Tag Archives: khyber pukhtoon khwa

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Advertisements

Target Killing In Khyber Pukhtoon Khwa 9 Month Data 2017

خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 9ماہ مین 31 افراد کی ٹارگٹ کلنگ

عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ پشاور کے شہری،دوسرے نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے، پہلے تین ماہ صوبہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے بھاری رہے

ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں 90 ہوئیں،دستاویزات میں انکشاف

شہزادہ فہد

خییبر پختونخوامیں رواں سال کے نوماہ کے دوران 31 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پشاور کے شہریوں کی ہے جبکہ دوسری نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا،خیبر پختونخوا میں رواں سال کے نو ماہ کے دوران مختلف اضلا ع میں 31 افراد کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ 5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے ، دستاویز کے مطابق 2017ء کے جنوری،فروری،مارچ میں ٹارگٹ کلنگ کے14 واقعات رونما ہوئے ، رواں سال کے پہلے تین ماہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لحاظ سے بھاری رہے ، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبے بھر میں ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا،صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں ہوئیں 90 افراد کوقتل کیا گیا

target-killings

peshawar mei baghat

پھولوں اور باغات کاشہر پشاور صرف کتابوں میں باقی رہ گیا
آج سے چند سول سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی، زیادہ تر صفحہ ہستی سے مٹا دئےے گئے
، موجودہ نسلیں ایک درجن سے زائد باغوں کے ناموں اور تاریخ سے واقف ہی نہیں
حکومتی عدم تو جہی سے پشاور میں موجود چند با غ بھی اپنی حالت زار بیا ن کر رہے ہیںباغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے
پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے

پشاور (شہزادہ فہد)وادی پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کا محصور تھا یہاں کی ہوا اور موسم زیادہ تر معتدل رہتا ہے زمانہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں اسے ”پشاپورا“ کے نام سے پکارا گیا ہے جس کے معنی ہیں” پھولوں کا شہر “ پشاور باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کےلئے جانے جاتے تھے پشاور ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مسکن مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں اور جن کی ماضی میں کئی مرتبہ پذیرائی بھی کی جا چکی ہے پشاور شہر ، چھاﺅنی اور جامعہ پشاور میں درختوں اور سبزہ زاروں کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ اہلیان پشاور قدیم زمانے ہی سے باغبانی ، پارک بنانے اور سبزہ زاہ لگانے کے بے حد شوقین ہی نہ تھے بلکہ اُنکی حفاظت کے معاملے میں کافی باشعوربھی تھے جسکی وجہ سے بعض صدیوں پرانے باغات آج بھی موجود ہیںجبکہ ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے چند سو سال قبل وادی پشاور میں پھولوں ، درختوں اور باغوں کی بہار تھی اس کے اردگرد قدرتی جنگل واقع تھے جس میں شہنشاہ بابر نے گینڈوں کا شکار اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پشاور کے یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے اردگرد نہ وہ قدرتی جنگل ہیں اور نہ ہی اس کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخ باغات، رفتہ رفتہ سب کچھ مٹ گیا ہماری موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال، جونی اور بہار کیسی تھی نہ صرف بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی غالب اکثر واقف نہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں ان میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراﺅنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئےر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیںبڑھتی ہوئی آباد ی کے باعث پشاورکے موجودہ باغات کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے باغات بارے حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث مستقبل قریب شاید پشاور کے باسیوں کو موجودہ باغات اور پارکوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، پشاور وہ شہر ہے جے اس کے حسن کی بدولت ثمر قند و بخارا سے تشببیہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے مگر ہم نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے اسکو اجاڑ دیا ہے پشاور کے باغوں اور سبزہ زاروں کو اُجاڑنے میں سیاسی اور انتظامی شخصیات ہی شریک نہیں رہیں بلکہ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں پیش پیش رہے ماضی قریب میں اند رو ن شہر مسجد نمکمنڈی کی جگہ ایک بہت بڑا پارک تھا یہ پارک اور اسکے ساتھ لائبریری بجوڑی گیٹ ، ڈبگری گیٹ ، سرکی گیٹ اور اس سے ملحقہ محلوں کے لوگوں کےلئے آسودگی اور تفریح کا باعث تھا روزانہ لائبریری میں سینکڑوں افراد مطالعہ کرتے اور پارک میں چہل قدمی کرتے مگر ہمارے مذہبی رہنماﺅں کو یہ بات پسند نہ آئی پاک، لائبریری اور اسکے ساتھ چھوٹی مسجد کو راتوں رات ایک بڑی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اہلیان پشاور پر یہ ظلم عظیم تھا کیونکہ اس مسجد سے ایک کمند کے فاصلے پر نمکمنڈی کی جامع مسجد اور کشمیری مسجد یہاں تک کہ ہر گلی ہر محلے میں ایک مسجد واقع تھی

fahadصو با ئی دالحکومت پشاور میں جہا ں باغات ختم ہو رہے ہیں اور شہریو ں کو شہری تفریحی کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں وہا ں رہی سہی کسر پارکوں کے انٹری ٹکٹوں اور نا مناسب سہولیات نے پو ری کر دی ہے پشاور شہر میں واقع پا رک انتظامیہ کی غفلت کے ویرانی کی صورت پیش کر رہے ہیں۔ پارک میں خود ساختہ ریٹ مقرر ہو نے سے شہری پارک میں جانے سے کترانے لگے۔انٹری ٹکٹ ، جھولے اور پا رکنگ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہے ۔اہلیان پشاور نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ شہر کے باسیوں کو تفریح کے موثر مواقع فراہم کئے جائےنگے