Tag Archives: wordpress

Leather industry and Animal sacrificial skins چمڑے کی صنعت اور قربانی کی کھالیں

شہزادہ فہد

ملکی معیشت میں ریڑی کی ہڈی کا کردار ادا رکرنے والی چمڑے کی صنعت عیدا لاضحی پر زبوں حالی کا شکار ہوگئی ، کھالوں کے ریٹ کم ہونے سے تاجر پریشان اربوں رپوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ، حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں نے بھی منہ موڑ لیا ، صوبائی دارلحکومت پشاور میں عید الاضحی کے بعد مختلف مقاما ت پر کھالوں کی منڈیاں سج جاتی ہیں تاہم اس بار گزشتہ سال کی نسبت کھالوں کے نرخوں میں کمی واقع ہونے سے چمڑے کے کاروبار سے وابستہ تاجر عیدالاضحی پر منافع کی بجائے نقصان اٹھانے لگے ہیں، مقامی تاجروں کے مطابق خریداری اور فروخت پر اضافی ٹیکس کی وجہ سے کھالوں کے نرخوںمیں کمی کی گئی ہے اسی طرح ملکی سطح کے بڑے تاجربھی بڑی تعداد میں کھالوں کی خریداری نہیں کررہے ، کیونکہ بیرون ملک کھالوں کی بر آمد دات پر اضافی ٹیکسوں کی ادائیگی پر ڈیل نہیں کی جارہی ہے، پشاور میں چمڑافروشی کے کاروبار کےلئے عید الاضحی پر قصاب خانہ ، رنگ روڈ ، لنڈی سٹرک اور سینما روڈ پر منڈیاں لگائی جاتی ہیں، جہاں صوبے بھر سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں فروخت کے بعد اکٹھی کی جاتی ہیں جو کہ بعدازاں پنجاب اور دیگر صوبوں میں پڑے پیمانے پر فروخت کی جاتی ہیں ، رواں سال نرخوں میں کمی ہونے سے ملی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ، گزشتہ سال گائے کی کھال 15 سو روپے سے 25سو روپے تک فروخت ہوئی ، اس سے دوسال قبل قیمتیں 2 ہزار سے4 ہزار تک تھی ، اسی طرح رواں سال بکرے اور دنبے کی کھال20 روپے میں فروخت ہورہی ہے جو کہ گزشتہ سال 150 سے 250 روپے تک فروخت ہوتی تھیں، قیمتوں میں کمی ہونے کی دیگر وجوہات میں ملکی سطح پر چمڑے کی فیکٹریوں اور غیر ملکی سطح پر چمڑے کی فیکٹریوں کی خریداری میں عدم دلچسپی بنائی جاتی ہے،چمڑے کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چمڑے کے کاروبار سے منسلک افراد کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے ۔

پاکستان کا شمار دنیا بھر میں سب سے زیادہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں برآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے

پاکستان میں رواں سال عیدالاضحی پر لاکھوں قربانی کے جانور ذبح کئے گئے ، پاکستان کا شمار دنیا بھر میں سب سے زیادہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں برآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے ، یہ قربانی کی کھالیں کوریا، چاپان،جرمنی، امریکہ ،یورپ، چین اور دیگر ممالک بر آمد کی جاتی ہیں،، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے قربانی کی کھالیں پنجاب کے چمڑے کی فیکٹریوں کو بھجوائی جاتی ہیں، جہاں کھالوں کی فینشنگ کرکے چمڑے کی مصنوعات بنائی جاتی ہیں

 

قربانی کی کھال کو محفوظ بنایا جاررہا ہے

دنیا بھر میں چمڑے سے بنی ہوئی چیزیں پسند کی جاتی ہیں ،جنھیں مہنگے داموں فروخت کرکے کثیر زرمبادلہ کمایا جاتاہے

چمڑے سے بننے والے اشیاءمیں لیدر جیکٹس، بیگز، سیٹ کورز، جوتے ، کاسلیٹکس اور دیگر اشیاءشامل ہیں اسی طرح چمڑے سے ربڑ بھی تیار کیا جاتا ہے ، جس سے ٹائر م ٹیوب، اور دیگر اشیاءبنائی جاتی ہیں ، حکومت اگر پاکستان میں چمڑے کے کاروبار کرنے والوں کو خصوصی مراعات فراہم کرے تو پاکستانی معیشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے ۔

کھالوں کے کاروبار سے وابسطہ تاجر نہیں ہی دینی مدارس بھی متاثر ہونگے

پشاور سمیت صوبہ بھر میں قربانی کے جانوروں کے کھالوں کی قیمتوں میں کمی سے جہاں کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا وہاں کھال کی قیمتیں گرنے کے باعث مختلف سماجی ادارے ، مدارس کو دیئے جانے والے کھالوں سے منتظمین کو مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ، پشاور میں قائم ایک دینی مدرسے کے طالب علم عصمت اللہ فقیرکا کہنا ہے کہ کھالوں کی آمد ن سے تین ماہ سے پانچ ماہ تک مدرسے کا لنگر اور دیگر امور میں مدد ملتی تھی تاہم اس مرتبہ انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،ا نھوںنے صوبائی حکومت سے دینی مدارس کو خصوصی پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے ، کھالوں کی قیمتیں گرنے کے باعث ان کے اکٹھے کرنے کی سرگرمیاں بھی کم رہیں

Advertisements

پشتو فلم انڈسٹری زوال پذیری کی جانب گامزن

This slideshow requires JavaScript.

