Tag Archives: police

Police SMS Complaint System Failed In KP

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بنائے جانے والا ایس ایم ایس سسٹم ناکام ہو گیا ، تین سالوں کے دوران صوبے بھر سے شہریوں نے پولیس اہلکاروں اور ذاتی معاملات کی 5680 شکایا ت بذریعہ ایس ایم ایس کیں ، تین سالوں کے دوران سنٹرل پولیس آفس کو صوبے بھر سے 5 ایس ایم ایس یومیہ موصول ہو ئے ، صوبے بھر میںسب سے زیادہ ایس ایم ایس ضلع پشاور کے شہریوں کی جانب کئے گئے ، اسی طرح تین سالوں میں ڈی آئی خان کے شہریوں نے 304 ایس ایم ایس کے ذریعے پولیس کا اپنی ساتھ ہو نے والی زیادتی سے آگاہ کیا ، سابق آئی جی خیبر پختونخوا نا صر خان دورانی کی نگرانی میں محکمہ پولیس نے 5 جولائی 2013ءکو سنٹرل پولیس آفس میں پولیس تک رسائی کے نام سے ایک کمپلنٹ سیل قائم کیا،کمپلنٹ سیل میں شہریوں کو اپنے ساتھ ہو نے والی ذیادتی کے تدارک کے لئے آئی جی پولیس اور ایک دیگر موبائل نمبر فراہم کیا گیا جبکہ ، فیکس ، ای امیل ، آن لائن ایف آئی آر کے اندراج کےلئے پولیس وئب سائیڈ پر ایک فارم پر کرنے کے بعد آئی ڈی بنانے کا عمل ترتیب دیا گیا، ایس ایم ایس سسٹم کی بہتری کے لئے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے اور فوری عمل درآمد نہ ہو نے کے باعث صوبے کے شہریوں نے پولیس کو بذریعہ ایس ایم ایس شکایات درج کرنے کے عمل میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے، ایس ایم ایس سسٹم کے مطابق شکایت کنندہ کا میسج سنٹرل پولیس آفس موصول ہو تا ہے جس کے بعد شہری کی شکایت متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سمیت ریجنل پولیس آفیسر کو شکایات فاروڈ ہو جاتی ہیں ،سنٹرل پولیس آفس کو ایس ایم ایس کر نے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او شکایب کنندہ کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کی جاتی ہیں ،تاہم پولیس کے خلاف ایس ایم ایس کر نے کے بعد شکایات کنندہ پر متعلقہ پولیس کا دباو¾ شروع ہو جاتا ہے جس کے بعد اعلیٰ پولیس حکام کو فریقین کے مابین صلح کی رپورٹ دی جا تی ہے ، سنٹرل پولیس آفیس سے دستیاب دستاویز کے مطابق 12 نومبر 2014ءسے 29 ستمبر 2017 ءتک مجموعی طور پر صوبے بھر سے شہریوں نے تین سالوں کے دوران 5680 ایس ایم ایس سینڈ کئے ، جس میں سب سے زیادہ 1735 ایس ایم ایس پشاور کے شہریوں نے کئے ، دوسرے نمبر پر 1554 ایس ایم ایس مردان کے شہریوں کی جانب سے کئے گئے ، ملاکنڈ 406 ، بنوں 538 ، کوہاٹ 371 ، ہزارہ 772 جبکہ تمام اضلاع سب سے کم شکایات بذریعہ ایس ایم ایس ڈی آئی خان سے موصول ہو ئیں جہاں شہریوں نے تین سالوںمیں 304 ایس ایم ایس کر کے جدید شکایاتی نظام کو استعمال کیا، محکمہ پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے جدید نظام کے زریعے شکایات کے اندارج میںکمی واقع ہو ئی ہے ، دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت کنندہ کا موبائل نمبر متعلقہ ایس ایچ اور اور ڈی پی او کو دستیاب ہو نے سے شکایات کنندہ پر دباو¾ بڑ جاتا ہے جس کے بعد فریقین کے مابین صلح کروا کر اعلی ٰ افسران کی آنکھوںمیں دھول جونکی جا تی ہے ۔

 

Advertisements

Interest Rate Rise In Khyber Pukhtoonkhwa (خیبر پختونخوامیں سود خوری)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون ہونے کے باوجود صوبے میں سود خوری عروج پر پہنچ گئی ، سودخوروں نے قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نئے حربے ایجاد کر لئے،

