Tag Archives: songs

Pigeon Shooting In Peshawar (پشاور میں کبوتر بازی)

سروے رپورٹ و تصاویر ، شہزادہ فہد

کبوترباز کبوتر پکڑنے اور کبوتروں کو پالنے والے کو کہا جا تا ہے، کبوتر بازی ایک مشغلہ ہنرکے ساتھ ساتھ ایک منافع بخش کاروباربھی بن چکا ہے، اس کے شوقین افراد کبوتروں کی افزائش اور نئی اور اعلٰی نسل کے لیے کبوتروں کی مخلوط نسلوں کا جوڑا بناتے ہیں کبوتروں کی نسلوں کے بارے یہی لوگ باآسانی اندازا لگا سکتے ہیں، ایک اندازنے کے مطابق دنیا بھر میں کبوتروں کی تقریبا289 سے زائد اقسام ہیں ،کبوتروں کی نسلوں کا فرق ان کی شکل و صورت کے ساتھ اڑان کا دورانیہ اڑان کی بلندی اور طوراطوار سے ظاہر ہوتاہے دنیا بھر میں کبوتروں کے مقابلے ہوتے ہیں جس میں بھاری جوا لگایا جاتا ہے، معاشرتی طور پر کبوتر بازی کو روپے اور وقت کا زیاع سمجھا جاتا ہے اس کے باوجود تقریباً ہر محلے میں کبوتر باز موجود ہیں کبوتر بازی کا مرکز پاک ہند کو سمجھا جاتا ہے شعرا نے اپنے کلام میں کبوتر پر شعر لکھے ہیں عام طور پر شعروں میں کبوتر کا پیغام رساں اور قاصد پرندہ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔صوبا ئی دارلحکومت پشا ومیں سیکڑوں افراد کبوتر باز ی کے شوق میں مبتلا ہیں ، پشاور میں زیادہ تر پنجاب کے کبوتر پسند کئے جا تے ہیںاور نھیں لوکل کبوتروں پر ترجیح دی جا تی ہے ، اس حوالے سے روزنامہ ایکسپریس میں کبوتر بازی کے متعلق سروے میں مختلف علاقوں کے افراد سے معلومات لی گئی ہیں ، پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ لوکل کبوتر چند دن بعد اپنے مالک کے پاس واپس چلا جاتا ہے، پشاور میں سرگودھا ، فتح جنگ ، ملتان ، ڈی آئی خان ، خوشاب اور دیگر جگہوں سے کبوتر وں کو فروخت کےلئے لایا جاتا ہے ، ایک اندازے کے مطابق 200 کبوتر وں کی افزائش پر یومیہ تین سو روپے سے چار سو روپے تک خرچہ آتا ہے ،کبوتر بازی واحد مشغلہ ہے کہ جس میں کبوتر خود اپنا دانہ پانی پیدا کر تے ہیں ، ریس کے کبوتر ہر ہفتہ اپنے ساتھ کو ئی نیا کبوتر لاتے ہیں جس کو مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے،کبوتر بازی سے لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں آئے روز نا خشگوار واقعات نے اس مشغلے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے ، دیہی علاقوں میں کبوتربازی کا رجحان شہری علاقوں سے زیادہ پایا جاتا ہے

پشاور میں کبوتر بازی کی منڈیاں
صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کےلئے باقاعدہ منڈیاں لگائی جا تی ہیں ، پشاو رمیں فردوس پھا ٹک ، سیفن بڈھ بیر، با ڑہ اور رنگ روڈ پر جمعہ اور اتوار کے روز منڈیاں سجائی جا تی ہیں ، منڈیوں میں ہفتے بھر میں پکڑے جانے والے کبوتروں کو فروخت کےلئے لایا جا تا ہے ، منڈیوں میں جہاں کبوتر کی خرید فروخت کی جا تی ہے وہاں کبوتر بازی سے منسلک سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے ، ان میں کبوتر پکڑنے والا جال جو کہ لوکل افراد اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں یہ جال 250روپے تک فروخت کیا جاتا ہے اسی طرح کبوترو ں کے پاوں میں ڈالے جانے والے گھنگرو اور دیگر اشیاءکا بازار بھی لگایا جاتا ہے جس سے درجنوں افراد برسرروزگار ہیں

