Tag Archives: mughals

Historic Site Discovered At Bus Repaid (BRT) Excavation

بس منصوبہ کی کھدائی کے دوران پشاور میں آثار قدیمہ سامنے آگئےآر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیا

کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے

 سرنگ نما نکاسی آب کے نالے میں وزیر اینٹ کا استعمال کیا گیا ہے، پشاور میں سرنگوں کا ذکرمغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘میں بھی کیا ہے

 قدیم آثار کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ، ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا

شہزادہ فہد

پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ( بی آر ٹی ) کی کھدائی کے دوران 17 ویں صدی عیسوی کے آثار قدیمہ سامنے آئی ہیں،پشاور میں تہہ خانوں کے بارے میں روایتی کہانیاں اور مفروضے سچ ثابت ہو نے لگے ہیں، تین صدی قبل مغل دور حکومت کی تعمیر ات کھدائی میں سامنے آ گئی ہیں جس کی تاریخی حیثیت سے سائٹ پر کام کر نے والے انجنیئر بے خبر ر ہیں جس کی وجہ سے قدیم آثار کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے،محکمہ آثار قدیمہ کو بھی قومی ورثے کی دریافت کا علم نہیں ہوسکا ہے ،آر بی ٹی سائٹ پر مغل دور حکومت کی تعمیرات میں استعمال ہو نے” وزیری اینٹ“ سے بنی ہو ئی زیر زمین نکاسی آب کے نالے یاتہہ خانہ نما سرنگ نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، کھدائی میں سامنے آنے والے قدیم آثار کی مزید چھان بین کی جائے تو صدیوں پرانی تاریخ کے بارے میں انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے، گور گھٹڑی میں پشاور کے مختلف مقامات میں زیر زمین تہہ خانوں کا ذکر مغل دور حکومت کے پہلے بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ”بابر نامے‘اور ان کے پوتے اکبر نے اپنی سوانح عمری میںکیا ہے جبکہ روایتی کہانیوں میں ہندووںکے مذہبی رہنما گورتھ ناتھ کی گورگھٹڑی سے زیر زمین ڈبکی لگا کر پنج تیرتھ ( فردوس ) میں نکلنے کے مفروضے بھی سنائے جا تے ہیں،حاجی کیمپ اڈے کے قریب بس ریپڈ ٹرانزٹ کےلئے کی جانے والی بیس فٹ گہری کھدائی میں 17 ویں صدی عیسوی کے آثار کا ملنا بھی اسی سرنگوں کی کڑی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں مزید چھان بین کی ضروت ہے ، بی آر ٹی کےلئے چند گز کی کھدائی میں ایک گول سرنگ نما تعمیر دریافت ہو ئی ، یہ قدیم تعمیر زیر زمین تہہ خانہ یا نکاسی آب کا نالہ ہوسکتا ہے، دریافت ہونے والے سرنگ کو مٹی اور اینٹیں رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، پشاور میں اس سے قبل بھی متعدد مقامات پر نوادارت اور قدیم تعمیرات دریافت ہو چکی ہیں، تاریخ دانوں کے مطابق پشاور کا شمار وسطی ایشیا ءکے قدیم تر ین شہروںمیں ہوتا ہے ، پشاور میںملنے والے آثار قدیمہ اس شہر کے تاریخی ہونے کا واضح ثبوت ہیں ، نئی دریافت کے حوالے سے محکمہ آثارقدیمہ کے فوکل پرسن نواز الدین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دریافت ہو نے والی نئی سائٹ ممکنہ طور پر 18 ویں صدی کی ہو سکتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات میں وزیر اینٹ استعمال ہو ئی ہے لیکن یہ تعمیرات سکھ دور حکومت سے مشابہت رکھتی ہے ، پشاور میں مغل دور حکومت کے بعد سکھوں کا راج شرو ع ہوا تو اس وقت کے حکمران رنجیت سنگھ نے پشاور میں حکومت کمزور پڑھنے پر جنرل اویٹبل کو گورنر بنا کر بھیجا ، نئے گورنر نے آتے ہی پشاور کا نقشہ تبدیل کر دیا ، انھوں نے 18 ویں صدی میں اس وقت کا جدید ترین ڈرین سسٹم متعارف کروایا ، جنرل اویٹبل کا تعلق اٹلی سے تھا ،انھوںنے پشاور میں دیوار شہر کو تین حصوں کی بجائے ایک دیوار میں تبدیل کروایا،

