Tag Archives: pti

Magic (جادو)

j-1

شہزادہ فہد۔۔

دنیا میں کوئی جادوگر نہیں ہو تا میجک ایک سائنس ہے لو گ اسے ہا تھوں کی صفائی سے پیش کر تے ہیں شعبدہ باز( جادو گر) اسے اتنی تیزی سے ٹریکس ادا کر تے ہیں کہ انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، یہ تمام ہاتھ کی صفائی کا کمال ہو تا ہے دنیا بھر میں میجک سے لو گوں کا علاج کیا جا رہا ہے، یو رپ اور خلجی ممالک میں سٹریٹ میجک کا رواج عام ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کہ لو گو ں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور میجک دیکھتے ہوئے لو گ تمام غم بھول جا تے ہیں،شعبدہ بازی کی تاریخ پر نگا ہ ڈالی جا ئے تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہو جا ئے گی کہ یہ بہت قدیم فن ہے سچی و من گھڑت داستانیں اور کہا نیاں سننے کو ملتی ہیں ، ہمارے ملک میں بعض فنو ن کو نظر انداز کر نے کی روایت نے اس فن کو بری طر ح متاثر کیا ہے ، خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک درجن پیشہ وار شعبدہ باز ہیں،شعبدہ بازی بھی آرٹ کا حصہ ہے، اور پختون راویات میں اس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہما رے کلچر کا ایک حصہ ہے ،پچھلی دہا ئی میں دہشت گر دی اور خراب حالات کے باعث شعبدہ بازوں کی معاشی حالات بہت متاثر ہو ئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شعبدہ باز ی میں کوئی آنے کو تیار نہیں ہے ، دنیا بھر میں شعبدہ باز ی سے بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے خیبر پختونخوا میں بازاروں اور سکولوں میں شعبدہ بازوں کے زریعے عوام میں تنا و اور بے چینی کی فضا ئ کو ختم کیا جاسکتا ہے،ہمارے معاشرے میں لو گ میجک دیکھنا پسند کر تے ہیں لیکن فنکا روں سے انھیں کو ئی لگا و نہیں ہوتا خیبر پختونخوا میں شعبدہ باز ی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ زبوں حالی کا شکار ہیں مہینوں پروگرام نہ ہو نے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں شعبدہ بازوں کو لو گ شادی بیاہ ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں فن ادا کر نے کےلئے مد عو کر تے ہیں شعبدہ با زوں کو مستقل بنیادوں پر روز گار فراہم کیا جا ئے تاکہ وہ ملک کو قوم کی خدمت کر سکیں ،حکومت سرکا ری سکولو ں میں بچوں کو تفریحی فراہم کر نے کےلئے اقدام کر ے، صوبائی حکومت کی جانب سے آرٹسٹوں کو ماہا نہ اعزایہ اور ایواڈ دینے سے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے لیکن شعبدہ بازی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کا نظر آنداز کیا گیا ہے

پشاورکے بین الاقوامی شعبدہ باز کا انوکھا دعویٰ۔
اگر کو ئی آپ سے بو لے کہ وہ مینار پاکستان کو غائب کر سکتا ہے تو آپ کو عجیب لگے گا اسی طرح کا دعویٰ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بین اقوامی شعبدہ باز اقبال حسین کئی بار کر چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ یہ کو ئی انہو نی بات نہیں ہے اس قبل یہ آئٹم امریکی شعبد ہ باز ڈیو ڈ کا پر فیلڈ کر چکا ہے جس نے ہزاروں لوگو ں کے سامنے (آزادی کا مجسمہ) غائب کر دیا تھا ،مینا ر پاکستان کو غائب کر نا اس کے دائیں ہا تھ کا کھیل ہے لیکن اس پر کا فی رقم خرچ ہو تی ہے اگر حکومت سپورٹ کر ے تو وہ یہ آئیٹم کر نے کو تیار ہے، اقبال حسین 1995 ءسے انٹرنیشنل مجیشن تنظیم ( برادرہو ڈ آف میجیشن) کے ساتھ منسلک ہیں انھوں نے پاکستا ن کے علاوہ دیگر ممالک میں شعبدہ باز ی میں نام کمایا ہے وہ پاکستان میں یو نائیٹڈ میجیشن آف پاکستان کے عہدے دار اور پاکستان میجشن سو سائٹی کے نائب صدر بھی ہیں ،وہ مختلف ممالک میں پا کستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ہا نگ کا نگ ، انڈیا ، سنگا پور،بنکاک، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں ،اقبا ل حسین بچوں کے ساتھ بڑوں میں بھی کا فی مقبول ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں اپنے ماموں کی ایک ٹریک سے بہت متاثر ہوا اور باقاعدہ شعبد ہ باز ی کے مید ان میں قدم رکھا اس حوا لے تربیت حاصل کی ہے شعبد ہ باز ی میں 36 سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہوں ، حکومت کی سر پرستی میں خیبر پختونخوا کے عوام کےلئے کچھ کر نا چاہتا ہو ں ،انھوں نے بتایا کہ پاکستا ن میں آلا ت شعبد ہ بازی کا فی مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شعبدہ باز لو کل ٹریک پر ہی آئٹم پیش کر تے ہیں ، حکومت شعبدہ بازوں کےلئے سہولیات فراہم کرے تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی شعبدہ باز دنیا کے شعبدہ بازوں پر برتری حاصل کر لیں۔