غیرملکی کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی
پشاو ر میں امریکی، جرمن ، اسرائیلی، ڈینش اور چائینہ کبوتر لوکل کبوتروں پر حاوی ہیں ، یورپی کبوتر 70 ہزارسے زائد تک جوڑا فروخت کیا جا رہا ہے ، پشاور کے کبوتر باز لوکل کبوتر پر یورپی کبوترو ں کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ خوبصورتی ، رنگت اور طویل اڑان بتائی جا تی ہے،پشاور میں امریکی ، جرمن ، ڈینش، اسرائیلی کبوتروں کی جو ڑی 70 ہزار روپے یا س سے زائد میں فروخت کی جا تی ہے جبکہ لوکل کبوترجن میں تو ر شیزای ، سبز چپ، تو رڈھنڈے مار، شیت رو، غورہ ، زرد جو گی ، لا ل جو گی ،سیاح چپ اور دیگر کی قیمتیں غیرملکی کبوتروں سے قدرے کم ہیں ، ان کی قیمت عام مارکیٹ میں 300 سے 500 تک بنائی جاتی ہے جبکہ ان میں خاص کبوتر کی قیمت10 ہزار تک بتائی جاتی ہے

کبوتر بازی کی تاریخ
کبوتر بازی کا شوق 700سال قبل شروع ہوا تھا بابر بادشاہ نے اس کی افتتاح کی بعد از اں وہ ایران اور ترکمانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ اپنے پالتو کبوتر بھی لے آئے یہ شوق اکبر بادشاہ کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور تقریباً ہر چھٹی کے روز اس کے باقائدہ مقابلے ہوتے تھے اور جو کبوترسب سے زیادہ دیر تک فذا میں رہتا اس کے مالک کو شاندار کھانے کھلائے جاتے اور اسے انعامات بھی دیئے جاتے، بادشاہوں نے اپنے کبوتروں کو ٹرینڈ کرنے کے لئے پیشہ وار ملازم بھی رکھے ہوئے تھے۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جاتے تھے اگر کوئی ٹرینی کبوتر کو زیادہ مہارت سکھاتا تو اس کا اسپیشل انعام رکھاجاتا،700سال قبل بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے تھے اور بادشاہ کے ساتھ وزراءدرباری اور دیگر لوگ بھی اس میں شرکت کرتے اور انہیں بھی موقع دیا جاتا کہ وہ کبوتر بازی دیکھیں،اس وقت کے مطابق بتایا جاتا رہاہے کہ یہ کھیل امیروں، نوابوں، مہاراجوں اور امیر لوگوں کا کھیل ہوا کرتا تھا،برصغیر میں آنے کے بعد اس شوق میں کبوتروں پر جواءلگایا جانے لگاkabotar-2

سہ ماہی نوکھی کبوتر ریس
کبوتروں کے شوقین افراد اپنے آپ کو مشغول رکھنے کے ساتھ اس پر بھا ری جوا بھی لگاتے ہیں ، پشاور کے مختلف مقامات پر کبوتروں کی ریس کا انعقاد کیا جا تا ہے ، ایک خاص مقام پر کبوتروں کو چھوڑا جاتا ہے اور سب سے پہلے گھر پہنچنے والا کبوتر فاتح قرار دیا ہے ، حاجی کیمپ کمبوہ میں کبوتر بازی کے شوقین افراد کی جانب سے ایک انوکھی سہ ماہی ریس کا انعقاد کیا جاتا ہے ، راولپنڈی پیر ودائی اڈے سے کبوتر باز دو کبوتروں کو فضاءمیں چھو ڑ دیتے ہیں جس میں پہلے گھر پہنچنے والے کبوتر کے مالک کو رقم کے ساتھ ہا رنے والا شخص سفر کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے ، خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر کبوتر بازی کے مقابلوں کا انعقاد کرنے سے کبوتر باز ی کے میدان میں ایک صحت مندازنہ مقابلے کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے،

Mystical Singer Sain Zahoor in Peshawar

شہزادہ فہد ۔

This slideshow requires JavaScript.

صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی کے ساتھ صوف پوش (سادہ لباس) ہو اور نفسانی خواہو، صوفی موسیقی کا تعلق بھی صوفیاء کرام سے بتایا جاتا ہے جسے رومی ،بلھے شاہ اور امیر خسرو جیسے صوفی شاعروں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہے، قوالی صوفی موسیقی کی سب سے معروف صورت ہے جس کا تعلق برصغیر سے ہے، نیز یہ موسیقی ترکی،مراکش اور افغانستان جیسے ممالک میں وجود رکھتی ہے، پاکستان میں عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ، ان ہی میں سے ایک مقبول و معروف نام سائیں ظہور جو کہ پاکستان کے شہر اوکاڑہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکار ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے۔ 2006ءسے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا تاہم عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئے تھے، سائیں ان کا نام نہیں بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے ، سائیں ظہور ساہیوال ڈویژن کے ضلع اوکا ڑہ میں 1937ءمیں پیدا ہو ئے ، وہ اپنے گھرانے میں سب سے چھوٹے ہیں انھوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کردیا تھا ، دس سال کی عمر میں انھوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر دربار اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنالیا ، 2006 ءمیں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے منظر عام پر آیا ، 2007 ءمیں انھوں نے ایک پاکستانی فلم ’ ’ خدا کے لئے“گانا گایا جو بھی بے حد مقبول ہوا ، انھوں نے ایک برطانوی فلم” ویسٹ از ویسٹ “ کےلئے گانا گانے کے ساتھ ساتھ اس فلم میں اداکاری بھی کی، خیبر پختونخوا میں صوفی ازم سے لگاو رکھنے والے افراد کے لئے نشترہال پشاور میں محکمہ کلچر و ثقافت کے زیر اہتمام بین الاقومی شہرت یافتہ صو فی گلوکار سائیں ظہور کی شاندار روحانیت اور فقر پر مبنی کلام کے محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت وثقافت، آرکیالوجی ،میوزیم اور امور نوجوانان محمد طارق، ڈائریکٹر کلچر اجمل خان، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد، ایس ایس پی ٹریفک صادق بلوچ سمیت مختلف فیمیلز، خواتین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، تقریب میں کمپئرنگ کے فرائض معروف آرٹسٹ ارشد حسین اور نمرہ خان نے سر انجام دئیے،صوفی شاعر بابا بلے کے کلام کو آپنی جا دوئی آواز میں گانے پر محفل میں موجود افراد نے خوب سراہا ، دو گھنٹوں سے زائد کی پرفارمنس کے دوران گلوکار سائیں ظہور نے میرا عشق بھی توں، تیرے عشق نے نچایا چل چھیاں چھیاں ، لال میری اور دیگر صوفیانہ کلام پیش کئے ، بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار سائیں ظہور نے اس موقع پر کہا کہ پشاور آکر یہاں کے لوگوں کا پیار اور مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا جس کو ہمیشہ یاد رکھوں گا اور اگر موقع ملا زندگی میں تو دوبارہ بھی پشاور میں آکر پرفارم کرونگا ، انہوں نے کہاکہ اپنی زندگی میں زیادہ تر صوفیانہ کلام پیش کئے کیونکہ مجھے شروع سے صوفیانہ کلام سے لگاﺅ رہا ہے ،سیکرٹری کلچر و ٹوررازم طا رق خان کا کہنا تھا کہ سائیں ظہور کو پشاور بلانے اور یہاں پر پروگرام کے انعقاد کا مقصد صوبہ کی عوام کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی صوبائی ثقافت کی رونمائی کرنا بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ پشاورمیں صوفی گلوکاری سے لگاو رکھنے والے سائیں ظہور کو پنجاب جا کر سن پاتے تھے یا پھر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھنا اور سننا نصیب ہوتا تھا ، سائیں ظہور کا شمار پاکستان بلکہ دنیا کے نامور موسیقارمیں کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں زیادہ ترصوفیانہ کلام پیش کئے اور 2006میں بی بی سی وائس آف ایئر کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا، سائیں ظہور کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اکاڑہ سے ہے انہوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کا آغاز کیا ، سائیں ظہور کی2گھنٹوں سے زائد براہ راست پرفارمنس پر شہری جھوم اٹھے ، خیبر پختونخوا میں صوفیانہ کلام کے فروغ کےلئے اٹھائے گئے پہلے قدم کے مثبت نتائج آنا شروع ہو جا ئینگے ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی گلوکار کی پشاور آمد سے عارفانہ کلام کے روجحان کو فروغ ملے گا ، پاکستان کے دیگر صوبوں کے حکام کو بلا تفریق عارفانہ کلام کے گلوکاروں کو پروموٹ کرنے کے لئے اس قسم کی محافل کا انعقاد کرنا ہو گا