2

Advertisements

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

story of a garden in peshawar wazir bagh

شہزادہ فہد۔۔۔fffffff
مغلیہ دور کی یادگاروزیر باغ زبوں حالی کا شکار ہے تاریخی باغ کے تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی مٹی اور گندگی سے بھرے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے ،میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی یہ شاندار یادگار کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل ہو چکا ہے پھولوں اور باغات کا خوبصورت شہر پشاورکو اب پھولوں اور باغات کا شہر نہےں کہا جا سکتا ہے شاہی باغ، جناح باغ، وزیر باغ، کمپنی باغ سمیت بہت سارے باغات اس شہر کی خوبصورتی کے ضامن تھے بڑھتی آبادی، نا مناسب منصوبہ بندی اور چاروں طرف پھیلتے شہر نے یہاں کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح چاٹ لیادہشتگردی اور بد امنی کے بعد حکومتی عدم دلچسپی کے باعث شہر پشاور مےں واقع مغلیہ دور کی یادگار وزیر باغ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے مغل دورکی یادگار وزیر باغ درانی حکمران پرنس شاہ محمود درانی کے دور میں سردار فتح محمد خان برکزئی عرف وزیر کی طرف سے تعمیر کیا گیا سردار فتح محمد خان نے پشاور میں شاہ شجاع کی حکمرانی کے بعد 1810 میںاس باغ کی بنیاد رکھی، باغ چار باڑوں پر مشتمل تھا اور کنویں کے ساتھ ساتھ ایک پویلین، مسجد، فٹ بال گراو ¿نڈ، دو کشادہ لان اور تالاب بنائے گئے لیکن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ہزاروں سال پرانی مسجد خستہ حالی کا شکار ہے ، تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے جبکہ تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی گرد و غبار سے اٹے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے بزرگوں کےلئے تازہ ہوا کا ذریعہ اورایک عمدہ تفریح گاہ وزیر باغ تو کہانیوں مےں رہ گیا مغلیہ عہد کا یہ شاندار باغ اب زبان حال سے پکار پکار کر حکومتی بے حسی کا رونا رو رہا ہے درختوں اور سبزے کا وجود بس صرف برائے نام رہ گیا ہے میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا جبکہ ایک چمن مےں جھولے لگائے ہےں لیکن ان جھولوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی انتظامیہ کی بڑی ذمہ داری ہے بد تہذیب نوجوان جھولوں کا ستیاناس کر دیتے ہےں اور بچے دیکھتے ہی رہ جاتے ہےں وزیر باغ پشاور میں سب سے قدیم اور بڑا باغ سمجھا جاتا ہے یہ باغ ایک عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہے پرانی روایت کے مطابق یہ باغ خوبانی، آڑو، انار، ناشپاتی اور رنگا رنگ پھولوں سے بھرا ہوا تھا انگریزی سفیر سر الیگزینڈرنے 1832 میں دورے کے دوران اس تاریخی وزیر باغ میں قیام کیا تھا تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی لوگوںنے اس شاندار یادگار کو کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل کر دیادور جدید مےں تقریبا اس کی ہریالی ختم ہورہی ہے اس باغ کو ماضی میں ایک پکنک کی جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور خاص طور پر اس پیپل کے درخت اس کی خوبصورتی پر غور کیا گیا باغ کی زیادہ تر خوبصورتی کو تباہ کر دیاگیا ہے سماجی کارکنوں نے کئی بار اس پر خدشات اٹھائے ہیں لیکن کوئی شنوائی حاصل نہ ہو سکی وزیر باغ مغلیہ دور کی نشانی ہے سابقہ ادوار میں حکومت نے وزیر باغ کی دیکھ بھال کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن کے مو جود ہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعدمغلیہ دور کے ان باغات کی دیکھ بھال کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے قبضے کر کے پارک کو چھوٹا کر دیا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ تاریخی باغات کو اصل حالت میں لانے لیے حکومت اقدامات کرے۔