Advertisements

Adventure tourism in kpk

شہزادہ فہد

جان جوکھوںمیں ڈالنا ، پر ہمت مہم بازی اورجان بازی کا کام کر نا ایڈونچر کہلا تا ہے دنیا بھر میں ایڈونچر ٹورزیم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، کچھ نیا کرنے کی کو شش میں انسان پہا ڑیوں کی چھٹانوں پر گمند ڈالتے ہو ئے اور سمند وں کی گہرایوں میں سرگراں ہے ، مختف چینلز میں دن رات ایڈونچر کے پروگرامات دیکھائے جا رہے ہیں جن کو دیکھنے والے کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے ، اسی طر ح ہوا میں اڑان بھر کا شوق ہر انسان کے دل ہوتا ہے، آسمان پر اڑتا پرندہ دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہو تی ہے کہ کاش وہ بھی اڑ سکتا ، بچپن میں پریوں کی کہانی سننے کی وجہ سے دل میں ایک خواہش سی پیدا ہو تی ہے، بغیر کسی سہا رے اڑنے کا ارمان پورا ناممکن ہے لیکن ہمارے ٹیکنالوجی نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ مصنوعی پروں سے ہم ہوا میں اڑ سکتے ہیں، یہ تجربہ انتہائی پر لطف اور ایڈونچر سے بھرپور ہوتا ہے، ملازمت، پڑھائی،کا روبار کے دوران ذہنی پژمردگی دور کرنے کےلئے وقفہ ضروری ہوتا ہے اور ذہنی آسودگی کےلئے سپورٹس اور ایڈونچر سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے ، خیبر پختونخوا حیسن وادیوں کی پر مشتمل ہے جہاں فلک بوس پہاڑ ، گہر ی جھیلیں ، سبزہ زار اور کھلے میدان ہر خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی طر ف کھنچ لا تے ہیں ، خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں رہنے والوں اور پاکستان سیمت دنیا بھر سیاحوں کو راغب کر نے کےلئے نت نئے منصو بے پیش کر نے کےلئے کو شاں ہے،تاکہ پاکستان اوردنیا بھرمیں صوبے کا ایک مثبت پہلو سامنے آئے ، اسی سلسلے میں صوبائی حکو مت کی جانب سے ایڈونچر ٹورریم کے فروغ کےلئے پروگرامات ترتیب دئیے گئے ہیں جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیراگلاڈنگ اور رافٹنگ( کشتی رانی ) کے مقابلے قابل ذکر ہیں، محکمہ ٹورریم ، تھرل سیکر اور ایڈونچر کلب اور ایڈونچر ایج کلب خیبر پختونخوا میں اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کےلئے بہت سر گرم ہیں ،نومبر کے آغاز پر کوڑا خٹک کے قریب مصر ی بانڈہ میں پراگلاڈنیگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک خاتون بے نظیر اعوان سمیت 20 نوجوانوں نے پیراگلائیڈنگ کی،اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت ، کھیل و ثقافت ، میوزیم اور امور نوجوانان طارق خان مہمان خصوصی تھے ، ان کے ہمراہ تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ، صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کو پیراگلائیڈنگ کی شاندار ایڈونچر سپورٹس کی سہولت فراہم کی گئی جسے آنے والے نوجوان شرکاءنے خوب سراہا،جس کا مقصد صوبہ کے نوجوانوں کو ایڈونچر سپورٹس اور مصری بانڈہ کے مقام پر سیاحت کو فروغ دینا تھا ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری طارق خان نے کہاکہ پیراگلائیڈنگ ایونٹ کے انعقاد کا مقصد صوبہ میں ایڈونچر سپورٹس اور سیاحت کو فروغ دینا ہے پیراگلائیڈنگ کے مزید 4ایونٹس اسی مقام پر دوماہ کے دوران منعقدکئے جائینگے تاکہ ان مقامات پرسیاحت فروغ پا سکے اور ان مقامات کو ایڈونچر ٹورازم کیلئے فروغ دیکر ترقی دی جائے، تھرل سیکرز کلب کے صاحبزادہ انیس کا کہنا تھا کہ مصری بانڈہ کا مقام ایک سال کی طویل محنت کے بعد میسر ہوا یہ جی ٹی روڈ اور موٹر وے سے 2سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں پیراگلائیڈنگ باآسانی کی جاسکتی ہے اس مقام پر اب سارا سال پیراگلائیڈنگ کی جا سکے گی اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس جانب راغب ہوں ،پیراگلائیڈنگ کیلئے ایک روز قبل گراﺅنڈ پریکٹس دی جاتی ہے تاکہ پیراگلائیڈر ٹریننگ کے بعد پیراگلائیڈنگ کر سکے ، اس وقت پیراچناہی(کشمیر) کے علاقہ خیبر پختونخوا میں بیرمگ لوشت(چترال) اور کاکول (ایبٹ آباد) کے مقامات موزوں ہے جہاں بہترین پیراگلائیڈنگ کی جاسکتی ہے ، مصری بانڈہ سطح سمندر سے 100 سے 150میٹر بلندی پر ہے جہاں پیراگلائیڈنگ کرائی گئی ، اس موقع پر ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 2 سولو فلائٹس کرائی گئیںاور باقی فلائٹس پیراگلائیڈر کو خود کرنے کی اجازت تھی،ٹوورازم کارپوریشن نے اس موقع پر کھانے پینے سمیت ٹرانسپورٹ ، فرسٹ ایڈجو کہ ریسکیو 1122اور دیگرسہولیات فراہم کیں،پیراگلائیڈنگ کا دوسرا ایونٹ ایونٹس 19 اور 20نومبرکو منعقد ہوئے جبکہ تیسرا ایونٹ 3، 4دسمبر، چوتھا ایونٹ16، 17دسمبر جبکہ آخری ایونٹ 30 ،31دسمبر بروز ہفتہ اتوار کو منعقد کئے جائےنگے۔ اسی طرح دریا کی لہروں کو چیرنا اور کھلے عام اسے چیلنج کر نے کےلئے تیزی ترین پانی میں رافٹنگ کی جا تی ہے ، جو کہ یقینا ایک مشکل کام ہے جو کہ محکمہ سیا حت نے بڑا آسان بنا دیا،خیبر پختونخوا میں کشتی رانی کے فروغ اور نوجوان نسل کو ایڈونچر ٹورازم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے دریا کابل کے مقام پر” رافٹنگ ایونٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور اور ایگر اضلا ع سے خواتین سیمت درجنوں افراد نے شرکت کی ، 8 کلو میٹر کے طویل فاصلے مسافت طے کی لطف اندوز ہو ئے اس دوران ایک دوسرے سے سبقت لینے کےلئے نوجوان آپس میں ریسیں لگاتے نظر آئے ،کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام جہانگیرہ کے مقام پر منعقدہ رافٹنگ کے ایونٹ کے انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و کھیل محمد طارق ، ڈپٹی سیکرٹری عادل صافی، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سکندر ذیشان ، ایڈونچر ایج کلب کے ڈائریکٹر خالد خلیل سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی، حکام کا کہنا تھا کہ رافٹنگ (کشتی رانی ) کے ایونٹ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ایڈونچر ٹورازم سے مستفید ہوسکیں ،رافٹنگ میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ رافٹنگ کرنا شوق ہے اور ٹورازم کارپوریشن کی جانب سے یہ سہولیت فراہم کرنا صوبہ کی عوام کیلئے اچھا اقدام ہے ،اس سے انعقاد سے مزید خواتین بھی ایڈونچر ٹورازم کی جانب سے راغب ہونگی، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام رافٹنگ کے اگلے ایونٹ 11 اور 25 دسمبر کو اسی مقام پر منعقد کئے جا ئینگے، خیبر پختونخوا کے حالات بہت بدل گئے ہیں یہاں پر ماضی کے مقابلے ماحول بہت زیادہ سازگارہے، حکومت کی سرپرستی میں اس قسم کی سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں جن میں خواتین کو خصوصی طور پر مواقع دیئے جا رہے ہیں ،

