں صرف پشاور یونیورسٹی سے 300سے زائد کیسز موصول ہوئے لیکن محتسب نہ ہونے کے باعث وہ کیسز خراب ہوجاتے ہیں اور کسی کو سزا نہ ملنے کے باعث ایسے مردوں کو شہہ ملتی ہے، انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ نشست سات سال سے خالی ہونے کے خلاف رٹ بھی کررکھی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ویلفیر کے مطابق بجٹ ،عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہے لیکن پھر بھی صوبائی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جو کہ اس صوبے کے اُن خواتین کے ساتھ ظلم ہے جو کام کے دوران جنسی ہراساں کے شکار ہوجاتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے واقعات کے خلاف کسی کو سزا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہے اور دوسری جانب ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

Police Stations in FATA

شہزادہ فہد

فاٹا اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کےلئے عملی سطح پر تیاریاں روز و شور سے کی جا رہی ہیں ، تمام ایجنسیوں کے پولٹیکل ایجنٹس کو اپنی اپنی ضروریات کے مطابق تھانوں کی تعداد اور علاقوں کا تعین کر نے کی ہدایات جا ری کر دی گئیں ہیں ، پولیٹکل ایجنٹس نے اپنی ایجنسیوں کے عمائدین کو اعتماد میں لے لیا ہے ، قبائلی علاقوں میں تھانوں کے قیام کا آغاز فرنٹیر ریجن( ایف آرز) سے کیا جائے گا، خیبر پختونخوا کی 7 ایجنسیوں میں تھانے قائم ہو نگے جس کے لئے ابتدائی طور پرپولیس کی نفری خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مہیا کی جائے گی ، ایجنسیوں میں تعینات خاصہ دار فورس اور لیویز کو پولیس ٹرینگ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ قابلیت اور معیار پر پورا نہ ہونے والے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو ممکنہ طور پر ہینڈ شیک دیا جائے گا ، اس سے قبل پشاورکے بندوبستی اورفاٹا کی باﺅنڈری پر 31 راکٹ اور بلٹ پروف چوکیاں قائم کی جا چکی ہیں، متنی، اصحاب بابا ، ریگی للمہ، جالہ بیلہ ، شاغلی، مچنی گیٹ اور پشاور سے ملحقہ دیگر علاقوں میں چوکیوں میں ابتدائی طور چیک پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں،ان میں سے ہر چوکی پر 32 اہلکاوں پر مشتمل پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے کیا جا ئے گا ،پولیس حکام کے مطابق مذکورہ چوکیوں کے قیام سے شرپسندوں کے انٹری پوائنٹ سمیت ان کے چور راستے بند ہو جا ئینگے اور پشاور کی سیکورٹی میں مزید بہتری آئے گی ،پولیس چیکنگ پوائنٹ سے اسلحہ و بارود کی سپلائی کی روک تھام میںبھی مدد ملے گی اورآنے والے وقتوں میں پولیس کےلئے کا رآمد ثابت ہو نگی ،فاٹا کی تمام ایجنسیوں بشمول ایف آر ز تک تھانہ کلچر منتقل کرنے کےلئے سروے مکمل کیا جا چکا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحصیل جمرود کو ایک آفیشل لیٹر بھی موصول ہوا تھا جس میں خیبرایجنسی کے انتظامیہ سے پولیس سٹیشنز بنانے کیلئے ایجنسی میں جگہ منتخب اور اعداد شمار دینے کا کہا گیا ہے

پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے ایجنسی میں مجوزہ 76پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے لیے سیکرٹری لائاینڈ آرڈرکو خط

خیبر پختونخوامیں فاٹا انضمام کے اثرات ظاہرہوتے ہی پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے سیکرٹری لا ءکو ایجنسی میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خط ارسال کردیا جس کے مطابق ایجنسی میں 76پولیس اسٹیشنز قائم کئے جاسکتے ہیں،خط کے مطابق تحصیل سرویکئی میں 9پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ لدھا میں 22پولیس اسٹیشن قائم کئے جاسکتے ہیں اسی طر ح خط میں وانا تحصیل میں 45پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہیں، پولٹیکل انتظامیہ کے خط کے مطابق ان پولیس اسٹیشنز میں نو ہزار 160پولیس عملہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔

 

رضائی کلچر خیبر پختونخوا

پشاوررضائیاں بنانے کا کاروبار مندی کا شکار،کاریگر بے روزگار ہونے لگے
ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ،رضائیاں دیگر شہروں سمیت افغانستان ،ایران بھی بھیجی جاتی ہیں
سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگرپیشہ چھوڑ نے پر مجبور ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے،دکانداروں کی بات چیت

IMG_20171221_135438

شہزادہ فہد              

سردی سے بچاو کے لئے انسان مختلف قسم کے جتن کرتا آیا ہے ، گرمی ہو یا سردی انسان اپنی سہولت کےلئے تمام وسائل بروکار لاتا ہے ، ویسے توپاکستان موسم کے لحاظ سے ایک آئیڈیل ملک ہے، پاکستان میں آپ گرمی ،سردی، بہار اور خزاں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ،سردی کی آمد سے قبل ہی اس کی شدت سے محفوظ رہنے کےلئے انتظامات شروع کردیئے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں سردی تمام ملک کی نسبت زیادہ پڑتی ہے ،اسی لئے سردی کی شدت سے بچا و کےلئے صوبے بھر میں رضائی کااستعمال کیا جاتا ہے، سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی رضائیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کے دن بھی پھر جاتے ہیں ، ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ہیں جہاں بنائی جانے والی رضائیاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دیگر ممالک جن میں افغانستان ، ایران شامل ہیں بھیجی جاتی ہیں ، مقامی دکانداروں کے مطابق سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ملاکنڈ ، ہزارہ ، کشمیر اور قبائلی ایجنسیوں میں رضائی کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے ،دکانداروں کا کہنا ہے کہ صر ف سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگر یہ پیشہ چھوڑ نے پر مجبور ہیں ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے جبکہ رضائیوں کے کاروبار سے وابسطہ افراد بھی نہ ہونے کے برابر ہو نگے، ان کا کہنا تھا کہ اس پیشے سے وابسطہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنے سے جہاں بے روزگاری میں کمی واقع ہو گی وہاں قدیم کلچر کا تخفظ اور دنیا بھرمیں تشہیر میں ممکن ہو سکے گی ۔

رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ
دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے 100روپے فی رضائی کے حساب سے اجرت دیتے ہیں
پشاور میں رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ ہیں ، شاہ قبول بازار میں رضائی فروخت کر نے والے دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے روزانہ کی بنیاد پر کام دیتے ہیں ، پشاور کے نواحی و مضافاتی علاقوں میں خواتین فی رضائی 100 روپے وصول کرتی ہیں ، دکانداروں کے مطابق ایک خاتون دن میں دو سے تین رضائیوں کی سلائی کر تی ہے ،

کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی
کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی واقع ہو ئی ہے ، جدیدزمانے میں جہاں فیشن اور نت نئے انداز سے کلچر پر یلغار کی ہے وہاں رضائی کلچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ، خریداروں کے مطابق رضائی ایک پرانا فیشن ہے جو کہ نئی نسل کو قابل قبول نہیں ہے دوسری جانب خواتین بھی رضائی پر کمبل کو ترجیح دیتی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کمبل کی دھلائی رضائی کی نسبت زیادہ آسان ہوتی ہے۔