عید الفطر پرپشتو فلم انڈسٹری بحران کا شکار رہی ‘صرف تین فلمیں ریلیز ہوئیں
پشتو فلم کا بزنس صرف عید تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ سنیما کلچر کا خاتمہ مالکان شدید پریشان ، فلمی صنعت سے وابستہ افراد کی دیگر کا روبار شروع کرنے کے لئے تگ ودو
پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پاکستانی فلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم بہترین معیار اور اعلیٰ سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گنوا دیا ،

پشاور(شہزادہ فہد) پاکستانی فلم انڈسٹری میں خاص اہمیت کی حامل پشتو فلم انڈسٹری آخری ہچکولے لینے گی، سہولیات نہ ہونے اور غیر منافع بخش ہو نے کے باوجود پشتو فلم سازی زوال پذیری کی جانب گامزن ہے ، رواں سال عید الفطر پر صرف تین فلم ریلز ہو ئیں، اس سے قبل عید کے موقع پر آٹھ سے دس فلمیں ریلز ہوتی تھی، سینما کلچر میں کمی اور فلم سنسر بورڈ نہ ہو نے سے فلمی صنعت سے وابستہ افراد دیگر کا روبار شروع کر نے کےلئے سرگرداں ہیں،پاکستان انڈیا کشیدگی کے باعث ملک بھر میں پشتوفلمیں اپنی جگہ بنا سکتی تھیں تاہم معیار اور بہترین سکرپٹ کے فقدان نے یہ مو قع بھی گوا دیا ہے ، فلمی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری کی زوال پذیر ی کی بڑی وجہ نئے ڈائریکٹرز،پروڈیوسرز،کہانی نویس ،سرمایہ کاروںسمیت نئے چہروں کا آگے نہ آ نا اورجدیدٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل نہ کرناہے،جب کہ فلمیں بنانے کے حوالے سے ہی تیس سالہ پرانی سوچ اپنائی جاتی ہے،اسی طرح حکومتی سردمہری بھی فلم انڈسٹری کی تباہی کی ایک وجہ ہے، موجودہ دورمیں پشتو فلم انڈسٹری نے صنعت کوسہارادے رکھاہے،گزشتہ پندرہ سال سے پاکستانی فلم انڈسٹری کوپشتوفلموں نے سہارادے رکھاہے جس کے دم قدم سے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے جل رہےہیں لیکن گزشتہ سال کی صورت حال نے پشتو فلموں کے ہدایت کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ،سال میں چندایک فلمیں انڈسٹری ہٹ ہو تی ہیں ، اس سال عید الفطر پر صرف تین فلمیں ریلز ہو ئیں جن میںدے تہ لوفری وائی، دے تہ بدماشی وائی اورخاندانی گنداگیر شامل ہیں،گزشتہ سال کی نسبت اس سال کم فلموں ریلز کی گئیں،پشتو فلم انڈسٹری سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات رہے توپشتو فلم انڈسٹری کا نام ونشان مٹنے کے ساتھ سینکڑوں خاندان بھی فاقوں پر مجبورہوجائیں گے،یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتو فلموں کے شائقین چاروں صوبوں کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان سمیت دنیاکے کونے کونے میں موجودہیںاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد پشتو فلموں کی منتظر ہو تی ہے ،2018 ءپشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا ثابت ہوا سال بھر میں گیارہ پشتو فلمیں سنیماﺅں کی زینت بنیں تاہم رواں سال پشتو فلموں او ر انڈسٹری کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور پشتو فلمیں شدید بحران کا شکار رہیں

ارباز خان ، شاہد خان اور جہانگیر خان اکٹھے جلوگر ہونگے
فلم بینوں کو متوجہ کرنے کے لئے ارباز خان اور شاہد خان کے مابین فلمی مقابلے کا رحجان پیدا کیا گیا ہے
زوال پذیری کے باعث پشتو فلم انڈسٹری میں ارباز خان اور شاہد خان کے مابین فلمی مقابلے کا رحجان پیدا کرکے فلم بینوں کو متوجہ کرنے کےلئے نیا تجربہ کیا گیا ،مدمقابل ہیروز نے یکجا ہوکر اکٹھی فلم بنا ئیں ،پشتو فلم انڈسٹری میں حسب روایت دو ہیرو کے مابین مقابلہ ہوتا آیا ہے تاہم اس مرتبہ رواں سال کی بڑے بجٹ کی فلم ” دے تہ لوفری وائی “ میں شائقین کے پسندیدہ اداکار ارباز خان ، شاہد خان اور جہانگیر خان اکٹھے جلوگرہورہے ہیں ، فلمی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اس فلم کے بنانے کا مقصد شائقین کو ایک بار پھر سینما لانے کی کوشش ہے ۔

پشتو فلموں کی نمائش بھی صرف عیدین تک محدود ہوگئی
منافع نہ ہونے سے ہدایت کار مایوس ، حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث انڈسٹری زوال کاشکار
پشتو فلموں کے معروف ڈائریکٹر ارشد خان ،شاہد عثمان نے بتایا کہ گزشتہ سال پشتو فلموں کیلئے بزنس کے لحاظ سے کافی برا سال ثابت ہوا اور فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے اور فلموں کا بزنس صرف عید تک محدود ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ فلموں کا بزنس صرف پشاور میں رہ گیا ہے صوبے کے دیگر اضلاع میں سینما نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری زوال پذیر ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سینماہال کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے بصورت دیگر رہی سہی پشتو فلم انڈسٹری بھی بندہوجائے گی اور سنیما مالکان اپنے سنیماﺅں کو شاپنگ مالز میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔

پشاور میں فلم بینی کا شوق ختم ہونے لگا، سینما جانے کا رواج قصہ پارینہ بن چکا ہے
چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج عام تھا جو کہ اب قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکیاں لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل،سوئیکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما،جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے،صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں 50 سینما گھر وں میں سے اب 20 باقی رہ گئے
غیر معیاری فلموںنے بھی سینما گھر اجاڑنے اور فلم بینوں کو مایو س کر نے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی

فلم جیسی بھی ہوفلم بین سینما پہنچ جاتے ہیں،موجود ہ حالات میںسینما مالکان کے لئے بقا کی جنگ مشکل ہو تی جا رہی ہے،تاہم فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد اب بھی دعوی کر تے ہیں کہ بیشتر لوگ اب بھی پشتو فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، خیبر پختونخوا میں فلم صنعت کیزبوں حالی کا ذمہ وار تو دہشت گردی کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن غیر معیاری فلموںنے بھی سینما گھر اجاڑنے اور فلم بینوں کو مایو س کر نے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی،12 سال قبل تک ڈی آئی خان سے پشاور تک 50 سینما گھروں کی رونق دیکھنے والی ہو اکرتی تھی، لیکن اب یہ حال ہے پورے صوبے میں تقریبا20 سینما گھر باقی رہ گئے ہیں جو کہ خستہ حالی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں،پشاور میں دو سینما بم دھماکوں جبکہ تین سینما گھروں کو پر تشدد مظاہر وں کے دوران شدید نقصان پہنچا یا گیا،خیبر پختونخوا میں درجنوں ہدایت کاروں نے دیگر کاروبار شروع کر نے کو ترجیح دی ہے،فلم پر 65 سے 80 لاکھ روپے خرچ آتا ہے ،ریلز کے بعد بمشکل ایک فلم اپنے اخراجات پورے کر پاتی ہے ۔

