Tag Archives: historical

Waistcoat (واسکٹ)

 شہزادہ فہد
فیشن کو ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی جو ڑا جاتا ہے لیکن اس دوڑ میں مرد بھی کسی سے کم نہیں ہیں بدلتے موسم میں جہاں نت نئے کپڑوں کی تیا ری کےلئے جتن کئے جا تے ہیں وہاں قدیم روایتی اورعزت ورتبے کی نشانی نئے زمانے کے فیشن میں اہم مقام رکھنے والی واسکٹ کی تیا ری کا خصو صی اہتمام بھی معمول بن چکا ہے، واسکٹ کو پختون معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے، خیبر پختونخوا کے کلچر میں واسکٹ لباس کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے ۔ نوجوان واسکٹ کو خوشی کے موقع پر پہنتے ہیں شادی بیا ہ کی تقریب واسکٹ دولہا اور اس کے قریبی دوست ایک رنگ کی واسکٹ سلوانے کا رواج بھی پروان چڑ رہا ہے،شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر واسکٹ نوجو ان اور بزرگوں کا پسندید ہ پہناوا قرار دیا جاسکتا ہے ، اسی لئے درزیوں کی جانب سے عید الفطر پر واسکٹ کی تیاری کےلئے رمضان کے مہینے میں ہی بکنگ بند کی جا تی ہے جس کی وجہ اس کی تیا ری میں کا فی وقت کا روکا ر ہو نا بتا یا گیا ہے ، واسکٹ کی پا نچ سے زائد اقسام ہیں جن میں گول گلہ ، کلا ٹی اور وی شیپ واسکٹ کا فی مقبول ہیں، خیبر پختونخوا کے کلچرو ثقافت میں واسکٹ کورعب و عزت کی نشانی سمجھا جا تا ہے ، واسکٹایسا پہناو ا ہے جو کہ گرمی اور سردی میںیکساں تن پوش کیا جا تا ہے ،گرمیوں میں ہلکے کپڑے جبکہ سردیوں کے موسم میں بھا ری کپڑے کی واسکٹ تیار کی جا تی ہے ،

 :واسکٹ کی تاریخ

This slideshow requires JavaScript.

کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ اس کی ابتداءایران سے ہو ئی اور یہ افغانستان سے ہو تی ہوئی پاکستان پہنچی۔ کنگ چارلس دوئم کی لیڈ ی کلر شخصیات نے 1666 عیسوی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا ، 1789 عیسوی میں فرانس کے صنعتی انقلاب آیا تو لو گوں کے پاس پیسہ زیادہ ہو نے لگا تو لوگوں نے واسکٹ کا استعمال شروع کر دیا ، 1800 عیسوی میں اس کے ڈیزائن میں تبدیلی رونما ہو ئی اور فٹنگ والی واسکٹ کا رواج شروع ہو ا ، 19 ویں صدی میں اس کا سائز مزید چھو ٹا ہو گیا۔

:قیمتوں میں اضافہ سے روایت میں کمی واقع ہو رہی ہے :
عید کےلئے واسکٹ کی سلا ئی نرخوں میں خو دساختہ اضافہ کیا جا تا ہے،عام دنوں میں سلا ئی کے با رہ سو روپے جبکہ عید کےلئے پندرہ سو سے اٹھا رہ سو روپے تک وصول کئے جا تے ہیں ۔ شہریوں کے مطابق سلائی میں خود ساختہ اضا فے کی وجہ سے وہ قدیم روایا تی لباس سے محروم ہو نے لگے ہیں نرخوں میں اضافے کے باعث شہری مارکیٹ میں تیار واسکٹ کو ترجیح دیتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں تیار واسکٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس پر شہریوں نے موقف اختیا رکیا ہے کہ سلا ئی اضافے اور درزیوں کی من مانیوں کی وجہ سے تیار واسکٹ بہترین متبادل قرار دی جا رہی ہے ، قصہ خوانی ، صدر ، خیبر بازار میں تیار واسکٹ فروخت کیا جا رہی ہیں جو کہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے تک فروخت ہو رہی ہیں ۔

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

Pigeon Shooting In Peshawar (پشاور میں کبوتر بازی)

