Tag Archives: express

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

story of a garden in peshawar wazir bagh

شہزادہ فہد۔۔۔fffffff
مغلیہ دور کی یادگاروزیر باغ زبوں حالی کا شکار ہے تاریخی باغ کے تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی مٹی اور گندگی سے بھرے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے ،میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی یہ شاندار یادگار کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل ہو چکا ہے پھولوں اور باغات کا خوبصورت شہر پشاورکو اب پھولوں اور باغات کا شہر نہےں کہا جا سکتا ہے شاہی باغ، جناح باغ، وزیر باغ، کمپنی باغ سمیت بہت سارے باغات اس شہر کی خوبصورتی کے ضامن تھے بڑھتی آبادی، نا مناسب منصوبہ بندی اور چاروں طرف پھیلتے شہر نے یہاں کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح چاٹ لیادہشتگردی اور بد امنی کے بعد حکومتی عدم دلچسپی کے باعث شہر پشاور مےں واقع مغلیہ دور کی یادگار وزیر باغ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے مغل دورکی یادگار وزیر باغ درانی حکمران پرنس شاہ محمود درانی کے دور میں سردار فتح محمد خان برکزئی عرف وزیر کی طرف سے تعمیر کیا گیا سردار فتح محمد خان نے پشاور میں شاہ شجاع کی حکمرانی کے بعد 1810 میںاس باغ کی بنیاد رکھی، باغ چار باڑوں پر مشتمل تھا اور کنویں کے ساتھ ساتھ ایک پویلین، مسجد، فٹ بال گراو ¿نڈ، دو کشادہ لان اور تالاب بنائے گئے لیکن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ہزاروں سال پرانی مسجد خستہ حالی کا شکار ہے ، تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے جبکہ تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی گرد و غبار سے اٹے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے بزرگوں کےلئے تازہ ہوا کا ذریعہ اورایک عمدہ تفریح گاہ وزیر باغ تو کہانیوں مےں رہ گیا مغلیہ عہد کا یہ شاندار باغ اب زبان حال سے پکار پکار کر حکومتی بے حسی کا رونا رو رہا ہے درختوں اور سبزے کا وجود بس صرف برائے نام رہ گیا ہے میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا جبکہ ایک چمن مےں جھولے لگائے ہےں لیکن ان جھولوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی انتظامیہ کی بڑی ذمہ داری ہے بد تہذیب نوجوان جھولوں کا ستیاناس کر دیتے ہےں اور بچے دیکھتے ہی رہ جاتے ہےں وزیر باغ پشاور میں سب سے قدیم اور بڑا باغ سمجھا جاتا ہے یہ باغ ایک عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہے پرانی روایت کے مطابق یہ باغ خوبانی، آڑو، انار، ناشپاتی اور رنگا رنگ پھولوں سے بھرا ہوا تھا انگریزی سفیر سر الیگزینڈرنے 1832 میں دورے کے دوران اس تاریخی وزیر باغ میں قیام کیا تھا تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی لوگوںنے اس شاندار یادگار کو کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل کر دیادور جدید مےں تقریبا اس کی ہریالی ختم ہورہی ہے اس باغ کو ماضی میں ایک پکنک کی جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور خاص طور پر اس پیپل کے درخت اس کی خوبصورتی پر غور کیا گیا باغ کی زیادہ تر خوبصورتی کو تباہ کر دیاگیا ہے سماجی کارکنوں نے کئی بار اس پر خدشات اٹھائے ہیں لیکن کوئی شنوائی حاصل نہ ہو سکی وزیر باغ مغلیہ دور کی نشانی ہے سابقہ ادوار میں حکومت نے وزیر باغ کی دیکھ بھال کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن کے مو جود ہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعدمغلیہ دور کے ان باغات کی دیکھ بھال کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے قبضے کر کے پارک کو چھوٹا کر دیا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ تاریخی باغات کو اصل حالت میں لانے لیے حکومت اقدامات کرے۔

صوبا ئی دارلحکومت پشاور پھولوں کا شہر کے نام سے جانا جاتا تھا حکومتی عدم تو جہی پھول ، با غا ت قصہ پارینہ بن چکے ہیں شہر بھر میں تفریحی مقامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔شہر میں کنتی کے چند باغ ہیں جن میں باغ ناران ، شالیمار باغ مشہو ر ہیں جبکہ شاہی باغ ، وزیر باغ کو کرکٹ گراونڈ کے طور پر جا نا جا تا ہے ۔ پشاور میں باغات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور پارکوں میں انٹری فیس سے لے کر پارکنگ فیس کی من مانی وصولی سے شہری گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں باغات کی دیکھ بھال اور تفریحی فراہم کر نا حکومت کی زمہ داری ہے