عید الفطر پر ریلز ہونے والی پشتو فلموں میں نئے چہرے سامنے نہیں آسکے
رواں سال عید الفطر پر ریلز کی جانے والی پشتو فلموں میں بھی کو ئی نئے چہرے دیکھنے کو نہیں ملے ، عیدالفطر پر ریلز کی جانے والی فلموں میں تمام پرانے چہرے فلم بینوں کو دیکھنے کو ملے ، عرصہ دارز سے پشتو فلم انڈسٹری پر راج کر نے والے ہیرو ارباز خان اور شاہد خان کے مابین ہوتا ہے تاہم کئی دہائیوں سے کو ئی نیا ہیرو سامنے نہیں آسکا ، اسی طر ح فی میل اداکاروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی اداکارائیں ہی سیکرین پر چھائی رہیں، فلم” دے تہ بدمعاشی وائی “ کی کاسٹ میںارباز خان ، جہانگیر خان ،آصف خان ،عجب گل جبکہ” خاندانی گندہ گیر “ کی کاسٹ میں ارباز خان ،جہانگیر خان ، وردہ خان دیگر شامل تھے ، فلم” دے تہ لوگری وائی“ فلم کی کاسٹ بھی ارباز خان ، جہانگیر خان اور شاہد خان تک ہی محدود رہی ۔

Peshawar journalist unemployment

2018
صحافیوں کے لئے بھاری رہا،5قتل،درجنوں بے روزگار کئے گئے

پشاور میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ193 سے زائد افراد کو نوکریوں سے فارغ ،بیشتر اداروں میں کارکنوں کی تنخوا ہوں اور مراعات سے کٹوتی کی گئی

گزشتہ سال پاکستانی میڈیا بدترین دورسے گزرا بڑے بڑے میڈیاہاوسز ڈاون سائزنگ کی زد میں رہے، پی ایف یو جے کی کال پر احتجاجی مظاہرے ہوئے

نئے سال کا چڑھتا سورج بھی اچھی نوید لے کر نہیں طلوع نہیں ہوا، پہلے ہی ہفتے 13کارکن فارغ کردئیے گئے ۔

 گزشتہ سال 2018کو ملک کے لئے تبدیلی اور خوشحالی کا سال قرار دیا جاتا ہے وہاں شعبہ ابلاغ عامہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر بھاری گزرا، گزشتہ سال صوبے بھر میں پانچ صحافیوں کوقتل کیا گیا جبکہ پشاور میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ193 سے زائد افراد کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ، ان میں52 سے زائد افراد کا تعلق رپورٹنگ اور سب ایڈیٹنگ سے تھا اسی طرح بیشتر اداروں میں کارکنوں کی تنخوا ہوں اور مراعات سے کٹوتی کی گئی ، 2019 کا پہلا ہفتہ بھی شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ کے کارکنوں کےلئے پر امید ثابت نہ ہوا،گزشتہ سال شعبہ ابلاغ عامہ سے تعلق رکھنے والوں کےلئے مشکل ترین گزرا ، خیبر پختونخوا میں فرائض منصبی کے دوران پانچ صحافیوں کو قتل کیا گیا ،11 جون کو ہری پور میں نجی ٹی وی کے رپورٹر بخشش الہیٰٰ کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف خبر دینے کی پاداش میں قتل کیا گیا ،اس طرح 11 اکتوبر کو صوابی میںنامعلوم افراد کی جانب سے ہارون خان کو گھر کے قریب نشانہ بنایا گیا ، اکتوبر کے مہینے میں دو صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں سہیل خان کو 16 اکتوبر کو ہری پور اور 30 اکتوبر کو چارسدہ میں احسان اللہ شیرپاو¾ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا،سال کے آخری مہینے میں نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے صحافی نورالحسن کو کیمرہ مین کے ہمراہ پشاو رکے رنگ روڈ پر ٹارگٹ کیا گیا حملے میں نورالحسن جانبر نہ ہوسکے ، قتل اور ٹارگٹ کے ساتھ ساتھ شعبہ صحافت و ابلاغ میں صحافیوں کا معاشی قتل بھی جاری رہا ، پشاور میں مختلف اخبارات اور چینلز کے193 ملازمین کو نوکریوں سے جبری برخاست کیا گیا جن میں 50 افرا دکا تعلق رپورٹنگ اور سب ایڈیٹنگ سے شعبے سے تھا ، سلسلہ رکا نہیں بیشتر میڈیا ہاوسز میں رپورٹرز اور سب ایڈیٹرز کی ماہانہ تنخواہوں میں کافی حد تک کٹوتی کی گئی، رپورٹنگ، کیمرہ ورک ، اسائمنٹ اور فوٹوگرافی سمیت دیگر فرائض سرانجام دینے والے ملازمین سے فیول، موبائل چارجز اور دیگر مراعات واپس لی گئیں،بیشتر بڑے گروپس کے ملازمین کو تاحال کئی ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی تاحال نہیں کی گئی ، گزشتہ سال سے جاری ملک بھرکے میڈیا ہاو¿سز میں ایک کہرام کی کیفیت ہے، وہ صحافی ،اور کارکن جو طویل عرصہ سے ان اداروں کے ساتھ وابستہ تھے وہ بے روزگار کر دیئے گئے ہیں، گزشتہ سال پاکستانی میڈیا تاریخ کے بدترین دورسے گزرا،سینکڑوں صحافیوں کو بے روز گار کردیاگیا اور بڑے بڑے میڈیاہاوسز ڈاون سائزنگ کی زد میں ہیں،وہ اخبار جن کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتاتھاکہ وہ بحران کی زدمیں آئیں گے یابند کردیئے جائیں گے اپنی بقاءکی جنگ لڑتے دکھائی دے رہے ہیں،ملک بھر میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے کی کال پرملک بھر میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور کارکنوں کے معاشی قتل عام پراحتجاج کیا، پشاور سمیت ملک بھر میں صحافتی شعبے سے وابستہ افراد نئے سال کی آمد پر معاشی استحکام کےلئے پر امید تھے کہ اس دوران نئے سال کے پہلے ہفتے میں روزنامہ ایکسپریس سے پانچ سب ایڈیٹرز ، کی بنچ آپریٹر اور پیج میکر سمیت 13 افراد کو نوکری سے فارغ کیا گیا ، پشاور میں جنگ میڈیا گروپ سے8 رپورٹر، سب ایڈیٹر ز سمیت مجموعی طور پر 70 کارکنوں ،کیپٹل نیوز سے2 رپورٹرز، 2 کیمرہ مین سمیت6 ،دنیا نیوز سے3 کیمرہ مین سمیت 13،آج نیوز سے 2 رپورٹرز،اخبار خیبر سے 9 سب ایڈیٹرز اور 7 رپورٹر سمیت42 کارکنوں ایکسپریس میڈیا گروپ میں روزنامہ ایکسپریس میں5 رپورٹرز ،5 سب ایڈیٹرز اور 2 فوٹو گرافر ، ایکسپریس ٹریبیون سے 6 رپورٹرز ،تین سب ایڈیٹرزاور ایک فوٹو گرافر سمیت 69 کارکنوں کو نوکری سے فارغ کیا گیا ہے اسی طرح 24  نیوز سے بھی 2رپورٹر سمیت کارکنوں کو گھر بھیجا گیا ۔