شہزادہ فہد ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سود کے خلاف قانون کارآمدثابت نہ ہوسکا ، سود خوروں نے قانون کومات دینے او ر پولیس کی گرفت سے بچنے کےلئے نیا حربہ اپنا لیا ، قرضہ دیتے مجموعی رقم میں سود شامل کرکے کاغذئی کاروائی کی جانے لگی ہے، قرضے کے حصول کےلئے مجبور شخص ا سٹاپ پر دستخط کرکے سودخوروں کو محفوظ بنا دیتے ہیں ، پولیس حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،2016ءمیں خیبر پختونخوا اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور کے مختلف تھانوں میں 92 افراد کے خلاف سود ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے گئے جن میں 60 افراد گرفتار ہو چکے ہیں ،تھانہ بڈھ بیر میں سب سے زیادہ سودخوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ گلبہار دوسرے نمبر پر رہا ،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے،سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی،مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکے گی ،اسی طرح عدالت فریقین کے مابین کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی،بل کے تحت اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی نہیں کریگا،عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی ، دوسری جانب سودخوروں نے قانون کی گرفت سے بچنے کےلئے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے ، قرضے کی رقم میں سود شامل کرکے مجموعی رقم کا معاہدہ کرنے پر قانون کے شکنجے سے محفوظ ہونے لگے ، 2016 ءخیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور پولیس نے 92 افراد کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جن میں 72 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ، صوبائی دارلحکومت پشاو رکے 30 تھانوں میں سب سے زیادہ 22 مقدمات بڈھ بیرمیں درج کئے گئے ، اسی طرح دوسرے نمبر پر گلبہار میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے مھترا میں 8 ،یونیورسٹی میں 6، گلبرگ،خرانہ اور پشتخرہ میں 4/4 مقدمات جبکہ شاہ قبول، بھانہ ماڑی، پھندو، اور داود زئی میں 3/3 مقدمات درج کئے گئے ہیں ، تھانہ خان رزاق ،فقیر آباد،پہاڑی پورہ،شرقی، حیات آباد،تاتارہ،ریگی ماڈل ٹاون، چمکنی میں کو ئی مقدمہ درج نہ کیا جاسکا ہے ۔

 

Target Killing In Khyber Pukhtoon Khwa 9 Month Data 2017

خیبر پختونخوا میں رواں سال کے 9ماہ مین 31 افراد کی ٹارگٹ کلنگ

عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ پشاور کے شہری،دوسرے نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے، پہلے تین ماہ صوبہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے بھاری رہے

ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا، ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں 90 ہوئیں،دستاویزات میں انکشاف

شہزادہ فہد

خییبر پختونخوامیں رواں سال کے نوماہ کے دوران 31 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چھڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پشاور کے شہریوں کی ہے جبکہ دوسری نمبر پر ڈی آئی میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا،خیبر پختونخوا میں رواں سال کے نو ماہ کے دوران مختلف اضلا ع میں 31 افراد کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ، دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ 5 افراد کو پشاور میں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں 4 افراد مذہبی منافرت اور عسکریت پسندی کی بھینٹ چھڑ ے ، دستاویز کے مطابق 2017ء کے جنوری،فروری،مارچ میں ٹارگٹ کلنگ کے14 واقعات رونما ہوئے ، رواں سال کے پہلے تین ماہ صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لحاظ سے بھاری رہے ، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ صوبے بھر میں ذاتی دشمنیوں اور لین دین،معمولی تکرار پر 32 افراد کو قتل کیا گیا،صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ہو نے والی سب سے زیادہ اموات 2014ءمیں ہوئیں 90 افراد کوقتل کیا گیا

