Tag Archives: crime

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

One year of Amry Public school

شہزادہ فہد۔۔۔
16دسمبر2014کوپشاورکے آرمی پبلک سکول پردہشت گردحملہ میںاپنے پیاروںکوکھویایہ سانحہ محض دہشت گردی کی واردات نہیںبلکہ ایک طرف یہ معصوم بچوںپرظلم وبربریت کادل دہلادینے والاانسانیت سوزواقعہ تھاجس میںسب سے زیادہ متاثروہ مائیںتھیںجنہوںنے16دسمبرکی صبح اپنے جگرکے ٹکڑوںکوتیارکراکے ان کے ماتھے چھوم کراس امیداورمعمول کے ساتھ سکول روانہ کیاکہ وہ اس درس گاہ میںدن گزارکرسہ پہرمیںگھروںکوپہنچیںگے بچوںکی سکول روانگی کے بعدیہ مائیںگھرکے دوسرے کام کاج کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کے پسندیدہ کھانوںکے بارے میںبھی سوچتی رہی ہوںگی لیکن گھنٹہ ڈیڑھ ہی میںیہ خبران پرقیامت کی طرح ٹوٹ پڑی کہ سکول جانے والے ان کے معصوم پھول بارودکی آگ میںجھلس رہے ہیںاورپھریہ مائیںسب کچھ چھوڑکرپشاورکے ورسک روڈکی جانب دیوانہ واردوڑپڑیںجہاںواقع آرمی پبلک سکول میںگھس آنے والے حملہ آورمعصوم بچوںکونشانہ بنارہے تھے آج ایک سال گزرنے پران عظیم ماﺅںکوتحسین کاخراج پیش کیاجارہاہے بچوںکے ساتھ ساتھ ان کی کئی بہادراستانیاںبھی اس بے رحمانہ حملہ میںشہیدہوئیںجن میںآرمی پبلک سکول کی کلاس ہشتم کی ٹیچر سحرافشاںبھی شامل تھیںسحرافشاںکی والدہ شمیم اخترنے اپنی شہیدبیٹی کاذکر شروع کیاتوان کی آنکھیںپرنم ہوئیںانہوںنے بتایاکہ اپنے شوہرکی وفات کے بعدانہوںنے اپنے بچوںکی بہترین پرورش اورتربیت کی حتی المقدورکوششیںکیںاوراپنے بچوںکوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے پرخصوصی توجہ دی یہی وجہ تھی کہ ماسٹرزکرنے کے بعدان کی صاحبزادی سحرافشاںنے بحیثیت ٹیچرآرمی پبلک سکول سے وابستگی اختیارکی کیونکہ وہ حصول تعلیم اورعلم پھیلانے سے خصوصی شغف رکھتی تھیںاوراس کااندازہ سے امرسے لگایاجاسکتاہے کہ وہ آرمی پبلک سکول میںپڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت کومزیدبہتربنانے کیلئے ایم فل کررہی تھیںبچوںکوپڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے اوربھی کئی ارمان تھے جن میںایک فریضہ حج کی ادائیگی کاارمان بھی شامل تھالیکن قسمت نے انہیںمہلت نہ دی اوروہ اپنے یہ ارمان دل میںلے کردنیاسے رخصت ہوئیں16دسمبرکو اپنے معمول کے مطابق سحرافشاںعلی الصبح بیدارہوئیںاورناشتہ کرکے ڈیوٹی کیلئے روانہ ہوئیںتقریباڈیڑھ گھنٹہ بعدہی ان کے بھائی فوادگل نے ٹیلی فون کیاکہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پرحملہ کردیاہے چونکہ سحرافشاںبھی وہاںپرموجودتھیںتواپنی بیٹی کیلئے ان کی پریشانی لازمی اورقابل فہم امرتھالیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سکول میںموجودسینکڑوںبچوںاوردیگراساتذہ وتدریسی عملہ کی حفاظت وہ خیریت کیلئے بھی دعاگورہیںاورتقریبا7گھنٹے تک اپنی زندگی کی شدیدترین اذیت سے گزرنے کے بعدتقریباپانچ بجے انہیںاطلاع ملی کہ سحرافشاںشہیدکاجسدخاکی کمبائنڈملٹری ہسپتال پشاورپہنچادیاگیاہے جس کے بعدفوادگل ہسپتال جاکروہاںسے سحرافشاںکاجسدخاکی لے کرآئے اپنے آنسوﺅںسے پرنم