Tag Archives: google

The 200th birthday of Sir Syed Ahmed Khan, celebration in India, Pakistan’s weird

شہزاد ہ فہد

سر سید احمد خان کی200 ویں سالگرہ ، انڈیا میں جشن ، پاکستانی غافل

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو کی سالگرہ پر صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا

انڈیا مین گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں متعدد تقاریب منعقد کی گئیں، تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کا بیان پاکستاں میں صرف تاریخ کی درسی کتابوں میں کیا جاتا ہے

متقی خان المعروف سر سید 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ،ڈائریکٹر ایچ ای آراے ڈاکٹر خالد

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو سر سید احمد خان کی پیدائش کے 200 سال پورے ہو گئے ہیں ، خیبر پختونخوا اور فاٹامیں تعلیم ادارو ں سمیت دیگر سرکاری ادارے عظیم شخصیت کی 2 سوویں یوم پیدائش سے بے خبر رہے ، صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا ، عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کے لئے انڈیا میں جشن منایا گیا ، گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا ، تاہم خیبر پختونخوا میں یکجہتی اور تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کو صرف درسی کتابوں اور نصاب تک محدود رکھا گیا ہے،تقسیم ہند میں مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے اور تعلیم و ترقی میں قوم کی رہنمائی کر نے والے مسلمانوں کے قومی ہیرو سر سید احمد خان کا 200سو واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے ، سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہو ئے تھے ،سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظری عملیت کے حامل اور فلسفی تھے، سر سید احمد خان ایک نبیل گھرانے میں پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان نے قرآن اور سائنس کی تعلیم مغل دربار میں ہی حاصل کی جس کے بعد انہیں وکالت کی اعزازی ڈگری یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے عطا کی گئی، بغاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اسباب بغاوب ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں رعایائے ہندوستان کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا، سرسید احمد خان نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا،سر سید احمد خان کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،انہوں نے دیگر مسلم رہنماو¿ں بشمول محمد اقبال اور محمد علی جناح کو بھی متاثر کیا، سر سید احمد خان کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگی کی رویت ڈالی، پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں،خیبر پختونخوا بشمول فاٹا میں عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کےلئے سرکاری سطح پر کو ئی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ،اس حوالے سے سپیشل سیکرٹری اینڈ چیئرمین ایچ ای آر اے ڈاکٹر خالد خان نے روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ تعلیم کا لفظ زبان پر آتے ہی پہلا نام سر سید احمد خان کا آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ چندروز بعد محکمے کے زیر اہتمام سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ۔sir syed ahmad khan 2

Advertisements

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔

 

پانی کا عالمی دن: معاشرہ کی بےحسی

khana badosh basti (2)رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد

دنیا بھر میں 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منا یا جاتا ہے، خیبر پختونخوا سیمت ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے تقاریب منعقد کی جا تی ہیں تاہم صوبائی دارلحکومت پشاور میں رنگ روڈ پر ایسی دنیا آباد جو کہ حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے رہنما سے اوجھل ہے ، رنگ روڈ پر 70 سے زائد خیموں میں آباد سیکڑوں خانہ بدوش صاف پانی کی بو ند بو ند کو ترس رہے ہیں ، شائد ان کا قصور یہ ہے کہ ان کے ووٹ نہیں ہیں ، رنگ روڈ پر واقع بے نظیر ہسپتال کی اراضی میں مقیم پنجاب اور بلوچستا ن کے خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ،بجلی پانی اور گیس جیسی ضروریات نہ ہونے پر انھیں کو ئی ملال نہیں لیکن انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی عدم دستیابی پر یہ لوگ حکومت اداروں اور سیاسی جماعتوں سے نالاں نظر آتے ہیں ، یہاں رہنے والے ایک خانہ بدوش افضل کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد خاندان کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ چھ سوسے زائد افراد یہاں آباد ہیں جن میں پنجاب کے علاقہ ملتان کے خانہ بندوش اور بلوچستان کے خانہ بدوش موجود ہیں ،جو کہ بنیادی سہولت سے محروم ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوشوں پاکستان شہری ہیں ان میں بیشتر افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہے لیکن شائد ان کو نظر انداز اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کا ووٹ انداج نہیں ہوا ،حکومت کی جانب بنیادی سہولیات فراہم ہر شہری کا حق ہے ، ہمارا معاشرہ اتنا بے حسی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے یہاں صرف مفادات کی خاطر کام کئے جا تے ہیں ،پانی کی قدر ان لوگوں سے کو ئی پوچھے ،صوبائی دارلحکومت میں جہاں دیگر مسائل سے شہری پریشان ہیں وہاں دیگر علاقوں میں بھی پینے کے صاف پا نی کے گو ںنا گوں مسائل حل ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے، سرکا ری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میںغیر رجسٹرڈ67 ہزار سے زائد ا فراد کا لے یرقان میں مبتلا ہیں اور لاکھوں افراد پیٹ کی بیماریوں اور دیگر بیما ریوں بھی مبتلا ہیں،ماہرین ِ طب کے مطابق یرقان اور پیٹ کی بیما ریاں گندا پا نی پینے سے لا حق ہو تی ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کے آتے ہی شہری سہولیات کےلئے محکمہ بنایا گیاتاہم بیشتر علاقوںمیں شہریوں کو پینے کا صاف پا نی میسر نہ ہو سکا ، دو دن بعد پا نی کے عالی دن کے موقع پر پشاور میں این جی او اور دیگر اداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر تقاریب کے انعقاد کیا جا ئے جو کہ اخبارات اور ایکٹرانک میڈیا کی حد تک رہے گا، رنگ روڈ پر قائم سیکٹروں خانہ بدوش اس دن بھی پینے کے صاف پانی کے منتظر رہیں گے کہ شائد کو ئی تو ان کی آواز سن لے ۔