target-killings

New musical instrument For Peshawar Police Band

شہزادہ فہد

پشاور پولیس میں تبدیلی آگئی ، 25 سال سے پولیس بینڈ کے زیر استعمال آلات موسیقی تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات پر20 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی ، پشاور پولیس نے25 سال بعد پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، گزشتہ روز پشاور پولیس لا ئز میں ایس پی کواڈینیشن اور دیگر حکام نے نئے آلات کا معائنہ کیا ، شادی کی خوشیوں کو دوبالا کر نے اور شہداءکو سلامی پیش کرنے والے پشاور پولیس کے 45 افراد پر مشتمل پائپ بینڈ اور گراس بینڈ کے پاس آلات موسیقی 25 سال پرانا تھا، روزنامہ 92 نیوز سے بات چیت کر تے ہو ئے ایس ایس پی کواڈینیشن قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ پولیس بینڈ کےلئے نئے آلات موسیقی خریدنے کےلئے مختلف نجی کمپنیوں سے کوٹیشن طلب کی ہے ، بینڈ کے پاس موجود چند آلات میں خرابی آئی ہے جس کی وجہ سے نئے آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نئے آلات سے پولیس بینڈ اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ، پشاور پولیس بینڈ کے اہلکاروں کو جدید آلات کی فراہم سے ان کے فن میں نکھار آئے گا ، دنیا بھرکے ٹاپ پولیس بینڈ ز میں اول نمبر پر سکاٹ لینڈ دوئم پر نادرن آئرلینڈ اور بلترتیب کینڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ ، امریکہ فرانس سرفہرست ہیں، سرکاری سطح پر تقاریب کے انعقاد پر پشاورپولیس بینڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہو ئے مزید بہتری کی IMG_20170925_140518ضرورت ہے ، تاکہ یہ فن مزید پروان چڑے ۔

 

Crime Six Month Data 2017

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور جرائم کی شرح سب سے زیادہ پشاور میں رہی جبکہ نوشہرہ دوسرے نمبر پر رہا ، دہشت گردی اور جرائم کے لحاظ سے ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا ،صوبے میں امن کے باوجود چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 واقعات ہو ئے جبکہ ہر ماہ اوسطا پانچ افراد مختلف اضلاع سے اغواءہوتے رہے ، چھ ماہ میں 20 افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور 327 افراد کو مختلف تنازعات میں قتل کیا گیا ، بھتہ خور بدستور صوبے کے مختلف اضلاع میں راج کر تے رہے ، چھ ماہ میں بھتہ خوری کے 17 واقعات ہو ئے جبکہ بھتہ خوری کے غیر رجسٹرڈ واقعات اس سے کئی زیادہ بتائے جاتے ہیں ، صوبائی حکومت کی جانب سے حاصل کر دہ اعداد وشمار کے مطابق صوبے کے 25 اضلاع میں 6 ماہ کے دوران دہشت گردی کے 88 ، بھتہ خوری کے 17 ، اغوائیگی کے 32 واقعات رونما ہو ئے، جبکہ 6 ماہ کے دوران 20 افراد کوٹارگٹ کلنگ کا بھی نشانہ گیا،چھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں 20 ڈکیتیاں رونما crime-scene-4ہو ئی اور 327 افراد کو مختلف تنازعات پر قتل کیا گیا، دہشت گردی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ پشاورسرفہرست رہا، پشاور میں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے26 واقعات ، بھتہ خوری کے 8 واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے 5 واقعات رونما ہو ئے، اغوائیگی اور ڈکیتوں میںنوشہرہ سر فہرست رہا چھ ماہ کے دوران 6 افراد کو تاوان کی غرض سے اغواءکیا گیا اسی طرح چھ ماہ کے دوران 8 ڈکیتوں میں شہریوں کا لوٹا گیا ، اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوارن صوبے کے تمام اضلاع پشاور ، چارسدہ، نوشہرہ ، مردان ،صوابی ، سوات، بونیر شانگلہ، دیر، چترال ، کرک ، ہنگو، کوہاٹ ، مانسہرہ ، ہری پور ، بٹگرام ، کوہستان ، ایبٹ آباد ، تورغر، ڈی آئی خان ، ٹانک ،بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کے 88 واقعات ، ٹارگٹ کلنگ کے 20 ،بھتہ خوری کے 17 ، اغواءکار ی کے 32 ، واقعات رونما ہو ئے اسی طر ح چھ ماہ کے دوران 327 افراد کو مختلف تنازعات کی صورت میں قتل کیا گیا ، چھ ماہ کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں ڈکیتوں کے 20 واقعات میں شہریوں کو جمع پونچی سے محروم کیا گیا ، اسی طرح ڈکیتی اوراغوائیگی میں نوشہرہ تمام اضلاع کی نسبت سہر فہرست رہا ، چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ نوشہر ہ میں 6 افراد کو اغواءکیا گیا اور ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں 8 ڈکتیاں رونما ہوئی ، خیبر پختونخوا میں چھ ماہ کے دوران ڈسٹرکٹ چترال سب سے پرامن رہا جہاں چھ ماہ کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوائیگی، ڈکیتی اور قتل کی کوئی واردات رونما نہیں ہو ئی ۔