kp actors problems

asif-kahan

فلم سٹار آصف خان

batan-faroki

اداکار باطن فاروقی

guzar alaum.jpg

گلوکار گلزار عالم

 
رپورٹ ، شہزادہ فہد

 

 

فن کار معاشرے کو نیا خیال دیتا ہے معاشر ے میں جمالیاتی حسن کے لئے فن کا ہو نا بہت ضرروی ہے پشاور کے فنکا روں نے دنیا بھر میں اپنی الگ حاصل ہے یہاں کی مٹی نے بڑے عظیم فنکار پیدا کئے، جن کا سکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ میں چلتا رہا ہے،فن کی ترویج کےلئے پشاور میںسابق گو رنر فضل حق نے نشترہال کی بنیاد رکھی نشتر ہال میں ثقافتی پروگرمات کے انعقاد سے فنکاروں کو بہت فائدا ملا اس دور میں نشرہال میں پینٹنگ کلاسز ، مشاعرے ، سٹیج ڈرامے میوزیکل کلاسز ہو تی تھی ،خیبر پختونخوا کے فنکا روں کا ایک سنہرا دور ہو ا کر تا تھا اچانک حالات نے پلٹا کھایا ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے بیشتر فنکار صوبے چھو ڑ گئے ،باقی رہ جانے والے فنکا روں نے دیگر روزگار کو زریعہ معاش بنا یا صوبے میں ثقافتی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں، فنکا روں کو جان کے لالے پڑ گئے ،2013میں جزل انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اکثریت سے کا میاب ہو ئی ، خیبر پختو نخوا حکومت نے فنکاروں کےلئے نت نئے منصوبے بنائے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ فنکاروں کی قربانیوں اور انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ کے طورپر 30 ہزار روپے ماہانہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جو ملک کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا حکومت نے فن وثقافت کے شعبے کی سرپرستی کیلئے عملی بنیادوں پر کام شروع کیا اس فیصلے سے فنکاروں اور فن سے وابستہ دیگر ہنرمندوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور انہیں اب احساس ہوگیا ہے کہ فن وثقافت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے موجودہ وقت میں فن وثقافت اور اس سے وابستہ فنکاروں اور ہنرمندوں کی مسائل کے حل کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس خطے کے عوام بالخصوص فنکار اور ہنرمند انکے ان تاریخی اقدامات کو کبھی نہیں بھولے گی یہ اقدامات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے فنکاروں اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے 30ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ شروع کرنا ایک تاریخ ساز اقدام ہے ، چیف منسٹر ہاوس میں فنکار وں کےلئے باقاعدہ تقریب کا اہمتام کیا گیا جس میں چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، سیکرٹری کلچر و ثقافت اعظم خان اور دیگر افسران نے شرکت کی اس موقع پر 500 فنکا روں کو ماہانہ اعزایہ کے چیک دئیے گئے ، تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے فنکار وں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنکا روں کےلئے اعزایہ جا ری رکھنے کا کہا تھا حکومت کی جانب سے فنکا روں کو اعزایہ دینے پر کچھ سنیئر فنکاروں نے مذکورہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کلچرو ثقافت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے فن کاروں کو ماہانہ30 ہزار روپے اعزایہ دینے سے فنکار بھکاری بن جا ئے گا انھوں نے حکومت کو تجویز دی کہ محکمہ کلچر اعزایہ کی بجا ئے ثقافتی سرگرمیاں شروع کر ے روپے دینے سے فن پروان نہیں چڑے گا بلکہ مزید زورال پذیر ہو جا ئے گا ، ان کے خدشات نے حقیقی روپ اس وقت اختیار کیا جب آٹھ ماہ پر مشتمل منصوبہ ختم ہو ا ، حکومت کی جانب سے منصوبے کی آخری قسم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے ، اس ضمن میں محکمہ کلچر خیبر پختونخوا کے ذمہ دار اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات پر آخری قست جا ری نہیں کی گئی ہے عنقریب ہی آخری قست جا ری کر دی جا ئے گی ، حکومتی امداد بند ہو نے اور صوبے میں ثقافی سرگرمیوں کے عدم انعقاد سے فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ، حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں حکومت کی جانب سے اعزایہ کو جا ری رکھنے اور نشتر ہال کی تزین و آرائش کے بعد مذکورہ500 فنکا روں کو برسر روزگار راور فن کی ترویج کےلئے عملی اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے ، نشتر ہال میں حکومتی سطح پر ثقافتی تقاریب کے انعقاد سے جہاں فنکاروں کو مالی فائدہ ملے گا وہاں دہشت گردی کے ستائے ہو ئے شہریوں کو ایک سستی تفریح بھی میسر ہو گی ،محکمہ کلچر کے زیر انتظام نشتر ہا ل میں ثقافتی ڈرامے ، مزاحیہ خاکے ، میوزیکل کنسرٹ کے انعقاد سے ڈیپارنمٹ کو بھی فائد ہ حاصل ہو گا ، اس کےلئے محکمہ کلچرل کو زیادہ محنت نہیں کر نی پڑے گی ، محکمے کے پاس پانچ سو سے زائد فنکاروں کا ڈیٹا اعزازیہ کی مد میں پہلے سے موجود ہے ، جن میں گلوکار ، طبلہ نوا ز ،رباب نواز آرٹسٹ سیمت ہنر مندوں شامل ہیں ان افراد کو نشتر ہال میں منعقد کی جانے والی تقاریب میں شامل کیا جا ئے اور معقول معاوضے دیا جا ئے جس سے فنکار وں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی فن کی خدمت بھی جاری رہے گی ،

