Tag Archives: media

Nadra Mega Center Peshawar

شہزادہ فہد

وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے پشاور میں بنائے جانے والا پہلا نادرہ میگا سنٹر میں کرائے کی عمارت قائم کیا گیا ، پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی عمارت پرتعزین و آرائش کی مد میں 15 کروڑ روپے پھونک دئیے گئے ، سنٹر کے قیام کے بعد قریبی 4 ناردہ سنٹر بند کئے جا ئینگے ، شہری نئے شناختی کارڈ کے حصول کےلئے سنٹر میں نارمل سمارٹ قومی شناختی کارڈ کی بجائے ایگزیکٹو کارڈ کی فیس ادا کر ینگے ، سنٹر میں ارجنٹ پارسپورٹ کی فیس بھی نارمل سے زیادہ وصول کی جائیگی ، نادرہ غریب شہریوں کو سہولیات ختم کر کے امرءکو سہولیات دینے پر عمل پیرا ہو گیا ، خیبر پختونخوا میں پہلے نادرہ میگا سنٹر کے قیام بغیر منصوبہ بندی کئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے ، تہکال میں نادرہ میگا سنٹر کےلئے پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی بلڈنگ کی تعزین و آرائش پر 15 کروڑ روپے خرچ کر دئیے گئے ہیں ، جبکہ سنٹر کے لئے منتخب عمارت کا لاکھوں رپوں ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے گا ، میگا سنٹر کے قیام کے بعد کوہاٹ روڈ ، ڈینز پلازہ ، ابدارہ روڈ اور کینٹ فاٹا میں قائم نادرہ دفاتر ختم کئے جا ئینگے ، چار سنٹرز کی بندش پر پشاور کے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہو نگے ، نواحی و مضافاتی علاقوں کے شہری ،کوہا ٹ روڈ ، پشاور کینٹ ،اور فاٹا کے رہائشی شناختی کارڈ کے حصول کےلئے یونیورسٹی روڈ کے چکر کاٹیں گے، واضح رہے کہ نادرہ دفاترمیں ہرامیر و غریب سے سمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 400 کی بجائے8 سو اور 16 سو روپے وصول کئے جا رہے ہیں، کارڈ گم ہو نے کی صورت میں بھی 16 سو روپے وصول کئے جاتے ہیں، نادرہ وفاقی محکمہ ہو نے کی وجہ سے اہلکاروں کی من مانیاں عروج پر ہیں جبکہ فیس اور سہولیات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،

 

Advertisements

Interest Rate Rise In Khyber Pukhtoonkhwa (خیبر پختونخوامیں سود خوری)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون ہونے کے باوجود صوبے میں سود خوری عروج پر پہنچ گئی ، سودخوروں نے قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نئے حربے ایجاد کر لئے،

شہزادہ فہد ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سود کے خلاف قانون کارآمدثابت نہ ہوسکا ، سود خوروں نے قانون کومات دینے او ر پولیس کی گرفت سے بچنے کےلئے نیا حربہ اپنا لیا ، قرضہ دیتے مجموعی رقم میں سود شامل کرکے کاغذئی کاروائی کی جانے لگی ہے، قرضے کے حصول کےلئے مجبور شخص ا سٹاپ پر دستخط کرکے سودخوروں کو محفوظ بنا دیتے ہیں ، پولیس حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،2016ءمیں خیبر پختونخوا اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور کے مختلف تھانوں میں 92 افراد کے خلاف سود ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے گئے جن میں 60 افراد گرفتار ہو چکے ہیں ،تھانہ بڈھ بیر میں سب سے زیادہ سودخوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ گلبہار دوسرے نمبر پر رہا ،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے،سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی،مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکے گی ،اسی طرح عدالت فریقین کے مابین کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی،بل کے تحت اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی نہیں کریگا،عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی ، دوسری جانب سودخوروں نے قانون کی گرفت سے بچنے کےلئے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے ، قرضے کی رقم میں سود شامل کرکے مجموعی رقم کا معاہدہ کرنے پر قانون کے شکنجے سے محفوظ ہونے لگے ، 2016 ءخیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور پولیس نے 92 افراد کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جن میں 72 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ، صوبائی دارلحکومت پشاو رکے 30 تھانوں میں سب سے زیادہ 22 مقدمات بڈھ بیرمیں درج کئے گئے ، اسی طرح دوسرے نمبر پر گلبہار میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے مھترا میں 8 ،یونیورسٹی میں 6، گلبرگ،خرانہ اور پشتخرہ میں 4/4 مقدمات جبکہ شاہ قبول، بھانہ ماڑی، پھندو، اور داود زئی میں 3/3 مقدمات درج کئے گئے ہیں ، تھانہ خان رزاق ،فقیر آباد،پہاڑی پورہ،شرقی، حیات آباد،تاتارہ،ریگی ماڈل ٹاون، چمکنی میں کو ئی مقدمہ درج نہ کیا جاسکا ہے ۔