شادی بیاہ وتقریبات کے لئے رضائی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں
پشاور سمیت صوبے بھرمیں رضائی کرائے پر دینے کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے ، شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات مین رضائیاں کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں جوڈ بگریی بازار میں باآسانی دستیاب ہو تی ہیں، ایک رضائی 50 روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ پر دی جاتی ہے،علاج معالجے کےلئے دیگر اضلاع سے پشاور آنے والے افراد کےلئے ہسپتالوں کے سامنے بستر اور رضائیاں کرائے پر فراہم کی جاتی ہیں جو کہ پیشگی رقم اور شناختی کارڈ کی ضمانت پر دی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول
خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول ہیں، دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا کی رضائی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے ،نرخ میں کم اور پائیدار رضائی کی مانگ دیگر صوبوںمیں بھی زیادہ ہے ، دیگر صوبوں میں پولسٹر کی رضائی جو کہ قیمت میں زیادہ لیکن کم پائیدار ہوتی ہے جس کے مدمقابل کالی اور سفید روئی سے بنائی جانے والی رضائی شہری زیادہ پسند کر تے ہیں،مشین کی نسبت ہاتھ کی سلائی بھی اس کی مانگ میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔

استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی سے بھی رضائیاں بنائی جانے لگیں
مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے جبکہ سفید روئی 40 روپے میں دستیاب
رضائی بنانے میں استعمال ہونے والی قدرتی روئی کی جگہ استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی نے لے لی ہے ، قدرتی روئی جو کہ قیمت میں زیادہ ہو تی ہے جس سے بنائی جانے والی رضائی مہنگی فروخت ہو تی ہے،تاہم اس کی جگہ کپڑوں سے بنائی جانے والے روئی نے لے لی ہے،عام مار کیٹ میں پولسٹر 120 روپے کلو فروخت ہو تا ہے جبکہ مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے کلو جبکہ سفید کپڑوں سے بنائی روئی 40 روپے میں دستیاب ہو تی ہے ، پولسٹر سے بنائی جانے والی رضائی 1 ہزار ، کالی روئی سے بنائی جانی والی رضائی 4 سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے ، شاہ قبول میں کپڑ ے سے روئی بنانے کی 10 سے زائد مشینیں لگائی گئی ہیں ۔

Historic Site Discovered At Bus Repaid (BRT) Excavation

بس منصوبہ کی کھدائی کے دوران پشاور میں آثار قدیمہ سامنے آگئےآر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیا

کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے

 سرنگ نما نکاسی آب کے نالے میں وزیر اینٹ کا استعمال کیا گیا ہے، پشاور میں سرنگوں کا ذکرمغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘میں بھی کیا ہے

 قدیم آثار کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ، ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا

شہزادہ فہد

پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ( بی آر ٹی ) کی کھدائی کے دوران 17 ویں صدی عیسوی کے آثار قدیمہ سامنے آئی ہیں،پشاور میں تہہ خانوں کے بارے میں روایتی کہانیاں اور مفروضے سچ ثابت ہو نے لگے ہیں، تین صدی قبل مغل دور حکومت کی تعمیر ات کھدائی میں سامنے آ گئی ہیں جس کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ر ہیں جس کی وجہ سے قدیم آثار کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا ہے ،آر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے، گور گھٹڑی میں پشاور کے مختلف مقامات میں زیر زمین تہہ خانوں کا ذکر مغل دور حکومت کے پہلے بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘اور ان کے پوتے اکبر نے اپنی سوانح عمری میںکیا ہے جبکہ روایتی کہانیوں میں ہندووںکے مذہبی رہنما گورتھ ناتھ کی گورگھٹڑی سے زیر زمین ڈبکی لگا کر پنج تیرتھ ( فردوس ) میں نکلنے کے مفروضے بھی سنائے جا تے ہیں،حاجی کیمپ اڈے کے قریب بس ریپڈ ٹرانزٹ کےلئے کی جانے والی بیس فٹ گہری کھدائی میں 17 ویں صدی عیسوی کے آثار کا ملنا بھی اسی سرنگوں کی کڑی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں مزید چھان بین کی ضروت ہے ، بی آر ٹی کےلئے چند گز کی کھدائی میں ایک گول سرنگ نما تعمیر دریافت ہو ئی ، یہ قدیم تعمیر زیر زمین تہہ خانہ یا نکاسی آب کا نالہ ہوسکتا ہے، دریافت ہونے والے سرنگ کو مٹی اور اینٹیں رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، پشاور میں اس سے قبل بھی متعدد مقامات پر نوادارت اور قدیم تعمیرات دریافت ہو چکی ہیں، تاریخ دانوں کے مطابق پشاور کا شمار وسطی ایشیا ءکے قدیم تر ین شہروںمیں ہوتا ہے ، پشاور میںملنے والے آثار قدیمہ اس شہر کے تاریخی ہونے کا واضح ثبوت ہیں ، نئی دریافت کے حوالے سے محکمہ آثارقدیمہ کے فوکل پرسن نواز الدین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دریافت ہو نے والی نئی سائٹ ممکنہ طور پر 18 ویں صدی کی ہو سکتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات میں وزیر اینٹ استعمال ہو ئی ہے لیکن یہ تعمیرات سکھ دور حکومت سے مشابہت رکھتی ہے ، پشاور میں مغل دور حکومت کے بعد سکھوں کا راج شرو ع ہوا تو اس وقت کے حکمران رنجیت سنگھ نے پشاور میں حکومت کمزور پڑھنے پر جنرل اویٹبل کو گورنر بنا کر بھیجا ، نئے گورنر نے آتے ہی پشاور کا نقشہ تبدیل کر دیا ، انھوں نے 18 ویں صدی میں اس وقت کا جدید ترین ڈرین سسٹم متعارف کروایا ، جنرل اویٹبل کا تعلق اٹلی سے تھا ،انھوںنے پشاور میں دیوار شہر کو تین حصوں کی بجائے ایک دیوار میں تبدیل کروایا،