Mahabat Khan Mosque Condition unspecified flow

شہزادہ فہد
مغلیہ دور حکومت میں بنائی جانی والی تاریخی اہمیت کی حامل مسجد مہابت خان کی حالت ناگفتہ بہہ ہو گئی ، حکومتی عدم توجہ کے باوجود مغل طرز تعمیر کا شاہکار صدیوں پرانی مسجد اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہو ئے ہے، مسجد کے اطراف میں بنائی جانےوالی غیر قانونی دکانیں پلازے مسجد کی تا ریخی حیثیت پر اثر انداز ہو نے لگے ہیں، مختلف قوموں کی پشاور پر حکمرانی کی گواہ مسجد جو زلزلوں اور موسم کی شدت کو تو سہہ گئی تاہم انسانوں نے مسجد کے قریب غیر قانونی تعمیرات کر کے مسجد کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا، مسجد کے قریب پلازوں اور دکانوں کی آباد کاری سے مسجد کی بنیادیں کھوکھلی ہو گئی ہیں جسکی وجہ سے مسجد کی دیواریں کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہیں، صحن کا فرش اور کئی حصے بیٹھ چکے ہیں ، مسجد کو نمی اور قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کےلئے9فٹ اونچائی پر بنایا گیا تھا اور اطراف میں بر آمدے بنائے گئے تھے جس پر دکاندار قابض ہو گئے ہیں اور دکانوں کو وسیع بنانے کےلئے کھدائی کی گئی ہے جس سے مسجد کی دیواریں اور فرش بیٹھ گیا ہے، صدیوں سے آباد پشاور شہر کی تاریخ صرف کتابوں میں ہی نہیں ملتی بلکہ اس کے ثبوت بھی موجود ہیں، یوں تو پشاور بھر میںدرجنوں مقامات ہیں جس سے اس خطے میں آباد رہنے والی قوموں بارے آگاہی ملتی ہے ، ان میں سے ایک مسجد مہابت خان بھی ہے جو کہ مغل طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے ، پشاو رمیں واقع تاریخی اہمیت کی حامل قدیم مسجد مہابت خان حکومتی عدم توجہی کا شکار رہی ہے ، کئی حکومتیں گزر گئی تاریخی حیثیت کے حامل مسجد کی حفاظت کے لئے کسی بھی دور حکومت میں جامع حکمت عملی نہ بنائی جاسکی ،مسجد کے اطراف میں قائم دکانیں اورپلازے انٹکویٹی ایکٹ کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ تاریخی مسجد کی بقاءکےلئے خطرہ ثابت ہو نے لگے ہیں،اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کے فوکل پرسن نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ مسجد کی اصل حالت برقرار رکھنے کےلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں ناز سینما روڈ پر پانچ پانچ دکانوں کو خالی کرایا جائےگا،حکومت کی جانب سے مسجد کی مرمت و بحالی کےلئے 8 کروڑ 77 لاکھ روپے کا فنڈجاری کیا گیا ہے جس میں رواں سال 2کروڑ روپے جون کے مہینے تک خرچ کئے جائینگے، دوسری جانب مسجد کے اطراف میں قائم تجاوزات اور مسجد کی دکانوں میں موجود کرائے داروں کے باعث کام سست روی کا شکار ہے، دکانوں کو خالی کرانے کےلئے تمام تاجروں کو نوٹسز جا ری کر دئیے گئے تاہم تاجروں کی جانب سے مرحلہ دار دکانیں خالی کر انے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، مسجد کی عمارت کو محفوظ بناکر اس کی تاریخی اہمیت کو بحال رکھا جاسکتا ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

مسجد مہابت خان کسی شخصیت کا نام نہیں تھا بلکہ یہ کابل ، پشاور کے گورنر کا لقب تھا۔
پشاور میں واقع تاریخی مسجد مہابت خان کا نام مغلیہ حکمران یا کسی اہم شخصیت کے نام سے منسوب نہیں گیا ، مہابت خان کابل اور پشاو رکے گورنرلقب تھا جوکہ چار صدی قبل باپ بیٹے کو دیا گیا تھا ،مغل بادشاہ شاہ جہان اور اورنگزیب کے دور حکومت میں زمانہ بیگ کو کابل اور پشاو رکا گورنر نامزد کیا گیا ، زمانہ بیگ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مرزا لوراسپ کو 1658 ءمیں گورنر نامزد کیا گیا جنھوں نے مسجد مہابت خان کی تعمیر میں دلچسپی لی اور دو سال میں مسجد کی تعمیر مکمل کی ۔