 

Woman Harassment In Khyber Pukhtoonkhwa

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں خواتین کو کام کے جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے محتسب موجود نہ ہو نے سے صوبے بھر میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015سے ابتک مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں 500سے زائد خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور صحت سے کیسز رجسٹرد ہوئے صرف پشاور یونیورسٹی سے300سے زائد خواتین نے ہراسمنٹ کے کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والی محتسب کی نشست گزشتہ سات سالوں سے خالی ہے، ایکٹ کے مطابق ہر ادارے میں ہراساں کئے جانے کے خلاف کمیٹی لازمی قرار دی گئی جس میں ایک خاتون کی نمائندگی بھی ضرروی ہے تاہم صوبے بھر میں سرکاری و نجی اداروں میں کمیٹی کا تصور ہی نہیں ہے، تھانہ کلچر کی وجہ سے ہراساں کی جانے والی خواتین پولیس کو رپورٹ درج کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں ، مارچ 2010 میں وفاقی حکومت نے کام کے جگہوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کارروائی کے بل کو منظور کیا تھا جس کے بعد سے وفاق، پنجاب اور سندھ میں محتسب کو مقرر کیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں محتسب موجود نہیں ہے، سزا کا عمل تیز نہ ہونے سے صوبے بھر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز نہ روز اضافہ ہورہا ہے ،اور واقعہ میں ملوث ملزموں کوشہہ مل رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سات سال قبل خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے لیے بنائی گئی ایکٹ (ہراسمنٹ آف وومن آن ورک پلیس ) میں کام کرنے کی جگہ خواتین کو ہراساں کے جرم ثابت ہونے پر3سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،تعزیرات پاکستان سیکشن509تحت بھی خواتین اپنی ہراسمنٹ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرسکتی لیکن تھانہ کلچر کی وجہ سے اکثر خواتین اس اذیت ناک صورت حال کی بجائے خاموشی کو بہتر سمجھتی ہیں، ایکٹ کے مطابق کہ ہر نجی اور سرکاری اداروں تین رکنی کمیٹی ہوگی جس میں خواتین کی نمائیندگی ضروری ہوگی جو کہ کسی بھی شکایات کے ازالہ کرنے کے لیے کام کریگی جبکہ اس قانو ن کے تحت ادارے ضابطہ اخلاق بنانے کے بھی پابند ہیں لیکن ابھی تک کسی ادارے مین ضابطہ اخلاق اس حوالے سے نہیں بنائے گئے ۔ ان مرحلوں سے گزر کرایک لڑکی 509کے تحت ایف آئی آر درج کرسکتی ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس حوالے کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے جو کہ اس صوبے کے خواتین کے ساتھ نا انصافی ہے ، خیبر پختونخوا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کام کر نی والی نجی فلاحی تنظیم کی چئیر پرسن خورشید بانو کا کہنا تھا کہ کہ خیبر پختون خوا میں سالانہ 2 سے 3سو خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں صرف پشاور یونیورسٹی سے 300سے زائد کیسز موصول ہوئے لیکن محتسب نہ ہونے کے باعث وہ کیسز خراب ہوجاتے ہیں اور کسی کو سزا نہ ملنے کے باعث ایسے مردوں کو شہہ ملتی ہے، انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ نشست سات سال سے خالی ہونے کے خلاف رٹ بھی کررکھی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ویلفیر کے مطابق بجٹ ،عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہے لیکن پھر بھی صوبائی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جو کہ اس صوبے کے اُن خواتین کے ساتھ ظلم ہے جو کام کے دوران جنسی ہراساں کے شکار ہوجاتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے واقعات کے خلاف کسی کو سزا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہے اور دوسری جانب ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

