Tag Archives: newspaper

Waistcoat (واسکٹ)

 شہزادہ فہد
فیشن کو ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی جو ڑا جاتا ہے لیکن اس دوڑ میں مرد بھی کسی سے کم نہیں ہیں بدلتے موسم میں جہاں نت نئے کپڑوں کی تیا ری کےلئے جتن کئے جا تے ہیں وہاں قدیم روایتی اورعزت ورتبے کی نشانی نئے زمانے کے فیشن میں اہم مقام رکھنے والی واسکٹ کی تیا ری کا خصو صی اہتمام بھی معمول بن چکا ہے، واسکٹ کو پختون معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے، خیبر پختونخوا کے کلچر میں واسکٹ لباس کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے ۔ نوجوان واسکٹ کو خوشی کے موقع پر پہنتے ہیں شادی بیا ہ کی تقریب واسکٹ دولہا اور اس کے قریبی دوست ایک رنگ کی واسکٹ سلوانے کا رواج بھی پروان چڑ رہا ہے،شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر واسکٹ نوجو ان اور بزرگوں کا پسندید ہ پہناوا قرار دیا جاسکتا ہے ، اسی لئے درزیوں کی جانب سے عید الفطر پر واسکٹ کی تیاری کےلئے رمضان کے مہینے میں ہی بکنگ بند کی جا تی ہے جس کی وجہ اس کی تیا ری میں کا فی وقت کا روکا ر ہو نا بتا یا گیا ہے ، واسکٹ کی پا نچ سے زائد اقسام ہیں جن میں گول گلہ ، کلا ٹی اور وی شیپ واسکٹ کا فی مقبول ہیں، خیبر پختونخوا کے کلچرو ثقافت میں واسکٹ کورعب و عزت کی نشانی سمجھا جا تا ہے ، واسکٹایسا پہناو ا ہے جو کہ گرمی اور سردی میںیکساں تن پوش کیا جا تا ہے ،گرمیوں میں ہلکے کپڑے جبکہ سردیوں کے موسم میں بھا ری کپڑے کی واسکٹ تیار کی جا تی ہے ،

 :واسکٹ کی تاریخ

This slideshow requires JavaScript.

کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ اس کی ابتداءایران سے ہو ئی اور یہ افغانستان سے ہو تی ہوئی پاکستان پہنچی۔ کنگ چارلس دوئم کی لیڈ ی کلر شخصیات نے 1666 عیسوی میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا ، 1789 عیسوی میں فرانس کے صنعتی انقلاب آیا تو لو گوں کے پاس پیسہ زیادہ ہو نے لگا تو لوگوں نے واسکٹ کا استعمال شروع کر دیا ، 1800 عیسوی میں اس کے ڈیزائن میں تبدیلی رونما ہو ئی اور فٹنگ والی واسکٹ کا رواج شروع ہو ا ، 19 ویں صدی میں اس کا سائز مزید چھو ٹا ہو گیا۔

:قیمتوں میں اضافہ سے روایت میں کمی واقع ہو رہی ہے :
عید کےلئے واسکٹ کی سلا ئی نرخوں میں خو دساختہ اضافہ کیا جا تا ہے،عام دنوں میں سلا ئی کے با رہ سو روپے جبکہ عید کےلئے پندرہ سو سے اٹھا رہ سو روپے تک وصول کئے جا تے ہیں ۔ شہریوں کے مطابق سلائی میں خود ساختہ اضا فے کی وجہ سے وہ قدیم روایا تی لباس سے محروم ہو نے لگے ہیں نرخوں میں اضافے کے باعث شہری مارکیٹ میں تیار واسکٹ کو ترجیح دیتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں تیار واسکٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس پر شہریوں نے موقف اختیا رکیا ہے کہ سلا ئی اضافے اور درزیوں کی من مانیوں کی وجہ سے تیار واسکٹ بہترین متبادل قرار دی جا رہی ہے ، قصہ خوانی ، صدر ، خیبر بازار میں تیار واسکٹ فروخت کیا جا رہی ہیں جو کہ آٹھ سو سے بارہ سو روپے تک فروخت ہو رہی ہیں ۔

