Tag Archives: film

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

Advertisements

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔

 

Mystical Singer Sain Zahoor in Peshawar

شہزادہ فہد ۔

This slideshow requires JavaScript.

صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی کے ساتھ صوف پوش (سادہ لباس) ہو اور نفسانی خواہو، صوفی موسیقی کا تعلق بھی صوفیاء کرام سے بتایا جاتا ہے جسے رومی ،بلھے شاہ اور امیر خسرو جیسے صوفی شاعروں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہے، قوالی صوفی موسیقی کی سب سے معروف صورت ہے جس کا تعلق برصغیر سے ہے، نیز یہ موسیقی ترکی،مراکش اور افغانستان جیسے ممالک میں وجود رکھتی ہے، پاکستان میں عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ، ان ہی میں سے ایک مقبول و معروف نام سائیں ظہور جو کہ پاکستان کے شہر اوکاڑہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکار ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے۔ 2006ءسے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا تاہم عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئے تھے، سائیں ان کا نام نہیں بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے ، سائیں ظہور ساہیوال ڈویژن کے ضلع اوکا ڑہ میں 1937ءمیں پیدا ہو ئے ، وہ اپنے گھرانے میں سب سے چھوٹے ہیں انھوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کردیا تھا ، دس سال کی عمر میں انھوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر دربار اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنالیا ، 2006 ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے منظر عام پر آیا ، 2007 ءمیں انھوں نے ایک پاکستانی فلم ’ ’ خدا کے لئے“گانا گایا جو بھی بے حد مقبول ہوا ، انھوں نے ایک برطانوی فلم” ویسٹ از ویسٹ “ کےلئے گانا گانے کے ساتھ ساتھ اس فلم میں اداکاری بھی کی، خیبر پختونخوا میں صوفی ازم سے لگاو رکھنے والے افراد کے لئے نشترہال پشاور میں محکمہ کلچر و ثقافت کے زیر اہتمام بین الاقومی شہرت یافتہ صو فی گلوکار سائیں ظہور کی شاندار روحانیت اور فقر پر مبنی کلام کے محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت وثقافت، آرکیالوجی ،میوزیم اور امور نوجوانان محمد طارق، ڈائریکٹر کلچر اجمل خان، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد، ایس ایس پی ٹریفک صادق بلوچ سمیت مختلف فیمیلز، خواتین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، تقریب میں کمپئرنگ کے فرائض معروف آرٹسٹ ارشد حسین اور نمرہ خان نے سر انجام دئیے،صوفی شاعر بابا بلے کے کلام کو آپنی جا دوئی آواز میں گانے پر محفل میں موجود افراد نے خوب سراہا ، دو گھنٹوں سے زائد کی پرفارمنس کے دوران گلوکار سائیں ظہور نے میرا عشق بھی توں، تیرے عشق نے نچایا چل چھیاں چھیاں ، لال میری اور دیگر صوفیانہ کلام پیش کئے ، بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار سائیں ظہور نے اس موقع پر کہا کہ پشاور آکر یہاں کے لوگوں کا پیار اور مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا جس کو ہمیشہ یاد رکھوں گا اور اگر موقع ملا زندگی میں تو دوبارہ بھی پشاور میں آکر پرفارم کرونگا ، انہوں نے کہاکہ اپنی زندگی میں زیادہ تر صوفیانہ کلام پیش کئے کیونکہ مجھے شروع سے صوفیانہ کلام سے لگاﺅ رہا ہے ،سیکرٹری کلچر و ٹوررازم طا رق خان کا کہنا تھا کہ سائیں ظہور کو پشاور بلانے اور یہاں پر پروگرام کے انعقاد کا مقصد صوبہ کی عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی صوبائی ثقافت کی رونمائی کرنا بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ پشاورمیں صوفی گلوکاری سے لگاو رکھنے والے سائیں ظہور کو پنجاب جا کر سن پاتے تھے یا پھر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھنا اور سننا نصیب ہوتا تھا ، سائیں ظہور کا شمار پاکستان بلکہ دنیا کے نامور موسیقارمیں کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں زیادہ ترصوفیانہ کلام پیش کئے اور 2006میں بی بی سی وائس آف ایئر کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا، سائیں ظہور کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اکاڑہ سے ہے انہوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کا آغاز کیا ، سائیں ظہور کی2گھنٹوں سے زائد براہ راست پرفارمنس پر شہری جھوم اٹھے ، خیبر پختونخوا میں صوفیانہ کلام کے فروغ کےلئے اٹھائے گئے پہلے قدم کے مثبت نتائج آنا شروع ہو جا ئینگے ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی گلوکار کی پشاور آمد سے عارفانہ کلام کے روجحان کو فروغ ملے گا ، پاکستان کے دیگر صوبوں کے حکام کو بلا تفریق عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو پروموٹ کرنے کے لئے اس قسم کی محافل کا انعقاد کرنا ہو گا