آنکھوںکے ساتھ شمیم اخترنے کہاکہ جس پھول سی پیاری بیٹی کوانہوںنے صبح ڈیوٹی کیلئے رخصت کیاتھاانہیںبے جان حالت میںدیکھنے پران پرجوگزری وہ ان کیلئے ناقابل بیان ہے اپنی بیٹی کےلئے ان کے بہت سے ارمان تھے لیکن جس طرح سحرافشاںشہیدایم فل کرنے، فریضہ حج اداکرنے اوردیگرارمانوںکواپنے دل میںلئے دوسرے جہاںسدھارگئیںاسی طرح اپنی بیٹی کیلئے میرے یہ ارمان بھی میرے دل ہی میںرہ گئے ہیںسحرافشاںان کیلئے پوری کائنات تھیںوہ بہت رحم دل ،ملنساراورہنس مکھ تھیںضرورت مندوںکی مددکرنے سے دریغ نہیںکرتیںاسی طرح سکول میںدن بھرکی محنت کے بعدوہ ان کے ساتھ گھرکے کاموںمیںہاتھ بٹاتی،خصوصاسوداسلف خریدنے (شاپنگ کرنے)میںخاص دلچسپی لیتیںاور16دسمبرکوبھی انہوںنے ڈیوٹی سے واپس آنے پرمیرے ہمراہ بازارجاکرخریداری کرنے کاپروگرام بنایاتھالیکن قدرت نے ان کیلئے کوئی اورہی پروگرام سوچ رکھاتھامیری سحرافشاں16دسمبرکوسکول سے واپس آئیںلیکن اپنے پیروںکی بجائے تابوت میںلائی گئیںان کی باتیںآج بھی انہیںیادآتی ہیںپشاورکے معروف رہائشی علاقہ گل بہارکالونی کی باہمت فرح ناز16دسمبرکے سانحہ میںشہیدہونے والے آرمی پبلک سکول کی کلاس نہم کے طالبعلم 15سالہ عزیراحمدکی والدہ ہیںعزم اوراستقامت کی علامت فرح نازکے مطابق ان کالخت جگرعزیراحمدپہلی کلاس سے آرمی پبلک سکول میںداخل کرایاگیاتھاکیونکہ یہ سکول آرمی کے زیر انتظام چل رہا ہے اور یہاں سے پڑھنے والے والے تمام بچے دوسرے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت ذیادہ ذہین اور شاطر ہوتے ہیں یہاں سے میٹرک پاس کرکے عزیز احمد کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےلئے امریکہ بھیجنا تھا لیکن دہشت گردوں نے عزیر اور اس کے والدین کے تمام خوابوں کو مٹی میں دفنا دیا شہید عزیز احمد پوزیشن ہولڈر تھا اور اسے اپنی کتابیں اور کاپیاں بہت پسند تھی وہ کسی کو بھی اپنی کتاب یا کاپی نہیں دیتا تھا 16دسمبر2014کو پیش آنے والے سانحہ کے بعد شہید عزیر احمد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی کتابیں ، کاپیاںاور بستہ وغیرہ سکول سے لا کر اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ اس کا بیٹاکسی کو اپنی کتابیں نہیں دیتا تھا اسی سانحہ میں شہید ہونے والے والے جماعت نہم کے طالب علم احمد الہیٰ کی والدہ سمیرا صدیقی نے بتایا کہ وہ آرمی گرلز کالج میں ٹیچر ہے اور اس کے دو بیٹے ایک احمد الہیٰ جو 16دسمبر کو دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہوگیا جبکہ دوسرا اسی سکول میں اولیول میں پڑھتا ہے انہوں نے بتایا کہ وہ خود اسی سکول میں ٹیچر ہے تو اس وجہ سے اس نے اپنے شہید بیٹے کو بھی آرمی پبلک سکول میں داخل کرایا کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا وہ بچپن ہی سے ذہین تھا اور خطاطی کرنے کا بے حدبہت شوق تھا جب بھی فارغ بیٹھتاتوقرآن کے آیات لکھتاتھااحمدالہی نے دوسپارے حفظ کئے ہوئے تھے جبکہ اسے اذان دینے کابھی بہت شوق تھاسمیراصدیقی کے مطابق ان کا بیٹاعصراورمغرب کی اذان بھی دیتاتھا16دسمبرکومیںڈیوٹی دینے کیلئے اپنے دونوںبیٹوںکے ہمراہ گھرسے نکلی تھی