Police Stations in FATA

شہزادہ فہد

فاٹا اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کےلئے عملی سطح پر تیاریاں روز و شور سے کی جا رہی ہیں ، تمام ایجنسیوں کے پولٹیکل ایجنٹس کو اپنی اپنی ضروریات کے مطابق تھانوں کی تعداد اور علاقوں کا تعین کر نے کی ہدایات جا ری کر دی گئیں ہیں ، پولیٹکل ایجنٹس نے اپنی ایجنسیوں کے عمائدین کو اعتماد میں لے لیا ہے ، قبائلی علاقوں میں تھانوں کے قیام کا آغاز فرنٹیر ریجن( ایف آرز) سے کیا جائے گا، خیبر پختونخوا کی 7 ایجنسیوں میں تھانے قائم ہو نگے جس کے لئے ابتدائی طور پرپولیس کی نفری خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مہیا کی جائے گی ، ایجنسیوں میں تعینات خاصہ دار فورس اور لیویز کو پولیس ٹرینگ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ قابلیت اور معیار پر پورا نہ ہونے والے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو ممکنہ طور پر ہینڈ شیک دیا جائے گا ، اس سے قبل پشاورکے بندوبستی اورفاٹا کی باﺅنڈری پر 31 راکٹ اور بلٹ پروف چوکیاں قائم کی جا چکی ہیں، متنی، اصحاب بابا ، ریگی للمہ، جالہ بیلہ ، شاغلی، مچنی گیٹ اور پشاور سے ملحقہ دیگر علاقوں میں چوکیوں میں ابتدائی طور چیک پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں،ان میں سے ہر چوکی پر 32 اہلکاوں پر مشتمل پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے کیا جا ئے گا ،پولیس حکام کے مطابق مذکورہ چوکیوں کے قیام سے شرپسندوں کے انٹری پوائنٹ سمیت ان کے چور راستے بند ہو جا ئینگے اور پشاور کی سیکورٹی میں مزید بہتری آئے گی ،پولیس چیکنگ پوائنٹ سے اسلحہ و بارود کی سپلائی کی روک تھام میںبھی مدد ملے گی اورآنے والے وقتوں میں پولیس کےلئے کا رآمد ثابت ہو نگی ،فاٹا کی تمام ایجنسیوں بشمول ایف آر ز تک تھانہ کلچر منتقل کرنے کےلئے سروے مکمل کیا جا چکا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحصیل جمرود کو ایک آفیشل لیٹر بھی موصول ہوا تھا جس میں خیبرایجنسی کے انتظامیہ سے پولیس سٹیشنز بنانے کیلئے ایجنسی میں جگہ منتخب اور اعداد شمار دینے کا کہا گیا ہے

پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے ایجنسی میں مجوزہ 76پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے لیے سیکرٹری لائاینڈ آرڈرکو خط

خیبر پختونخوامیں فاٹا انضمام کے اثرات ظاہرہوتے ہی پولٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے سیکرٹری لا ءکو ایجنسی میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خط ارسال کردیا جس کے مطابق ایجنسی میں 76پولیس اسٹیشنز قائم کئے جاسکتے ہیں،خط کے مطابق تحصیل سرویکئی میں 9پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ لدھا میں 22پولیس اسٹیشن قائم کئے جاسکتے ہیں اسی طر ح خط میں وانا تحصیل میں 45پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہیں، پولٹیکل انتظامیہ کے خط کے مطابق ان پولیس اسٹیشنز میں نو ہزار 160پولیس عملہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔

 

Third Death anniversary of Army Public School Tragedy (Story of a Teacher)