مسجد کی تعمیر میں دال چاول انڈے پیس کر میٹریل میں مکس گئے تاکہ مضبوطی کافی عرصہ تک قائم رہے چونے اور کنجور سٹون بھی استعما ل کیا گیا۔
مسجد مہابت خان انجنیئرنگ کے لحاظ مغلیہ دور حکومت کی بہترین تعمیرات کا شاندار نمونہ ہے ، مسجد کو سیم سے محفوظ رکھنے کےلئے اونچائی پر بنا یا گیا ، مسجد کی عمارت کے نیچے مٹی کی بھرائی کی گئی اور مسجد کے باہر کھلے برآمدے بنائے گئے ، تاکہ مسجد قدرتی حادثات سے محفوظ رہے، مسجد کی عمارت زمین سے 9 فٹ اونچائی پر بنائی گئی ، مسجد کی تعمیر میں چونے اور کنجور سٹون کا استعمال کیا گیا ، مختلف دیواروںمیں دال چاول انڈے پیس کر تعمیراتی میٹریل میں مکس کئے گئے ، مسجد کی دیواروں پر اسلامی پینٹنگ (سٹکو) اور کھڑکیوں میں رنگین شیشے لگائے گئے ۔

 

TENANT INFORMATION FORM (TIF)

شہزادہ فہد
اگر آپ نے ڈاکہ نہیں ڈالا ، چوری نہیں کی ، منشیات فروشی میں بھی ملوث نہیں ہیں کسی کو قتل بھی نہیں کیا لیکن اگر آپ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں تو آپ مجرم ہیں ، جی ہاں آپ ٹیچنگ جسیے مقدس شعبے سے وابسطہ ہیں یا محنت مزدری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن آپ کا ذاتی گھر نہیں ہے تو آپ کی کوئی عزت نہیں ، آپ کو آدھی رات کو گھر سے نکال کر تھانے لایا جائے گا ، تعلق نہ ہوتو ساری رات حوالات میں بھی بند پڑے رہیں گے، پھر عدالتوں کے چکر اور نجانے کیا کیا ، ذلت و خوار ہونے کے بعد پتہ چلا کہ کرائے کے گھر میں مقیم ہو نے اور پولیس کوکوائف جمع نہ کر نے آپ کو سزاملی ، صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی پاداش میں بنائے جانے والا 10 تحفظ آرڈینس پاکستان  بلا شعبہ اگر بہترین ایکٹ ہے ، اس سے جہاں سیکورٹی اداروں اور پولیس کو ایرے غیرے کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے تو وہاں کسی بھی ناخشگوار واقعہ کے بعد ملزموں تک آسانی پہنچا جاسکتا ہے ، ایکٹ کی افادیت اپنی جگہ لیکن جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے اس پر مجھ سمیت ہر کرائے کے گھر میں مقیم شہری کوتحفظات ہیں ، ہر سیاسی حکومت اپنے دور میں کئے گئے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر تی ہے اوراس مدد میں لاکھوں کروڑں روپے خرچ کئے جاتے ہیں،بلوچستان کے بعد دوسرے نمبر دہشت گردی سے متاثر صوبے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت سوشل میڈیا پر چھائی ہو ئی ہے، اب تو جوں جوں الیکشن قریب آتا جارہا ہے صوبائی حکومت نے اخبارات پراشتہارات کی جیسے بارش کر دی ہو ،آئے دن کچھ نیا کرنے کا دعوی ٰ سننے کو ملتا ہے ، چلیں چھو ڑیں موضوع پر آتے ہیں ، بات 10 تحفظ آرڈینس پاکستان  کی ہو رہی ہے ، بہت سے لوگوں شائداس سے ناآشنا ہیں لیکن کرائے کے گھر وں میں مقیم شہریوں کےلئے یہ ایسا ہی ہی جیسے محلے میں کسی نے خیرات کی ہوں ، حکومت کی جانب سے بنائے گئے ایکٹ کے بعدموثرآگاہی مہم نہ ہو نے کی وجہ سے10 تخفظ آرڈینس پاکستان قانون پر شہری عمل درآمد کرنے سے گریزاں ہیں، چار سالوں کے دوران آرڈینس کے تحت 10ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ کرائے کے گھروں میں مقیم 27ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا ،تھانہ اور کچہری کے چکرکھانے کے بعد 24 ہزار سے زائد شہریوں نے خود کو رجسٹرڈکروایا، حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے پر 10 تحفظ آرڈینس پاکستان کے نا م سے قانون بنایا گیا ، صوبے میں سب سے پہلا مقدمہ پشاور کے کوتوالی تھانے میں درج ہوا ، کوتوالی کی حدود میں گرفتار ہونے والے دہشت گرودں کو پنا ہ دینے کے جرم میں یہ مقدمہ 5 مئی 2014 ءکو درج کیا گیا، ایکٹ میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر شہریوں کو پولیس کے پاس کوائف جمع کرنے کا پابند بنایا گیاتھا، تاہم موثر آگاہی مہم نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں نے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا شائد وہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے واقف نہ تھے، بھر اچانک دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے بعد 2014 ءمیں 10 تحفظ ارڈینس پاکستان پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاون شروع کیا گیا، سرچ و ٹارگٹ آپریشنز کے دوران مطلوبہ کوائف پیش نہ کرنے پر چار سالوں میں 10103 مکانات میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر 27433 شہریوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کئے گئے ، اور انھوں نے حوالات کی ہوا کھائی تو عقل ٹھکانے آئی جسکے بعد 24587 افراد نے پولیس کے پاس اپنے کوائف جمع کرائے ،یقین جانیں کہ ایکٹ پر بات نہیں کی جارہی ،بات تو پولیس رویئے اور نا مناسب حکمت عملی پر ہو رہی ہے ، ایک مہذب شہری کے حقوق کے لئے ہو رہی ہے،اب ہم سارا ملبہ پولیس پر تو نہیں ڈال سکتے ، ہمیں خود بھی چاہیے کہ ایک اچھے اورمحب وطن شہری ہو نے کے ناطے اپنے کوائف جمع کروائیں ، پولیس بیچاری کیاکر ے علاقے میں جرائم پر قابو پانا ہے امن و امان کی صورت حال کنٹرول کرنی ہے ، یہ مہم وہیم کے چکر میں پڑ جائے تو سارے کام رہ جائیں گے، تو بزرگوں ، یاروں اور پیاروں لائن میں لگ جاو ، سب آپ نے ہی کر نا ہے۔