kpk police ko dar pish masail… wifaq ko sochna pary ga …

شہزادہ فہد

ملک میں جاری دہشت گردی سے جہاں عوام کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے وہاں خیبر پختون خواہ پولیس کی قربانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایک طرف دہشت گردی کا نشانہ بنے والے کسی کے پیارے ہوتے ہیں تو وہاں دوسری طرف وردی میں ملبوس خیبر پختون خواہ کے جوان بھی کسی کے بیٹے ، بھائی اور شوہر ہوتے ہیں جو سخت ترین ڈیوٹی کر کے عوام کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں۔ خیبر پختون خواہ پولیس پاکستان میں تمام صوبوں کی پولیس پرسبقت رکھتی ہے جس کی حقیقت پر چشم پوشی نہیں کی جاسکتی چودہ سالوں سے جاری دہشت گردی میں کے پی پولیس کے گیارہ سو سے زائد پولیس اہلکا ر افسران جس میں اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک نے ملک کی سلامتی کے لئے جان کی قربانی پیش کر چکے ہیں اور دو ہزار سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیںیہ اعداد و شمار پاکستان میں تعینات تمام پولیس فورس میں سب سے زیادہ ہے۔ 2011 سے لے کر 2015 تک خیبر پختون خواہ پولیس پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے 2009 میں ہونے والے آرمی کاسوات آپریشن کے پی پولیس کے لئے سب سے بھاری رہا جس میںدو سو سے زائد نو جوانوں شہید ہوئے خیبر پختون خواہ جس کے طول و عرض میں فاٹا ایجنسیاں موجود ہیں پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔خیبر پختونخواہ پولیس وطن عزیز کی خاطر قربانیوں میں اول نمبرپر ہے جہاں پولیس کے سیکڑوں جوان اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں وہاں خیبر پختون خواہ پولیس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ وفاق کی جانب سے بلوچستان اور گلگت بلتستان کو پولیس کے لئے حساس علاقہ (ہارڈ ایریا) قرار دیا گیا ہے پی ایس پی یا پی اے ایس پولیس آفیسر کی ترقی کے لیے تین سال ہارڈ ایریا میں ڈیوٹی سرانجام دیتی لازم ہوتی ہے جوکہ ہر اعلی آفیسر اپنی ترقی کے لیے ہارڈ ایریا میںڈیوٹی دیتاہے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ نا تو بلوچستان میں حالات خیبر پختون خواہ کی طرح نازک ہیں اور ناہی گلگت بلتستان میں حالات خراب ہیں حساس علاقہ( ہارڈ ایریا) قرار دیئے جانے کے بعد تمام آفیسرز اپنی خدمات صوبے کو پیش کر دیتے ہیں اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی سے جہاں حالات بہتر ہوتے تو وہاں صوبے میں امن وامان کی صورت حال بھی اطمینان بخش رہتی ہے۔اس کے بر عکس خیبر پختون خواہ جہاں امن کی صورت حال روز بہ روزبد سے بدتر ہو رہی ہے وہاں پولیس کے اعلیٰ افسران کی کمی محکمہ پولیس خیبر پختون خواہ امن کے قیام کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔سنٹرل پولیس آفیس کے مطابق صوبے کو محکمہ پولیس کو 56سے زائد اعلیٰ ترین آفیسرز کی کمی کاسامنہ ہے تفصیلات کے مطابق18گریڈ کے منظور شدہ 74آفیسر میں 44 آفیسرز صوبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ 30 افسران کی کمی کا سامنہ ہے اسی طرح 19 گریڈ کے منظور شدہ 33 اعلی افسران میں 21 افسران موجود ہیں جبکہ12 اعلی آفیسرز کی کمی کے مسائل درپیش ہیں ۔