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

Egg Daliy Consumption In Peshawar

 شہزادہ فہد

موسم سرما کے آتے ہی صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں انڈوں کے استعمال میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہو جا تا ہے، ایک اندازے کے مطابق پشاور کے شہری 2 لاکھ آٹھاسی ہزار سے زائد انڈے روزانہ کے حساب سے کھا تے ہیں، پرچون ڈیلروں کے مطابق پنجاب اور دیگر صوبو ں سے یومیہ 800 پیٹی انڈے پشاور لا ئے جا تے ہیں ، فی پیٹی میں 30 درجن انڈے ہو تے ہیں، اسی طرح لو کل علاقوں سے دیسی انڈے کثیر تعداد میں فروخت کےلئے لا ئے جا تے ہیں، پشاور انڈوں کے کا روبار سے منسلک افراد نے سروے میں بتایا کہ شاور میں پنجاب کے علاقہ کمالیہ ، سمندری اور ملحقہ علاقوں میں پولڑی فارمز سے روزانہ مخصوص گا ڑیوں میں پرچون دکانداروں کے پاس انڈے لا ئے جا تے ہیں جہاں سیل مینز انڈوں کو پورے پشاور میں سپلا ئی کر تے ہیں، ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ غذائیت سے بھرپور غذاء کھانے سے انسان کو وٹامن اے، وٹامن بی، کیلشیم، فاسفورس اور فولاد میسرہوتے ہیں ،بے پناہ غذائی صلاحیت کے باعث انڈا دنیا بھر میں ایک عرصے سے ناشتے کا لازمی جز قرار دیا جا رہا ہے، انڈا بہت سے دلچسپ طریقوں سے تیارکیا جا سکتا ہے لیکن اسے جس طریقے سے بھی کھایا جائے یہ ایک صحت بخش غذا کا لازمی حصہ ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈا ضروری غذائی اجزاءکا ایک گودام ہے، کچھ لوگ انڈے کی بھرپورغذائیت کی وجہ سے اپنا وزن بڑھنے کے ڈرسے اسے کھانے سے کتراتے ہیں، اس حوالے سے ڈائر یکٹر لا ئیو سٹاک پشاور ڈاکٹر معصوم شاہ کا کہنا ہے کہ ایک یا دو انڈے روزانہ کھانے سے وزن پر کو ئی اثر نہیں پڑھتا ، ایک انڈا تقریباً 80 کیلوریز اور5 گرام چکنائی پر مشتمل ہوتاہے، انڈے کی زردی انتہائی صحت بخش حصہ ہے ،انڈے کی 100 گرام زردی میں 1.33 گرام کولیسٹرول ہوتا ہے اس کے علاوہ انڈے میں وٹامن اے، وٹامن بی، کیلشیم، فاسفورس اورفولاد ہوتا ہے، انڈ ے کی سفیدی بھی کسی سے کم نہیں ہے اس میں ربوفلیون اور وٹامن بی ٹو موجود ہوتا ہے، یہ نشوونما، توانائی پیدا کرنے اور انسان کے بہت سے افعال کو درست رکھتا ہے، انڈا کمزور جسم اور بچوں کےلئے انتہائی مفید غذاءہے

انڈوں کی اقسام اور صوبے میں مرغی بانی کا کلچر:
انڈوں کی مختلف اقسام ہیں یہ گرام کے حساب سے فروخت کئے جا تے ہیں ، ان کی اقسام میں سنگل ، جمبو ، نارمل، سٹینڈر اور ڈبل زردی کے انڈے ما رکیٹ میں فروخت کئے جا رہے ہیں ، پنجاب لا ئے جانے والے انڈوں کی ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں چیک کیا جاتا ہے ، پولڑی فارمز میںانڈے کے معیار کو مرغیوں کی غذاءاور بیماریوں کے مطابق جانچ پرتال کے بعد فروخت کیا جا تا ہے، صوبائی دارلحکومت پشاو رمیں مر غی بانی کی صعنت کلچر کا حصہ ہے دیہات میں مرغیوں کی افزائش ایک پرانی روایت کے طور پر کی جا تی ہے، پشاور میں مرغی بانی کے حوالے سے درجنوں دکانیں مو جود ہیں جہاں ان کی افزائش کےلئے اودیات فروخت کی جا تی ہیں جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں پولڑی کی صعنت کے فروغ کےلئے سرکاری سطح پر پولڑی فارم موجود ہیں