احمدالہی کوسکول میںچھوڑنے کے بعدمیںاپنے سکول چلی گئی اورتقریبا10بجے کے قریب کورہیڈکوارٹرسے ہمارے کالج میںفون ہواکہ آرمی پبلک سکول پرحملہ ہواہے ہم سمجھے کہ شاہدچھوٹاساحملہ ہوگاہماری افواج اسے پسپاکردیںگے لیکن جب بعدمیںہمیںاپنے رشتہ داروںکی جانب سے ٹیلی فون کالیںآناشروع ہوئی توہمیںمعاملہ سنگین معلوم ہوااورمیں اپنے سکول سے نکل کر بیٹے کے سکول کی جانب جانے لگی توراستہ میںڈیفنس پارک میںسینکڑوںزخمی بچوںکولٹایاگیا تھاوہاںدیکھاتومیرا بیٹا ان میںنہیںتھاجس کے بعدمیںسی ایم ایچ روانہ ہوگئی لیکن وہاںکسی کواندرنہیں چھوڑا جارہا تھاجہاں 3 گھنٹے انتظارکرنے کے بعد سپیکر پرآوازدی گئی کہ شہیداحمدالہی کے والدین نعش وصول کرنے آجائیںیہ اعلان سنتے ہی ہم پرآسمان ٹوٹ پڑا16دسمبر 2014کوآرمی پبلک سکول ورسک روڈپشاورپرہونے والے دہشت گردحملہ کے چندشہداءکی ماﺅںپرگزرنے والے قیامت کی مختصر داستانیںہیںوگرنہ اس روزپیش آنے والے سانحہ نے جہاںپشاورکے سینکڑوںگھروںمیںصفت ماتم بچھاڈالی وہاںاس ظلم وبربریت کانشانہ بننے والے شہداءکے ماﺅںکی عظیم قربانیوںکاہی نتیجہ اورثمرہے کہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان پرمسلط دہشت گردی کے آسیب جس نے 50ہزارسے زائدپاکستانیوںکی جانیںلیں،قومی معیشت کو100ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچایااورتعلیم ،ثقافت سمیت ہرشعبہ زندگی میںتباہی و بربادی برپاکی اس آسیب کے بارے میںمنتشرالخیال پاکستانی قوم پہلی مرتبہ یکسو،یک جان اوریک آوازہوگئی ۔

peshawar mei jaraem pesha afrad ka raj. police khamosh tamashai

شہراد فہد ۔۔۔۔
صوبائی دارلحکومت پشاور میں بڑھتے ہوئے جرائم نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ آئے روز بڑھتے جرائم پر پشاور پولیس قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام کے لئے انتظامات نا کافی ہیں ، پشاور پولیس ڈبل سواری میں ملوث افراد کو تو شیروں کی طرح پنجوں میں جکڑ لیتی ہے مگر افسوس جرائم پیشہ افراد سر عام دھندلاتے پھر تے ہیں اور بڑی آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تھانہ پہاڑی پورہ ، فقیر آباد ، گلبہار ، ہشتنگری ، خان رزاق میں ہونے والی ڈکیتوں پر پشاور پولیس نے آنکھیں موند لی ہیں گزشتہ ماہ کے دوران پہاڑی پورہ، فقیر آباد ، ہشتنگری، تھانہ کابلی کی حدودمیں ہونے والی ڈکیتوں کے باوجود کوئی ٹھوس اقدمات نہیں کئے گئے ۔ پہاڑی پورہ جو کہ کافی گنجان آباد علاقہ ہے جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بن چکا ہے ایک ہفتہ کے دوران کارپوریشن کالونی،اقبال کالونی ،دلہ زاک روڈ سیٹھی ٹاون میں ایک منظم گروپ مسلسل راہ زنیوں میں مصروف ہے علاقہ مکین شام کے بعد گھر وں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ میں حسین چوک مین بازار میں نامعلوم مسلح ملزمان عطاء اللہ کسٹمر سروس سے دن دھاڑے 2 لاکھ روپے چھین کر باآسانی فرار ہوگئے تھے جس پر پہاڑی پورہ حسین چوک کے تاجران نے شدید احتجاج بھی کیا تھا بازار کے صد ؤر شاہ جہان کے مطابق پہاڑی پورہ پولیس تاجروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے اہلیان علاقہ کی جانب سے بھی جرائم پر قابو نا پانے کی شکایات با زریعہ اخبارات کی گئی ہیں اسی طرح پشاور سٹی کے ساتھ جوڑا ہوا پولیس اسٹیشن فقیر آباد میں راہ زنی اور ڈکیتی کی وادتوں نے شہریوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں رواں ہفتہ پولیس کالونی میں ڈکیتوں نے شفیق نامی شخص کے گھر والوں کو یر غمال بنا کر لاکھوں روپوں کی نقدی اور طلائی زیورات لوٹ لئے جبکہ علاقہ میں عرصہ دراز سے راہ زنیاں شہریوں کو پولیس پر عدم تحفظ کی طرف لے جا رہی ہیں ۔ پشاور شہر میں حالات جدا نہیں ہیں گزشتہ ماہ ہونے والی پشاور کی تاریخ کی بڑی ڈکیتوں میں سے ایک صرافہ بازار (اند ر شہر ) میںدن دیہاڑے موٹر سائیکل پر سوار تین نامعلوم مسلح نقاب پوش ڈاکوں اندرون شہر کے صرافہ بازار میں واقع حاجی ابرار ولد جان مسعود سکنہ حسین آباد نامی شخص کے جیولرز شاپ میں گھس گئے ملزمان نے دکان میں گھستے ہی اسلحہ نکال کر مالک سمیت تمام عملے کو یرغمال بنادیا اور لوٹ مار کرتے ہوئے 1000تولے سے زائدسونا سمیٹ کر اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔22 دن قبل ہونے والی ڈکیتی جس پر صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے سینکڑوںتاجروں نے تاحال ملزما ن کی گرفتاری اور امن و امان کی صورت حال قائم کر نے کے لئے احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں تاجروں کا موقف ہے کہ آئے روز ڈکیتیوں کی وارداتوں نے ان کا جینا حرام کردیا ہے جبکہ پولیس ٹھس سے مس نہیں ہورہی جگہ جگہ پولیس ناکہ بندیاں شہریوں کے درد سر بن گئے ہیں جرائم پیشہ افراداور ڈاکوں دن دیہاڑے واردات کے بعد انہی پولیس ناکہ بندیوں سے با آسانی گزر جاتے ہیں جنہیں پولیس پکڑنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے حیرانی کی با ت ہے کہ پشاور پولیس وقوعہ پر لگے سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر نے کے بعد تاحال ڈکیتی کی وارات لگانے میں ناکام نظر آتی ہے ۔ تھانہ ہشتنگری کی بات کریں تو گزشتہ ماہ سر بازار میلاد چوک میں شیخ نوید حسین ولد شیخ نثار احمد سکنہ گجرانولہ جو کہ کپڑے کا تاجر سے 15 لاکھ روپے چھین لئے گئے تھے جس کو مقامی لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا پولیس اس وقت کہاں تھی کیا پولیس کا کام امن امان برقرار رکھنا نہیں ہے شہر کے دوسرے بڑے بازار میں پولیس کی گشت نا ہونے کے برابر ہے آئے روز اشرف روڈ جیسے بڑے بازار میں تاجر لوٹتے نظر آتے ہیں ۔ شہریوں کی جانب سے آجی خیبر پختون خوا، ہوم سیکرٹری اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پھولوں کے شہر پشاور میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا جائے ۔ شہریوں کے مطابق محکمہ پولیس میں کرپٹ افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے ڈیوٹی میں خیانت بھی کرپشن کا حصہ ہے اسے افراد کوقرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