سروے رپورٹ و تصاویر ، شہزادہ فہد

کبوترباز کبوتر پکڑنے اور کبوتروں کو پالنے والے کو کہا جا تا ہے، کبوتر بازی ایک مشغلہ ہنرکے ساتھ ساتھ ایک منافع بخش کاروباربھی بن چکا ہے، اس کے شوقین افراد کبوتروں کی افزائش اور نئی اور اعلٰی نسل کے لیے کبوتروں کی مخلوط نسلوں کا جوڑا بناتے ہیں کبوتروں کی نسلوں کے بارے یہی لوگ باآسانی اندازا لگا سکتے ہیں، ایک اندازنے کے مطابق دنیا بھر میں کبوتروں کی تقریبا289 سے زائد اقسام ہیں ،کبوتروں کی نسلوں کا فرق ان کی شکل و صورت کے ساتھ اڑان کا دورانیہ اڑان کی بلندی اور طوراطوار سے ظاہر ہوتاہے دنیا بھر میں کبوتروں کے مقابلے ہوتے ہیں جس میں بھاری جوا لگایا جاتا ہے، معاشرتی طور پر کبوتر بازی کو روپے اور وقت کا زیاع سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود تقریباً ہر محلے میں کبوتر باز موجود ہیں کبوتر بازی کا مرکز پاک ہند کو سمجھا جاتا ہے شعرا نے اپنے کلام میں کبوتر پر شعر لکھے ہیں عام طور پر شعروں میں کبوتر کا پیغام رساں اور قاصد پرندہ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔صوبا ئی دارلحکومت پشا ومیں سیکڑوں افراد کبوتر باز ی کے شوق میں مبتلا ہیں ، پشاور میں زیادہ تر پنجاب کے کبوتر پسند کئے جا تے ہیںاور نھیں لوکل کبوتروں پر ترجیح دی جا تی ہے ، اس حوالے سے روزنامہ ایکسپریس میں کبوتر بازی کے متعلق سروے میں مختلف علاقوں کے افراد سے معلومات لی گئی ہیں ، پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ لوکل کبوتر چند دن بعد اپنے مالک کے پاس واپس چلا جاتا ہے، پشاور میں سرگودھا ، فتح جنگ ، ملتان ، ڈی آئی خان ، خوشاب اور دیگر جگہوں سے کبوتر وں کو فروخت کےلئے لایا جاتا ہے ، ایک اندازے کے مطابق 200 کبوتر وں کی افزائش پر یومیہ تین سو روپے سے چار سو روپے تک خرچہ آتا ہے ،کبوتر بازی واحد مشغلہ ہے کہ جس میں کبوتر خود اپنا دانہ پانی پیدا کر تے ہیں ، ریس کے کبوتر ہر ہفتہ اپنے ساتھ کو ئی نیا کبوتر لاتے ہیں جس کو مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے،کبوتر بازی سے لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں آئے روز نا خشگوار واقعات نے اس مشغلے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے ، دیہی علاقوں میں کبوتربازی کا رجحان شہری علاقوں سے زیادہ پایا جاتا ہے

پشاور میں کبوتر بازی کی منڈیاں
صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کےلئے باقاعدہ منڈیاں لگائی جا تی ہیں ، پشاو رمیں فردوس پھا ٹک ، سیفن بڈھ بیر، با ڑہ اور رنگ روڈ پر جمعہ اور اتوار کے روز منڈیاں سجائی جا تی ہیں ، منڈیوں میں ہفتے بھر میں پکڑے جانے والے کبوتروں کو فروخت کےلئے لایا جا تا ہے ، منڈیوں میں جہاں کبوتر کی خرید فروخت کی جا تی ہے وہاں کبوتر بازی سے منسلک سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے ، ان میں کبوتر پکڑنے والا جال جو کہ لوکل افراد اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں یہ جال 250روپے تک فروخت کیا جاتا ہے اسی طرح کبوترو ں کے پاوں میں ڈالے جانے والے گھنگرو اور دیگر اشیاءکا بازار بھی لگایا جاتا ہے جس سے درجنوں افراد برسرروزگار ہیں

غیرملکی کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی
پشاو ر میں امریکی، جرمن ، اسرائیلی، ڈینش اور چائینہ کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی ہیں ، یورپی کبوتر 70 ہزارسے زائد تک جوڑا فروخت کیا جا رہا ہے ، پشاور کے کبوتر باز لوکل کبوتر پر یورپی کبوترو ں کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ خوبصورتی ، رنگت اور طویل اڑان بتائی جا تی ہے،پشاور میں امریکی ، جرمن ، ڈینش، اسرائیلی کبوتروں کی جو ڑی 70 ہزار روپے یا س سے زائد میں فروخت کی جا تی ہے جبکہ لوکل کبوترجن میں تو ر شیزای ، سبز چپ، تو رڈھنڈے مار، شیت رو، غورہ ، زرد جو گی ، لا ل جو گی ،سیاح چپ اور دیگر کی قیمتیں غیرملکی کبوتروں سے قدرے کم ہیں ، ان کی قیمت عام مارکیٹ میں 300 سے 500 تک بنائی جاتی ہے جبکہ ان میں خاص کبوتر کی قیمت10 ہزار تک بتائی جاتی ہے

کبوتر بازی کی تاریخ
کبوتر بازی کا شوق 700سال قبل شروع ہوا تھا بابر بادشاہ نے اس کی افتتاح کی بعد از اں وہ ایران اور ترکمانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ اپنے پالتو کبوتر بھی لے آئے یہ شوق اکبر بادشاہ کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور تقریباً ہر چھٹی کے روز اس کے باقائدہ مقابلے ہوتے تھے اور جو کبوترسب سے زیادہ دیر تک فذا میں رہتا اس کے مالک کو شاندار کھانے کھلائے جاتے اور اسے انعامات بھی دیئے جاتے، بادشاہوں نے اپنے کبوتروں کو ٹرینڈ کرنے کے لئے پیشہ وار ملازم بھی رکھے ہوئے تھے۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جاتے تھے اگر کوئی ٹرینی کبوتر کو زیادہ مہارت سکھاتا تو اس کا اسپیشل انعام رکھاجاتا،700سال قبل بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے تھے اور بادشاہ کے ساتھ وزراءدرباری اور دیگر لوگ بھی اس میں شرکت کرتے اور انہیں بھی موقع دیا جاتا کہ وہ کبوتر بازی دیکھیں،اس وقت کے مطابق بتایا جاتا رہاہے کہ یہ کھیل امیروں، نوابوں، مہاراجوں اور امیر لوگوں کا کھیل ہوا کرتا تھا،برصغیر میں آنے کے بعد اس شوق میں کبوتروں پر جواءلگایا جانے لگاkabotar-2

