Tag Archives: museum

Pigeon Shooting In Peshawar (پشاور میں کبوتر بازی)

سروے رپورٹ و تصاویر ، شہزادہ فہد

کبوترباز کبوتر پکڑنے اور کبوتروں کو پالنے والے کو کہا جا تا ہے، کبوتر بازی ایک مشغلہ ہنرکے ساتھ ساتھ ایک منافع بخش کاروباربھی بن چکا ہے، اس کے شوقین افراد کبوتروں کی افزائش اور نئی اور اعلٰی نسل کے لیے کبوتروں کی مخلوط نسلوں کا جوڑا بناتے ہیں کبوتروں کی نسلوں کے بارے یہی لوگ باآسانی اندازا لگا سکتے ہیں، ایک اندازنے کے مطابق دنیا بھر میں کبوتروں کی تقریبا289 سے زائد اقسام ہیں ،کبوتروں کی نسلوں کا فرق ان کی شکل و صورت کے ساتھ اڑان کا دورانیہ اڑان کی بلندی اور طوراطوار سے ظاہر ہوتاہے دنیا بھر میں کبوتروں کے مقابلے ہوتے ہیں جس میں بھاری جوا لگایا جاتا ہے، معاشرتی طور پر کبوتر بازی کو روپے اور وقت کا زیاع سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود تقریباً ہر محلے میں کبوتر باز موجود ہیں کبوتر بازی کا مرکز پاک ہند کو سمجھا جاتا ہے شعرا نے اپنے کلام میں کبوتر پر شعر لکھے ہیں عام طور پر شعروں میں کبوتر کا پیغام رساں اور قاصد پرندہ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔صوبا ئی دارلحکومت پشا ومیں سیکڑوں افراد کبوتر باز ی کے شوق میں مبتلا ہیں ، پشاور میں زیادہ تر پنجاب کے کبوتر پسند کئے جا تے ہیںاور نھیں لوکل کبوتروں پر ترجیح دی جا تی ہے ، اس حوالے سے روزنامہ ایکسپریس میں کبوتر بازی کے متعلق سروے میں مختلف علاقوں کے افراد سے معلومات لی گئی ہیں ، پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ لوکل کبوتر چند دن بعد اپنے مالک کے پاس واپس چلا جاتا ہے، پشاور میں سرگودھا ، فتح جنگ ، ملتان ، ڈی آئی خان ، خوشاب اور دیگر جگہوں سے کبوتر وں کو فروخت کےلئے لایا جاتا ہے ، ایک اندازے کے مطابق 200 کبوتر وں کی افزائش پر یومیہ تین سو روپے سے چار سو روپے تک خرچہ آتا ہے ،کبوتر بازی واحد مشغلہ ہے کہ جس میں کبوتر خود اپنا دانہ پانی پیدا کر تے ہیں ، ریس کے کبوتر ہر ہفتہ اپنے ساتھ کو ئی نیا کبوتر لاتے ہیں جس کو مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے،کبوتر بازی سے لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں آئے روز نا خشگوار واقعات نے اس مشغلے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے ، دیہی علاقوں میں کبوتربازی کا رجحان شہری علاقوں سے زیادہ پایا جاتا ہے

پشاور میں کبوتر بازی کی منڈیاں
صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کےلئے باقاعدہ منڈیاں لگائی جا تی ہیں ، پشاو رمیں فردوس پھا ٹک ، سیفن بڈھ بیر، با ڑہ اور رنگ روڈ پر جمعہ اور اتوار کے روز منڈیاں سجائی جا تی ہیں ، منڈیوں میں ہفتے بھر میں پکڑے جانے والے کبوتروں کو فروخت کےلئے لایا جا تا ہے ، منڈیوں میں جہاں کبوتر کی خرید فروخت کی جا تی ہے وہاں کبوتر بازی سے منسلک سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے ، ان میں کبوتر پکڑنے والا جال جو کہ لوکل افراد اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں یہ جال 250روپے تک فروخت کیا جاتا ہے اسی طرح کبوترو ں کے پاوں میں ڈالے جانے والے گھنگرو اور دیگر اشیاءکا بازار بھی لگایا جاتا ہے جس سے درجنوں افراد برسرروزگار ہیں