صوبائی دارلحکومت پشاور میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پولیس جرائم پیشہ افراد کے سامنے بے بس نظر آئی ۔ پانچ ماہ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ڈکیتی کی 7بڑی وارداتیں ہوئی اسی طرح چھوٹی موٹی ڈکیتوں کی درجنوں وادتیں ہوئی ۔چوری کی 82 واردتیں ہوئی ۔ 172 افراد کی پانچ ماہ کے دوران قتل کیا گیا جبکہ قاتلانہ حملوں میں 400 سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔2 بچوں سمیت24 افراد کو اغواء کیا گیا اسی طرح زیادتی کے 28 واقعات رونما ہوئے۔ یہی حال رہا تو پچھلے سال کے تناسب رواں سال جرائم کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا

محکمہ پولیس کی جانب سے بنائی گئی ریپڈ رسپونس فورس ،کیویک رسپونس فورس ، رائیڈ اہلکار اور پولیس کی جانب سے لاکھوں رپوں کے لاگت سے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے کو جرائم پیشہ افراد افراد کا راستہ نا روک سکے ۔ جرائم پیشہ افراد کو جدید ٹیکنا لوجی کو خاطر خوا نہیں لاتے شہر میںلگائے گئے پولیس سی سی ٹی وی کیمرے کوبروئے کار نہ لاسکے۔پولیس کی جانب سے گشت کر نے والے اہلکار صر ف ڈبل سواری میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن میں دیکھائی دیتے ہیںجبکہ ویکل ویری فیکشن سم پولیس کے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی ہے ۔ ریپڈ رسپونس سکواڈ کی کارگردی نہ ہونے کے برابر ہے تاحال ریپڈ رسپونس سکواڈ نے کوئی اہم کاروائی میں کی ہے ۔ 10175019_836895049731622_3514238861922169340_n

4 years child kidnap from ps pahari pura

شہزادہ فہد۔۔۔۔۔
یہ 16 دسمبر کی شام تھی جب رحمت اللہ اپنی شہد کی دکان میں کام کرنے میں مصروف تھا اچانک اس کے گھر سے فون آیا کہ اس کے چار سالہ بچے کو کسی نے اغواء کر لیا ہے تو ایسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کے بدن سے کسی سے روح زبردستی کھینچ لی ہو۔یکدم سے وہ زمین پرگر پڑا،ہوش میں آتے ہی وہ گھر پہنچا جہاں اسے اس کی بیوی نے بتایا کہ تین افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ اور کہا کہ چاول لے لوتب اس نے ڈرکے مار ے دروازہ نہیں کھولا اکیلے ہونے کے ڈر سے وہ حواس باختہ ہوچکی تھی تا ہم ا سی دوران بیس منٹ گزر چکے تھے اورایک بارپھر دروازے پر دستک ہوئی۔دروازے کے پیچھے سے ایک بچی کی آواز آئی ،پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ وہ پڑوسیوں کی بچی ہے جو معمول کے مطابق کوڑا کرکٹ لیجانے آتی ہے۔دروازہ کھولتے ہی اسے جھٹکامحسوس ہوا،تین افرا دجو کہ پہلے ہی سے اسی تاک میں تھے کہ کسی طرح سے دروازہ کھلے اور ہم اندرداخل ہوں او ر ایسا ہی ہوا ،دروازہ کھلتے ہی وہ تینوں جوکہ مسلح بھی تھے ہمارے گھر میں داخل ہوئے اورمیرے دوسالہ بیٹے مصطفی کودبوچ لیا۔دوسرے لمحے انہوںنے دیکھا کہ مصطفی کا بھائی سہیل جو عمر میں اس سے بڑا ہے کواٹھا کر بھاگنے لگے ۔ان کے اس اقدام پرگھر میں کہرام مچ گیا گھر میں چیخ و پکار شروع ہوگئی تھی ملزم وارادات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔جب رحمت اللہ نے اپنی بیوی کی زبانی یہ ساراقصہ سنا تو باہر محلے میں دیوانہ وارچیخنے لگااور محلے والوں کوبرا بھلا کہنے لگا کہ تم میں سے مرد کوئی نہ تھا جو میرے بچے کو ان سے بچاتا ۔