2

The 200th birthday of Sir Syed Ahmed Khan, celebration in India, Pakistan’s weird

شہزاد ہ فہد

سر سید احمد خان کی200 ویں سالگرہ ، انڈیا میں جشن ، پاکستانی غافل

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو کی سالگرہ پر صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا

انڈیا مین گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں متعدد تقاریب منعقد کی گئیں، تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کا بیان پاکستاں میں صرف تاریخ کی درسی کتابوں میں کیا جاتا ہے

متقی خان المعروف سر سید 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ،ڈائریکٹر ایچ ای آراے ڈاکٹر خالد

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو سر سید احمد خان کی پیدائش کے 200 سال پورے ہو گئے ہیں ، خیبر پختونخوا اور فاٹامیں تعلیم ادارو ں سمیت دیگر سرکاری ادارے عظیم شخصیت کی 2 سوویں یوم پیدائش سے بے خبر رہے ، صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا ، عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کے لئے انڈیا میں جشن منایا گیا ، گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا ، تاہم خیبر پختونخوا میں یکجہتی اور تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کو صرف درسی کتابوں اور نصاب تک محدود رکھا گیا ہے،تقسیم ہند میں مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے اور تعلیم و ترقی میں قوم کی رہنمائی کر نے والے مسلمانوں کے قومی ہیرو سر سید احمد خان کا 200سو واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے ، سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہو ئے تھے ،سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظری عملیت کے حامل اور فلسفی تھے، سر سید احمد خان ایک نبیل گھرانے میں پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان نے قرآن اور سائنس کی تعلیم مغل دربار میں ہی حاصل کی جس کے بعد انہیں وکالت کی اعزازی ڈگری یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے عطا کی گئی، بغاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اسباب بغاوب ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں رعایائے ہندوستان کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا، سرسید احمد خان نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا،سر سید احمد خان کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،انہوں نے دیگر مسلم رہنماو¿ں بشمول محمد اقبال اور محمد علی جناح کو بھی متاثر کیا، سر سید احمد خان کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگی کی رویت ڈالی، پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں،خیبر پختونخوا بشمول فاٹا میں عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کےلئے سرکاری سطح پر کو ئی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ،اس حوالے سے سپیشل سیکرٹری اینڈ چیئرمین ایچ ای آر اے ڈاکٹر خالد خان نے روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ تعلیم کا لفظ زبان پر آتے ہی پہلا نام سر سید احمد خان کا آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ چندروز بعد محکمے کے زیر اہتمام سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ۔sir syed ahmad khan 2

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