khyber pukhtun khwa cenima

شہزادہ فہد ۔
دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم کے زریعے لو گوں کے ذہنوں کو تبدیل کر نے کے نئے سینما کلچر کی بنیا د رکھی گئی، انیسویں صدی کے آخر سے بیسوں صدی کے اوائل تک برصغیر پاک و ہند کے عام لوگوں کو ”فلم “ جیسی کسی چیز سے کو ئی واقفیت نہ تھی سینما کی تاریخ کے متعلق بتا یا جا تا ہے کہ 1896 عسیوی میں فرانس کے دو بھائی ”لو میئر برادرز “ اپنی ایجاد کر دہ ایک چھو ٹی سے پروجیکٹر مشین لے کر ممبئی آئے اور ایک ہو ٹل میں فلم شو کو آغاز کیا جس کا ٹکٹ دو روپے تھا ، لو میئر برادرز نے 7 جو لا ئی 1896 کو ممبئی کے واٹسن ہو ٹل کے ہا ل میں چار شو دکھائے ہر شو میں تقریبا دوسو افراد نے یہ فلم دیکھی ،سینما میں فلم دیکھنا دراصل شوشل ایونٹ ہے جس میں تمام ہا ل کا اکھٹے ہنسنا،رونااور دیگر جذبات کا یکجا ہونا فطری عمل ہے ، صوبا ئی دارلحکومت پشاور سینما کا رنگین دور رہا ہے ، ہما رے بزرگ فیملی کے ساتھ فلم دیکھنے جا تے تھے پشاور میں سب سے پہلے سینما قصہ خوانی بازار میں میں پہلی جنگ عظیم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر کیا گیا یہ عارضی سینما کابلی تھانے کی عمارت کے قریب تھا جہاں خامو ش فلموں کی نما ئش ہو تی تھی ، 1925 کے لگ بھگ پشاور کے ایک ہند و سیٹھ اچر چ رام گھئی نے جس کی قصہ خوانی میں امپیریل شوز کے نام سے جو توں کی دکان تھی جس نے کا بلی دروازے کے باہر ” امپیریل تھیٹر “ کے نسام سے ایک سینما تعمیر کروایا ، یہ پشاور کو پہلا مکمل با ئیسکو پ تھا یہاں پر بھی خا مو ش فلموں کی نما ئش کی جا تی، 1931 میں ہند وستان کی پہلی بولتی فلم ” عالم آرا “ کی نما ئش کی گئی ، اس تھیٹر کا نام بعد میں تبدیل ہو کر ” امپیریل ٹاکیز “ رکھ دیا گیا ، صوبے کا دوسرے با ئیسکو پ کی بنیاد ایک سکھ تا جر دسونتی سنگھ نے رکھی جس کو ” پیکچرہا وس “ کا نام دیا ، کابلی دروازے کا اخری سینما ” دلشاد ٹاکیز “ ( مو جود ہ تصویر محل ) پشاو کے سیٹھ غلام رسول کھوجہ سوداگر چرم نے بنوایا ، یہ سینما آغا جی اے گل نے لیز پر حاصل کیا تھا اور تقسیم پاک و ہند تک ان کے پاس رہا قیام پاکستان کے بعد جب آغا جی اے گل لا ہوا شفٹ ہو ئے تو انہوں نے یہ سینما پشاور کے صابر ی ہو ٹل کے مالک حا جی فیروز صابر ی کی تحویل میں دے دیا جنھوںنے اس کا نام دلشاد ٹاکیز سے تبدیل کر کے تصویر محل رکھ دیا ان سینما ووںسے کابلی دروازہ ایک مکمل سینما ما رکٹ بن گیا تھا ، اسی طر ح پشاور کے سردار ارجن سنگھ نے آساما ئی دروازے کے باہر ایک با ئیسکو پ” وائٹ روز تھیٹر “ تعمیر کروایا یہ سینما بھی پشاور کے دیگر سینما ووں کی طر ح فعال تھی قیام پاکستان کے بعد سینما پشاور کے رئیس جان محمد خان کو الاٹ ہو گیا اس سینما کا نام تبدیل کر کے ” ناز سینما “ رکھ دیا گیا، پشاور میں مین جی ٹی روڈ پر قائم فردوس سینما اودیات کے معروف تاجر ایم اے حکیم کے چھو ٹے بھائی آغا جی اے گل نے بنوایا،اس سینما کی تعمیر