غیرملکی کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی
پشاو ر میں امریکی، جرمن ، اسرائیلی، ڈینش اور چائینہ کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی ہیں ، یورپی کبوتر 70 ہزارسے زائد تک جوڑا فروخت کیا جا رہا ہے ، پشاور کے کبوتر باز لوکل کبوتر پر یورپی کبوترو ں کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ خوبصورتی ، رنگت اور طویل اڑان بتائی جا تی ہے،پشاور میں امریکی ، جرمن ، ڈینش، اسرائیلی کبوتروں کی جو ڑی 70 ہزار روپے یا س سے زائد میں فروخت کی جا تی ہے جبکہ لوکل کبوترجن میں تو ر شیزای ، سبز چپ، تو رڈھنڈے مار، شیت رو، غورہ ، زرد جو گی ، لا ل جو گی ،سیاح چپ اور دیگر کی قیمتیں غیرملکی کبوتروں سے قدرے کم ہیں ، ان کی قیمت عام مارکیٹ میں 300 سے 500 تک بنائی جاتی ہے جبکہ ان میں خاص کبوتر کی قیمت10 ہزار تک بتائی جاتی ہے

کبوتر بازی کی تاریخ
کبوتر بازی کا شوق 700سال قبل شروع ہوا تھا بابر بادشاہ نے اس کی افتتاح کی بعد از اں وہ ایران اور ترکمانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ اپنے پالتو کبوتر بھی لے آئے یہ شوق اکبر بادشاہ کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور تقریباً ہر چھٹی کے روز اس کے باقائدہ مقابلے ہوتے تھے اور جو کبوترسب سے زیادہ دیر تک فذا میں رہتا اس کے مالک کو شاندار کھانے کھلائے جاتے اور اسے انعامات بھی دیئے جاتے، بادشاہوں نے اپنے کبوتروں کو ٹرینڈ کرنے کے لئے پیشہ وار ملازم بھی رکھے ہوئے تھے۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جاتے تھے اگر کوئی ٹرینی کبوتر کو زیادہ مہارت سکھاتا تو اس کا اسپیشل انعام رکھاجاتا،700سال قبل بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے تھے اور بادشاہ کے ساتھ وزراءدرباری اور دیگر لوگ بھی اس میں شرکت کرتے اور انہیں بھی موقع دیا جاتا کہ وہ کبوتر بازی دیکھیں،اس وقت کے مطابق بتایا جاتا رہاہے کہ یہ کھیل امیروں، نوابوں، مہاراجوں اور امیر لوگوں کا کھیل ہوا کرتا تھا،برصغیر میں آنے کے بعد اس شوق میں کبوتروں پر جواءلگایا جانے لگاkabotar-2

سہ ماہی نوکھی کبوتر ریس
کبوتروں کے شوقین افراد اپنے آپ کو مشغول رکھنے کے ساتھ اس پر بھا ری جوا بھی لگاتے ہیں ، پشاور کے مختلف مقامات پر کبوتروں کی ریس کا انعقاد کیا جا تا ہے ، ایک خاص مقام پر کبوتروں کو چھوڑا جاتا ہے اور سب سے پہلے گھر پہنچنے والا کبوتر فاتح قرار دیا ہے ، حاجی کیمپ کمبوہ میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کی جانب سے ایک انوکھی سہ ماہی ریس کا انعقاد کیا جاتا ہے ، راولپنڈی پیر ودائی اڈے سے کبوتر باز دو کبوتروں کو فضاءمیں چھو ڑ دیتے ہیں جس میں پہلے گھر پہنچنے والے کبوتر کے مالک کو رقم کے ساتھ ہا رنے والا شخص سفر کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے ، خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر کبوتر بازی کے مقابلوں کا انعقاد کرنے سے کبوتر باز ی کے میدان میں ایک صحت مندازنہ مقابلے کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے،

Religion Tourism

This slideshow requires JavaScript.