سہ ماہی نوکھی کبوتر ریس
کبوتروں کے شوقین افراد اپنے آپ کو مشغول رکھنے کے ساتھ اس پر بھا ری جوا بھی لگاتے ہیں ، پشاور کے مختلف مقامات پر کبوتروں کی ریس کا انعقاد کیا جا تا ہے ، ایک خاص مقام پر کبوتروں کو چھوڑا جاتا ہے اور سب سے پہلے گھر پہنچنے والا کبوتر فاتح قرار دیا ہے ، حاجی کیمپ کمبوہ میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کی جانب سے ایک انوکھی سہ ماہی ریس کا انعقاد کیا جاتا ہے ، راولپنڈی پیر ودائی اڈے سے کبوتر باز دو کبوتروں کو فضاءمیں چھو ڑ دیتے ہیں جس میں پہلے گھر پہنچنے والے کبوتر کے مالک کو رقم کے ساتھ ہا رنے والا شخص سفر کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے ، خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر کبوتر بازی کے مقابلوں کا انعقاد کرنے سے کبوتر باز ی کے میدان میں ایک صحت مندازنہ مقابلے کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے،

Mystical Singer Sain Zahoor in Peshawar

شہزادہ فہد ۔

This slideshow requires JavaScript.

صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی کے ساتھ صوف پوش (سادہ لباس) ہو اور نفسانی خواہو، صوفی موسیقی کا تعلق بھی صوفیاء کرام سے بتایا جاتا ہے جسے رومی ،بلھے شاہ اور امیر خسرو جیسے صوفی شاعروں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہے، قوالی صوفی موسیقی کی سب سے معروف صورت ہے جس کا تعلق برصغیر سے ہے، نیز یہ موسیقی ترکی،مراکش اور افغانستان جیسے ممالک میں وجود رکھتی ہے، پاکستان میں عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ، ان ہی میں سے ایک مقبول و معروف نام سائیں ظہور جو کہ پاکستان کے شہر اوکاڑہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکار ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے۔ 2006ءسے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا تاہم عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئے تھے، سائیں ان کا نام نہیں بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے ، سائیں ظہور ساہیوال ڈویژن کے ضلع اوکا ڑہ میں 1937ءمیں پیدا ہو ئے ، وہ اپنے گھرانے میں سب سے چھوٹے ہیں انھوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کردیا تھا ، دس سال کی عمر میں انھوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر دربار اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنالیا ، 2006 ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے منظر عام پر آیا ، 2007 ءمیں انھوں نے ایک پاکستانی فلم ’ ’ خدا کے لئے“گانا گایا جو بھی بے حد مقبول ہوا ، انھوں نے ایک برطانوی فلم” ویسٹ از ویسٹ “ کےلئے گانا گانے کے ساتھ ساتھ اس فلم میں اداکاری بھی کی، خیبر پختونخوا میں صوفی ازم سے لگاو رکھنے والے افراد کے لئے نشترہال پشاور میں محکمہ کلچر و ثقافت کے زیر اہتمام بین الاقومی شہرت یافتہ صو فی گلوکار سائیں ظہور کی شاندار روحانیت اور فقر پر مبنی کلام کے محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت وثقافت، آرکیالوجی ،میوزیم اور امور نوجوانان محمد طارق، ڈائریکٹر کلچر اجمل خان، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد، ایس ایس پی ٹریفک صادق بلوچ سمیت مختلف فیمیلز، خواتین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، تقریب میں کمپئرنگ کے فرائض معروف آرٹسٹ ارشد حسین اور نمرہ خان نے سر انجام دئیے،صوفی شاعر بابا بلے کے کلام کو آپنی جا دوئی آواز میں گانے پر محفل میں موجود افراد نے خوب سراہا ، دو گھنٹوں سے زائد کی پرفارمنس کے دوران گلوکار سائیں ظہور نے میرا عشق بھی توں، تیرے عشق نے نچایا چل چھیاں چھیاں ، لال میری اور دیگر صوفیانہ کلام پیش کئے ، بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار سائیں ظہور نے اس موقع پر کہا کہ پشاور آکر یہاں کے لوگوں کا پیار اور مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا جس کو ہمیشہ یاد رکھوں گا اور اگر موقع ملا زندگی میں تو دوبارہ بھی پشاور میں آکر پرفارم کرونگا ، انہوں نے کہاکہ اپنی زندگی میں زیادہ تر صوفیانہ کلام پیش کئے کیونکہ مجھے شروع سے صوفیانہ کلام سے لگاﺅ رہا ہے ،سیکرٹری کلچر و ٹوررازم طا رق خان کا کہنا تھا کہ سائیں ظہور کو پشاور بلانے اور یہاں پر پروگرام کے انعقاد کا مقصد صوبہ کی عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی صوبائی ثقافت کی رونمائی کرنا بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ پشاورمیں صوفی گلوکاری سے لگاو رکھنے والے سائیں ظہور کو پنجاب جا کر سن پاتے تھے یا پھر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھنا اور سننا نصیب ہوتا تھا ، سائیں ظہور کا شمار پاکستان بلکہ دنیا کے نامور موسیقارمیں کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں زیادہ ترصوفیانہ کلام پیش کئے اور 2006میں بی بی سی وائس آف ایئر کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا، سائیں ظہور کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اکاڑہ سے ہے انہوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کا آغاز کیا ، سائیں ظہور کی2گھنٹوں سے زائد براہ راست پرفارمنس پر شہری جھوم اٹھے ، خیبر پختونخوا میں صوفیانہ کلام کے فروغ کےلئے اٹھائے گئے پہلے قدم کے مثبت نتائج آنا شروع ہو جا ئینگے ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی گلوکار کی پشاور آمد سے عارفانہ کلام کے روجحان کو فروغ ملے گا ، پاکستان کے دیگر صوبوں کے حکام کو بلا تفریق عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو پروموٹ کرنے کے لئے اس قسم کی محافل کا انعقاد کرنا ہو گا