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

revival of phusto films

Arbaz+Jahangir+in+HaramKhor+2+copy

شہزاد ہ فہد ۔۔۔۔
نامناسب سہولیات اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی زور شور سے جاری ہے گزشتہ سال پشتو کی 11 رواں سال20 سے زائد فلمیں پشاور ، کو ئٹہ، کراچی ، اور بیر ون ملک میں بڑے پردوں پر پیش کی گئی۔ پاکستان کی شو بز انڈسٹری میں خاص اہمیت رکھنے والی پشتو فلم انڈسٹری طویل عرصہ کے بعد بہتر ی کی جانب گامزن ہے۔ پشتو فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہدایت کاروں اور پیش کاروں کے مطابق آئیندہ سال پشتو 21 سے زائدفلمیں پیش جائینگی ۔ 2014میں پیش کی جانے والی فلموں میںحرام خور‘زڑگیہ خوار شے‘داستان‘دہ بدمعاشانو بدمعاش‘جوارگر‘آزادی‘زہ یم ککے خان‘آئی مس یو‘زوے دہ بدعملہ‘تماشبین پیش کی گئی جبکہ رواں سال پشتو فلم ناوے دہ یوے شپے‘نشہ ‘ولی محبت کول گناہ دہ‘چرتہ خانان چرتہ ملنگان‘خریدار‘پختون پہ دبئی کے‘آئی لو یو ٹو‘خاندانی بدمعاش‘سرتیزبدمعاش‘مہ چیڑہ غریب یم‘داغ‘مئین خو لیونی وی‘بدنام‘اقرار‘ملنگ پہ دعا رنگ‘زوے دہ شرابی‘تیزاب‘زمہ جانان‘حیدرخان نے شائیقن کے دلوں میں جگہ بنائی ان میں بیشتر نے کامیابی حاصل کی جبکہ متعدد بزنس کرنے میں ناکام رہیں‘پشتو فلم انڈسٹری میں آنیوالے سال میں زیادہ سے زیادہ پشتو فلمیں ریلیز ہونے کی امید کی جارہی ہیں پشتو فلموں کے ہدایتکاروں میںقیصر صنوبر‘نادر خان‘لیاقت علی‘شاہد عثمان‘عابد نسیم‘منتظم شاہ‘ارباز خان‘فرمان عمرزئی اور دیگر شامل ہیں آنیوالے سال میں پشتو کی 21فلموں کی عکس بندی کی جارہی ہے جن میں بیشتر کی عکس بندی مکمل ہوچکی ہے اور وہ آنیوالے سال کے پہلے مہینوں میں نمائش کیلئے پیش کی جائینگی ان فلموں میں ارباز خان‘جہانگیر خان‘محمد حسین سواتے‘ببرک شاہ‘صوبیا خان‘آفرین‘سحر ملک‘عمران خان‘آصف خان اور شاہدخان مرکزی کردار ادا کرینگے پشتو فلموں پر زیادہ تر راج ارباز خان اور جہانگیر خان کا رہا ہے جبکہ شاہد خان کو بھی پسند کیا جاتا ہے ۔2016 میں پیش کی جانے والی فلموں میں ادلاد ، پڑانگ ،شہنشاہ، یو زل بیاہ راشہ ، زہ پا گل یم ، شرنگ ، عشق خانہ خراب ، خبرہ دہ عزت ، چرتہ عاشقان چرتہ ملنگان ، اقیبان ، کنگ خان ، لیونئے پختون ، پاگل ، دعوت ، باز او شاہ باز، یار پہ نشہ دے ، گل پانڑہ ، عاشقی ، محبت کار دہ لیونو ں دے ، زندان ، جشن ، ہیرونمبر ون اور دیگر سینما گھروں کی زینت بنیں گی ان میں بیشتر کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور امید کی جا تی ہے کہ آئیندہ سال کے پہلے مہنیوں میں پیش کی جا ئینگی ۔
Continue reading revival of phusto films