پرغذائیت خوراک جدید تحقیق:
غذا میں پالک اور انڈے کی زردی کے استعمال کو زیادہ کرکے درمیانی عمر میں یاداشت کو اچھا رکھنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے ،یہ غذائیں عمر کے ساتھ آنکھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتی ہیں، یہ بات غیر ملکی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، تحقیق کے مطابق ان غذاو¾ں میں پائے جانے والا جز لیوٹین چیزوں اور معلومات کو بہتر طریقے سے یاد رکھنے میں مدد فراہم کر تے ہیں جو کئی برس پہلے سے ذہن میں ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ جز دماغ کو تحریک دیتا ہے اور اس حصے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو یاداشت کو کنٹرول کرتا ہے،اس تحقیق کے دوران 65 سے 75 سال کی عمر کے 122 افراد کا جائزہ لیا گیا،نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کے نمونے میں لیوٹین کی مقدار زیادہ ہوئی وہ یاداشت کے ٹیسٹ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔تحقیق کے مطابق لیوٹین سے بھرپور غذائیں دماغی ساخت پر اثرانداز ہوتی ہیں اور مختلف دماغی حصوں کو ورم وغیرہ سے متاثر نہیں ہونے دیتی ،اس سے قبل مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لیوٹین سے بھرپور غذائیں بینائی میں کمی کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں،یہ غذائیں عمر کے ساتھ آنکھوں میں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرتی ہیں،

Pushto Film review 2016

شہزادہ فہد ۔

2016ء پشتو فلم انڈسٹری بحران کا شکار رہی ‘صرف گیارہ فلمیں ریلیز ہوئیں
گزشتہ سال سنیما انڈسٹری شدید بحران سے دوچار رہی ‘ پشتو فلم کا بزنس صرف عید تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ سنیما کلچر کا خاتمہ مالکان شدید پریشان
پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پاکستانی فلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم بہترین معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ،

نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی جاری ہے پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ سے بحران کا شکا ر ہے، سینما کلچر میں کمی اور فلم سنسر بورڈ نہ ہو نے سے فلمی صنعت سے وابسطہ افراد دیگر کا روبارکےلئے سرگرداں ہیں ، پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پشتوفلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ، فلمی صنعت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی زوال پذیر ی کی بڑی وجہ نئے ڈائریکٹرز،پروڈیوسرز،کہانی نویس ،سرمایہ کاروںسمیت نئے چہروں کے نہ آنے اورجدیدٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل نہ کرناہے،جب کہ فلمیں بنانے کے حوالے سے ہی تیس سالہ پرانی سوچ اپنائی جاتی ہے، اسی طرح حکومتی سردمہری بھی فلم انڈسٹری کی تباہی کی ایک وجہ بھی ہے، موجودہ دورمیں پشتو فلم انڈسٹری نے اس صنعت کوسہارادے رکھاہے،گزشتہ پندرہ سال سے پشتو فلم انڈسٹری ترقی کی جانب گامزن ہے یایوں بھی کہا جاسکتاہے کہ پوری فلم انڈسٹری کوپشتوفلموں نے سہارادے رکھاہے جس کے دم قدم سے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے گرم ہیں، لیکن گزشتہ سال کی صورت حال نے پشتو فلموں کے ہدایت کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ،سال میں چندایک فلمیں انڈسٹری ہٹ ہو تی ہیں ،اگر یہی حالات رہے اور ہدایت کار ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کردھرے بیٹھ گئے توپشتو فلم انڈسٹری کا نام ونشان مٹنے کے ساتھ سینکڑوں خاندان بھی فاقے کرنے پر مجبورہوجاہیں گے،یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتو فلموں کے شائقین چاروں صوبوں کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان سمیت دنیاکے کونے کونے میں موجودہیںاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد پشتو فلموں کی منتظر ہو تی ہے ،2016ءپشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا ثابت ہوا سال بھر میں گیارہ پشتو فلمیں سنیماﺅں کی زینت بنیں گزشتہ سال پشتو فلم انڈسٹری کیلئے بحران کا سال ثابت ہوا او ر سنیما انڈسٹری زوال پذیر رہی گزشتہ سال پشتو فلموںکے معروف ہدایتکار ارشد خان کی تین پشتو فلمیں لیونئی پختون ،راجہ اور بدمعاشی بہ منے ،نوجوان ہدایتکار شاہد عثمان کی تین فلمیں جشن ،گندہ گیری نہ منم اور غلام ،ہدایتکار حاجی نادر خان کی دو پشتو فلمیں محبت کار د لیونئی دے ،خیر دے یار پہ نشہ کے دے ،ہدایتکار اور لکھاری امجد نوید کی ایک پشتو فلم نادان اور نوجوان ہدایتکار سید منتظم شاہ کی پشتو فلم زہ پاگل یم اور ہدایتکار ولکھاری سعید تہکالے کی ایک پشتو فلم بدمعاشی نہ منم ریلیز ہوئی تاہم 2016ءپشتو فلموں او ر انڈسٹری کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور پشتو فلمیں شدید بحران کا شکار رہیں‘ سنیما انڈسٹری زوال کی طرف گامزن ہوئی ‘پشتو فلموں کے معروف ڈائریکٹر ارشد خان ،شاہد عثمان نے بتایا کہ گزشتہ سال پشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا سال ثابت ہوا اور سنیما انڈسٹری مزید زوال پذیر ہے اور فلموں کا بزنس صرف عید تک محدود ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ فلموں کا بزنس صرف پشاور میں رہ گیا ہے صوبے کے دیگر اضلاع میں سنیما نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سینماہال کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے بصورت دیگر رہی سہی پشتو فلم انڈسٹری بھی بندہوجائے گی اور سنیما مالکان اپنے سنیماﺅں کو شاپنگ مالز میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ،صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں۔

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

Religion Tourism

This slideshow requires JavaScript.