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

Religion Tourism

This slideshow requires JavaScript.

شہزادہ فہد

مذہبی سیاحت کافروغ
 تاریخ میں پہلی امریکی سیکھ برادری کا دورہ پشاور میوزیم

مذہبی ساحیت سیا حت کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے ، انسان کی دنیا میں آمد سے ہی مذہی سیاحت کا آغاز ہو ا اور انسان نے اپنی مذہبی مقدس مقامات کی طر ف پیش قدمی کی اسی وجہ سے مقدس مقامات کے حامل شہروں نے معاشی ترقی کی ہے ، پوری دنیا میں مذہبی سیا حت کے فروغ کےلئے مقدس مقامات پر زائرین کو متوجہ کر نے کےلئے اقداما ت کئے جا رہے ہیں جس سے کثیر رزمبادلہ حاصل ہورہا ہے، مذہبی سیاحت کو نہ صرف کسی خٓاص مقدس مقام کی زیارت کےلئے منفید قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ اسے انسانوں کے مابیبن دوستی اور ایک تفریح شکل کے طور پر ایک انسانی راہ میں اہمیت کے حامل کے سفر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ،خیبر پختونخوا قدیم مذاہب کا حامی علاقہ مانا جاتا ہے ، جس میں گندھارا ، ہندو ، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد رہائش پذیر رہے تھے جس کی اہم وجہ خیبر پاس قرار دیا گیا ہے، جو کہ سنٹرل ایشاءکا گیٹ وے تصور کیا جا تا ہے ، سیاحت کے زریعے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے صوبہ میں پہلی بار امریکہ سے آنےوالی سیکھ برادری کے وفدکیلئے دورہ پشاور میوزیم کا اہتمام کیا ، 30رکنی وفد کو پشاور میوزیم کے دورے کے موقع پر میوزیم میں موجود آرٹ ، آثار قدیمہ ، نوادرات اور دیگرقدیمی اشیاءکے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں دورہ میں 20 خواتین اور 10 مرد شامل تھے، 30رکنی وفد میں شامل یاتریوں میں حرجاپ سنگھ، جرنیل سنگھ، مدن جیت ، اوتار، دل جیت سنگھ، امریک ، شنگارا سنگھ، پرمندر کور، اوتر کور، گردیال، ستپال، جاسبر، سورندر ،پرمجید، مانجیت، حاردیپ، کشمیر کوراور دیگر شامل تھے ، سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل، آثارقدیمہ و امور نوجوانان طارق خان ، منیجنگ ڈائریکٹر مشتاق احمدخان نے زائرین کو خوش آمدید کہا ،دورے کے موقع پر تمام مہمانوں کو میوزیم اور صوبہ میں موجود مذہبی عبادت گاہوں ، آثار قدیمہ ، قیمتی نوادرات اور دیگر کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جنرل منیجر ٹوررسٹ انفارمیشن اینڈ ایونٹس محمد علی سید کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کا دورہ پشاور میوزیم کا مقصد خیبرپختونخوا میں موجود بدھ مت ،سیکھ کودواروں ، پارسیوں کی عبادت گاہیں اور دیگر مذہبی مقامات و عبادت گاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح و دیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے ان مذہبی مقامات کا رخ کرسکیں، انھوں نے بتا یا کہ خیبرپختونخوا کو مذہبی سیاحت کے لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں پر90 فیصد سیکھ برادری کی عبادت گاہیں ہیں ،سیکھ برادری کو ہمیشہ پشاور اور خیبرپختونخوا میں خوش آمدید کہیں گے اور یہاں بہترین استقبال کیا جا ئے گا ، انھوں نے بتا یا کہ امریکی نژاد سکھ یاتریوں کی جانب سے سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بانی بابا کورونانک کی 548 ویں جنم دن کی تقریبات کے حوالے پاکستان میں مذہبی دورے پر آئے تھے جنھوں نے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا سے پشاور کے دورہ کر نے کی درخواست کی تھی جس کو محکمے نے قبول کیا اور ان کے تمام تر انتظامات ترتیب دئیے گئے، میوزیم کے دورے کے موقع پر عام شہریوں نے بھی یاتریوں سے ملاقات کی اور مختلف مو ضعات پر تبادلہ خیال کیا، دورے کے موقع پر سکھ یا تریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ گرونانک کے 548ویں جنم دن کے موقع پر پشاور کا رخ کیا۔اس موقع پر وفد میں موجود خاتون نوودید اور دیگر سیکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ یہاں آکر ان آثار قدیمہ ، نوادرات ، مذہبی عبادت گاہوں اور دیگر کے بارے میں جان کر اور انہیں دیکھ کر اچھا لگا جہاں ایک وقت میں ہمارے بڑوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی ، ہمیں ہندوستان سے زیادہ یہاں پیار ملا اور تحائف دیئے گئے پشاور کے عوام میں آکر ایسا لگا جیسے اپنے ہی دیس میں آئے ہوں، ان کا کہنا تھا ہیاں آکر معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈ حقیقت اور حالات کے بلکل بر عکس ہیں، پاکستانی لو گ نہایت ملنسار ، خوش اخلاق ، امن پسند اور عاجز ی رکھنے والے لو گ ہیں ہم ہیاں آکر فخر اور سکون محسوس کر رہے ہیںان کا کہنا تھا کہ ہیاں آکر پشاور میں لوگوں سے ملنے والا پیار ہم کھبی ہیں بھلا سکیں گے، ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام مذہبی سیاحت کےلئے اقدمات کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے، حسب روایات پشاور کے دورے میں شامل سکھ یاتری امن و آشا کا پیغام لے کر جا ئینگے اور پوری دنیا کو پیغام ملے گا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادی محفوظ ہے ہم امید کر سکتے ہیں دورہ پشاور میں شامل سکھ یا تری پشاور کے عوام کی مہمان نوازی اور پرامن شہر کی داستان اچھے الفاظ میں یاد کر ینگے