دوسری جنگ عظیم 1945 کے بعد شروع ہو ئی اور 1974 میںاس کی تعمیر مکمل ہو ئی اس سینما کا شماراپنے وقت کے بہترین سینما میں ہو تا تھا ، پشاور کینٹ کے سینما کے بارے میں بتا یا جاتا ہے کہ کینٹ میں فلموں کی نمائش 1921-22 میں ہو ئی تاہم یہاں فوجی افسران کے علاوہ کسی اور کو فلم دیکھنے کی اجازات نہ تھی یہاں پر صرف خامو ش انگریزی فلموں کی نما ئش کی جا تی تھی ، 1931 میں یہاں دوبارہ بلڈنگ تعمیر کی گئی اور کا فی عرڈہ تک اسے گریزن سینما ہی کہا جا تا رہا آک کل یہ پاکستان ائیر فورس کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور اسے ” پی اے ایف سینما “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے علاوہ کینٹ میں پرانے سینماووں میں ’ ڈی لیکس ، ڈی پیرس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بند کر دیا گیا تھا 1930-31 میں پشاور کے ایک سیٹھ ایشور داس ساہنی نے پشاور کینٹ میں اپنا ذاتی سینما ” کیپٹل سینما“ تعمیر کروایا یہ سینما اپنی نو یت کا خا ص سینما تھا جس کو ممبئی کے میٹرو سینما کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا یہ اس وقت کا جدید ترین سینما تھا جس میں انگریزی فلموں کی نمائش ہو تی تھی اور بعد میں اردو فلموں کی نما ئش بھی ہو ئی اس سینما کے مالک سیٹھ ایشور داس ساہنی کے انڈیا میں چالیس سینما گھر تھے تاہم ان کا ہیڈ آفیس پشاور میں ہی تھا اس سینما کے احاطے میں پرنٹنگ پریس بھی تھا جو کہ فلموں کے پرسٹر ز اور تصاویر پرنٹ کر تا تھا سینمامیں سوڈا وارٹر کی کانچ کی گولی والی بوتل کی مشین نصب تھی اور ڈرائی فروٹ ، نمکین دالیں ، مو نگ پھلی وغیر ہ لفافوں میں پیک کرکے ہندوستا کے سینما گھروں کو بھیجا جا تا تھا ،کینٹ میں ایک اور سینما ” لینسڈا “ جس کا نام تبدیل کر کے فلک سیر سینما رکھا گیا جو کہ اپنے وقت میں انگریزی اور اردو فلموں کی نمائش میں پیش پیش رہا ، دہشت گردی سے متاثر صوبے میں جہاں شہریوں کو تفریحی مواقع میسر نہیں ہیں وہاں شہریوں میں ذہنی تنا وع بڑھ رہا ہے حکومت کی جانب سے سینما کلچر کے فروغ کےلئے اقدامات نہ ہو نے سے شہریوں میں ما یوسی پھیل رہی ہے، چند دھا ئی قبل پشاور میں فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے کا رواج تھا جو کہ قصہ پا رینہ بن چکا ہے صوبائی دالحکومت پشار میں سینما کلچر آخری ہچکولے لے رہا ہے اس وقت پشاور میں گنتی کے چند سینما فعال ہیں جن میں سینما روڈ پر پکچر ہا وس اور تصویر محل ، سویکارنو چوک میں صابرینہ اور ارشد سینما ، جبکہ کینٹ میں کیپٹل سینما شامل ہیں،کچھ عرصہ قبل ہی سینما روڈ میں ناولٹی سینما ، فلک سیر پشاور کینٹ ، فردوس شبستان سینما ، میڑو سینما کو ختم کرکے بڑے بڑے پلازوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گلبہار میں واقع عشرت سینما کئی سالوں سے بند پڑی ہے پشاور میں باقی رہ جانے والے سینما وں کshama-cenma-ka-baroni-manzartsweer-mahal-cinmapicter-houne-cinma-ka-manzar