شہزادہ فہد

مذہبی سیاحت کافروغ
 تاریخ میں پہلی امریکی سیکھ برادری کا دورہ پشاور میوزیم

مذہبی ساحیت سیا حت کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے ، انسان کی دنیا میں آمد سے ہی مذہی سیاحت کا آغاز ہو ا اور انسان نے اپنی مذہبی مقدس مقامات کی طر ف پیش قدمی کی اسی وجہ سے مقدس مقامات کے حامل شہروں نے معاشی ترقی کی ہے ، پوری دنیا میں مذہبی سیا حت کے فروغ کےلئے مقدس مقامات پر زائرین کو متوجہ کر نے کےلئے اقداما ت کئے جا رہے ہیں جس سے کثیر رزمبادلہ حاصل ہورہا ہے، مذہبی سیاحت کو نہ صرف کسی خٓاص مقدس مقام کی زیارت کےلئے منفید قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ اسے انسانوں کے مابیبن دوستی اور ایک تفریح شکل کے طور پر ایک انسانی راہ میں اہمیت کے حامل کے سفر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ،خیبر پختونخوا قدیم مذاہب کا حامی علاقہ مانا جاتا ہے ، جس میں گندھارا ، ہندو ، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد رہائش پذیر رہے تھے جس کی اہم وجہ خیبر پاس قرار دیا گیا ہے، جو کہ سنٹرل ایشاءکا گیٹ وے تصور کیا جا تا ہے ، سیاحت کے زریعے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے صوبہ میں پہلی بار امریکہ سے آنےوالی سیکھ برادری کے وفدکیلئے دورہ پشاور میوزیم کا اہتمام کیا ، 30رکنی وفد کو پشاور میوزیم کے دورے کے موقع پر میوزیم میں موجود آرٹ ، آثار قدیمہ ، نوادرات اور دیگرقدیمی اشیاءکے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں دورہ میں 20 خواتین اور 10 مرد شامل تھے، 30رکنی وفد میں شامل یاتریوں میں حرجاپ سنگھ، جرنیل سنگھ، مدن جیت ، اوتار، دل جیت سنگھ، امریک ، شنگارا سنگھ، پرمندر کور، اوتر کور، گردیال، ستپال، جاسبر، سورندر ،پرمجید، مانجیت، حاردیپ، کشمیر کوراور دیگر شامل تھے ، سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل، آثارقدیمہ و امور نوجوانان طارق خان ، منیجنگ ڈائریکٹر مشتاق احمدخان نے زائرین کو خوش آمدید کہا ،دورے کے موقع پر تمام مہمانوں کو میوزیم اور صوبہ میں موجود مذہبی عبادت گاہوں ، آثار قدیمہ ، قیمتی نوادرات اور دیگر کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جنرل منیجر ٹوررسٹ انفارمیشن اینڈ ایونٹس محمد علی سید کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کا دورہ پشاور میوزیم کا مقصد خیبرپختونخوا میں موجود بدھ مت ،سیکھ کودواروں ، پارسیوں کی عبادت گاہیں اور دیگر مذہبی مقامات و عبادت گاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح و دیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے ان مذہبی مقامات کا رخ کرسکیں، انھوں نے بتا یا کہ خیبرپختونخوا کو مذہبی سیاحت کے لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں پر90 فیصد سیکھ برادری کی عبادت گاہیں ہیں ،سیکھ برادری کو ہمیشہ پشاور اور خیبرپختونخوا میں خوش آمدید کہیں گے اور یہاں بہترین استقبال کیا جا ئے گا ، انھوں نے بتا یا کہ امریکی نژاد سکھ یاتریوں کی جانب سے سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بانی بابا کورونانک کی 548 ویں جنم دن کی تقریبات کے حوالے پاکستان میں مذہبی دورے پر آئے تھے جنھوں نے ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا سے پشاور کے دورہ کر نے کی درخواست کی تھی جس کو محکمے نے قبول کیا اور ان کے تمام تر انتظامات ترتیب دئیے گئے، میوزیم کے دورے کے موقع پر عام شہریوں نے بھی یاتریوں سے ملاقات کی اور مختلف مو ضعات پر تبادلہ خیال کیا، دورے کے موقع پر سکھ یا تریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ گرونانک کے 548ویں جنم دن کے موقع پر پشاور کا رخ کیا۔اس موقع پر وفد میں موجود خاتون نوودید اور دیگر سیکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ یہاں آکر ان آثار قدیمہ ، نوادرات ، مذہبی عبادت گاہوں اور دیگر کے بارے میں جان کر اور انہیں دیکھ کر اچھا لگا جہاں ایک وقت میں ہمارے بڑوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی ، ہمیں ہندوستان سے زیادہ یہاں پیار ملا اور تحائف دیئے گئے پشاور کے عوام میں آکر ایسا لگا جیسے اپنے ہی دیس میں آئے ہوں، ان کا کہنا تھا ہیاں آکر معلوم ہوا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈ حقیقت اور حالات کے بلکل بر عکس ہیں، پاکستانی لو گ نہایت ملنسار ، خوش اخلاق ، امن پسند اور عاجز ی رکھنے والے لو گ ہیں ہم ہیاں آکر فخر اور سکون محسوس کر رہے ہیںان کا کہنا تھا کہ ہیاں آکر پشاور میں لوگوں سے ملنے والا پیار ہم کھبی ہیں بھلا سکیں گے، ٹوورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام مذہبی سیاحت کےلئے اقدمات کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے، حسب روایات پشاور کے دورے میں شامل سکھ یاتری امن و آشا کا پیغام لے کر جا ئینگے اور پوری دنیا کو پیغام ملے گا کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادی محفوظ ہے ہم امید کر سکتے ہیں دورہ پشاور میں شامل سکھ یا تری پشاور کے عوام کی مہمان نوازی اور پرامن شہر کی داستان اچھے الفاظ میں یاد کر ینگے