تحریر :شہزادہ فہد

دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

ننھی پری خولہ کے والد کا حوصلہ بلند
بیٹی کھونے اور پسلیاں ٹوٹنے کے باوجود استاد اے پی ایس سے منسلک رہے

بابا یہ لوگ بچوں کو کیوں ماررہے ہیں، شہید ننھی پری خولہ کا آخری سوال

ستمبر2014ء میں آرمی پبلک سکول میں تعینات ہونے والے پروفیسر الطاف کی اکلوتی بیٹی سانحہ کے دن اپنے بھائی اور بابا کے ساتھ سکول آئی تھی

ننھی پری خولہ اپنے بابا کے ساتھ کلاس میں پہنچی ہی تھی کہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا،تین گولیاں سینے میں لگیں اوربابا کے سینے سے لپٹے ہوئے شہید ہوگئی

سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ، پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلہ افراد تعلیم کے دشمن اور بچوں کے قاتلوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے

بابا یہ” گولیاں کیوں “چل رہی ہیں، یہ ”کو ن لوگ ہیں“ یہ ”  بچوں کو کیوں مار رہے ہیں“ ،ں سوالوں کے جواب کی منتظر بچی باپ کی توجہ اس کے گولیوں سے چھلنی سینے کی جانب دلاتے ہوئے کہتی ہے کہ بابا آپ کا ”خون“ نکل رہا ہے، اس کے ساتھ ہی اس ننھی پھول جیسی بچی کی آواز بند ہو جاتی ہے، یہ پروفسیر الطاف کی کانوں میں گونجنے والی وہ آواز ہے جو سانحہ آرمی پبلک سکول میں ہمیشہ کیلئے خاموش کردی گئی، سانحہ اے پی ایس کے دوران یہ ننھی بچی سکول میں اپنے پہلے ہی دن سفاک قاتلوں کی درندگی کانشانہ بنی اور اپنے بابا کے سینے سے لپٹی ننھی پری خولہ شہادت کے رتبہ پرفائز ہوگئی، پروفیسر الطاف کا تعلق بالاکو ٹ کی ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے ، ایم اے انگلش اور ایم اے اسلامیات کے بعد بالا کوٹ کے ایک نجی کالج میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ستمبر2014ء میں انہیں پشاور آرمی پبلک سکول سے فون کال آتی ہے جس میں انہیں سکول میں پڑھانے کی آفر دی جا تی ہے ، پروفیسر الطاف اپنے عزیروں واقارب سے مشورے کے بعد پشاور منتقل ہو جا تے ہیں،16 دسمبر 2014ءکا سورج طلوع ہوتا ہے ، معمول کے مطابق پروفسیر الطاف سکول جانے کی تیاری میں مصروف ہو جا تے ہیں ان کا بیٹا یونیفارم پہن کر سکول جانے کےلئے تیار کھڑا ہے اس دوران اکلوتی بیٹی خولہ اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ سکول جانے کی ضد کر تی ہے،بیٹی کے اسرار پر والد حامی بھر لیتے ہیں ، راستے میں بیٹی اپنے والد کو کہتی ہے کہ آج میں اپنے بھائی کے ساتھ سکول جاتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہی ہوں، پروفسیر الطاف جب سکول پہنچے تو اپنی بیٹی کو پرنسپل کے کمرے میں لے گئے جہاں پرنسپل سے مختصر تعارف کے بعد بچی کو سکول میں داخلے کی اجازت مل جاتی ہے، پرنسپل کے آفس سے نکل کر وہ کلاسزلینے چلے گئے اور بچی سے کہا کہ بیٹا کہ پرنسپل سے بات ہوگئی ہے آپ کل سے باقاعدہ یونیفارم میں آکر اپنی کلاس جوائن کرلوگی یہی باتیں کرتا وہ کلاس روم پہنچا اور کچھ ہی لمحوں کے بعد ایک زوردار دھماکہ کی آواز آتی ہے جب وہ بالکنی سے جھانکا تو مسلح افراد اوپر آرہے ہوتے ہیں جس پرپروفیسر نے کمرہ کادروازہ بند کرتے ہوئے بچوں کوزمین پرلیٹ جانے کیلئے کہا جبکہ اپنی بچی خولہ کوبھی اپنی آغوش میں لے لیا،دہشت گرد کمرے کا دروازہ توڑ کر اند ر داخل ہو تے ہی پروفیسر الطاف پرگولیوں کی بو چھاڑ کر دیتے ہیں جن میں تین گولیاں ان کے جسم کو چیرتی ہو ئی ان کی بچی کے جسم میں پیوست ہو جا تی ہیں ، پروفیسر الطاف کو ہو ش آتا ان کے زبان پر بے ساختہ خولہ کا نام آتا ہے وہ بد حواس ہو کر اپنی بچی کےلئے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا جسم زخموں سے چور چور ہوتا ہے ، ان کی پسلیاں کٹ چکی ہوتی ہیں، گھروالے انھیں بناتے ہیں کہ خولہ شہید ہو چکی ہے ، ہسپتال میں صحت یاب ہو کر انھیں آبائی گھر لایا جا تا ہے ، عزیر و اقارب انھیں بالا کورٹ میں کو ئی چھو ٹا مو ٹے کاروبار کا مشورہ دیتے ہیں، پروفسیر الطاف دوبارہ پشاور جانے پر بضد ہوتے ہیں صحت یابی کے بعد وہ اپنی کٹی پسلیوں کے ساتھ ایک بار پھر اپنے بلند اداروں اور ایک نئے عزم کے ساتھ آرمی پبلک سکول جانے کا ادادہ کر تے ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر واپس پشاور آ جا تے ہیں ، سانحہ آرمی پبلک سکول کی تیسری بر سی ہے، شہید بچوں کا خون رائیگاں نہیں گیا ، آج پروفیسر الطاف جیسے بلند حوصلے افراد دہشت گردوں کےلئے عبرت کا نشاں ہیں ، بیٹی کی شہادت اور جسمانی طور پر معذوری ان کے پہا ڑ جیسے عزم کے سامنے چیونٹی کی طر ح ثابت ہو ئی ہے ،یہ ہوتی ہے زندہ قوموں کی نشانی ہمیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولنا چایہے، میں ایک شاعر تو نہیں ہوں لیکن اس واقعہ کو لکھتے ہوئے  میرے ذہین میں غزل کا ایک مصرہ آیا ہے کاش میں اسے پورا کر سکتا ۔