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

wall city peshawar

رپورٹ و تصاویر
شہزادہ فہد

پشاور پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے اس کا شمار پاکستان کے بڑے شہروں میں ہو تا ہے ، وسطی جنونی اور مغربی ایشیاءکے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہو نے کی وجہ سے پشاور صدیوں سے افغانستا ن جنو بی ایشیاء، وسطی ایشیاءاور مشرق وسطی کے درمیان ایک مرکز کی حیثیت سے قائم چلا آرہا ہے ، محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے مطابق پشاور کو دنیا بھر میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ شہر ہر دور میں آباد چلا آ رہا ہے ،وید دیومالا میں پشاور اور آس پاس کے علاقے کو “پشکلاوتی” کے نام سے جانا جاتا ہے جو “رامائن” کے بادشاہ “بھارت” کے بیٹے “پشکل” کے نام سے منسوب ہے۔ تاہم اس بارے ابھی کوئی یقینی رائے موجود نہیں ہے مصدقہ تاریخ کے مطابق اس علاقے کا عمومی نام “پورش پورہ” (انسانوں کا شہر) تھا جو بگڑ کر پشاور بن گیا۔ دوسری صدی عیسوی میں مختصر عرصے کے لئے وسطی ایشیاءکے توچاری قبیلے “کشان” نے پشاور پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارلحکومت بنایا۔اس کے بعد 170 تا 159 ق م اس علاقے پر یونانی باختر بادشاہوں نے حکمرانی کی اور اس کے بعد مملکتِ یونانی ہندکے مختلف بادشاہ یہاں قابض ہوتے رہے۔ ایک تاریخ دان کے مطابق پشاور کی آبادی 100 عیسوی میں ایک لا کھ بیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور اس وقت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا 7واں بڑا شہر تھا۔ بعد میں پارتھی، ہند پارتھی، ایرانی اور پھر کشان حکمرانوں نے قبضہ کئے رکھا۔ 1812 میں پشاور پر افغانستان کا قبضہ ہوا لیکن جلد ہی اس پر سکھوں نے حملہ کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر کے یہاں کا دورہ کیا اور 1834 میں اسے سکھ ریاست میں شامل کر لیا ،2008 میں پاکستان میں سکھوں کی سب سے بڑی تعداد پشاور میں ہی آباد تھی،پشاور میں تاریخی دروازوں کی تعمیر سکھوں کے دور میں ہوئی تھی جب سکھوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پشاور کو مضبوط کیے بغیر وہ علاقے پر اپنا کنٹرول نہیں رکھ سکتے اور یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے دور میں پہلی بار پشاور کے اردگرد موجود مٹی کی بنی ہوئی فصیل کو پختہ کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پشاور کی دیوار پناہ میں دروازے موجود تھے لیکن سکھوں نے ان دروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا، حالیہ حکومت نے پشاور کے قدیم تاریخی فصیل کو محفوظ کر نے کےلئے ایک منصوبے منظور کیا جسے ”وال سٹی کا نام دیا گیا تاہم بد قسمتی سے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود منصوبے میں کو ئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی ،پشاورشہر میں سکھ دور میں تعمیر شدہ فصیل شہر کی بحالی کا منصوبہ ایک سال میں سروے بھی مکمل نہ ہو سکا گزشتہ سال 2015میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات خیبر پختونخوا کوفصیل شہر کی بحالی کے منصوبے کےلئے20ملین روپے منظور کئے گئے تھے تاہم ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پراجیکٹ سست روی کا شکا ر ہے، پشاور کی چار دیوار ی اور 16تاریخی دروازوں کی تزئےن و آرائش و حفاظت کےلئے بلیجیم یونیورسٹی کی مددد سے نئی وال سٹی تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا یا گیا تھا ، آرکیالوجی اینڈ میوزیمزحکام نے وال سٹی کو اتھارٹی میں تبدیل کر نے کا عندیہ دیا تھا تاہ