Pushto Film review 2016

شہزادہ فہد ۔

2016ء پشتو فلم انڈسٹری بحران کا شکار رہی ‘صرف گیارہ فلمیں ریلیز ہوئیں
گزشتہ سال سنیما انڈسٹری شدید بحران سے دوچار رہی ‘ پشتو فلم کا بزنس صرف عید تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ سنیما کلچر کا خاتمہ مالکان شدید پریشان
پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پاکستانی فلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم بہترین معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ،

نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی جاری ہے پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ سے بحران کا شکا ر ہے، سینما کلچر میں کمی اور فلم سنسر بورڈ نہ ہو نے سے فلمی صنعت سے وابسطہ افراد دیگر کا روبارکےلئے سرگرداں ہیں ، پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پشتوفلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ، فلمی صنعت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی زوال پذیر ی کی بڑی وجہ نئے ڈائریکٹرز،پروڈیوسرز،کہانی نویس ،سرمایہ کاروںسمیت نئے چہروں کے نہ آنے اورجدیدٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل نہ کرناہے،جب کہ فلمیں بنانے کے حوالے سے ہی تیس سالہ پرانی سوچ اپنائی جاتی ہے، اسی طرح حکومتی سردمہری بھی فلم انڈسٹری کی تباہی کی ایک وجہ بھی ہے، موجودہ دورمیں پشتو فلم انڈسٹری نے اس صنعت کوسہارادے رکھاہے،گزشتہ پندرہ سال سے پشتو فلم انڈسٹری ترقی کی جانب گامزن ہے یایوں بھی کہا جاسکتاہے کہ پوری فلم انڈسٹری کوپشتوفلموں نے سہارادے رکھاہے جس کے دم قدم سے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے گرم ہیں، لیکن گزشتہ سال کی صورت حال نے پشتو فلموں کے ہدایت کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ،سال میں چندایک فلمیں انڈسٹری ہٹ ہو تی ہیں ،اگر یہی حالات رہے اور ہدایت کار ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کردھرے بیٹھ گئے توپشتو فلم انڈسٹری کا نام ونشان مٹنے کے ساتھ سینکڑوں خاندان بھی فاقے کرنے پر مجبورہوجاہیں گے،یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتو فلموں کے شائقین چاروں صوبوں کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان سمیت دنیاکے کونے کونے میں موجودہیںاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد پشتو فلموں کی منتظر ہو تی ہے ،2016ءپشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا ثابت ہوا سال بھر میں گیارہ پشتو فلمیں سنیماﺅں کی زینت بنیں گزشتہ سال پشتو فلم انڈسٹری کیلئے بحران کا سال ثابت ہوا او ر سنیما انڈسٹری زوال پذیر رہی گزشتہ سال پشتو فلموںکے معروف ہدایتکار ارشد خان کی تین پشتو فلمیں لیونئی پختون ،راجہ اور بدمعاشی بہ منے ،نوجوان ہدایتکار شاہد عثمان کی تین فلمیں جشن ،گندہ گیری نہ منم اور غلام ،ہدایتکار حاجی نادر خان کی دو پشتو فلمیں محبت کار د لیونئی دے ،خیر دے یار پہ نشہ کے دے ،ہدایتکار اور لکھاری امجد نوید کی ایک پشتو فلم نادان اور نوجوان ہدایتکار سید منتظم شاہ کی پشتو فلم زہ پاگل یم اور ہدایتکار ولکھاری سعید تہکالے کی ایک پشتو فلم بدمعاشی نہ منم ریلیز ہوئی تاہم 2016ءپشتو فلموں او ر انڈسٹری کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور پشتو فلمیں شدید بحران کا شکار رہیں‘ سنیما انڈسٹری زوال کی طرف گامزن ہوئی ‘پشتو فلموں کے معروف ڈائریکٹر ارشد خان ،شاہد عثمان نے بتایا کہ گزشتہ سال پشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا سال ثابت ہوا اور سنیما انڈسٹری مزید زوال پذیر ہے اور فلموں کا بزنس صرف عید تک محدود ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ فلموں کا بزنس صرف پشاور میں رہ گیا ہے صوبے کے دیگر اضلاع میں سنیما نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سینماہال کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے بصورت دیگر رہی سہی پشتو فلم انڈسٹری بھی بندہوجائے گی اور سنیما مالکان اپنے سنیماﺅں کو شاپنگ مالز میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ،صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں۔

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

Religion Tourism

This slideshow requires JavaScript.