   IMG-20161217-WA0005دسمبر آگیا پھر سے چلو مل کر چلیں مکتب

Historic Site Discovered At Bus Repaid (BRT) Excavation

بس منصوبہ کی کھدائی کے دوران پشاور میں آثار قدیمہ سامنے آگئےآر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیا

کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے

 سرنگ نما نکاسی آب کے نالے میں وزیر اینٹ کا استعمال کیا گیا ہے، پشاور میں سرنگوں کا ذکرمغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘میں بھی کیا ہے

 قدیم آثار کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ، ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا

شہزادہ فہد

پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ( بی آر ٹی ) کی کھدائی کے دوران 17 ویں صدی عیسوی کے آثار قدیمہ سامنے آئی ہیں،پشاور میں تہہ خانوں کے بارے میں روایتی کہانیاں اور مفروضے سچ ثابت ہو نے لگے ہیں، تین صدی قبل مغل دور حکومت کی تعمیر ات کھدائی میں سامنے آ گئی ہیں جس کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ر ہیں جس کی وجہ سے قدیم آثار کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا ہے ،آر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے، گور گھٹڑی میں پشاور کے مختلف مقامات میں زیر زمین تہہ خانوں کا ذکر مغل دور حکومت کے پہلے بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘اور ان کے پوتے اکبر نے اپنی سوانح عمری میںکیا ہے جبکہ روایتی کہانیوں میں ہندووںکے مذہبی رہنما گورتھ ناتھ کی گورگھٹڑی سے زیر زمین ڈبکی لگا کر پنج تیرتھ ( فردوس ) میں نکلنے کے مفروضے بھی سنائے جا تے ہیں،حاجی کیمپ اڈے کے قریب بس ریپڈ ٹرانزٹ کےلئے کی جانے والی بیس فٹ گہری کھدائی میں 17 ویں صدی عیسوی کے آثار کا ملنا بھی اسی سرنگوں کی کڑی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں مزید چھان بین کی ضروت ہے ، بی آر ٹی کےلئے چند گز کی کھدائی میں ایک گول سرنگ نما تعمیر دریافت ہو ئی ، یہ قدیم تعمیر زیر زمین تہہ خانہ یا نکاسی آب کا نالہ ہوسکتا ہے، دریافت ہونے والے سرنگ کو مٹی اور اینٹیں رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، پشاور میں اس سے قبل بھی متعدد مقامات پر نوادارت اور قدیم تعمیرات دریافت ہو چکی ہیں، تاریخ دانوں کے مطابق پشاور کا شمار وسطی ایشیا ءکے قدیم تر ین شہروںمیں ہوتا ہے ، پشاور میںملنے والے آثار قدیمہ اس شہر کے تاریخی ہونے کا واضح ثبوت ہیں ، نئی دریافت کے حوالے سے محکمہ آثارقدیمہ کے فوکل پرسن نواز الدین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دریافت ہو نے والی نئی سائٹ ممکنہ طور پر 18 ویں صدی کی ہو سکتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات میں وزیر اینٹ استعمال ہو ئی ہے لیکن یہ تعمیرات سکھ دور حکومت سے مشابہت رکھتی ہے ، پشاور میں مغل دور حکومت کے بعد سکھوں کا راج شرو ع ہوا تو اس وقت کے حکمران رنجیت سنگھ نے پشاور میں حکومت کمزور پڑھنے پر جنرل اویٹبل کو گورنر بنا کر بھیجا ، نئے گورنر نے آتے ہی پشاور کا نقشہ تبدیل کر دیا ، انھوں نے 18 ویں صدی میں اس وقت کا جدید ترین ڈرین سسٹم متعارف کروایا ، جنرل اویٹبل کا تعلق اٹلی سے تھا ،انھوںنے پشاور میں دیوار شہر کو تین حصوں کی بجائے ایک دیوار میں تبدیل کروایا،

2

The 200th birthday of Sir Syed Ahmed Khan, celebration in India, Pakistan’s weird