م ایک سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجواس ا نٹرنیشنل سطح کے پراجیکٹ پر کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا،رامداس بازار سے شروع ہونی قلعہ نما دیوار حکام کی خاموشی کے باعث اپنی اصل حالت کھورہی ہے جبکہ ٹھنڈ ا کھوئی گیٹ سے کچھ آگے دیوار کو گرا گیراج میں تبدیل کر دیا ہے اسے آگے کوہاٹی گیٹ تک دیوار کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا ، کوہاٹی گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پر پھر سے فصیل شہر اپنی اصل حالت میں موجود نظر آتی ہے تاہم مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس دیوار کو بھی جگہ جگہ سے توڑا جارہا ہے یہ دیوار کوہاٹی ٹیڈی گیٹ تک اپنی اصل حالات میں موجود ہے دیوار کے اوپر شہری رہائشیوں نے حفاظتی جنگلے بھی نصب کئے ہوئے ہیں ، یکہ توت گیٹ کے قریب بھی دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے ، یکہ توت سے نشتر آباد چوک تک یہ دیوار مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے، دیوار کو ختم کرکے گھر، مارکیٹ اور دوکانیں قائم کر دی گئی ہیں، حکومت کی جانب سے پراجیکٹ کو مکمل کرنے کےلئے کوالیفائےڈ اسٹاف بھرتی کیا گیا، تاہم کارکردگی صفر رہی ،پراجیکٹ کو بہتر انداز سے مکمل کرنے کےلئے پراجیکٹ میں کنزرویشن اسسٹنٹ، آرکیالوجسٹ ، آرکٹیکچر اور دیگر ماہرین کی پوسٹیں رکھی گئی تھیں جن پر گزشتہ سال سے ہی بھرتیاں مکمل کرلی گئی جبکہ لاہور وال اتھارٹی منصوبے میں کام کرنےوالے ایک افسر کو پراجیکٹ ڈائرےکٹر تعینات کیا گیا ہے جوکہ اس وقت محکمہ کلچرل خیبر پختونخوا کے مختلف پراجیکٹس میں بھی انتظامات چلا رہے ہیں ذرائع کے مطابق پراجیکٹ میں بھرتی ہونےوالے ملازمین کو بھاری تنخواہیں دی جارہی ہے لیکن پھر بھی کارکردگی صفر ہے ، ڈیفنس کالونی میں لاکھوں روپے ماہانہ پر ایک بنگلہ خرید کر پراجیکٹ آفس قائم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پراجیکٹ کا سارا عملہ تحصیل گورگٹھڑی میں موجود ہے جبکہ سرکاری رقم حاصل کر دہ بنگلہ بھوت بنگلے کا منظور پیش کر رہا ہے ،انٹرنیشنل سطح کے اس پراجیکٹ میں جہاں قدیم شہر پشاور کی اصل حالت میں آنے کے ساتھ غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر ے وہاں پشاور کے تاریخی ہنروں مثلاً تنکا سازی ، قراقلی، رباب بنانا وغیر ہ کے فن کو زندہ رکھنے کےلئے بھی بڑی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت پشاور کے شہریوں کو یہ قیمتی ہنر سکھایا جا رہا ہے جس کےلئے اس ہنر میں پشاور شہر کے ماہر استادوں کی خدمات حاصل کی گئی ہے جبکہ کام سیکھنے والے ہنر مندوں کو بھی ماہانہ وظیفہ دیا جائےگاکام سیکھنے کا دورانیہ چار ماہ تک ہو گا جس کے بعد شاگردوں کو تعریفی سرٹیکفیٹ دئےے جائےنگے ، وال سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کے فوکل پرسن نو از الدین صدیقی نے بتا یا کہ وال سٹی پراجیکٹ پر کام جا ری ہے ، انھوں نے بتا یا کہ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں فصیل شہر کے اطراف میں قائم پرانی آباد ی پر سروے کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں لسٹیں تیار کرکے زیا دہ متاثر مقامات پر فصیل شہر کی تعزین و آرائش کی جا ئے گی ، پراجیکٹ کےلئے کرایہ پر بنگلہ حاصل کر نے کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ مذکورہ جگہ پر پراجیکٹ ڈائر یکٹر کےلئے مختص کی گئی ہے جہاں پرا جیکٹ کے متعلق دستایز اور دیگر ضروری معمالات حل کئے جا تے ہیں جبکہ پراجیکٹ کا دیگر سٹاف گور گھٹری میں مو جود ہوتا ہے انھوں نے بتا یا کہ 3 سالوں کے اس پراجیکٹ میں پشاور کا نقشہ تبدیل ہو جا ئے گا ،چےئرمین تحریک انصاف عمران خان کی خصوصی دلچسپی کے باعث یہ بین الاقوامی سطح کا منصوبہ پشاور میں پیش کیا گیا تاہم ایک سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی، ڈائرےکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیمز خیبر پختونخوا ڈاکٹر عبد الصمد نے وال سٹی اتھارٹی کے نام سے آرگنائزیشن بنانے کا عند یہ بھی دیا تھا جو کہ ان گیٹس اور چار دیوار کی حفاظت ، تزئےن و آرائش و دیگر معاملات پر نظر رکھے گی دوسری جانب اس چار دیوار ی کے اندر موجود سیٹھی ہاﺅس ، دلیپ کمار ہاﺅس ، گھنٹہ گھر ، گورگٹھڑی پشاور اور دیگر مقامات کی تزئین و آرائش کا عہد بھی کیا گیا تھا جبکہ اس تاریخی چار دیواری کے اندر واکنگ ٹریک بھی تعمیر کیا جانا ہے جہاں گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی پشاور کی عوام اور تاجر برادری بھی شہر کے اندر واکنگ ٹریک اور شہر کی تزئین و آرائش چاہتی ہے جسکو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کو مزید خوبصورت بنایا جاسکتا ہے ، پشاور شہر میں برسوں سے قائم رہائشی گھروں، مارکیٹوں اور دوکانداروں کو ہٹانے کوئی آسان کام نہیں ہو گا کیونکہ یہ سب گزشتہ کئی دہائےوں سے یہاں پر بس رہے ہیں بعض گھروں کے رہائشیوں اورپلازہ مالکان کے مطابق اس وقت انکے پاس ان جگہوں کے انتقال اور رجسٹری کاغذات بھی موجود ہیں جس کے تحت انکے بزرگوں نے فصیل شہر میں قائم زمین خرید یں تھی اور وہ اسکا باقاعدہ سے ٹیکس بھی جمع کر وارہے ہیں واضح رہے کہ لاہور وال سٹی منصوبے کے دوران بھی وال سٹی کے عملے اور تاجروں کے دوران کئی جھڑپےں ہوئی جس میں کئی تاجر دوکاندار وں کو جانی و مالی نقصان ہو ا تھا، صوبائی حکومت کو بھی لاہور جیسے واقعات سے بچنے کےلئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو گیَپشاور کے باسیوںکا کہنا ہے کہ فصیل شہر کی بحالی اب کوئی آسان کام نہیں رہا شہر بھر میں فصیل کے اطراف میں نئی آبادیاں بنائی جا رہی ہیں جو کہ حکومت کےلئے چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں، حکومتی دلچسپی اور تحفظاتی اقدامات کے باعث اس تاریخی دیوار کواپنی اصل حالت میں بحال کیا جاسکتا ہے جوکہ وقت کی ضرورت ہے ۔