peshawar museum

شہزادہ فہد

عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی، اور ارتقاءجیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے دنیا بھر کے عجائب گھروں میں رکھی ہو ئی اشیا ءگزری ہو ئی قوموں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن کی عکاسی کر تی ہیں، خیبر پختونخوا میں مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا ہے یہاں بسنے والی قوموں کی کچھ نشانیاں ہما رے پاس تا حال محفوظ ہیں ، جو کہ پشاور میو زیم میں نمائش کےلئے رکھی گئی ہیں، پشاور میو زیم تعیمرات کے حوالے سے ایک شہکار مانا جا تا ہے جو کہ ایک صدی سے زائد عرصہ قبل بنایا گیا تھا ، جس میں مغل اور برٹش دور حکومت کی عکا سی کی گئی ہے، پشاو رمیو زیم ایم پی اے ہاسٹل اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کے درمیان جیل پل سے تقریبا پانچ منٹ مسافت پر واقع ہے، میوزیم میں گندھارا مجسمے، سکے، مسودات اور قرآن کی کاپیاں، شلالیھ، ہتھیاروں، کپڑے، زیورات، کالاش پتلوں، مغل دور کی پینٹنگز اور سکھ انگریز ادوار کی ایشاءاور مقامی مختلف تہزیبوں کی دستکا ریاں موجودہ ہیں ، پشاور میو زیم کی تاریخ کے بار میں بتا یا جا تا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں1906 ء میں تعمیر کیا گیا تھا ،دو منزلہ عمارت، برطانوی اور مغل تعمیراتی شیلیوں کی آمیزش، اصل میں ایک مرکزی ہال اور زمین اور پہلی منزل پر دو طرف دروازوں پر مشتمل ہے. میوزیم کی عمارت میں مزید دو ہالز کو مشرقی اور مغربی دروازوں کو ختم کرکے شامل کیا گیا. اس وقت پشاور میوزیم دنیا میں گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے. میو زیم میں نوادرات کے ساتھ برٹش دور کی بندوقیں ، جو کہ وہ خو د استعمال کر تے یا ان کے خلاف استمعال کی جا تی تھیں پڑی ہیں ، مرکزی ہال میں گندھارا آرٹ کے موضوع مہاتما بدھ کی زندگی کی کہانیاں، معجزات، علامات، اوشیش تابوت اور انفرادی کھڑے مہاتما بدھ کے مجسمے کی پرستش بھی شامل ہے ، میوزیم کے ایک حصہ میں حصے میں خیبر پختنونخوا اور چترال کے Kalasha کے اہم قبائل کی ثقافت کی اشیاءنمائش کےلئے رکھی گئی ہیںجن میں تلواریں، خنجر، نیزوں، کمان، تیر، ڈھالیں، توتن بھری ہوئی گن، ریوالور، پستول اور بارود خانوں کو بھی شامل ہیںجبکہ میوزیم کی گیلریوں میں بھارت اور ہند یونانی حکمرانوں کے مسلمان حکمرانوں کے سکوں سیمت زیورات اور دیگر اشیاء ڈسپلے پر موجود ہیں، میوزیم میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرکیالوجکل سائیڈز جن میں ، تحت بھائی ، شاہ جی ڈھیری ، سری بہلول ، جمال گھڑی اور دیگر سے دریافت ہونے والے نوادرات رکھے گئے ہیں، پشاو ر میوزیم کی تا ریخ کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ دراصل پشاور میوزیم ( وکٹورین میموریل ہال ) برطانوی فوجی اور سول افسران کے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا. تاہم آثار قدیمہ مشن صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کھدائی شروع ہو نے کے بعد جب برطانوی حکمرانوں کو ایک میوزیم کے لئے ضرورت کا احساس ہوا تو انھوں نے1906 ءمیں اس یادگار عمارت کو میوزیم میںتبدیل کر دیا ،محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات کے فوکل پر سن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انگریز جب ایشاءمیں آئے تو وہ ہر قوت خزانے کی تلا ش میں سرگرداں رہتے تھے کھدائی کر تے تھے اور قیمتی نوادرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیاں سے ملنے والے نوادرات ، سونا، بدھا مجسموں کی دریافت پر وہ ان کو زاتی ملکیت سمھجتے تھے ، ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے قیام کے بعد سروے شروع ہو ئے نو ادرات کو تلاش کر کے انھیں برٹش میو زیم ، کلقتہ میوزیم شفٹ کیا جا تا تھا ان عجائب گھروں میں کندھارا آرٹ گلیریاں ابھی بھی موجود ہیں1906ءمیں خیبر پختونخوا سے دریافت ہو نے والے بھا ری قدامت مجسموں کو منتقل کر نے کے عمل میں دوشواریاں سامنے آئی تو انگریزوں نے پشاورمیں وکٹورین میموریل ہال کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ، پشاور میوزیم کو بطور ڈسٹرکٹ اسمبلی کے طور پر بھی استمعال کیا گیا جبکہ سرکا ری تقریبات کےلئے بھی بلڈنگ استمعال کی گئی ہے ،پشاور میوز یم پوری دنیا میں بہترین نمونوں کےلئے مشہو ر ہے اس وقت کندھا را آرٹ کی سب سے بڑی کولکشن کے ساتھ اسلامی تہذیبوں اور سکھ ، ہندو دور کی پینٹنگ کی بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار پشاور میوزیم آتے ہیںجبکہ لوکل افراد ، سکول، کالچ، یونیورسٹیوں کے طلباءکی گہماگہمی لگی رہتی ہے