sabiqa-frdos-cenma-palaza-banny-jarha-hy
sabiqa firdos ( shabistan) cenma par bany wala plaza

sabiqa-nawlty-cinmaa-ka-manzr-jaha-palaza-bna-diyz-giya-hyی حالت بھی انتہا ئی خستہ ہے ، صوبائی دارلحکومت سیمت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی یہی حال ہے کو ہا ٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کو ہاٹ ، نو شہرہ ، اور مردان میں تیزی سے سینما گھروں کو پلا زوں اور کمر شل سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، پشاور میں سینما گھروں کی ویرانی میں حکومت اور فلمی دنیا سے وابسطہ افراد نے کردار ادا کیا وہاں رہی سہی کسر دہشت گردی نے پوری کر دی ، 2فروری کو سینما روڈ پر واقع پکچر ہا وس سینما میں پشتو فلم ” ضدی پختون “ کی نمائش کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے دوران شو ہینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7افراد جاںبحق اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے اسی طر ح چند روز بعد 11فروری کو باچا خان چوک کے قریب شمع سینما میں بھی شو کے دوران ھینڈ گرنیٹ حملہ کیا گیا جسمیں 14 افراد جاںبحق اور 23 زخمی ہو ئے مذکو رہ واقعات کے بعد شائقین کے ذہنوں میں خو ف و ہراس پھیل جانے سے پشاور کے سینما گھر ویران ہو گئے، اسی طر ح ایک ریلی کے دروان مظاہرے اور توڑ پھوڑ پر مشتعل مظاہرین نے شبشتان سینما کو آگ لگا دی جس کے بعد شبستان سینما فروخت کر دیا گیا ، دہشتگرود ں سے خائف سینما مالک دب کر بٹیھ گئے اسی دوران کیپٹل سٹی پولیس نے سینماوں میں سیکورٹی کے نام مالکان کے خلاف مقدمات کا سلسہ شروع کیا اور درجنوں مقدمات نا قص سیکو رٹی کی بناءپر درج کئے گئے ہیں ، جس کے باعث بیشتر سینما مالکان اس کاروبار سے کنارا کش ہو کر دیگر کا روبار کی جانب راغب ہو رہے ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں سینما کلچر دم توڑ رہا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبا ئی حکومت پشاور میں سینما کلچر کے فروغ کےلئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ دہشت گردی سے متاثر شہریوں کو سستی تفریح کے مواقع میسر ہوں

wall city peshawar

رپورٹ و تصاویر
شہزادہ فہد

پشاور پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے اس کا شمار پاکستان کے بڑے شہروں میں ہو تا ہے ، وسطی جنونی اور مغربی ایشیاءکے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہو نے کی وجہ سے پشاور صدیوں سے افغانستا ن جنو بی ایشیاء، وسطی ایشیاءاور مشرق وسطی کے درمیان ایک مرکز کی حیثیت سے قائم چلا آرہا ہے ، محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے مطابق پشاور کو دنیا بھر میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ شہر ہر دور میں آباد چلا آ رہا ہے ،وید دیومالا میں پشاور اور آس پاس کے علاقے کو “پشکلاوتی” کے نام سے جانا جاتا ہے جو “رامائن” کے بادشاہ “بھارت” کے بیٹے “پشکل” کے نام سے منسوب ہے۔ تاہم اس بارے ابھی کوئی یقینی رائے موجود نہیں ہے مصدقہ تاریخ کے مطابق اس علاقے کا عمومی نام “پورش پورہ” (انسانوں کا شہر) تھا جو بگڑ کر پشاور بن گیا۔ دوسری صدی عیسوی میں مختصر عرصے کے لئے وسطی ایشیاءکے توچاری قبیلے “کشان” نے پشاور پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارلحکومت بنایا۔اس کے بعد 170 تا 159 ق م اس علاقے پر یونانی باختر بادشاہوں نے حکمرانی کی اور اس کے بعد مملکتِ یونانی ہندکے مختلف بادشاہ یہاں قابض ہوتے رہے۔ ایک تاریخ دان کے مطابق پشاور کی آبادی 100 عیسوی میں ایک لا کھ بیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور اس وقت آبادی کے اعتبار سے دنیا کا 7واں بڑا شہر تھا۔ بعد میں پارتھی، ہند پارتھی، ایرانی اور پھر کشان حکمرانوں نے قبضہ کئے رکھا۔ 1812 میں پشاور پر افغانستان کا قبضہ ہوا لیکن جلد ہی اس پر سکھوں نے حملہ کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر کے یہاں کا دورہ کیا اور 1834 میں اسے سکھ ریاست میں شامل کر لیا ،2008 میں پاکستان میں سکھوں کی سب سے بڑی تعداد پشاور میں ہی آباد تھی،پشاور میں تاریخی دروازوں کی تعمیر سکھوں کے دور میں ہوئی تھی جب سکھوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پشاور کو مضبوط کیے بغیر وہ علاقے پر اپنا کنٹرول نہیں رکھ سکتے اور یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے دور میں پہلی بار پشاور کے اردگرد موجود مٹی کی بنی ہوئی فصیل کو پختہ کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پشاور کی دیوار پناہ میں دروازے موجود تھے لیکن سکھوں نے ان دروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا، حالیہ حکومت نے پشاور کے قدیم تاریخی فصیل کو محفوظ کر نے کےلئے ایک منصوبے منظور کیا جسے ”وال سٹی کا نام دیا گیا تاہم بد قسمتی سے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود منصوبے میں کو ئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی ،پشاورشہر میں سکھ دور میں تعمیر شدہ فصیل شہر کی بحالی کا منصوبہ ایک سال میں سروے بھی مکمل نہ ہو سکا گزشتہ سال 2015میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائبات خیبر پختونخوا کوفصیل شہر کی بحالی کے منصوبے کےلئے20ملین روپے منظور کئے گئے تھے تاہم ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پراجیکٹ سست روی کا شکا ر ہے، پشاور کی چار دیوار ی اور 16تاریخی دروازوں کی تزئےن و آرائش و حفاظت کےلئے بلیجیم یونیورسٹی کی مددد سے نئی وال سٹی تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا یا گیا تھا ، آرکیالوجی اینڈ میوزیمزحکام نے وال سٹی کو اتھارٹی میں تبدیل کر نے کا عندیہ دیا تھا تاہ