صوبا ئی دارلحکومت پشاور پھولوں کا شہر کے نام سے جانا جاتا تھا حکومتی عدم تو جہی پھول ، با غا ت قصہ پارینہ بن چکے ہیں شہر بھر میں تفریحی مقامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔شہر میں کنتی کے چند باغ ہیں جن میں باغ ناران ، شالیمار باغ مشہو ر ہیں جبکہ شاہی باغ ، وزیر باغ کو کرکٹ گراونڈ کے طور پر جا نا جا تا ہے ۔ پشاور میں باغات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور پارکوں میں انٹری فیس سے لے کر پارکنگ فیس کی من مانی وصولی سے شہری گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں باغات کی دیکھ بھال اور تفریحی فراہم کر نا حکومت کی زمہ داری ہے

A story of a tomb in peshawar

شہزادہ فہد ۔۔۔۔IMG-20151103-WA0007 IMG-20151103-WA0003 IMG-20151103-WA0004 IMG-20151103-WA0005
پشاور شہر کے معروف اور تاریخی اہمیت کے حامل وزیر باغ روڈ جو شہر کے جنوب میں واقع ہے پر ایک نہایت تاریحی گنبد جو ”بیجو کی قبر“ کے نام پر مشہور ہے اب جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا ہے اور آہستہ آہستہ یہ تاریحی ورثے کا نام و نشان ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آج بھی یہ برج سیا حوں کو اپنی طرف راغب کر تا ہے ۔ مورخین کے مطابق شیح حبیب بابا کے مزار کے باہر ایک نہایت تاریحی گنبد صدیوں پہلے بنایا گیا تھا آج بھی یہ برج سیاحوں کو اپنی طرف مرغوب کرتی ہے۔یہ برج اپنے پس منظر میں ایک درانی بادشاہ کی رومانوی داستان رکھتا ہے۔مگر اس کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے تاریخ سے محبت اور دلچسپی رکھنے والے لوگ ا س سے نہایت پریشان ہیںکیونکہ اس کے مٹنے سے تاریخ کا ایک زندہ اور توانا باب ختم ہوگا۔اس قبر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ تیمو ر بادشاہ جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا وہ اپنے باپ کے وفات کے بعد 1773 عیسوی کو تحت شاہی پر بیٹھ گیا۔اس کی ایک بیوی مغل شہزادی تھی اس کی خدمت کیلئے شاہی محل میںا یک لونڈی تھی جو اپنے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین اور فطین بھی تھی۔اس لونڈی کا اصل نام بیگم جان تھا جس نے اپنی ذہنیت اور قابلیت کی وجہ سے بادشاہ کے ہاں بہت عزت پائی تھی اور پورے محل میں اس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔اپنے دور حکومت میں بادشاہ اکثر ریاستی اور حکومتی معاملات میں اس سے مشورے بھی طلب کرتے تھے۔تیمور بادشاہ کے ساتھ بیگم جان کی اتنی قربت اس کی مغل بیوی اور دربار کے دیگر لوگوں کیلئے ناقابل برداشت تھااور اس کی وجہ سے وہ بیگم جان سے حسد کرنے لگے بیگم جان کی حاکم وقت بادشاہ تیمور کے ساتھ اس قدر قربت نے بادشاہ کی ملکہ اور دیگر ملازمین کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکادی۔یہی وجہ ہے کہ ملکہ اور دیگر ملازمین اسے بیگم جان کی بجائے ”بی بو“ کہہ کر پکارتے تھے اور رفتہ رفتہ ان کا نام بی بو سے” بی جو“ پڑ گئی۔ بی جو پشتو زبان کے لفظ ”بی زو“ یعنی بندر سے ملتا جلتا ہے اور اسے حسد کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے ۔مغل خاندان کے اکابرین بھی بادشاہ اور بیگم جان کے درمیان اس قدر گہرے تعلقات کو اپنے لئے خطرہ ہ محسوس کرتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بیگم جان اپنی ذہن اور عقل سے بادشاہ کو مغل خاندان کے ہر قسم کے سازشوں سے بچانے کے مشورے دیتی تھی اور ان کو بچانے کیلئے ضروری قدم اٹھاتی اسی وجہ سے تمام لوگ کوشش میں لگے تھے کہ کسی طریقے سے بیگم جان کو اپنے راستے سے ہٹالے۔مغل اکابرین نے بادشاہ کی ملکہ کے ہاں ایک خادمہ تعینات کی جو ہر وقت اس کی دل میں بیگم جان کے خلاف نفرت بھڑکاتی تھی بادشاہ کی ملکہ اب اس بات پر تیار ہوئی کہ بیگم جان کو ہمیشہ کیلئے اپنے راستے سے ہٹادےا اپنے اس مذموم منصوبے کو کامیاب بنانے کےلئے خادمہ نے ایک مشروب میں زہر ملا کر بیگم جان کو پلا دیاجس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے آبدی نیند سوگئی بادشاہ نے اس وفادار لونڈی کی قبر پر ایک نہایت شاندار گنبد اور برج تیار کیا جو ایک لازوال تاریحی اور رومانوی داستان کے طور پر پشاور کے ثقافتی منظر کو پیش کرتی ہے