گریڈ20 فل ڈی آجی میں 18 منظور شدہ سیٹوں پر صرف 5 ڈی آئی جیز خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ13 ڈی آجیز کی کمی کے پیدا ہونے والے مسائل بھی کم نہیں ہیں صوبے کے معاملات کو دیکھنے کے لیئے ایڈیشنل آجی کی منظور شدہ 5 سیٹوں پر سرف 2 ایڈیشنل آجیز کام کر رہے ہیں جبکہ 3 سیٹیںتاحال خالی ہیں ۔صوبے میں امن و امان کی صورت حال یقینی طور پر اعلی افسران ہی سنبھال سکتے ہیں موجودہ حالات میں صوبے جونیئر افسران خالی سیٹوں پر تعینات کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے حالات میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور سینئر آفیسرزکی پوسٹوں پر جونیئرافسران کی تعیناتی سے مسائل حل ہونے کی بجائے گمبیر ہونے لگے ہیں محکمہ پولیس خیبر پختون خواہ میں مجموعی طور پر 56 اعلی افسران کی کمی ہیپ ۔دہشت گردی سے متاثر صوبہ جہاں حالت جنگ میں ہو آئے روز پولیس اہلکار و افسران کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا جا رہا ہو پولیس کو مراعات بھی میسرنہ ہوں تووہاں کیوں کرکوئی پولیس آفیسرزڈیوٹی کرنے کے لیئے آمادہ ہو گاحتیٰ کے خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی اپنی خدمات صوبے کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںجو بہت بدقسمتی کی بات ہے اگر خیبر پختون خواہ کو حساس علاقہ( ہارڈ ایریا) قرار دیا جائے تو صوبے میں جاری اعلیٰ افسران کا بحران ختم ہو جائے گااور صوبے میں امن وامان کی صورت حال بھی بہتر ہوگی خیبر پختون خواہ کو حساس ایریا قرار دیئے جانے پرموجودہ حالات میں ڈیوٹی دینے والے اعلی افسران کو بھی فائدہ ہو گا جو کے سخت حالات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی صوبے میں خدمات پیش کرینگے اوراپنی تمام ترتوانائیاںصوبے میں امن و امان کی بحالی کے لئے بروئے کار لائیں گے وفاق کو چاہیے کے خیبر پختون خواہ میں امن کی بحالی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے جو کے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے اعلی افسران پاکستان کے دیگر صوبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران بھی خیبرپختون خواہ آنے سے کتراتے ہیں ایک دہائی قبل اعلی افسران خیبرپختون خواہ میں تعیناتی کے لئے سفارش کر تے تھے۔ پی ایس پی اور پی اے ایس میں ٹاپ کر نے والوں کو کی اولین ترجیی تھی کہ وہ خیبرپختونخوا میں تعینات کئے جائیںلیکن حالات اس کے بر عکس ہوچکے ہیں دیگر صوبوں کے اعلی افسران یہاں آنے کی بجائے گلگت بلتستان اور بلوچستان جاتے ہیں جہاں ان کو اضافی مراعات بھی دی جاتی ہیں ۔ چیف منسٹر خیبرپختون خواہ کی جانب سے وفاقی حکومت کوافسران کی کمی کو پورا کرنے لئے خط بھی لکھا گیا ہے وفاق حکومت خیبرپختون خواہ میں امن و امان کی بحالی کے لئے خیبر پختون خواہ کو ہارڈ ایریا قرار دینا ہوگا تاکہ صوبے میں تعینات اعلی افسران کو ان کی محنت کا ثمر مل سکے10338716_770723729682088_4104551166527158926_n