۔

چار سالوں کے دوران آرڈینس کے تحت 10ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ کرائے کے گھروں میں مقیم 27ہزار سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا

دہشت گردی کی لہر میں اضافے کے بعد 2014 ءمیں 10 تحفظ آرڈینس پاکستان پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاون شروع کیا گیا تھا

 

Khyber pukhtoon khwa Culture Policy

 

شہزادہ فہد
خیبر پختونخوا کلچر پالیسی نہ بن سکی،سنسر شپ بورڈ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑگیا
ء2010 میں اٹھار ویں ترمیم کے بعد صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، 2011 ءمیں صو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال زیرگردش ہے
ء2013 میں تحریک انصا ف کی حکومت کا قیام بھی صوبے میں کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکا، سنسر بورڈ کےقیام کے لئے دو سال سے صرف اجلاس ہی منعقد کئے گئے

خیبر پختونخوا اسمبلی سے ڈیڑھ سو کے قریب بل منظور کروانے والی تحریک انصاف کی حکومت چار سالوں میں کلچر پالیسی نہ بناسکی ، اٹھارویں ترمیم میںاختیار ملنے کے باوجودخیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی کا قیام سر خ فیتے کی نظر ہو گئی ، کلچر پالیسی کے ساتھ حکومت کا اعلان کر دہ سنسر شپ بورڈ کے قیام کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، 2010 ءمیں اٹھا ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا میں اے این پی اور پیپلز پا رٹی کی مخلوط حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں کلچر کے فروغ کےلئے پالیسی بنائی جا ئے اس ضمن میں 2011 ءمیںصو با ئی اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کیا گیا جو کہ تاحال گردش میں ہے ، 2013 ءمیں تحریک انصا ف کی صوبے میں کامیابی بھی کلچر پالیسی کےلئے سود مند ثابت نہ ہو سکی ، موجودہ حکومت دوسالوں نے صوبے میں سنسر بو رڈ کے قیام کے لئے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کررہی ہے ، دوسال قبل کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طارق ،ڈپٹی ڈائریکڑ کلچر اجمل خان ،مسرت قدیم ، شوکت علی ، رحمت شاہ سائل ، طارق جمال ، فلم ڈائریکٹر قیصر صنوبر ، مشتاق شباب ، نجیب اللہ انجم سمیت پروفیسرز، فن موسیقی ، ڈائریکٹر ، پروڈیوسرز ، ثقافت سے منسلک افراداور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی، سنسر شپ بورڈ کے قیام پر شرکا ءکامطالبہ تھا کہ بل پیش کر نے سے قبل پالیسی بنائی جا ئے تاکہ ایک ڈائر یکٹر فلم یا ڈارمہ بنانے سے قبل تمام تر چیزوں کا خیال رکھے اور فلم سنسر بورڈ کو انڈسٹری کو درجہ دیا جائے گا تب ہی یہاں ترقی ممکن ہو گی، اجلاس سیکرٹری محکمہ سیاحت ، ثقافت ، کھیل و آثار قدیمہ اعظم خان نے فلموں اور ڈراموں کے حوالے سے سنسر بورڈ کا قیام کووقت کی اشد ضرورت قرار دیا تھا، ذرائع کے مطابق دو سالوں سے متعدد بار میٹنگز کے انعقاد اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود تاحال اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایواڈ یافتہ اداکار نجیب اللہ انجم نے بتایاکہ کلچر پالیسی خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت کا وجود بے مقصد ہے ، کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سی ڈی ڈراموں میں فحاشی و عریانی نے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی اور سنسر بورڈ کے قیام کے حوالے سے اپنی تجاویز سیکرٹری کلچر کو بھیجی تھی تاہم کو ئی رسپونس نہیں آیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کو ئی اطلاعات نہیں دی گئی ،اس حوالے سے معروف اداکار باطن فاروقی کا کہنا تھا کہ کلچر پالیسی کے قیام کےلئے حکومتی سنجیدگی سے کام لینا ہو گا ، ان کا کہنا تھا کہ دیگر شعبوں کی طرح فنکاروں کا محکمہ کلچر کا انتظامی دائر ہ کار فنکاروں ، گلوگاروں اور ہنر مندوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ فنون لطیفہ کے حوالے سے قانون سازی میںاپنا کردار ادا کر سکیں ، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری محکمے کےلئے پالیسی ہونا لا زم وملزوم قرار دیا جا تا ہے ، پالیسی سے محکموں کی کا رگردگی اور ان کے اختیار کا تعین کیا جا سکتا ہے، خیبر پختونخوا میں کلچر پالیسی نہ ہو نے سے فلم میں سنسر شپ ، کا پی رائٹ اور دیگر مسائل کے ساتھ ڈراموں میں پھیلا ئی جا نے والی فحاشی پر قابو پایا جاسکتا ہے ، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے چار سالوں کے دوران 144 بل منظور کروائے ہیں جبکہ کلچر پالیسی اور اور سنسر شپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے کو ئی بل نہیں پیش کیا جا سکا ہے ،اس حوالے سے ڈائریکٹر کلچر خیبر پختونخوا اجمل خان نے بتایا کہ کلچر پالیسی کے حوالے یونیسکو کی جانب سے پالیسی کےلئے سمت کا تعین کیا گیا ہے کہ لوکل سطح پر فنون لطیفہ سے وابسطہ افراد کے ساتھ میٹنگ اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ عنقریب صوبے کے عوام کو نئی کلچر پالیسی دی جائے گی۔