شہزادہ فہد

مذہبی سیاحت کافروغ
 تاریخ میں پہلی امریکی سیکھ برادری کا دورہ پشاور میوزیم

مذہبی ساحیت سیا حت کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے ، انسان کی دنیا میں آمد سے ہی مذہی سیاحت کا آغاز ہو ا اور انسان نے اپنی مذہبی مقدس مقامات کی طر ف پیش قدمی کی اسی وجہ سے مقدس مقامات کے حامل شہروں نے معاشی ترقی کی ہے ، پوری دنیا میں مذہبی سیا حت کے فروغ کےلئے مقدس مقامات پر زائرین کو متوجہ کر نے کےلئے اقداما ت کئے جا رہے ہیں جس سے کثیر رزمبادلہ حاصل ہورہا ہے، مذہبی سیاحت کو نہ صرف کسی خٓاص مقدس مقام کی زیارت کےلئے منفید قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ اسے انسانوں کے مابیبن دوستی اور ایک تفریح شکل کے طور پر ایک انسانی راہ میں اہمیت کے حامل کے سفر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ،خیبر پختونخوا قدیم مذاہب کا حامی علاقہ مانا جاتا ہے ، جس میں گندھارا ، ہندو ، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد رہائش پذیر رہے تھے جس کی اہم وجہ خیبر پاس قرار دیا گیا ہے، جو کہ سنٹرل ایشاءکا گیٹ وے تصور کیا جا تا ہے ، سیاحت کے زریعے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے صوبہ میں پہلی بار امریکہ سے آنےوالی سیکھ برادری کے وفدکیلئے دورہ پشاور میوزیم کا اہتمام کیا ، 30رکنی وفد کو پشاور میوزیم کے دورے کے موقع پر میوزیم میں موجود آرٹ ، آثار قدیمہ ، نوادرات اور دیگرقدیمی اشیاءکے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں دورہ میں 20 خواتین اور 10 مرد شامل تھے، 30رکنی وفد میں شامل یاتریوں میں حرجاپ سنگھ، جرنیل سنگھ، مدن جیت ، اوتار، دل جیت سنگھ، امریک ، شنگارا سنگھ، پرمندر کور، اوتر کور، گردیال، ستپال، جاسبر، سورندر ،پرمجید، مانجیت، حاردیپ، کشمیر کوراور دیگر شامل تھے ، سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل، آثارقدیمہ و امور نوجوانان طارق خان ، منیجنگ ڈائریکٹر مشتاق احمدخان نے زائرین کو خوش آمدید کہا ،دورے کے موقع پر تمام مہمانوں کو میوزیم اور صوبہ میں موجود مذہبی عبادت گاہوں ، آثار قدیمہ ، قیمتی نوادرات اور دیگر کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جنرل منیجر ٹوررسٹ انفارمیشن اینڈ ایونٹس محمد علی سید کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کا دورہ پشاور میوزیم کا مقصد خیبرپختونخوا میں موجود بدھ مت ،سیکھ کودواروں ، پارسیوں کی عبادت گاہیں اور دیگر مذہبی مقامات و عبادت گاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح و دیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے ان مذہبی مقامات کا رخ کرسکیں، انھوں نے بتا یا کہ خیبرپختونخوا کو مذہبی سیاحت کے لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں پر90 فیصد سیکھ برادری کی عبادت گاہیں ہیں ،سیکھ برادری کو ہمیشہ پشاور اور خیبرپختونخوا میں خوش آمدید کہیں گے اور یہاں بہترین استقبال کیا جا ئے گا ، انھوں نے بتا یا کہ امریکی نژاد سکھ یاتریوں کی جانب سے سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بانی بابا کورونانک کی 548 ویں جنم دن کی تقریبات کے حوالے پاکستان میں مذہبی دورے پر آئے تھے جنھوں نے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا سے پشاور کے دورہ کر نے کی درخواست کی تھی جس کو محکمے نے قبول کیا اور ان کے تمام تر انتظامات ترتیب دئیے گئے، میوزیم کے دورے کے موقع پر عام شہریوں نے بھی یاتریوں سے ملاقات کی اور مختلف مو ضعات پر تبادلہ خیال کیا، دورے کے موقع پر سکھ یا تریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ گرونانک کے 548ویں جنم دن کے موقع پر پشاور کا رخ کیا۔اس موقع پر وفد میں موجود خاتون نوودید اور دیگر سیکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ یہاں آکر ان آثار قدیمہ ، نوادرات ، مذہبی عبادت گاہوں اور دیگر کے بارے میں جان کر اور انہیں دیکھ کر اچھا لگا جہاں ایک وقت میں ہمارے بڑوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی ، ہمیں ہندوستان سے زیادہ یہاں پیار ملا اور تحائف دیئے گئے پشاور کے عوام میں آکر ایسا لگا جیسے اپنے ہی دیس میں آئے ہوں، ان کا کہنا تھا ہیاں آکر معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈ حقیقت اور حالات کے بلکل بر عکس ہیں، پاکستانی لو گ نہایت ملنسار ، خوش اخلاق ، امن پسند اور عاجز ی رکھنے والے لو گ ہیں ہم ہیاں آکر فخر اور سکون محسوس کر رہے ہیںان کا کہنا تھا کہ ہیاں آکر پشاور میں لوگوں سے ملنے والا پیار ہم کھبی ہیں بھلا سکیں گے، ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام مذہبی سیاحت کےلئے اقدمات کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے، حسب روایات پشاور کے دورے میں شامل سکھ یاتری امن و آشا کا پیغام لے کر جا ئینگے اور پوری دنیا کو پیغام ملے گا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادی محفوظ ہے ہم امید کر سکتے ہیں دورہ پشاور میں شامل سکھ یا تری پشاور کے عوام کی مہمان نوازی اور پرامن شہر کی داستان اچھے الفاظ میں یاد کر ینگے