2۔۔۔پشاوروزیر باغ روڈ پر واقع یہ گنبد اب وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر مٹ چکا ہے متعلقہ محکمہ کی عد م دلچپی کے باعث آنے والی نسل وفا کے اس پیکر کا نام ونشان مٹ کر صرف کتابوں میں اس کے بارے میں پڑھیں گے اور تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ختم ہو نے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔برج کے ساتھ دو چھوٹی چھوٹی قبریں بھی تھیں جن کے نشانات شاید اب نہیں رہے یہ بیگم جان کی پالی ہوئی مرغیاں تھی اس نے وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد ان مرغیوں کو بھی ذبح کرکے اس کی قبر کے ساتھ دفنائی جائے لینڈ مافیا اس تاریحی قبرستان اور گنبد کے احاطے پر قبضہ جمانے کی کوشش میں لگے ہیںجس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں مقامی معزرین بزگورں کا کہنا ہے کہ یہ نادرشاہ کے وقت کا نہایت تاریحی اہمیت کا اثاثہ ہے جو حکام کی غفلت کی وجہ سے اب ختم ہورہا ہےمقامی لوگ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کو نئے نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے وفا کے اس پیکر کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات ا ٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی تصویریں صرف کتابوں میں ملے۔

3۔۔۔ محمہ آثار قدیمہ کے مطابق 1920 سے قبل جو بھی پرا نی عمارت ہو اسے ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے پشاور میں درجنوں قدیم اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں ۔جن میں گورگٹھری ، محلہ سیھٹیان ، مسجد مہابت خان ، پلوسی پیران ، کو ٹلہ محسن خان میں موجود مقبرے ، اور لنڈے ارباب میں قدیمی مقرے شامل ہیں ان قدیم تاریخی مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ورثہ قرار دیا گیا لیکن ابھی درجنوں ایسی عمارتیں اور مقامات جو کہ حکومتی عدم توجہ کے باعث ختم ہو نے کے قریب ہیں ان میں چوہا گجر میں موجود” بو لی مسجد“ چوہا گجر میں موجود ”مغل پل“ ”دلدار مسجد “ اور وزیر باغ میں موجود بیجو قبر حکومتی نظروںسے اوجھل ہے ۔