خانہ بدوش بستی میں پانی روپوں پر فروخت ہوتا ہے
پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے کہ زمین کی طر ح دیگر سیاروں میں پانی کے اثارات کی موجود گی پر دنیا بھر کے سائنس دان اس سیارے پر زندگی کا وجود تلاش کرنے لگتے ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوش بستی میں جہاں حکومتی سطح پر پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے وہاں چند افراد نے دور دراز علاقوں سے پلاسٹک گیلن اور چھوٹے کین میں پانی لا کر فروخت کرتے ہیں ، بڑا گیلن 25 روپے جبکہ چھو ٹا15 روپے میں فورخت کیا جاتا ہے جس سے خانہ بدوش روپوں کے عوض پانی خرید نے پر مجبور ہیں، بستی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے یہاں مقیم ہیں ، حکومت کی جانب سے چند ہیندپمپ لگانے سے سیکڑوں افراد کو پانی میسر ہو جا ئے گا

One year of Amry Public school

شہزادہ فہد۔۔۔
16دسمبر2014کوپشاورکے آرمی پبلک سکول پردہشت گردحملہ میںاپنے پیاروںکوکھویایہ سانحہ محض دہشت گردی کی واردات نہیںبلکہ ایک طرف یہ معصوم بچوںپرظلم وبربریت کادل دہلادینے والاانسانیت سوزواقعہ تھاجس میںسب سے زیادہ متاثروہ مائیںتھیںجنہوںنے16دسمبرکی صبح اپنے جگرکے ٹکڑوںکوتیارکراکے ان کے ماتھے چھوم کراس امیداورمعمول کے ساتھ سکول روانہ کیاکہ وہ اس درس گاہ میںدن گزارکرسہ پہرمیںگھروںکوپہنچیںگے بچوںکی سکول روانگی کے بعدیہ مائیںگھرکے دوسرے کام کاج کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کے پسندیدہ کھانوںکے بارے میںبھی سوچتی رہی ہوںگی لیکن گھنٹہ ڈیڑھ ہی میںیہ خبران پرقیامت کی طرح ٹوٹ پڑی کہ سکول جانے والے ان کے معصوم پھول بارودکی آگ میںجھلس رہے ہیںاورپھریہ مائیںسب کچھ چھوڑکرپشاورکے ورسک روڈکی جانب دیوانہ واردوڑپڑیںجہاںواقع آرمی پبلک سکول میںگھس آنے والے حملہ آورمعصوم بچوںکونشانہ بنارہے تھے آج ایک سال گزرنے پران عظیم ماﺅںکوتحسین کاخراج پیش کیاجارہاہے بچوںکے ساتھ ساتھ ان کی کئی بہادراستانیاںبھی اس بے رحمانہ حملہ میںشہیدہوئیںجن میںآرمی پبلک سکول کی کلاس ہشتم کی ٹیچر سحرافشاںبھی شامل تھیںسحرافشاںکی والدہ شمیم اخترنے اپنی شہیدبیٹی کاذکر شروع کیاتوان کی آنکھیںپرنم ہوئیںانہوںنے بتایاکہ اپنے شوہرکی وفات کے بعدانہوںنے اپنے بچوںکی بہترین پرورش اورتربیت کی حتی المقدورکوششیںکیںاوراپنے بچوںکوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے پرخصوصی توجہ دی یہی وجہ تھی کہ ماسٹرزکرنے کے بعدان کی صاحبزادی سحرافشاںنے بحیثیت ٹیچرآرمی پبلک سکول سے وابستگی اختیارکی کیونکہ وہ حصول تعلیم اورعلم پھیلانے سے خصوصی شغف رکھتی تھیںاوراس کااندازہ سے امرسے لگایاجاسکتاہے کہ وہ آرمی پبلک سکول میںپڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت کومزیدبہتربنانے کیلئے ایم فل کررہی تھیںبچوںکوپڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے اوربھی کئی ارمان تھے جن میںایک فریضہ حج کی ادائیگی کاارمان بھی شامل تھالیکن قسمت نے انہیںمہلت نہ دی اوروہ اپنے یہ ارمان دل میںلے کردنیاسے رخصت ہوئیں16دسمبرکو اپنے معمول کے مطابق سحرافشاںعلی الصبح بیدارہوئیںاورناشتہ کرکے ڈیوٹی کیلئے روانہ ہوئیںتقریباڈیڑھ گھنٹہ بعدہی ان کے بھائی فوادگل نے ٹیلی فون کیاکہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پرحملہ کردیاہے چونکہ سحرافشاںبھی وہاںپرموجودتھیںتواپنی بیٹی کیلئے ان کی پریشانی لازمی اورقابل فہم امرتھالیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سکول میںموجودسینکڑوںبچوںاوردیگراساتذہ وتدریسی عملہ کی حفاظت وہ خیریت کیلئے بھی دعاگورہیںاورتقریبا7گھنٹے تک اپنی زندگی کی شدیدترین اذیت سے گزرنے کے بعدتقریباپانچ بجے انہیںاطلاع ملی کہ سحرافشاںشہیدکاجسدخاکی کمبائنڈملٹری ہسپتال پشاورپہنچادیاگیاہے جس کے بعدفوادگل ہسپتال جاکروہاںسے سحرافشاںکاجسدخاکی لے کرآئے اپنے آنسوﺅںسے پرنم آنکھوںکے ساتھ شمیم اخترنے کہاکہ جس پھول سی پیاری بیٹی کوانہوںنے صبح ڈیوٹی کیلئے رخصت کیاتھاانہیںبے جان حالت میںدیکھنے پران پرجوگزری وہ ان کیلئے ناقابل بیان ہے اپنی بیٹی کےلئے ان کے بہت سے ارمان تھے لیکن جس طرح سحرافشاںشہیدایم فل کرنے، فریضہ حج اداکرنے اوردیگرارمانوںکواپنے دل میںلئے دوسرے جہاںسدھارگئیںاسی طرح اپنی بیٹی کیلئے میرے یہ ارمان بھی میرے دل ہی میںرہ گئے ہیںسحرافشاںان کیلئے پوری کائنات تھیںوہ بہت رحم دل ،ملنساراورہنس مکھ تھیںضرورت مندوںکی مددکرنے سے دریغ نہیںکرتیںاسی طرح سکول میںدن بھرکی محنت کے بعدوہ ان کے ساتھ گھرکے کاموںمیںہاتھ بٹاتی،خصوصاسوداسلف خریدنے (شاپنگ کرنے)میںخاص دلچسپی لیتیںاور16دسمبرکوبھی انہوںنے ڈیوٹی سے واپس آنے پرمیرے ہمراہ بازارجاکرخریداری کرنے کاپروگرام بنایاتھالیکن قدرت نے ان کیلئے کوئی اورہی پروگرام سوچ رکھاتھامیری سحرافشاں16دسمبرکوسکول سے واپس آئیںلیکن اپنے پیروںکی بجائے تابوت میںلائی گئیںان کی باتیںآج بھی انہیںیادآتی ہیںپشاورکے معروف رہائشی علاقہ گل بہارکالونی کی باہمت فرح ناز16دسمبرکے سانحہ میںشہیدہونے والے آرمی پبلک سکول کی کلاس نہم کے طالبعلم 15سالہ عزیراحمدکی والدہ ہیںعزم اوراستقامت کی علامت فرح نازکے مطابق ان کالخت جگرعزیراحمدپہلی کلاس سے آرمی پبلک سکول میںداخل کرایاگیاتھاکیونکہ یہ سکول آرمی کے زیر انتظام چل رہا ہے اور یہاں سے پڑھنے والے والے تمام بچے دوسرے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت ذیادہ ذہین اور شاطر ہوتے ہیں یہاں سے میٹرک پاس کرکے عزیز احمد کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےلئے امریکہ بھیجنا تھا لیکن دہشت گردوں نے عزیر اور اس کے والدین کے تمام خوابوں کو مٹی میں دفنا دیا شہید عزیز احمد پوزیشن