شہزاد ہ فہد

سر سید احمد خان کی200 ویں سالگرہ ، انڈیا میں جشن ، پاکستانی غافل

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو کی سالگرہ پر صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا

انڈیا مین گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں متعدد تقاریب منعقد کی گئیں، تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کا بیان پاکستاں میں صرف تاریخ کی درسی کتابوں میں کیا جاتا ہے

متقی خان المعروف سر سید 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ،ڈائریکٹر ایچ ای آراے ڈاکٹر خالد

مسلمانوں میں ہم آہنگی، مذہبی رواداری کا درس اورتعلیمی شعور اجاگر کر نے والے قومی ہیرو سر سید احمد خان کی پیدائش کے 200 سال پورے ہو گئے ہیں ، خیبر پختونخوا اور فاٹامیں تعلیم ادارو ں سمیت دیگر سرکاری ادارے عظیم شخصیت کی 2 سوویں یوم پیدائش سے بے خبر رہے ، صوبہ بھر میں کو ئی تقریب کا اہتما م نہیں کیا گیا ، عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کے لئے انڈیا میں جشن منایا گیا ، گرینڈ لیول پر علی گڑھ اور دہلی میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا ، تاہم خیبر پختونخوا میں یکجہتی اور تعلیم کا درس دینے والے ہیرو کو صرف درسی کتابوں اور نصاب تک محدود رکھا گیا ہے،تقسیم ہند میں مسلمانوں کےلئے الگ ملک بنانے اور تعلیم و ترقی میں قوم کی رہنمائی کر نے والے مسلمانوں کے قومی ہیرو سر سید احمد خان کا 200سو واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے ، سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1871 ءکو پیدا ہو ئے تھے ،سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظری عملیت کے حامل اور فلسفی تھے، سر سید احمد خان ایک نبیل گھرانے میں پیدا ہوئے ،سر سید احمد خان نے قرآن اور سائنس کی تعلیم مغل دربار میں ہی حاصل کی جس کے بعد انہیں وکالت کی اعزازی ڈگری یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے عطا کی گئی، بغاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اسباب بغاوب ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں رعایائے ہندوستان کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا، سرسید احمد خان نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا،سر سید احمد خان کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،انہوں نے دیگر مسلم رہنماو¿ں بشمول محمد اقبال اور محمد علی جناح کو بھی متاثر کیا، سر سید احمد خان کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگی کی رویت ڈالی، پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں،خیبر پختونخوا بشمول فاٹا میں عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کر نے کےلئے سرکاری سطح پر کو ئی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ،اس حوالے سے سپیشل سیکرٹری اینڈ چیئرمین ایچ ای آر اے ڈاکٹر خالد خان نے روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ تعلیم کا لفظ زبان پر آتے ہی پہلا نام سر سید احمد خان کا آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ چندروز بعد محکمے کے زیر اہتمام سر سید احمد خان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے سرکاری سطح پر تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ۔sir syed ahmad khan 2