سانس لیتا فرش
وکٹورین میموریل ہال کی پشاور میوزیم یں تبدیلی کے بعد میوزیم کا فرش جو کہ انگریزوں کی ثقافتی سرگرمیوں کےلئے بنایا گیا تھا اپنی نویب کو واحد فرش ہے ہے کہ چوبیس گھنٹے سانس لیتا ہے ایک صدی گزر جانے کے باجود اپنی اصلحالت میں موجود ہے ، بہترین تمعیر کا شہکار ڈانسنگ فلور لکٹری سے بنایا گیاتھا جو کہ زمین سے چار فٹ اوپر ہے ، لکٹری کو دیمک لگانے کے پیش نظر فرش میں نالیاں بچھائی گئی تھیں جس سے ہوا فرش کے اندر گردش کر تی رہتی ہے اس کا اہمتام اس لئے کیا گیا تھا کہ دیمک کے ساتھ اسے نمی سے بھی محفوظ رکھا جاسکے ، بدقسمتی سے میوزیم کے قریب سڑک کی تمعیر سے ہونے سے ہوادان بندہو گئے تھے جس سے فرش کو نقصان پہنچا تھا موجود حکومت کی جانب سے مزکورہ ہوادانوں پر بر قی پنکھے لگائے گا دئیے گئے ہیں