4 years child kidnap from ps pahari pura

شہزادہ فہد۔۔۔۔۔
یہ 16 دسمبر کی شام تھی جب رحمت اللہ اپنی شہد کی دکان میں کام کرنے میں مصروف تھا اچانک اس کے گھر سے فون آیا کہ اس کے چار سالہ بچے کو کسی نے اغواء کر لیا ہے تو ایسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کے بدن سے کسی سے روح زبردستی کھینچ لی ہو۔یکدم سے وہ زمین پرگر پڑا،ہوش میں آتے ہی وہ گھر پہنچا جہاں اسے اس کی بیوی نے بتایا کہ تین افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ اور کہا کہ چاول لے لوتب اس نے ڈرکے مار ے دروازہ نہیں کھولا اکیلے ہونے کے ڈر سے وہ حواس باختہ ہوچکی تھی تا ہم ا سی دوران بیس منٹ گزر چکے تھے اورایک بارپھر دروازے پر دستک ہوئی۔دروازے کے پیچھے سے ایک بچی کی آواز آئی ،پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ وہ پڑوسیوں کی بچی ہے جو معمول کے مطابق کوڑا کرکٹ لیجانے آتی ہے۔دروازہ کھولتے ہی اسے جھٹکامحسوس ہوا،تین افرا دجو کہ پہلے ہی سے اسی تاک میں تھے کہ کسی طرح سے دروازہ کھلے اور ہم اندرداخل ہوں او ر ایسا ہی ہوا ،دروازہ کھلتے ہی وہ تینوں جوکہ مسلح بھی تھے ہمارے گھر میں داخل ہوئے اورمیرے دوسالہ بیٹے مصطفی کودبوچ لیا۔دوسرے لمحے انہوںنے دیکھا کہ مصطفی کا بھائی سہیل جو عمر میں اس سے بڑا ہے کواٹھا کر بھاگنے لگے ۔ان کے اس اقدام پرگھر میں کہرام مچ گیا گھر میں چیخ و پکار شروع ہوگئی تھی ملزم وارادات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔جب رحمت اللہ نے اپنی بیوی کی زبانی یہ ساراقصہ سنا تو باہر محلے میں دیوانہ وارچیخنے لگااور محلے والوں کوبرا بھلا کہنے لگا کہ تم میں سے مرد کوئی نہ تھا جو میرے بچے کو ان سے بچاتا ۔اسی طرح دن گزرتے رہے اور ہر دن اس کے گھر میں ماتم ہوتا ۔ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا رحمت اللہ اپنے گھروالوں کو تسلی دیتا رہا۔ اس کی بیوی دیوانوں کی طرح اپنے بچے کو پکارتی اور یاد کرتی رہی ۔آخر کا راسے ایک نامعلوم نمبرسے ایک کال موصول ہوئی جس میں نامعلوم ملزمان نے اس سے اس کے بچے کی رہائی کے لئے دوکروڑ کی رقم کا مطالبہ کیا۔رحمت کے مطابق میں اپنے بچے کی خاطراپنا سب کچھ بیچنے کیلئے تیار تھا۔ اسی دوران اس نے پولیس کو بھی واقعے کی اطلاع دی تھی، وہ بے خبر اپنے بچے کی یاد میں گم سم رہتا تھاکہ ایک دن اسے پولیس کی جانب سے اطلاع ملی کہ اس کے بچے کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔یہ دن اس کے لئے عید کاد ن تھا وہ دن آہ گیا تھا جب وہ اپنے بچے کو بھر سے اپنی باہنوں میں اٹھا سکتا تھا جیسے ہی وہ اپنے بیٹے کے پاس قریب پہنچا بیٹا نے اسے پہچانے سے انکار کر رہا تھاڈیڑھ ماہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ اپنے باپ کی نہیں پہچان رہا تھا

اے ایس پی فقیر آباد بلال فرقان کا موقف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ایس پی فقیر آباد فرقان بلال کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے 27 چھاپے مارے ملزم بہت شاطر تھے۔اخر کار ملزم قانون کے شکنجے میں آہ چکے تھے پولیس نے یوسف آباد میں مکان پر چھاپہ مار کر دو اغواء کاروں کو گرفتار کرلیاجبکہ گروہ کے سرغنہ اور پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر سمیت دیگر 4 اغواء کار فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کیلئے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں پولیس نے دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انکی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں اے ایس پی فرقان بلا ل نے مزید کہا ملزموں نے چند دنوں بعد ملزمان نے مغوی کے والد سے بچے کی رہائی کیلئے 2کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کردیا تھا جبکہ نہ دینے کی صورت میں بچے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ۔پولیس نے دو اغواء کار وںزبیر ولد بخت لعلی سکنہ ٹیلہ بنداوروقار حسن ولد گل حسن سکنہ شگئی ہندکیان کو گرفتار کرلیاہے جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنے دیگر ساتھیوں سہیل،شہزاد،بلال،مسماة سیمااورکبیر خان کے نام اگلتے ہوئے بتایا کہ مغوی بچہ ان کے قبضہ میں ہے جس پر پولیس نے ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری اور بچے کی بازیابی کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیا پولیس کی جانب سے مسلسل چھاپوں کی وجہ سے ملزمان نے اپنی گرفتاری کے ڈر سے مغوی بچے سہیل کو بغیر کسی تاوان وصول کئے علاقہ یوسف آباد میں چھوڑ دیا جسے انہوں نے تحویل میں لے کراس کے والدین کے حوالہ کردیا اے ایس پی فرقان کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان میں پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر مسماةسیما بھی شامل ہیں جو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت قبائلی علاقہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں جن کی جدید سائنسی خطوط پر نشاندہی کی گئی ہے اور عنقریب انہیں بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا ۔

