Tag Archives: films

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Advertisements

رضائی کلچر خیبر پختونخوا

پشاوررضائیاں بنانے کا کاروبار مندی کا شکار،کاریگر بے روزگار ہونے لگے
ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ،رضائیاں دیگر شہروں سمیت افغانستان ،ایران بھی بھیجی جاتی ہیں
سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگرپیشہ چھوڑ نے پر مجبور ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے،دکانداروں کی بات چیت

IMG_20171221_135438

شہزادہ فہد              

سردی سے بچاو کے لئے انسان مختلف قسم کے جتن کرتا آیا ہے ، گرمی ہو یا سردی انسان اپنی سہولت کےلئے تمام وسائل بروکار لاتا ہے ، ویسے توپاکستان موسم کے لحاظ سے ایک آئیڈیل ملک ہے، پاکستان میں آپ گرمی ،سردی، بہار اور خزاں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ،سردی کی آمد سے قبل ہی اس کی شدت سے محفوظ رہنے کےلئے انتظامات شروع کردیئے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں سردی تمام ملک کی نسبت زیادہ پڑتی ہے ،اسی لئے سردی کی شدت سے بچا و کےلئے صوبے بھر میں رضائی کااستعمال کیا جاتا ہے، سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی رضائیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کے دن بھی پھر جاتے ہیں ، ڈبگری شاہ قبول میں واقع بازار میں رضائیوں کے کاروبار سے منسلک 80 سے زائددکانیں موجود ہیں جہاں بنائی جانے والی رضائیاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دیگر ممالک جن میں افغانستان ، ایران شامل ہیں بھیجی جاتی ہیں ، مقامی دکانداروں کے مطابق سردی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ملاکنڈ ، ہزارہ ، کشمیر اور قبائلی ایجنسیوں میں رضائی کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے ،دکانداروں کا کہنا ہے کہ صر ف سردی میں رضائی کا کام ہو نے سے بیشتر کاریگر یہ پیشہ چھوڑ نے پر مجبور ہیں ، آئندہ چند سالوں میںرضائی بنانے کے کاریگر نہ ہونے کے برابر ہو نگے جبکہ رضائیوں کے کاروبار سے وابسطہ افراد بھی نہ ہونے کے برابر ہو نگے، ان کا کہنا تھا کہ اس پیشے سے وابسطہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنے سے جہاں بے روزگاری میں کمی واقع ہو گی وہاں قدیم کلچر کا تخفظ اور دنیا بھرمیں تشہیر میں ممکن ہو سکے گی ۔

رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ
دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے 100روپے فی رضائی کے حساب سے اجرت دیتے ہیں
پشاور میں رضائی کے کاروبار سے بڑی تعداد میں خواتین بھی وابسطہ ہیں ، شاہ قبول بازار میں رضائی فروخت کر نے والے دکاندار خواتین کو سلائی کےلئے روزانہ کی بنیاد پر کام دیتے ہیں ، پشاور کے نواحی و مضافاتی علاقوں میں خواتین فی رضائی 100 روپے وصول کرتی ہیں ، دکانداروں کے مطابق ایک خاتون دن میں دو سے تین رضائیوں کی سلائی کر تی ہے ،

کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی
کمبل کا استعمال بڑھنے سے رضائی کی مانگ میں کمی واقع ہو ئی ہے ، جدیدزمانے میں جہاں فیشن اور نت نئے انداز سے کلچر پر یلغار کی ہے وہاں رضائی کلچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ، خریداروں کے مطابق رضائی ایک پرانا فیشن ہے جو کہ نئی نسل کو قابل قبول نہیں ہے دوسری جانب خواتین بھی رضائی پر کمبل کو ترجیح دیتی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کمبل کی دھلائی رضائی کی نسبت زیادہ آسان ہوتی ہے۔

شادی بیاہ وتقریبات کے لئے رضائی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں
پشاور سمیت صوبے بھرمیں رضائی کرائے پر دینے کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے ، شادی بیاہ سمیت دیگر تقریبات مین رضائیاں کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں جوڈ بگریی بازار میں باآسانی دستیاب ہو تی ہیں، ایک رضائی 50 روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ پر دی جاتی ہے،علاج معالجے کےلئے دیگر اضلاع سے پشاور آنے والے افراد کےلئے ہسپتالوں کے سامنے بستر اور رضائیاں کرائے پر فراہم کی جاتی ہیں جو کہ پیشگی رقم اور شناختی کارڈ کی ضمانت پر دی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول
خیبر پختونخوا میں ہاتھ سے بنائی جانے والی رضائی ملک بھر میں مقبول ہیں، دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا کی رضائی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے ،نرخ میں کم اور پائیدار رضائی کی مانگ دیگر صوبوںمیں بھی زیادہ ہے ، دیگر صوبوں میں پولسٹر کی رضائی جو کہ قیمت میں زیادہ لیکن کم پائیدار ہوتی ہے جس کے مدمقابل کالی اور سفید روئی سے بنائی جانے والی رضائی شہری زیادہ پسند کر تے ہیں،مشین کی نسبت ہاتھ کی سلائی بھی اس کی مانگ میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔

استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی سے بھی رضائیاں بنائی جانے لگیں
مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے جبکہ سفید روئی 40 روپے میں دستیاب
رضائی بنانے میں استعمال ہونے والی قدرتی روئی کی جگہ استعمال شدہ کپڑوں سے بنائی گئی روئی نے لے لی ہے ، قدرتی روئی جو کہ قیمت میں زیادہ ہو تی ہے جس سے بنائی جانے والی رضائی مہنگی فروخت ہو تی ہے،تاہم اس کی جگہ کپڑوں سے بنائی جانے والے روئی نے لے لی ہے،عام مار کیٹ میں پولسٹر 120 روپے کلو فروخت ہو تا ہے جبکہ مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنائی جانے والی روئی 20 روپے کلو جبکہ سفید کپڑوں سے بنائی روئی 40 روپے میں دستیاب ہو تی ہے ، پولسٹر سے بنائی جانے والی رضائی 1 ہزار ، کالی روئی سے بنائی جانی والی رضائی 4 سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے ، شاہ قبول میں کپڑ ے سے روئی بنانے کی 10 سے زائد مشینیں لگائی گئی ہیں ۔

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

Pushto Film review 2016

شہزادہ فہد ۔

2016ء پشتو فلم انڈسٹری بحران کا شکار رہی ‘صرف گیارہ فلمیں ریلیز ہوئیں
گزشتہ سال سنیما انڈسٹری شدید بحران سے دوچار رہی ‘ پشتو فلم کا بزنس صرف عید تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ سنیما کلچر کا خاتمہ مالکان شدید پریشان
پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پاکستانی فلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم بہترین معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ،

نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی جاری ہے پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ سے بحران کا شکا ر ہے، سینما کلچر میں کمی اور فلم سنسر بورڈ نہ ہو نے سے فلمی صنعت سے وابسطہ افراد دیگر کا روبارکےلئے سرگرداں ہیں ، پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پشتوفلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ، فلمی صنعت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی زوال پذیر ی کی بڑی وجہ نئے ڈائریکٹرز،پروڈیوسرز،کہانی نویس ،سرمایہ کاروںسمیت نئے چہروں کے نہ آنے اورجدیدٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل نہ کرناہے،جب کہ فلمیں بنانے کے حوالے سے ہی تیس سالہ پرانی سوچ اپنائی جاتی ہے، اسی طرح حکومتی سردمہری بھی فلم انڈسٹری کی تباہی کی ایک وجہ بھی ہے، موجودہ دورمیں پشتو فلم انڈسٹری نے اس صنعت کوسہارادے رکھاہے،گزشتہ پندرہ سال سے پشتو فلم انڈسٹری ترقی کی جانب گامزن ہے یایوں بھی کہا جاسکتاہے کہ پوری فلم انڈسٹری کوپشتوفلموں نے سہارادے رکھاہے جس کے دم قدم سے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے گرم ہیں، لیکن گزشتہ سال کی صورت حال نے پشتو فلموں کے ہدایت کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ،سال میں چندایک فلمیں انڈسٹری ہٹ ہو تی ہیں ،اگر یہی حالات رہے اور ہدایت کار ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کردھرے بیٹھ گئے توپشتو فلم انڈسٹری کا نام ونشان مٹنے کے ساتھ سینکڑوں خاندان بھی فاقے کرنے پر مجبورہوجاہیں گے،یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتو فلموں کے شائقین چاروں صوبوں کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان سمیت دنیاکے کونے کونے میں موجودہیںاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد پشتو فلموں کی منتظر ہو تی ہے ،2016ءپشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا ثابت ہوا سال بھر میں گیارہ پشتو فلمیں سنیماﺅں کی زینت بنیں گزشتہ سال پشتو فلم انڈسٹری کیلئے بحران کا سال ثابت ہوا او ر سنیما انڈسٹری زوال پذیر رہی گزشتہ سال پشتو فلموںکے معروف ہدایتکار ارشد خان کی تین پشتو فلمیں لیونئی پختون ،راجہ اور بدمعاشی بہ منے ،نوجوان ہدایتکار شاہد عثمان کی تین فلمیں جشن ،گندہ گیری نہ منم اور غلام ،ہدایتکار حاجی نادر خان کی دو پشتو فلمیں محبت کار د لیونئی دے ،خیر دے یار پہ نشہ کے دے ،ہدایتکار اور لکھاری امجد نوید کی ایک پشتو فلم نادان اور نوجوان ہدایتکار سید منتظم شاہ کی پشتو فلم زہ پاگل یم اور ہدایتکار ولکھاری سعید تہکالے کی ایک پشتو فلم بدمعاشی نہ منم ریلیز ہوئی تاہم 2016ءپشتو فلموں او ر انڈسٹری کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور پشتو فلمیں شدید بحران کا شکار رہیں‘ سنیما انڈسٹری زوال کی طرف گامزن ہوئی ‘پشتو فلموں کے معروف ڈائریکٹر ارشد خان ،شاہد عثمان نے بتایا کہ گزشتہ سال پشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا سال ثابت ہوا اور سنیما انڈسٹری مزید زوال پذیر ہے اور فلموں کا بزنس صرف عید تک محدود ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ فلموں کا بزنس صرف پشاور میں رہ گیا ہے صوبے کے دیگر اضلاع میں سنیما نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سینماہال کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے بصورت دیگر رہی سہی پشتو فلم انڈسٹری بھی بندہوجائے گی اور سنیما مالکان اپنے سنیماﺅں کو شاپنگ مالز میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ،صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں۔