kp adopt culture

پشاور( رپورٹ و تصاویر ۔شہزادہ فہد )
خیبرپختو نخوا کے باسی شادی بیاہ کے دوران جہا ں اپنے اپنے ریت و رواج کے مطابق رسوما ت ادا کر تے ہیں وہا ں ایک ایسی رسم بھی ہے جو کہ ہر قوم و نسل کے

لوگوں میں یکساں پا ئی جا تی ہے ۔ شادی بیاد کے مواقع پر دولہے کو دوست و اقارب کی جانب سے سہرا پہنایاایک معمول ہے اس رسم 1971 میں جدت آئی جب خیبر پختو نخوا کے لو گوں نے پنجاب میں سہرا بندی کے دوران نو ٹوں سے مزئین ہار پہنا نے کا رواج اپنا یا ۔ اس نئی رسم نے خیبر پختو نخوا میں جلد ی مقبو لت اختیار کرلی ۔ نو ٹوں کے سہر ے میں آ تے ہی مقا می دکا نداروں نے نت نئے تجربات شروع کر دئیے 1990 میں خیبر پختونخوا کے جنو بی اضلاع سہرے میں گھڑیا ں کا رواج عام ہوا اور تا حال یہ رواج قائم ہے ۔ شادی بیا ہ کے تقاریب میں نو ٹوں کے سہروں کے رواج کو بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی نے ہضم کر لیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روپے ، دو روپے اور پانچ روپے کرنسی نو ٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی سہرا بند ی میں نو ٹوں کا رواج زوال پذیر ہو ا ۔ شہرے میں کرنسی نو ٹوں کی ضرورت ہو تی ہے اور حکومت کی جانب چھو ٹے کاغذی نو ٹوں کے خاتمے کے بعد دس روپے کے نوٹ سے سہرے بنانے میں کمی واقع ہو ئی ہے شہریوں کے مطابق مہگا ئی اور بے روزگا ری کی وجہ سے دس روپے والے سہروں کو خرید نے سے قاصر ہیں ۔ صوبے بھر میں قدیمی روایت نو ٹوں والے سہروں کی جگہ چا ئینہ ڈیکوریشن تحائف نے لے لی ہے شادی بیاہ میں نو ٹوں کے رواج کے ختم ہو نے ہی شہریوں اپنے دوستو ں ، رشتہ داروں کو نقدی یا ڈیکوریشن والے تحائف دینےلگےہیں ۔ نو ٹوں والے سہروں کی ما نگ میں کمی کے بعد دکا نداروں نے ڈیکوریشن تحائف کے ساتھ کپڑے والے سہروں کو متعارف کر وایا ہے یہنو ٹوں سہرے کی نسبت انتہا ئی کم قیمت پر فروخت کئے جا تے ہیں نو ٹوں والے سہروں کی قیمت 1500 سے شروع ہو تی ہے اور اپنی مرضی کے ہزارو ں روپے اس میں لگا سکتے ہیں جبکہ کپڑے والے سہرے 30 سے 90 روپوں کے درمیان فروخت کئے جا تے ہیں اسی لئے زیا دہ تر شہریوں قو ت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے والے سہروں کو ترجیح دیتے ہیں