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

revival of phusto films

Arbaz+Jahangir+in+HaramKhor+2+copy

شہزاد ہ فہد ۔۔۔۔
نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی زور شور سے جاری ہے گزشتہ سال پشتو کی 11 رواں سال20 سے زائد فلمیں پشاور ، کو ئٹہ، کراچی ، اور بیر ون ملک میں بڑے پردوں پر پیش کی گئی۔ پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ کے بعد بہتر ی کی جانب گامزن ہے۔ پشتو فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہدایت کاروں اور پیش کاروں کے مطابق آئیندہ سال پشتو 21 سے زائدفلمیں پیش جائینگی ۔ 2014میں پیش کی جانے والی فلموں میںحرام خور‘زڑگیہ خوار شے‘داستان‘دہ بدمعاشانو بدمعاش‘جوارگر‘آزادی‘زہ یم ککے خان‘آئی مس یو‘زوے دہ بدعملہ‘تماشبین پیش کی گئی جبکہ رواں سال پشتو فلم ناوے دہ یوے شپے‘نشہ ‘ولی محبت کول گناہ دہ‘چرتہ خانان چرتہ ملنگان‘خریدار‘پختون پہ دبئی کے‘آئی لو یو ٹو‘خاندانی بدمعاش‘سرتیزبدمعاش‘مہ چیڑہ غریب یم‘داغ‘مئین خو لیونی وی‘بدنام‘اقرار‘ملنگ پہ دعا رنگ‘زوے دہ شرابی‘تیزاب‘زمہ جانان‘حیدرخان نے شائیقن کے دلوں میں جگہ بنائی ان میں بیشتر نے کامیابی حاصل کی جبکہ متعدد بزنس کرنے میں ناکام رہیں‘پشتو فلم انڈسٹری میں آنیوالے سال میں زیادہ سے زیادہ پشتو فلمیں ریلیز ہونے کی امید کی جارہی ہیں پشتو فلموں کے ہدایتکاروں میںقیصر صنوبر‘نادر خان‘لیاقت علی‘شاہد عثمان‘عابد نسیم‘منتظم شاہ‘ارباز خان‘فرمان عمرزئی اور دیگر شامل ہیں آنیوالے سال میں پشتو کی 21فلموں کی عکس بندی کی جارہی ہے جن میں بیشتر کی عکس بندی مکمل ہوچکی ہے اور وہ آنیوالے سال کے پہلے مہینوں میں نمائش کیلئے پیش کی جائینگی ان فلموں میں ارباز خان‘جہانگیر خان‘محمد حسین سواتے‘ببرک شاہ‘صوبیا خان‘آفرین‘سحر ملک‘عمران خان‘آصف خان اور شاہدخان مرکزی کردار ادا کرینگے پشتو فلموں پر زیادہ تر راج ارباز خان اور جہانگیر خان کا رہا ہے جبکہ شاہد خان کو بھی پسند کیا جاتا ہے ۔2016 میں پیش کی جانے والی فلموں میں ادلاد ، پڑانگ ،شہنشاہ، یو زل بیاہ راشہ ، زہ پا گل یم ، شرنگ ، عشق خانہ خراب ، خبرہ دہ عزت ، چرتہ عاشقان چرتہ ملنگان ، اقیبان ، کنگ خان ، لیونئے پختون ، پاگل ، دعوت ، باز او شاہ باز، یار پہ نشہ دے ، گل پانڑہ ، عاشقی ، محبت کار دہ لیونو ں دے ، زندان ، جشن ، ہیرونمبر ون اور دیگر سینما گھروں کی زینت بنیں گی ان میں بیشتر کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور امید کی جا تی ہے کہ آئیندہ سال کے پہلے مہنیوں میں پیش کی جا ئینگی ۔
Continue reading revival of phusto films