Breathing Floor In Peshawar museum(Victoria Dancing Hall)

_MG_7422_MG_7268

  سانس لینے و الے وکٹوریہ ڈانسنگ فلور 

وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا جس کو 1906 میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، ایکسپرٹس کی ٹیم نے مرمت کا کام شروع کردیا
،ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا

خیبر پختونخوا حکومت نے انگریز دور میں بنائے جانے والا ” وکٹوریہ ڈانسنگ فلور “کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ، وکٹوریہ حال کو 1897 ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ، 1906\7 میں بلڈنگ کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، موجود ہ حکومت نے 120 سال بعد لکڑی کے فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ،اپنی نویت کا واحد فرش جو کو سانس لینے والا فرش بھی کہلاتا ہے کی ایک صدی بعد مرمت کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے وکٹوریہ میموریل ہال کا فرش دوبارہ کھول کر مرمت و بحالی کا کام شرو ع کر دیا ہے ، فرش میں استعمال ہو نے والی 120سال سے پرانی لکڑی کو دوبارہ کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد نصب کیا جائےگا،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی نے روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ فرش کی مرمت و بحالی کےلئے آرکیالوجسٹ، آرکیٹکٹس، انجنیئرز پر مشتمل ایکسپرٹس کی ٹیم کام کر رہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ 120 سال پرانے فرش کو چند ایک جگہوں سے دیمک لگ چکا تھا، فرش کی لکڑی کو کیمیکل ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا ، وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم میں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا ملک بھر اپنی نوعیت کا واحد فرش ہے جو کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ،بہترین تعمیر کا شاہکار ڈانسنگ فلور زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگنے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے،اس کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ،اسی لئے اسے سانس لیتا فرش بھی کہا جاتا ہے،چند دہائی قبل میوزیم کے قریب سڑک کی تعمیر سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مذکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگاکر فرش کی مرمت و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔

ویکٹوریہ میموریل ہال کی ڈانسنگ فلور کی تبدیل ہو نے کی داستان
وکٹوریہ میموریل ہال کے پشاور میوزیم میں تبدیل کرنے کی داستان بڑی دلچسپ ہے ، انگریز دور حکومت میں اعلی ٰ افسران عمارت میںموجود ڈانسنگ فلو ر پر شام کے اوقات میں اپنی فیملی کے ہمراہ رقص کر تے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ انگریز دور حکومت میں گندھار تہذیب کے نوادرات جو کہ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے دریافت کی جا تی تھیںکو فوری طور پر ہندوستان منتقل کر دیا جاتا تھا ، تاہم بڑی قدامت والی اور وزنی نوادرات کو لے جانے میں دقت ہوتی، جو کہ بعدازاں وکٹوریہ میموریل ہال منتقل کیا جاتا تھا، عمارت میں بڑی تعداد میںنوادرات جمع ہو نے کے بعد میموریل ہال کو باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے مخصوص راہداری
پاکستا ن میں اپنی نویت کے واحد ڈانسنگ فرش کےلئے گورنر ہاوس سے ایک خاص راہدری دی گئی تھی جو کہ وکٹوریہ میموریل ہال پر اختتام پذیر ہو تی ، موجود ہ خیبر روڈ کے اوپر برسات بنائی گئی تھی جو کہ بعدازاں ختم کر دی گئی ، پشاور میں بنائے جانے والے ڈانسنگ فرش کےلئے قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک کاآمد رہی ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کی جانب سے ڈانسنگ فلور کی مرمت و بحالی کےلئے ، آرکیالوجسٹ ، انجنئیراور آرکیٹیکٹ پر مشتمل ماہر ین کی ٹیم نے وہی پرانی لکڑی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر مرمت کا آغاز کردیا ہے