peshawar4OLYMPUS DIGITAL CAMERApeshawar-museu-headspeshawar-3

سانس لیتا فرش

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

story of a garden in peshawar wazir bagh

شہزادہ فہد۔۔۔fffffff
مغلیہ دور کی یادگاروزیر باغ زبوں حالی کا شکار ہے تاریخی باغ کے تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی مٹی اور گندگی سے بھرے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے ،میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی یہ شاندار یادگار کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل ہو چکا ہے پھولوں اور باغات کا خوبصورت شہر پشاورکو اب پھولوں اور باغات کا شہر نہےں کہا جا سکتا ہے شاہی باغ، جناح باغ، وزیر باغ، کمپنی باغ سمیت بہت سارے باغات اس شہر کی خوبصورتی کے ضامن تھے بڑھتی آبادی، نا مناسب منصوبہ بندی اور چاروں طرف پھیلتے شہر نے یہاں کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح چاٹ لیادہشتگردی اور بد امنی کے بعد حکومتی عدم دلچسپی کے باعث شہر پشاور مےں واقع مغلیہ دور کی یادگار وزیر باغ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے مغل دورکی یادگار وزیر باغ درانی حکمران پرنس شاہ محمود درانی کے دور میں سردار فتح محمد خان برکزئی عرف وزیر کی طرف سے تعمیر کیا گیا سردار فتح محمد خان نے پشاور میں شاہ شجاع کی حکمرانی کے بعد 1810 میںاس باغ کی بنیاد رکھی، باغ چار باڑوں پر مشتمل تھا اور کنویں کے ساتھ ساتھ ایک پویلین، مسجد، فٹ بال گراو ¿نڈ، دو کشادہ لان اور تالاب بنائے گئے لیکن انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی بدولت ہزاروں سال پرانی مسجد خستہ حالی کا شکار ہے ، تاریخی کنواں گندگی کے ڈھیر سے بھر چکا ہے جبکہ تالاب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظر آرہے ہےں وزیر باغ مےں داخلے ہوتے ہی گرد و غبار سے اٹے میدان آپکو خوش آمدید کہےںگے بزرگوں کےلئے تازہ ہوا کا ذریعہ اورایک عمدہ تفریح گاہ وزیر باغ تو کہانیوں مےں رہ گیا مغلیہ عہد کا یہ شاندار باغ اب زبان حال سے پکار پکار کر حکومتی بے حسی کا رونا رو رہا ہے درختوں اور سبزے کا وجود بس صرف برائے نام رہ گیا ہے میدانوں کے گرد چارد یواریاں لگا تعمیر کرکے اس کی کھلی فضاءاور وسعتوں کو بری طرح تباہ کیا گیا جبکہ ایک چمن مےں جھولے لگائے ہےں لیکن ان جھولوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی انتظامیہ کی بڑی ذمہ داری ہے بد تہذیب نوجوان جھولوں کا ستیاناس کر دیتے ہےں اور بچے دیکھتے ہی رہ جاتے ہےں وزیر باغ پشاور میں سب سے قدیم اور بڑا باغ سمجھا جاتا ہے یہ باغ ایک عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہے پرانی روایت کے مطابق یہ باغ خوبانی، آڑو، انار، ناشپاتی اور رنگا رنگ پھولوں سے بھرا ہوا تھا انگریزی سفیر سر الیگزینڈرنے 1832 میں دورے کے دوران اس تاریخی وزیر باغ میں قیام کیا تھا تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور تاریخی ورثے بارے کم بیداری ہونے کے باعث مقامی لوگوںنے اس شاندار یادگار کو کھےل کے میدان اور کھنڈرات مےں تبدیل کر دیادور جدید مےں تقریبا اس کی ہریالی ختم ہورہی ہے اس باغ کو ماضی میں ایک پکنک کی جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور خاص طور پر اس پیپل کے درخت اس کی خوبصورتی پر غور کیا گیا باغ کی زیادہ تر خوبصورتی کو تباہ کر دیاگیا ہے سماجی کارکنوں نے کئی بار اس پر خدشات اٹھائے ہیں لیکن کوئی شنوائی حاصل نہ ہو سکی وزیر باغ مغلیہ دور کی نشانی ہے سابقہ ادوار میں حکومت نے وزیر باغ کی دیکھ بھال کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن کے مو جود ہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعدمغلیہ دور کے ان باغات کی دیکھ بھال کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے قبضے کر کے پارک کو چھوٹا کر دیا پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکم دے رکھا ہے کہ تاریخی باغات کو اصل حالت میں لانے لیے حکومت اقدامات کرے۔

صوبا ئی دارلحکومت پشاور پھولوں کا شہر کے نام سے جانا جاتا تھا حکومتی عدم تو جہی پھول ، با غا ت قصہ پارینہ بن چکے ہیں شہر بھر میں تفریحی مقامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔شہر میں کنتی کے چند باغ ہیں جن میں باغ ناران ، شالیمار باغ مشہو ر ہیں جبکہ شاہی باغ ، وزیر باغ کو کرکٹ گراونڈ کے طور پر جا نا جا تا ہے ۔ پشاور میں باغات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور پارکوں میں انٹری فیس سے لے کر پارکنگ فیس کی من مانی وصولی سے شہری گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں باغات کی دیکھ بھال اور تفریحی فراہم کر نا حکومت کی زمہ داری ہے