culture 2

Nadra Mega Center Peshawar

شہزادہ فہد

وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے پشاور میں بنائے جانے والا پہلا نادرہ میگا سنٹر میں کرائے کی عمارت قائم کیا گیا ، پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی عمارت پرتعزین و آرائش کی مد میں 15 کروڑ روپے پھونک دئیے گئے ، سنٹر کے قیام کے بعد قریبی 4 ناردہ سنٹر بند کئے جا ئینگے ، شہری نئے شناختی کارڈ کے حصول کےلئے سنٹر میں نارمل سمارٹ قومی شناختی کارڈ کی بجائے ایگزیکٹو کارڈ کی فیس ادا کر ینگے ، سنٹر میں ارجنٹ پارسپورٹ کی فیس بھی نارمل سے زیادہ وصول کی جائیگی ، نادرہ غریب شہریوں کو سہولیات ختم کر کے امرءکو سہولیات دینے پر عمل پیرا ہو گیا ، خیبر پختونخوا میں پہلے نادرہ میگا سنٹر کے قیام بغیر منصوبہ بندی کئے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے ، تہکال میں نادرہ میگا سنٹر کےلئے پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی بلڈنگ کی تعزین و آرائش پر 15 کروڑ روپے خرچ کر دئیے گئے ہیں ، جبکہ سنٹر کے لئے منتخب عمارت کا لاکھوں رپوں ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے گا ، میگا سنٹر کے قیام کے بعد کوہاٹ روڈ ، ڈینز پلازہ ، ابدارہ روڈ اور کینٹ فاٹا میں قائم نادرہ دفاتر ختم کئے جا ئینگے ، چار سنٹرز کی بندش پر پشاور کے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہو نگے ، نواحی و مضافاتی علاقوں کے شہری ،کوہا ٹ روڈ ، پشاور کینٹ ،اور فاٹا کے رہائشی شناختی کارڈ کے حصول کےلئے یونیورسٹی روڈ کے چکر کاٹیں گے، واضح رہے کہ نادرہ دفاترمیں ہرامیر و غریب سے سمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 400 کی بجائے8 سو اور 16 سو روپے وصول کئے جا رہے ہیں، کارڈ گم ہو نے کی صورت میں بھی 16 سو روپے وصول کئے جاتے ہیں، نادرہ وفاقی محکمہ ہو نے کی وجہ سے اہلکاروں کی من مانیاں عروج پر ہیں جبکہ فیس اور سہولیات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،

 

Police SMS Complaint System Failed In KP

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے بنائے جانے والا ایس ایم ایس سسٹم ناکام ہو گیا ، تین سالوں کے دوران صوبے بھر سے شہریوں نے پولیس اہلکاروں اور ذاتی معاملات کی 5680 شکایا ت بذریعہ ایس ایم ایس کیں ، تین سالوں کے دوران سنٹرل پولیس آفس کو صوبے بھر سے 5 ایس ایم ایس یومیہ موصول ہو ئے ، صوبے بھر میںسب سے زیادہ ایس ایم ایس ضلع پشاور کے شہریوں کی جانب کئے گئے ، اسی طرح تین سالوں میں ڈی آئی خان کے شہریوں نے 304 ایس ایم ایس کے ذریعے پولیس کا اپنی ساتھ ہو نے والی زیادتی سے آگاہ کیا ، سابق آئی جی خیبر پختونخوا نا صر خان دورانی کی نگرانی میں محکمہ پولیس نے 5 جولائی 2013ءکو سنٹرل پولیس آفس میں پولیس تک رسائی کے نام سے ایک کمپلنٹ سیل قائم کیا،کمپلنٹ سیل میں شہریوں کو اپنے ساتھ ہو نے والی ذیادتی کے تدارک کے لئے آئی جی پولیس اور ایک دیگر موبائل نمبر فراہم کیا گیا جبکہ ، فیکس ، ای امیل ، آن لائن ایف آئی آر کے اندراج کےلئے پولیس وئب سائیڈ پر ایک فارم پر کرنے کے بعد آئی ڈی بنانے کا عمل ترتیب دیا گیا، ایس ایم ایس سسٹم کی بہتری کے لئے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے اور فوری عمل درآمد نہ ہو نے کے باعث صوبے کے شہریوں نے پولیس کو بذریعہ ایس ایم ایس شکایات درج کرنے کے عمل میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے، ایس ایم ایس سسٹم کے مطابق شکایت کنندہ کا میسج سنٹرل پولیس آفس موصول ہو تا ہے جس کے بعد شہری کی شکایت متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سمیت ریجنل پولیس آفیسر کو شکایات فاروڈ ہو جاتی ہیں ،سنٹرل پولیس آفس کو ایس ایم ایس کر نے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او شکایب کنندہ کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کی جاتی ہیں ،تاہم پولیس کے خلاف ایس ایم ایس کر نے کے بعد شکایات کنندہ پر متعلقہ پولیس کا دباو¾ شروع ہو جاتا ہے جس کے بعد اعلیٰ پولیس حکام کو فریقین کے مابین صلح کی رپورٹ دی جا تی ہے ، سنٹرل پولیس آفیس سے دستیاب دستاویز کے مطابق 12 نومبر 2014ءسے 29 ستمبر 2017 ءتک مجموعی طور پر صوبے بھر سے شہریوں نے تین سالوں کے دوران 5680 ایس ایم ایس سینڈ کئے ، جس میں سب سے زیادہ 1735 ایس ایم ایس پشاور کے شہریوں نے کئے ، دوسرے نمبر پر 1554 ایس ایم ایس مردان کے شہریوں کی جانب سے کئے گئے ، ملاکنڈ 406 ، بنوں 538 ، کوہاٹ 371 ، ہزارہ 772 جبکہ تمام اضلاع سب سے کم شکایات بذریعہ ایس ایم ایس ڈی آئی خان سے موصول ہو ئیں جہاں شہریوں نے تین سالوںمیں 304 ایس ایم ایس کر کے جدید شکایاتی نظام کو استعمال کیا، محکمہ پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے جدید نظام کے زریعے شکایات کے اندارج میںکمی واقع ہو ئی ہے ، دوسری جانب پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت کنندہ کا موبائل نمبر متعلقہ ایس ایچ اور اور ڈی پی او کو دستیاب ہو نے سے شکایات کنندہ پر دباو¾ بڑ جاتا ہے جس کے بعد فریقین کے مابین صلح کروا کر اعلی ٰ افسران کی آنکھوںمیں دھول جونکی جا تی ہے ۔

 

Interest Rate Rise In Khyber Pukhtoonkhwa (خیبر پختونخوامیں سود خوری)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون ہونے کے باوجود صوبے میں سود خوری عروج پر پہنچ گئی ، سودخوروں نے قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نئے حربے ایجاد کر لئے،