سہروں میں ڈالر ، دینا ر، درہم لگا نے کا نیا رواج ۔۔
مہنگا ئی کی وجہ سے جہاں نو ٹوں والے سہروں کا رواج ختم ہو رہا ہے وہا ں بعض افراد سہرے میں پاکستانی کر نسی کے ساتھ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں کو سہرے میں لگا کر اپنے عزیزوں اور دستوں کو شادی بیاہ پر پہناتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے کرنسی نو ٹوں میں ڈالر ، دینا ر ، ریا ل ، درہم اور دیگر نو ٹوں کے سہرے دولہا کے عزیز، دوست و اقاراب شو آف کے طورپر پہنا نے کا نیا رواج قائم ہو رہا ہے
دکا ندروں کے مطابق دیگر کر نسی نو ٹوں کی مانگ میں اضا فہ ہو رہا ہے

تقسیم پاکستان سے قبل قصہ خوانی میں ” کو چہ گل فروشان “
خیبر پختو نخوا میں نو ٹوں والے سہروں کے رواج سے قبل پھو لو ں کا ہار پہنایا جا تا تھا پھولوں کے بار ے میں کہا جا تا ہے کہ یہ واحد چیز ہے جو غم اور خوشی میں انسان کے ساتھ ہو تی ہے ۔ شاد ی بیاہ میں دولہے دلہن کے گھروالوں کو پھو لو ں کے سہرے پہنانے کا رواج آج بھی قائم ہے ۔ تقسیم پاکستان نے قبل پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوا نی ایک مخصوص گلی جسے ”کو چہ گل فروشان “ کہتے تھے تا حال مو جود ہے پشاور کے دورے پر آنے والے سیا ح کو چہ گل فروشان ضرور دیکھتے لیکن شادی بیاہ میں شادی شادی ہا لوں کے رواج نے جہا ں بہت سے دیگر رسومات کو ختم کر دیا ہے وہا ں پھو لو ں کے کا روبار کر نے والے کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ پھو لو ں کے سہروں میں کمی کی وجہ سے زیا دہ تر دکا ندار یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں ۔ پھو لو ں کا شادی بیا ہ ، فریضہ حج کی ادئیگی کے ساتھ فوتگی کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مہگا ئی کی وجہ سے پھو لو ں کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ سہروں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور ابھی شادی بیا ہ کے موقع ہر شازر و نادر اس کا استعمال کیا جا تا ہے

پشاور میں تا حال پھولوں کے باغات ۔۔
پھو لو ں کا شہر کہلا نے والے پشاور شہر میں جہا ں باغات کی بھتا ت تھی وہا ں گلبر گ ، چارخانہ ، لنڈی ارباب میں کسان پھو لو ں کی کاشت کےلئے زمینیں اجا رہ پر لیتے تھے جو کہ ایک بڑ ی امد ن کا زریعہ ہو تا ہے۔ آباد ی میں اضافے کےساتھ پھو لو ں کے باغات کے خاتمے کے ساتھ اس کی کا شت بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ پشاور کے نو احی علا قوں بازید خیل ، شہا ب خیل ، شیخ محمدی میں تا حال پھو لو ں کے باغات قائم ہیں ان علا قو ں کا پھول پشاور سیمت پو رے صوبے میں سپلا ئی کیا جا تا ہے پشاور میں پھو لو ں کی منڈ ی رامداس بازار میں لگا ئی جا تی ہے ۔ مضا فاتی علاقوں میں کاشت کئے جا نے والے پھو لو ںمیں گلا ب کے پھول کے ساتھ گیندے کا پھول جس میں سفید اور زرد پھو ل ہو تا ہے ، اور شبو کا پھو ل قابل ذکر ہیں یہ پھو ل شادہ بیاہ اور فوتگی میں سہروں میں پیروئے جا تے ہیں اور یہاں کے پھول پو رے صو بے میں گل فروشوں کو بھجوائے جا تے ہیں