شہزادہ فہد

مذہبی سیاحت کافروغ
 تاریخ میں پہلی امریکی سیکھ برادری کا دورہ پشاور میوزیم

مذہبی ساحیت سیا حت کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے ، انسان کی دنیا میں آمد سے ہی مذہی سیاحت کا آغاز ہو ا اور انسان نے اپنی مذہبی مقدس مقامات کی طر ف پیش قدمی کی اسی وجہ سے مقدس مقامات کے حامل شہروں نے معاشی ترقی کی ہے ، پوری دنیا میں مذہبی سیا حت کے فروغ کےلئے مقدس مقامات پر زائرین کو متوجہ کر نے کےلئے اقداما ت کئے جا رہے ہیں جس سے کثیر رزمبادلہ حاصل ہورہا ہے، مذہبی سیاحت کو نہ صرف کسی خٓاص مقدس مقام کی زیارت کےلئے منفید قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ اسے انسانوں کے مابیبن دوستی اور ایک تفریح شکل کے طور پر ایک انسانی راہ میں اہمیت کے حامل کے سفر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ،خیبر پختونخوا قدیم مذاہب کا حامی علاقہ مانا جاتا ہے ، جس میں گندھارا ، ہندو ، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد رہائش پذیر رہے تھے جس کی اہم وجہ خیبر پاس قرار دیا گیا ہے، جو کہ سنٹرل ایشاءکا گیٹ وے تصور کیا جا تا ہے ، سیاحت کے زریعے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے صوبہ میں پہلی بار امریکہ سے آنےوالی سیکھ برادری کے وفدکیلئے دورہ پشاور میوزیم کا اہتمام کیا ، 30رکنی وفد کو پشاور میوزیم کے دورے کے موقع پر میوزیم میں موجود آرٹ ، آثار قدیمہ ، نوادرات اور دیگرقدیمی اشیاءکے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں دورہ میں 20 خواتین اور 10 مرد شامل تھے، 30رکنی وفد میں شامل یاتریوں میں حرجاپ سنگھ، جرنیل سنگھ، مدن جیت ، اوتار، دل جیت سنگھ، امریک ، شنگارا سنگھ، پرمندر کور، اوتر کور، گردیال، ستپال، جاسبر، سورندر ،پرمجید، مانجیت، حاردیپ، کشمیر کوراور دیگر شامل تھے ، سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل، آثارقدیمہ و امور نوجوانان طارق خان ، منیجنگ ڈائریکٹر مشتاق احمدخان نے زائرین کو خوش آمدید کہا ،دورے کے موقع پر تمام مہمانوں کو میوزیم اور صوبہ میں موجود مذہبی عبادت گاہوں ، آثار قدیمہ ، قیمتی نوادرات اور دیگر کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جنرل منیجر ٹوررسٹ انفارمیشن اینڈ ایونٹس محمد علی سید کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کا دورہ پشاور میوزیم کا مقصد خیبرپختونخوا میں موجود بدھ مت ،سیکھ کودواروں ، پارسیوں کی عبادت گاہیں اور دیگر مذہبی مقامات و عبادت گاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح و دیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے ان مذہبی مقامات کا رخ کرسکیں، انھوں نے بتا یا کہ خیبرپختونخوا کو مذہبی سیاحت کے لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں پر90 فیصد سیکھ برادری کی عبادت گاہیں ہیں ،سیکھ برادری کو ہمیشہ پشاور اور خیبرپختونخوا میں خوش آمدید کہیں گے اور یہاں بہترین استقبال کیا جا ئے گا ، انھوں نے بتا یا کہ امریکی نژاد سکھ یاتریوں کی جانب سے سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بانی بابا کورونانک کی 548 ویں جنم دن کی تقریبات کے حوالے پاکستان میں مذہبی دورے پر آئے تھے جنھوں نے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا سے پشاور کے دورہ کر نے کی درخواست کی تھی جس کو محکمے نے قبول کیا اور ان کے تمام تر انتظامات ترتیب دئیے گئے، میوزیم کے دورے کے موقع پر عام شہریوں نے بھی یاتریوں سے ملاقات کی اور مختلف مو ضعات پر تبادلہ خیال کیا، دورے کے موقع پر سکھ یا تریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ گرونانک کے 548ویں جنم دن کے موقع پر پشاور کا رخ کیا۔اس موقع پر وفد میں موجود خاتون نوودید اور دیگر سیکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ یہاں آکر ان آثار قدیمہ ، نوادرات ، مذہبی عبادت گاہوں اور دیگر کے بارے میں جان کر اور انہیں دیکھ کر اچھا لگا جہاں ایک وقت میں ہمارے بڑوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی ، ہمیں ہندوستان سے زیادہ یہاں پیار ملا اور تحائف دیئے گئے پشاور کے عوام میں آکر ایسا لگا جیسے اپنے ہی دیس میں آئے ہوں، ان کا کہنا تھا ہیاں آکر معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈ حقیقت اور حالات کے بلکل بر عکس ہیں، پاکستانی لو گ نہایت ملنسار ، خوش اخلاق ، امن پسند اور عاجز ی رکھنے والے لو گ ہیں ہم ہیاں آکر فخر اور سکون محسوس کر رہے ہیںان کا کہنا تھا کہ ہیاں آکر پشاور میں لوگوں سے ملنے والا پیار ہم کھبی ہیں بھلا سکیں گے، ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام مذہبی سیاحت کےلئے اقدمات کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے، حسب روایات پشاور کے دورے میں شامل سکھ یاتری امن و آشا کا پیغام لے کر جا ئینگے اور پوری دنیا کو پیغام ملے گا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادی محفوظ ہے ہم امید کر سکتے ہیں دورہ پشاور میں شامل سکھ یا تری پشاور کے عوام کی مہمان نوازی اور پرامن شہر کی داستان اچھے الفاظ میں یاد کر ینگے