mughal empire in peshawar is going to death pti

سروے رپورٹ ۔۔
پشاور(شہزادہ فہد )چمکنی کے قریب گاو¿ں چوہا گوجر میں مغل دور حکومت میں بنائی گئی مسجد رفتہ رفتہ ایک سست موت مر رہی ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی یادگار کی بحالی اور تحفظ کےلئے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اقدامات ان کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔مقامی لوگوں کیجانب سے اس مسجد کو ” بولی “ طور پر جانا جاتا ہے ۔ زرعی کھیتوں اور باغات کے درمیان کھڑی یہ مسجد کے قریب ہر سال آبادی میں جکڑی جا رہی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث مقامی لوگوں کی جانب سے مسجد کو ختم کر نے کی کوششیںکی جا رہی ہیں۔اور اس حقیقت کو پس پردہ رکھا جا رہا ہے کہ مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔مسجد مغل طرز تعمیر کا ایک بہترین شاہکار ہے ۔مسجد کی تعمیر وزیری اینٹوں اور چونے کے پتھر وں سے کی گئی ہے۔مورخین کے مطابق یہ مسجد جہانگیر کے دور میں 17 صدی کے دوران تعمیر کی گئی ہے اور اس مسجد کی تعمیر کا مقصد برصغیر کے دیگر حصوں میں وسطی ایشیا اور افغانستان سے آنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے تھا۔مسجد کی اونچائی میں 12 فٹ، اور چوڑائی 15سے 30 فٹ ہے مسجد کے مرکز میں ایک بڑا محراب ہے جو کہ خستہ حالی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ڈھانچے پر موجود عمارت کے چاروں کو نوں پر میناروں کا نام و نشان غائب ہو چکا ہے جو کہ کچھ عرصہ پہلا موجود تھے ۔ کچھ لو گوں کو خیال ہے کہ اس مقام پر مسجد کے سامنے ایک بڑا پانی کا کنوں تھا جس سے وضو کے لئے پا نی استعمال کیا جاتا تھا اور مسجد کے کے سامنے ایک کھلی زمین بھی تھی جس میں مسافر آرام کر تے تھے ۔
2۔۔۔
گاوں چوہا گجر میں موجود قدیم بو لی مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ آرکیالوجی ایکٹ کے مطابق 70 سال سے زائد عرصہ گزر جا نے والی عمارتیں تاریخ کا حصہ بن جا تی ہیں پشاور میں بیسیوں تاریخی عمارتیں ہیں جو کہ خستہ حال ہیں حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ پر کا م کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے شہر کے گرد Fahad express storyوال سٹی اور دیگر قدیم عمارتوں کو محفوظ کر نے کے باتیں کی جا تی ہیں لیکن تاحال ان منصوبو ں پر کو ئی عمل درآمد نہ ہو نے کے برابر ہے چوہا گجر میں واقع بو لی مسجد کی کی بحالی کے لئے کو ئی بھی ذمہ داری قبول نہیں ر ہا اور متعلقہ حکام کا بولی مسجد کی اہمیت کو نظر انداز کر نا صوبے میں تبدلی کے دعوﺅں کی نفی کر تا ہے

3۔۔۔۔
صوبا ئی دارلحکومت پشاورکا شما ر ا ان شہر وں میں ہوتا ہے جہاں مختلف ادوار میں تہذ بیں پنبتی رہی ہیں۔ پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جو کہ ہر وقت آباد رہا ہے ۔جس کے خدوخا ل آج بھی شہر اور گردونواح میں موجود کھنڈارات میں محسوس کئے جا سکتے ہیں یہ کھنڈارات ہمیں اس تاریخی شہر کی ہزاروں سال تہذیب اور اس میں بسنے والی ہنر مندوںں کی ؑظمت کا پتا دیتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ جس قوم میں کھنڈارات نہیں ہو تے ان کی تاریخ نہیں ہو تی ۔ صوبا ئی حکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں تمام کھنڈارت کی بحالی کےلئے اقدامات کرے تاکہ ہمارا قومی ورثہ محفوظ رہے ۔