 

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔

 

Crime Six Month Data 2017

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور جرائم کی شرح سب سے زیادہ پشاور میں رہی جبکہ نوشہرہ دوسرے نمبر پر رہا ، دہشت گردی اور جرائم کے لحاظ سے ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا ،صوبے میں امن کے باوجود چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 واقعات ہو ئے جبکہ ہر ماہ اوسطا پانچ افراد مختلف اضلاع سے اغواءہوتے رہے ، چھ ماہ میں 20 افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور 327 افراد کو مختلف تنازعات میں قتل کیا گیا ، بھتہ خور بدستور صوبے کے مختلف اضلاع میں راج کر تے رہے ، چھ ماہ میں بھتہ خوری کے 17 واقعات ہو ئے جبکہ بھتہ خوری کے غیر رجسٹرڈ واقعات اس سے کئی زیادہ بتائے جاتے ہیں ، صوبائی حکومت کی جانب سے حاصل کر دہ اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے 25 اضلاع میں 6 ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 ، بھتہ خوری کے 17 ، اغوائیگی کے 32 واقعات رونما ہو ئے، جبکہ 6 ماہ کے دوران 20 افراد کوٹارگٹ کلنگ کا بھی نشانہ گیا،چھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں 20 ڈکیتیاں رونما crime-scene-4ہو ئی اور 327 افراد کو مختلف تنازعات پر قتل کیا گیا، دہشت گردی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ پشاورسرفہرست رہا، پشاور میں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے26 واقعات ، بھتہ خوری کے 8 واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے 5 واقعات رونما ہو ئے، اغوائیگی اور ڈکیتوں میںنوشہرہ سر فہرست رہا چھ ماہ کے دوران 6 افراد کو تاوان کی غرض سے اغواءکیا گیا اسی طرح چھ ماہ کے دوران 8 ڈکیتوں میں شہریوں کا لوٹا گیا ، اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوارن صوبے کے تمام اضلاع پشاور ، چارسدہ، نوشہرہ ، مردان ،صوابی ، سوات، بونیر شانگلہ، دیر، چترال ، کرک ، ہنگو، کوہاٹ ، مانسہرہ ، ہری پور ، بٹگرام ، کوہستان ، ایبٹ آباد ، تورغر، ڈی آئی خان ، ٹانک ،بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کے 88 واقعات ، ٹارگٹ کلنگ کے 20 ،بھتہ خوری کے 17 ، اغواءکار ی کے 32 ، واقعات رونما ہو ئے اسی طر ح چھ ماہ کے دوران 327 افراد کو مختلف تنازعات کی صورت میں قتل کیا گیا ، چھ ماہ کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں ڈکیتوں کے 20 واقعات میں شہریوں کو جمع پونچی سے محروم کیا گیا ، اسی طرح ڈکیتی اوراغوائیگی میں نوشہرہ تمام اضلاع کی نسبت سہر فہرست رہا ، چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ نوشہر ہ میں 6 افراد کو اغواءکیا گیا اور ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں 8 ڈکتیاں رونما ہوئی ، خیبر پختونخوا میں چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا جہاں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوائیگی، ڈکیتی اور قتل کی کوئی واردات رونما نہیں ہو ئی ۔