discovery of buddha remains


پشاور : رپورٹ و تصاویر ،شہزادہ فہد۔
ہر ی پور کے علا قہ خانپور سے 6 کلو میٹر فاضلے پر بھمالہ کے مقام پر پاکستان میں پہلی بار بد ھ مت تہذیب کا عظیم و شان شاہکاردریا فت ہو ا ہے۔ 45 فٹ مجسمے میں بد مت مت کے پیشواکامو ت کا منظر پیش کیا گیا ہے جو کہ قدامت کے لحاظ سے پاکستان کی تایخی کا سب سے بڑا مجسمہ ہے ۔ کنجورین پتھر سے بنائے جا نے والے مجسمہ کھد ائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا جس کو محکمہ آرکیا لوجی کی جانب سے ڈرائنگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ، خیبر پختونخوا میں ٹیکسلا خانپور سے 6 کلو میٹر ایک پر فضاءمقام بھمالہ میں بد مت تہذیب کے آثار دریا فت کئے گئے ہیں محکمہ آثار قدیمہ حکام کے مطابق بھمالہ ہا رو دریا کے قریب ایک پر فضاءمقام ہے بدھ مت کے پیر وکا ر بھمالہ کے راستے کشمیر اور ٹیکسلا کاروبار کے سلسلے میں جا تے تھے اور اس مقا م پر قیام کیا جا تا جہاں انھوں نے خانقاہیں بنا ئی تھیںاس مقام پر سر جان مارشل نے 1930 میں کھد ائی شروع کی تھی جان مارشل اس وقت ڈائر یکٹر جزل آرکیا لو جی فرنٹئیر ریجن تھے جنھوں نے بھمالہ کے مقام پر بد ھ مت کی پر چار کےلئے بنا ئی جا نے والی دیگرعبا دگا ہیں بھی دریا فت کی تھی ۔اس مقام پر صلیبی شکل کا اسٹوپہ جو کہ جسامت میں پاکستان کا سب سے بڑا اسٹوپہ ہے بھی دریافت ہو چکا ہے جو کہ چاروں اطراف سے عبا دت کےلئے استعمال ہو تا تھا ۔ گزشتہ سال محکمہ آرکیا لوجی خیبر پختونخوا کی جانب سے 85 سال بعد سروے کے بعد بد ھا کے مو ت کا منظر پیش کر نے والا مجسمہ دریا فت کیا گیا ہے جس میں بد ھ مت کے پیشوا کے انتقال کا منظر دیکھایا گیا ہے یہ مجسمہ کنجو رین سٹون سے بنایا گیا تھا ماہر آرکیا لو جی اور فیلڈ ڈائر یکٹر بھمالہ عبدالحمید نے بتا یا کہ کنجو رین سٹون جو کہ کمزور پتھر ہے جس کے باعث کھد ائی کے دوران مجسمہ ٹوٹ گیا محکمہ کی جانب سے اس کو دوبا رہ ڈرائینگ کرکے تعمیر کیا جا ئے گا ۔ ڈبل سٹوری پر محیط یہ دیو ہیکل مجسمے میں مو جو دہ حالت میں بد ھا کے پا وں کی حالت باآسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔ فیلڈ ڈائر یکٹرعبد الحمید نے بتا یا کہ مو ت کا منظر پیش کرنے والے مجسمہ میں پہلی بار دو ہیلو ( جو کہ شان و شوکت کا نشان سمجھا جا تا تھا ) کے اثار ملے ہیں اس نو یت کا مجسمہ پہلے کبھی دریا فت نہیں کیا گیا انھوں نے بتا یا کہ اس ریجن میں محکمہ کی جانب سے سروے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ گندھارہ ریجن میں جہاں اب تک بد ھ مت کے بے شمار اثرات ملے ہیں وہا ں اس ریجن میں مزید کتنی چیزیں دریا فت ہو تی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔

تھا ئی زبان میں کہا وت سے کہ” علم سیکھنا ہے تو گند ھا را جا و“اس کی تصدیق چین کے تاریخی دانوں نے کی ہے چینی مورخین کے مطابق گندھا را ریجن جو کہ بد ھ مت کےلئے ایک مقدس زمین کی حیثیت رکھتا ہے مو رخین کے مطابق 3 صد ی عیسوی میں گندھا را ریجن میں 6 ہزار سے زائد یو نیورسٹیاں( خانقاہیں ) قائم تھیں جن میں دینی علوم کے ساتھ دنیا وی علوم کی بھی ترغیب دی جا تی ۔ اس ریجن میں بد ھ مت کے بیشتر اثارات ملے ہیں جو کہ اس کا منہ بو لتا ثبو ت ہیں ”جو لیاں “ بھی ان مقامات میں سے ایک ہے جولیا ں کے با رے میں مقا می لو گو ں کا یہ خیال ہے یہ لفظ جے ولیاں سے نکلا ہے یہ آرکیا لوکل سائٹ 17 سے 18 سو سال پر انی ہے اس سائٹ کو سپر ڈنٹنڈ ٹ فرنٹیئر ریجن و ڈی جی آرکیا لو جی سر جا ن مارشل نے پنڈت نسیتار یار کی نگر انی میں 1916 میں دریافت کیا تھا ۔ ماہر ین آرکیا لو جی خیبر پختو نخوا کے مطابق یہ پا کستان کی واحد آرکیالوجکل سائٹ ہے کہ بہتر حالت میں ہے ۔ جو لیا ں کوپا نچویں صدی عیسوں میں وائٹ ہنر جو کہ سنٹرل ایشیاءکے قبا ئل اور آتش پرست تھے نے تبا ہ کیا تھا ۔

صو بائی دارلحکومت پشارو میں بد ھ مت کے اثار کثیر تعداد میں ملے ہیں جن کے نام و نشان نا منا سب انتظامات نہ ہو نے کی وجہ سے مٹ چکے ہیں یہ میں تہکال اسٹوپہ ، شاہ جی کی ڈھیری ، زر ڈھیری اور دیگر شامل ہیں ۔ تہکال اسٹوپہ جو کہ صلیبی شکل میں1871 میں دریا فت کیا گیا اس شکل کے اسٹوپہ شاد و نادر ہی دریافت ہو ئے ہیں یہ اسٹوپہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے اور اس کا نا م تو با قی ہے لیکن کو ئی نشا ن با قی نہیں ۔اسی طر ح زر ڈھیری میں صلیبی شکل کے دیو قامت اسٹوپہ دریافت ہو چکے ہیں پشاور میں شاجی کی ڈھیر ی میں بد ھ مت کے اثار جو کہ 1908 سے 1916 کے درمیان دریا فت کئے گئے تھے بیہ مقام بھی تجا وزات ما فیا کی زد میں اپنی اصل حالت کھو چکا ہے

دنیا کا تیسرا بڑا شما ر کئے جا نے والا مذہب ”بد ھ مت“ تھا ئی لینڈ ، نیپا ل ، جاپا ن ، کو ریا ، سر ی لنکا میں سرکا ری مذہب کی حیثیت رکھتا ہے اس کے ما نے والے پاکستا نی کی سرزمین کو مقدس زمین تصویر کر تے ہیں لیکن بدقسمتی سے بد ھ مت کے آثار کی منا سب دیکھ بحال نہ ہو نے سے اس کے آثار ختم ہو نے کے قریب ہیں۔ بد ھ مت کے آثار سے متعلق پشاور میں تاریخی اہمیت کی حامل سائٹ شاہ جی کی ڈھیری میں بد ھ مت کے پیشوا بد ھا کے زیر استعمال بیش بہا قیمتی ہیر ے کا ڈبہ بھی ملا ہے جو کہ پشاور میو زیم میں نما ئش کےلئے رکھا گیا ہے اس طر ح بد ھ مت سے متعلق دیگر نو ازدات پشاور میو زیم اورملک بھر کے عجا ئب گھروں کی زینت بنے ہو ئے ہیں ، حکومت بد ھ مت کے ملنے والے آثار قد یمہ پر قلیل رقم خرچ کر کے اس سیاحوں کو راغب کر نے کا زریعہ بنا سکتی ہے جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