شہزادہ فہد ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سود کے خلاف قانون کارآمدثابت نہ ہوسکا ، سود خوروں نے قانون کومات دینے او ر پولیس کی گرفت سے بچنے کےلئے نیا حربہ اپنا لیا ، قرضہ دیتے مجموعی رقم میں سود شامل کرکے کاغذئی کاروائی کی جانے لگی ہے، قرضے کے حصول کےلئے مجبور شخص ا سٹاپ پر دستخط کرکے سودخوروں کو محفوظ بنا دیتے ہیں ، پولیس حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،2016ءمیں خیبر پختونخوا اسمبلی سے قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور کے مختلف تھانوں میں 92 افراد کے خلاف سود ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے گئے جن میں 60 افراد گرفتار ہو چکے ہیں ،تھانہ بڈھ بیر میں سب سے زیادہ سودخوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ گلبہار دوسرے نمبر پر رہا ،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی وصولی پر روک تھام کے متعلق قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے،سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی،مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکے گی ،اسی طرح عدالت فریقین کے مابین کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی،بل کے تحت اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی نہیں کریگا،عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی ، دوسری جانب سودخوروں نے قانون کی گرفت سے بچنے کےلئے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے ، قرضے کی رقم میں سود شامل کرکے مجموعی رقم کا معاہدہ کرنے پر قانون کے شکنجے سے محفوظ ہونے لگے ، 2016 ءخیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے بعد تاحال پشاور پولیس نے 92 افراد کو نئے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جن میں 72 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جاچکے ہیں ، صوبائی دارلحکومت پشاو رکے 30 تھانوں میں سب سے زیادہ 22 مقدمات بڈھ بیرمیں درج کئے گئے ، اسی طرح دوسرے نمبر پر گلبہار میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے مھترا میں 8 ،یونیورسٹی میں 6، گلبرگ،خرانہ اور پشتخرہ میں 4/4 مقدمات جبکہ شاہ قبول، بھانہ ماڑی، پھندو، اور داود زئی میں 3/3 مقدمات درج کئے گئے ہیں ، تھانہ خان رزاق ،فقیر آباد،پہاڑی پورہ،شرقی، حیات آباد،تاتارہ،ریگی ماڈل ٹاون، چمکنی میں کو ئی مقدمہ درج نہ کیا جاسکا ہے ۔

 

Woman Harassment In Khyber Pukhtoonkhwa

شہزادہ فہد

خیبر پختونخوا میں خواتین کو کام کے جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے محتسب موجود نہ ہو نے سے صوبے بھر میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں ، غیر سرکاری اعداد شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2015سے ابتک مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں 500سے زائد خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور صحت سے کیسز رجسٹرد ہوئے صرف پشاور یونیورسٹی سے300سے زائد خواتین نے ہراسمنٹ کے کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والی محتسب کی نشست گزشتہ سات سالوں سے خالی ہے، ایکٹ کے مطابق ہر ادارے میں ہراساں کئے جانے کے خلاف کمیٹی لازمی قرار دی گئی جس میں ایک خاتون کی نمائندگی بھی ضرروی ہے تاہم صوبے بھر میں سرکاری و نجی اداروں میں کمیٹی کا تصور ہی نہیں ہے، تھانہ کلچر کی وجہ سے ہراساں کی جانے والی خواتین پولیس کو رپورٹ درج کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں ، مارچ 2010 میں وفاقی حکومت نے کام کے جگہوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف کارروائی کے بل کو منظور کیا تھا جس کے بعد سے وفاق، پنجاب اور سندھ میں محتسب کو مقرر کیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں محتسب موجود نہیں ہے، سزا کا عمل تیز نہ ہونے سے صوبے بھر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں روز نہ روز اضافہ ہورہا ہے ،اور واقعہ میں ملوث ملزموں کوشہہ مل رہی ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سات سال قبل خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کے لیے بنائی گئی ایکٹ (ہراسمنٹ آف وومن آن ورک پلیس ) میں کام کرنے کی جگہ خواتین کو ہراساں کے جرم ثابت ہونے پر3سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،تعزیرات پاکستان سیکشن509تحت بھی خواتین اپنی ہراسمنٹ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر درج کرسکتی لیکن تھانہ کلچر کی وجہ سے اکثر خواتین اس اذیت ناک صورت حال کی بجائے خاموشی کو بہتر سمجھتی ہیں، ایکٹ کے مطابق کہ ہر نجی اور سرکاری اداروں تین رکنی کمیٹی ہوگی جس میں خواتین کی نمائیندگی ضروری ہوگی جو کہ کسی بھی شکایات کے ازالہ کرنے کے لیے کام کریگی جبکہ اس قانو ن کے تحت ادارے ضابطہ اخلاق بنانے کے بھی پابند ہیں لیکن ابھی تک کسی ادارے مین ضابطہ اخلاق اس حوالے سے نہیں بنائے گئے ۔ ان مرحلوں سے گزر کرایک لڑکی 509کے تحت ایف آئی آر درج کرسکتی ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس حوالے کوئی بھی اقدام نہیں کیا ہے جو کہ اس صوبے کے خواتین کے ساتھ نا انصافی ہے ، خیبر پختونخوا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کام کر نی والی نجی فلاحی تنظیم کی چئیر پرسن خورشید بانو کا کہنا تھا کہ کہ خیبر پختون خوا میں سالانہ 2 سے 3سو خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے گزشتہ دو سالوں میں صرف پشاور یونیورسٹی سے 300سے زائد کیسز موصول ہوئے لیکن محتسب نہ ہونے کے باعث وہ کیسز خراب ہوجاتے ہیں اور کسی کو سزا نہ ملنے کے باعث ایسے مردوں کو شہہ ملتی ہے، انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ نشست سات سال سے خالی ہونے کے خلاف رٹ بھی کررکھی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ویلفیر کے مطابق بجٹ ،عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہے لیکن پھر بھی صوبائی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جو کہ اس صوبے کے اُن خواتین کے ساتھ ظلم ہے جو کام کے دوران جنسی ہراساں کے شکار ہوجاتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چاہتی کہ ایسے واقعات کے خلاف کسی کو سزا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جارہے اور دوسری جانب ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتاہے۔