اسی طرح دن گزرتے رہے اور ہر دن اس کے گھر میں ماتم ہوتا ۔ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا رحمت اللہ اپنے گھروالوں کو تسلی دیتا رہا۔ اس کی بیوی دیوانوں کی طرح اپنے بچے کو پکارتی اور یاد کرتی رہی ۔آخر کا راسے ایک نامعلوم نمبرسے ایک کال موصول ہوئی جس میں نامعلوم ملزمان نے اس سے اس کے بچے کی رہائی کے لئے دوکروڑ کی رقم کا مطالبہ کیا۔رحمت کے مطابق میں اپنے بچے کی خاطراپنا سب کچھ بیچنے کیلئے تیار تھا۔ اسی دوران اس نے پولیس کو بھی واقعے کی اطلاع دی تھی، وہ بے خبر اپنے بچے کی یاد میں گم سم رہتا تھاکہ ایک دن اسے پولیس کی جانب سے اطلاع ملی کہ اس کے بچے کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔یہ دن اس کے لئے عید کاد ن تھا وہ دن آہ گیا تھا جب وہ اپنے بچے کو بھر سے اپنی باہنوں میں اٹھا سکتا تھا جیسے ہی وہ اپنے بیٹے کے پاس قریب پہنچا بیٹا نے اسے پہچانے سے انکار کر رہا تھاڈیڑھ ماہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ اپنے باپ کی نہیں پہچان رہا تھا

اے ایس پی فقیر آباد بلال فرقان کا موقف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ایس پی فقیر آباد فرقان بلال کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے 27 چھاپے مارے ملزم بہت شاطر تھے۔اخر کار ملزم قانون کے شکنجے میں آہ چکے تھے پولیس نے یوسف آباد میں مکان پر چھاپہ مار کر دو اغواء کاروں کو گرفتار کرلیاجبکہ گروہ کے سرغنہ اور پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر سمیت دیگر 4 اغواء کار فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کیلئے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں پولیس نے دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انکی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں اے ایس پی فرقان بلا ل نے مزید کہا ملزموں نے چند دنوں بعد ملزمان نے مغوی کے والد سے بچے کی رہائی کیلئے 2کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کردیا تھا جبکہ نہ دینے کی صورت میں بچے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ۔پولیس نے دو اغواء کار وںزبیر ولد بخت لعلی سکنہ ٹیلہ بنداوروقار حسن ولد گل حسن سکنہ شگئی ہندکیان کو گرفتار کرلیاہے جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنے دیگر ساتھیوں سہیل،شہزاد،بلال،مسماة سیمااورکبیر خان کے نام اگلتے ہوئے بتایا کہ مغوی بچہ ان کے قبضہ میں ہے جس پر پولیس نے ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری اور بچے کی بازیابی کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیا پولیس کی جانب سے مسلسل چھاپوں کی وجہ سے ملزمان نے اپنی گرفتاری کے ڈر سے مغوی بچے سہیل کو بغیر کسی تاوان وصول کئے علاقہ یوسف آباد میں چھوڑ دیا جسے انہوں نے تحویل میں لے کراس کے والدین کے حوالہ کردیا اے ایس پی فرقان کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان میں پرائمری سکول کی خاتون ٹیچر مسماةسیما بھی شامل ہیں جو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت قبائلی علاقہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں جن کی جدید سائنسی خطوط پر نشاندہی کی گئی ہے اور عنقریب انہیں بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا ۔

