Tag Archives: govt

پانی کا عالمی دن: معاشرہ کی بےحسی

khana badosh basti (2)رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد

دنیا بھر میں 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منا یا جاتا ہے، خیبر پختونخوا سیمت ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے تقاریب منعقد کی جا تی ہیں تاہم صوبائی دارلحکومت پشاور میں رنگ روڈ پر ایسی دنیا آباد جو کہ حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے رہنما سے اوجھل ہے ، رنگ روڈ پر 70 سے زائد خیموں میں آباد سیکڑوں خانہ بدوش صاف پانی کی بو ند بو ند کو ترس رہے ہیں ، شائد ان کا قصور یہ ہے کہ ان کے ووٹ نہیں ہیں ، رنگ روڈ پر واقع بے نظیر ہسپتال کی اراضی میں مقیم پنجاب اور بلوچستا ن کے خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ،بجلی پانی اور گیس جیسی ضروریات نہ ہونے پر انھیں کو ئی ملال نہیں لیکن انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی عدم دستیابی پر یہ لوگ حکومت اداروں اور سیاسی جماعتوں سے نالاں نظر آتے ہیں ، یہاں رہنے والے ایک خانہ بدوش افضل کا کہنا ہے کہ 70 سے زائد خاندان کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ چھ سوسے زائد افراد یہاں آباد ہیں جن میں پنجاب کے علاقہ ملتان کے خانہ بندوش اور بلوچستان کے خانہ بدوش موجود ہیں ،جو کہ بنیادی سہولت سے محروم ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوشوں پاکستان شہری ہیں ان میں بیشتر افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہے لیکن شائد ان کو نظر انداز اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کا ووٹ انداج نہیں ہوا ،حکومت کی جانب بنیادی سہولیات فراہم ہر شہری کا حق ہے ، ہمارا معاشرہ اتنا بے حسی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے یہاں صرف مفادات کی خاطر کام کئے جا تے ہیں ،پانی کی قدر ان لوگوں سے کو ئی پوچھے ،صوبائی دارلحکومت میں جہاں دیگر مسائل سے شہری پریشان ہیں وہاں دیگر علاقوں میں بھی پینے کے صاف پا نی کے گو ںنا گوں مسائل حل ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے، سرکا ری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میںغیر رجسٹرڈ67 ہزار سے زائد ا فراد کا لے یرقان میں مبتلا ہیں اور لاکھوں افراد پیٹ کی بیماریوں اور دیگر بیما ریوں بھی مبتلا ہیں،ماہرین ِ طب کے مطابق یرقان اور پیٹ کی بیما ریاں گندا پا نی پینے سے لا حق ہو تی ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کے آتے ہی شہری سہولیات کےلئے محکمہ بنایا گیاتاہم بیشتر علاقوںمیں شہریوں کو پینے کا صاف پا نی میسر نہ ہو سکا ، دو دن بعد پا نی کے عالی دن کے موقع پر پشاور میں این جی او اور دیگر اداروں کی جانب سے مختلف مقامات پر تقاریب کے انعقاد کیا جا ئے جو کہ اخبارات اور ایکٹرانک میڈیا کی حد تک رہے گا، رنگ روڈ پر قائم سیکٹروں خانہ بدوش اس دن بھی پینے کے صاف پانی کے منتظر رہیں گے کہ شائد کو ئی تو ان کی آواز سن لے ۔

خانہ بدوش بستی میں پانی روپوں پر فروخت ہوتا ہے
پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے کہ زمین کی طر ح دیگر سیاروں میں پانی کے اثارات کی موجود گی پر دنیا بھر کے سائنس دان اس سیارے پر زندگی کا وجود تلاش کرنے لگتے ہیں ، رنگ روڈ پر قائم خانہ بدوش بستی میں جہاں حکومتی سطح پر پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے وہاں چند افراد نے دور دراز علاقوں سے پلاسٹک گیلن اور چھوٹے کین میں پانی لا کر فروخت کرتے ہیں ، بڑا گیلن 25 روپے جبکہ چھو ٹا15 روپے میں فورخت کیا جاتا ہے جس سے خانہ بدوش روپوں کے عوض پانی خرید نے پر مجبور ہیں، بستی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے یہاں مقیم ہیں ، حکومت کی جانب سے چند ہیندپمپ لگانے سے سیکڑوں افراد کو پانی میسر ہو جا ئے گا