م ایک سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجواس ا نٹرنیشنل سطح کے پراجیکٹ پر کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا،رامداس بازار سے شروع ہونی قلعہ نما دیوار حکام کی خاموشی کے باعث اپنی اصل حالت کھورہی ہے جبکہ ٹھنڈ ا کھوئی گیٹ سے کچھ آگے دیوار کو گرا گیراج میں تبدیل کر دیا ہے اسے آگے کوہاٹی گیٹ تک دیوار کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا ، کوہاٹی گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پر پھر سے فصیل شہر اپنی اصل حالت میں موجود نظر آتی ہے تاہم مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس دیوار کو بھی جگہ جگہ سے توڑا جارہا ہے یہ دیوار کوہاٹی ٹیڈی گیٹ تک اپنی اصل حالات میں موجود ہے دیوار کے اوپر شہری رہائشیوں نے حفاظتی جنگلے بھی نصب کئے ہوئے ہیں ، یکہ توت گیٹ کے قریب بھی دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے ، یکہ توت سے نشتر آباد چوک تک یہ دیوار مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے، دیوار کو ختم کرکے گھر، مارکیٹ اور دوکانیں قائم کر دی گئی ہیں، حکومت کی جانب سے پراجیکٹ کو مکمل کرنے کےلئے کوالیفائےڈ اسٹاف بھرتی کیا گیا، تاہم کارکردگی صفر رہی ،پراجیکٹ کو بہتر انداز سے مکمل کرنے کےلئے پراجیکٹ میں کنزرویشن اسسٹنٹ، آرکیالوجسٹ ، آرکٹیکچر اور دیگر ماہرین کی پوسٹیں رکھی گئی تھیں جن پر گزشتہ سال سے ہی بھرتیاں مکمل کرلی گئی جبکہ لاہور وال اتھارٹی منصوبے میں کام کرنےوالے ایک افسر کو پراجیکٹ ڈائرےکٹر تعینات کیا گیا ہے جوکہ اس وقت محکمہ کلچرل خیبر پختونخوا کے مختلف پراجیکٹس میں بھی انتظامات چلا رہے ہیں ذرائع کے مطابق پراجیکٹ میں بھرتی ہونےوالے ملازمین کو بھاری تنخواہیں دی جارہی ہے لیکن پھر بھی کارکردگی صفر ہے ، ڈیفنس کالونی میں لاکھوں روپے ماہانہ پر ایک بنگلہ خرید کر پراجیکٹ آفس قائم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پراجیکٹ کا سارا عملہ تحصیل گورگٹھڑی میں موجود ہے جبکہ سرکاری رقم حاصل کر دہ بنگلہ بھوت بنگلے کا منظور پیش کر رہا ہے ،انٹرنیشنل سطح کے اس پراجیکٹ میں جہاں قدیم شہر پشاور کی اصل حالت میں آنے کے ساتھ غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر ے وہاں پشاور کے تاریخی ہنروں مثلاً تنکا سازی ، قراقلی، رباب بنانا وغیر ہ کے فن کو زندہ رکھنے کےلئے بھی بڑی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت پشاور کے شہریوں کو یہ قیمتی ہنر سکھایا جا رہا ہے جس کےلئے اس ہنر میں پشاور شہر کے ماہر استادوں کی خدمات حاصل کی گئی ہے جبکہ کام سیکھنے والے ہنر مندوں کو بھی ماہانہ وظیفہ دیا جائےگاکام سیکھنے کا دورانیہ چار ماہ تک ہو گا جس کے بعد شاگردوں کو تعریفی سرٹیکفیٹ دئےے جائےنگے ، وال سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کے فوکل پرسن نو از الدین صدیقی نے بتا یا کہ وال سٹی پراجیکٹ پر کام جا ری ہے ، انھوں نے بتا یا کہ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں فصیل شہر کے اطراف میں قائم پرانی آباد ی پر سروے کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں لسٹیں تیار کرکے زیا دہ متاثر مقامات پر فصیل شہر کی تعزین و آرائش کی جا ئے گی ، پراجیکٹ کےلئے کرایہ پر بنگلہ حاصل کر نے کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ مذکورہ جگہ پر پراجیکٹ ڈائر یکٹر کےلئے مختص کی گئی ہے جہاں پرا جیکٹ کے متعلق دستایز اور دیگر ضروری معمالات حل کئے جا تے ہیں جبکہ پراجیکٹ کا دیگر سٹاف گور گھٹری میں مو جود ہوتا ہے انھوں نے بتا یا کہ 3 سالوں کے اس پراجیکٹ میں پشاور کا نقشہ تبدیل ہو جا ئے گا ،چےئرمین تحریک انصاف عمران خان کی خصوصی دلچسپی کے باعث یہ بین الاقوامی سطح کا منصوبہ پشاور میں پیش کیا گیا تاہم ایک سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی، ڈائرےکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیمز خیبر پختونخوا ڈاکٹر عبد الصمد نے وال سٹی اتھارٹی کے نام سے آرگنائزیشن بنانے کا عند یہ بھی دیا تھا جو کہ ان گیٹس اور چار دیوار کی حفاظت ، تزئےن و آرائش و دیگر معاملات پر نظر رکھے گی دوسری جانب اس چار دیوار ی کے اندر موجود سیٹھی ہاﺅس ، دلیپ کمار ہاﺅس ، گھنٹہ گھر ، گورگٹھڑی پشاور اور دیگر مقامات کی تزئین و آرائش کا عہد بھی کیا گیا تھا جبکہ اس تاریخی چار دیواری کے اندر واکنگ ٹریک بھی تعمیر کیا جانا ہے جہاں گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی پشاور کی عوام اور تاجر برادری بھی شہر کے اندر واکنگ ٹریک اور شہر کی تزئین و آرائش چاہتی ہے جسکو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کو مزید خوبصورت بنایا جاسکتا ہے ، پشاور شہر میں برسوں سے قائم رہائشی گھروں، مارکیٹوں اور دوکانداروں کو ہٹانے کوئی آسان کام نہیں ہو گا کیونکہ یہ سب گزشتہ کئی دہائےوں سے یہاں پر بس رہے ہیں بعض گھروں کے رہائشیوں اورپلازہ مالکان کے مطابق اس وقت انکے پاس ان جگہوں کے انتقال اور رجسٹری کاغذات بھی موجود ہیں جس کے تحت انکے بزرگوں نے فصیل شہر میں قائم زمین خرید یں تھی اور وہ اسکا باقاعدہ سے ٹیکس بھی جمع کر وارہے ہیں واضح رہے کہ لاہور وال سٹی منصوبے کے دوران بھی وال سٹی کے عملے اور تاجروں کے دوران کئی جھڑپےں ہوئی جس میں کئی تاجر دوکاندار وں کو جانی و مالی نقصان ہو ا تھا، صوبائی حکومت کو بھی لاہور جیسے واقعات سے بچنے کےلئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو گیَپشاور کے باسیوںکا کہنا ہے کہ فصیل شہر کی بحالی اب کوئی آسان کام نہیں رہا شہر بھر میں فصیل کے اطراف میں نئی آبادیاں بنائی جا رہی ہیں جو کہ حکومت کےلئے چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں، حکومتی دلچسپی اور تحفظاتی اقدامات کے باعث اس تاریخی دیوار کواپنی اصل حالت میں بحال کیا جاسکتا ہے جوکہ وقت کی ضرورت ہے ۔