بازیاب ہونے والے بچے کے والد کا موقف ۔۔
بازیاب ہونے والے 4 سالہ سہیل کے والد نے کہا ہے کہ لخت جگر کے اغواء ہونے کے بعد راتوں کی نیند اڑ چکی تھی اپنی بیوی کو تسلی دیتا رہا لیکن خود اپنا غم دل میں دبائے رکھا گھر والوں کے حوصلے کے لئے ان کے سامنے کبھی نہیں رویا یہاں تک کہ آنکھوں کے پتلوں میں آنسوں دب کر رہ گئے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ جلد ازجلد آنکھوں کا آپریشن کیا جائے اگر اس میں تاخیر کی گئی تو آنکھ بینائی سے محروم ہوجائے گی مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے کو اغواء کاروں کے چنگل سے باحفاظت بازیاب کر وایا گیا یہ دن میں زندگی کا اہم تر ین دن تھا

ایک وہ معلمہ بھی تھی کہ جس نے سانحہ پشاور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے سرخروہوگئی اور ایک یہ معلمہ ہے جس نے چندروپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازا رنیلام کردیا
کسی بھی معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے جتناکردارایک استا دکا ہوتا ہے اتنا شاید ہی کسی اور کا ہواور چونکہ ہم ایک اسلامی معاشرہ کے باسی ہیں اس لئے ہمیںاپنے آخر ی نبی حضرت محمد ۖ کے اس ارشاد کی طرف بھی غور کرنا ہوگاجو انہوںنے فرما کے ہمارے لئے آسان کردیا ارشاد فرماتے ہیں”کہ بے شک میں معلم بنا کربھیجا گیا ہوں”۔آپۖ کے اسی ارشاد کے پیش نظرایک مسلمان استاد کے فرائض سامنے آتے ہیں ا س پر با ت کرنا بہت ہی آسان ہے۔کیونکہ جب ہمارے پیارے نبی ۖ ہی معلم بنا کر بھیجے گئے او ر جنہوںنے عرب کی جاہل او رگری ہوئی قوم کوآسمان کی بلندیوں پر اپنے بہترین اخلاق کی بدولت پہنچا دیا جس کی مثال قیامت تک کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔او ربطورمسلمان اگر ہم بھی معلمی جیسے پیغمبری پیشے کو اپناتے ہیں تو ہمیں بھی ان صفات کو اپنے اندر لانے کی سعی کرنی ہو گی جو صفات ایک معلم کے اندرمعلمانہ صفات بناتی ہیں اور جس کی وجہ سے ایک معلم اپنے شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں قوم کے مستقبل کے لئے تیار کرتاہے۔ لیکن اگرمعلم ہی اپنے فرائض سے اغراض کرکے معاشرہ کو ترقی کی بجائے تنزلی عطا کرے تو یقینامعاشرہ جلد یا بدیراپنی ساخت کھو بیٹھتا ہے ۔اورجیساکہ پشاورحالیہ واقعہ کہ جس میں ایک معصوم نونہال کے اغواء میں ایک معلمہ ملوث پائی گئی کاکرداراگرمعاشرہ دیکھتا ہے تو یقینالوگوں اور خاص طورسے بچوں کے اذہان میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ ہمارا آج کا معلم ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ایک طرف وہ معلمہ تھی جس نے سانحہ پشاورمیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سرخرو ہوگئی او رایک یہ معلمہ ہے جس نے روپوں کی خاطراپنے پیشے کو سربازارنیلام کردیا۔ffffffffffffffffff