Egg Daliy Consumption In Peshawar

 شہزادہ فہد

موسم سرما کے آتے ہی صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں انڈوں کے استعمال میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہو جا تا ہے، ایک اندازے کے مطابق پشاور کے شہری 2 لاکھ آٹھاسی ہزار سے زائد انڈے روزانہ کے حساب سے کھا تے ہیں، پرچون ڈیلروں کے مطابق پنجاب اور دیگر صوبو ں سے یومیہ 800 پیٹی انڈے پشاور لا ئے جا تے ہیں ، فی پیٹی میں 30 درجن انڈے ہو تے ہیں، اسی طرح لو کل علاقوں سے دیسی انڈے کثیر تعداد میں فروخت کےلئے لا ئے جا تے ہیں، پشاور انڈوں کے کا روبار سے منسلک افراد نے سروے میں بتایا کہ شاور میں پنجاب کے علاقہ کمالیہ ، سمندری اور ملحقہ علاقوں میں پولڑی فارمز سے روزانہ مخصوص گا ڑیوں میں پرچون دکانداروں کے پاس انڈے لا ئے جا تے ہیں جہاں سیل مینز انڈوں کو پورے پشاور میں سپلا ئی کر تے ہیں، ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ غذائیت سے بھرپور غذاء کھانے سے انسان کو وٹامن اے، وٹامن بی، کیلشیم، فاسفورس اور فولاد میسرہوتے ہیں ،بے پناہ غذائی صلاحیت کے باعث انڈا دنیا بھر میں ایک عرصے سے ناشتے کا لازمی جز قرار دیا جا رہا ہے، انڈا بہت سے دلچسپ طریقوں سے تیارکیا جا سکتا ہے لیکن اسے جس طریقے سے بھی کھایا جائے یہ ایک صحت بخش غذا کا لازمی حصہ ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈا ضروری غذائی اجزاءکا ایک گودام ہے، کچھ لوگ انڈے کی بھرپورغذائیت کی وجہ سے اپنا وزن بڑھنے کے ڈرسے اسے کھانے سے کتراتے ہیں، اس حوالے سے ڈائر یکٹر لا ئیو سٹاک پشاور ڈاکٹر معصوم شاہ کا کہنا ہے کہ ایک یا دو انڈے روزانہ کھانے سے وزن پر کو ئی اثر نہیں پڑھتا ، ایک انڈا تقریباً 80 کیلوریز اور5 گرام چکنائی پر مشتمل ہوتاہے، انڈے کی زردی انتہائی صحت بخش حصہ ہے ،انڈے کی 100 گرام زردی میں 1.33 گرام کولیسٹرول ہوتا ہے اس کے علاوہ انڈے میں وٹامن اے، وٹامن بی، کیلشیم، فاسفورس اورفولاد ہوتا ہے، انڈ ے کی سفیدی بھی کسی سے کم نہیں ہے اس میں ربوفلیون اور وٹامن بی ٹو موجود ہوتا ہے، یہ نشوونما، توانائی پیدا کرنے اور انسان کے بہت سے افعال کو درست رکھتا ہے، انڈا کمزور جسم اور بچوں کےلئے انتہائی مفید غذاءہے

انڈوں کی اقسام اور صوبے میں مرغی بانی کا کلچر:
انڈوں کی مختلف اقسام ہیں یہ گرام کے حساب سے فروخت کئے جا تے ہیں ، ان کی اقسام میں سنگل ، جمبو ، نارمل، سٹینڈر اور ڈبل زردی کے انڈے ما رکیٹ میں فروخت کئے جا رہے ہیں ، پنجاب لا ئے جانے والے انڈوں کی ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں چیک کیا جاتا ہے ، پولڑی فارمز میںانڈے کے معیار کو مرغیوں کی غذاءاور بیماریوں کے مطابق جانچ پرتال کے بعد فروخت کیا جا تا ہے، صوبائی دارلحکومت پشاو رمیں مر غی بانی کی صعنت کلچر کا حصہ ہے دیہات میں مرغیوں کی افزائش ایک پرانی روایت کے طور پر کی جا تی ہے، پشاور میں مرغی بانی کے حوالے سے درجنوں دکانیں مو جود ہیں جہاں ان کی افزائش کےلئے اودیات فروخت کی جا تی ہیں جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں پولڑی کی صعنت کے فروغ کےلئے سرکاری سطح پر پولڑی فارم موجود ہیں

پرغذائیت خوراک جدید تحقیق:
غذا میں پالک اور انڈے کی زردی کے استعمال کو زیادہ کرکے درمیانی عمر میں یاداشت کو اچھا رکھنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے ،یہ غذائیں عمر کے ساتھ آنکھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتی ہیں، یہ بات غیر ملکی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، تحقیق کے مطابق ان غذاو¾ں میں پائے جانے والا جز لیوٹین چیزوں اور معلومات کو بہتر طریقے سے یاد رکھنے میں مدد فراہم کر تے ہیں جو کئی برس پہلے سے ذہن میں ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ جز دماغ کو تحریک دیتا ہے اور اس حصے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو یاداشت کو کنٹرول کرتا ہے،اس تحقیق کے دوران 65 سے 75 سال کی عمر کے 122 افراد کا جائزہ لیا گیا،نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کے نمونے میں لیوٹین کی مقدار زیادہ ہوئی وہ یاداشت کے ٹیسٹ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔تحقیق کے مطابق لیوٹین سے بھرپور غذائیں دماغی ساخت پر اثرانداز ہوتی ہیں اور مختلف دماغی حصوں کو ورم وغیرہ سے متاثر نہیں ہونے دیتی ،اس سے قبل مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لیوٹین سے بھرپور غذائیں بینائی میں کمی کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں،یہ غذائیں عمر کے ساتھ آنکھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتی ہیں،