بازیاب ہونے والے بچے کے والد کا موقف ۔۔
بازیاب ہونے والے 4 سالہ سہیل کے والد نے کہا ہے کہ لخت جگر کے اغواء ہونے کے بعد راتوں کی نیند اڑ چکی تھی اپنی بیوی کو تسلی دیتا رہا لیکن خود اپنا غم دل میں دبائے رکھا گھر والوں کے حوصلے کے لئے ان کے سامنے کبھی نہیں رویا یہاں تک کہ آنکھوں کے پتلوں میں آنسوں دب کر رہ گئے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ جلد ازجلد آنکھوں کا آپریشن کیا جائے اگر اس میں تاخیر کی گئی تو آنکھ بینائی سے محروم ہوجائے گی مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے کو اغواء کاروں کے چنگل سے باحفاظت بازیاب کر وایا گیا یہ دن میں زندگی کا اہم تر ین دن تھا

ایک وہ معلمہ بھی تھی کہ جس نے سانحہ پشاور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے سرخروہوگئی اور ایک یہ معلمہ ہے جس نے چندروپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازا رنیلام کردیا
کسی بھی معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے جتناکردارایک استا دکا ہوتا ہے اتنا شاید ہی کسی اور کا ہواور چونکہ ہم ایک اسلامی معاشرہ کے باسی ہیں اس لئے ہمیںاپنے آخر ی نبی حضرت محمد ۖ کے اس ارشاد کی طرف بھی غور کرنا ہوگاجو انہوںنے فرما کے ہمارے لئے آسان کردیا ارشاد فرماتے ہیں”کہ بے شک میں معلم بنا کربھیجا گیا ہوں”۔آپۖ کے اسی ارشاد کے پیش نظرایک مسلمان استاد کے فرائض سامنے آتے ہیں ا س پر با ت کرنا بہت ہی آسان ہے۔کیونکہ جب ہمارے پیارے نبی ۖ ہی معلم بنا کر بھیجے گئے او ر جنہوںنے عرب کی جاہل او رگری ہوئی قوم کوآسمان کی بلندیوں پر اپنے بہترین اخلاق کی بدولت پہنچا دیا جس کی مثال قیامت تک کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔او ربطورمسلمان اگر ہم بھی معلمی جیسے پیغمبری پیشے کو اپناتے ہیں تو ہمیں بھی ان صفات کو اپنے اندر لانے کی سعی کرنی ہو گی جو صفات ایک معلم کے اندرمعلمانہ صفات بناتی ہیں اور جس کی وجہ سے ایک معلم اپنے شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں قوم کے مستقبل کے لئے تیار کرتاہے۔ لیکن اگرمعلم ہی اپنے فرائض سے اغراض کرکے معاشرہ کو ترقی کی بجائے تنزلی عطا کرے تو یقینامعاشرہ جلد یا بدیراپنی ساخت کھو بیٹھتا ہے ۔اورجیساکہ پشاورحالیہ واقعہ کہ جس میں ایک معصوم نونہال کے اغواء میں ایک معلمہ ملوث پائی گئی کاکرداراگرمعاشرہ دیکھتا ہے تو یقینالوگوں اور خاص طورسے بچوں کے اذہان میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ ہمارا آج کا معلم ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ایک طرف وہ معلمہ تھی جس نے سانحہ پشاورمیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سرخرو ہوگئی او رایک یہ معلمہ ہے جس نے روپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازارنیلام کردیا۔ffffffffffffffffff