ہولڈر تھا اور اسے اپنی کتابیں اور کاپیاں بہت پسند تھی وہ کسی کو بھی اپنی کتاب یا کاپی نہیں دیتا تھا 16دسمبر2014کو پیش آنے والے سانحہ کے بعد شہید عزیر احمد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی کتابیں ، کاپیاںاور بستہ وغیرہ سکول سے لا کر اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ اس کا بیٹاکسی کو اپنی کتابیں نہیں دیتا تھا اسی سانحہ میں شہید ہونے والے والے جماعت نہم کے طالب علم احمد الہیٰ کی والدہ سمیرا صدیقی نے بتایا کہ وہ آرمی گرلز کالج میں ٹیچر ہے اور اس کے دو بیٹے ایک احمد الہیٰ جو 16دسمبر کو دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہوگیا جبکہ دوسرا اسی سکول میں اولیول میں پڑھتا ہے انہوں نے بتایا کہ وہ خود اسی سکول میں ٹیچر ہے تو اس وجہ سے اس نے اپنے شہید بیٹے کو بھی آرمی پبلک سکول میں داخل کرایا کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا وہ بچپن ہی سے ذہین تھا اور خطاطی کرنے کا بے حدبہت شوق تھا جب بھی فارغ بیٹھتاتوقرآن کے آیات لکھتاتھااحمدالہی نے دوسپارے حفظ کئے ہوئے تھے جبکہ اسے اذان دینے کابھی بہت شوق تھاسمیراصدیقی کے مطابق ان کا بیٹاعصراورمغرب کی اذان بھی دیتاتھا16دسمبرکومیںڈیوٹی دینے کیلئے اپنے دونوںبیٹوںکے ہمراہ گھرسے نکلی تھی احمدالہی کوسکول میںچھوڑنے کے بعدمیںاپنے سکول چلی گئی اورتقریبا10بجے کے قریب کورہیڈکوارٹرسے ہمارے کالج میںفون ہواکہ آرمی پبلک سکول پرحملہ ہواہے ہم سمجھے کہ شاہدچھوٹاساحملہ ہوگاہماری افواج اسے پسپاکردیںگے لیکن جب بعدمیںہمیںاپنے رشتہ داروںکی جانب سے ٹیلی فون کالیںآناشروع ہوئی توہمیںمعاملہ سنگین معلوم ہوااورمیں اپنے سکول سے نکل کر بیٹے کے سکول کی جانب جانے لگی توراستہ میںڈیفنس پارک میںسینکڑوںزخمی بچوںکولٹایاگیا تھاوہاںدیکھاتومیرا بیٹا ان میںنہیںتھاجس کے بعدمیںسی ایم ایچ روانہ ہوگئی لیکن وہاںکسی کواندرنہیں چھوڑا جارہا تھاجہاں 3 گھنٹے انتظارکرنے کے بعد سپیکر پرآوازدی گئی کہ شہیداحمدالہی کے والدین نعش وصول کرنے آجائیںیہ اعلان سنتے ہی ہم پرآسمان ٹوٹ پڑا16دسمبر 2014کوآرمی پبلک سکول ورسک روڈپشاورپرہونے والے دہشت گردحملہ کے چندشہداءکی ماﺅںپرگزرنے والے قیامت کی مختصر داستانیںہیںوگرنہ اس روزپیش آنے والے سانحہ نے جہاںپشاورکے سینکڑوںگھروںمیںصفت ماتم بچھاڈالی وہاںاس ظلم وبربریت کانشانہ بننے والے شہداءکے ماﺅںکی عظیم قربانیوںکاہی نتیجہ اورثمرہے کہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان پرمسلط دہشت گردی کے آسیب جس نے 50ہزارسے زائدپاکستانیوںکی جانیںلیں،قومی معیشت کو100ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچایااورتعلیم ،ثقافت سمیت ہرشعبہ زندگی میںتباہی و بربادی برپاکی اس آسیب کے بارے میںمنتشرالخیال پاکستانی قوم پہلی مرتبہ یکسو،یک جان اوریک آوازہوگئی ۔