mughal empire in peshawar is going to death pti

سروے رپورٹ ۔۔
پشاور(شہزادہ فہد )چمکنی کے قریب گاو¿ں چوہا گوجر میں مغل دور حکومت میں بنائی گئی مسجد رفتہ رفتہ ایک سست موت مر رہی ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی یادگار کی بحالی اور تحفظ کےلئے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اقدامات ان کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔مقامی لوگوں کیجانب سے اس مسجد کو ” بولی “ طور پر جانا جاتا ہے ۔ زرعی کھیتوں اور باغات کے درمیان کھڑی یہ مسجد کے قریب ہر سال آبادی میں جکڑی جا رہی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث مقامی لوگوں کی جانب سے مسجد کو ختم کر نے کی کوششیںکی جا رہی ہیں۔اور اس حقیقت کو پس پردہ رکھا جا رہا ہے کہ مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔مسجد مغل طرز تعمیر کا ایک بہترین شاہکار ہے ۔مسجد کی تعمیر وزیری اینٹوں اور چونے کے پتھر وں سے کی گئی ہے۔مورخین کے مطابق یہ مسجد جہانگیر کے دور میں 17 صدی کے دوران تعمیر کی گئی ہے اور اس مسجد کی تعمیر کا مقصد برصغیر کے دیگر حصوں میں وسطی ایشیا اور افغانستان سے آنے والے مسافروں کی سہولت کے لئے تھا۔مسجد کی اونچائی میں 12 فٹ، اور چوڑائی 15سے 30 فٹ ہے مسجد کے مرکز میں ایک بڑا محراب ہے جو کہ خستہ حالی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ڈھانچے پر موجود عمارت کے چاروں کو نوں پر میناروں کا نام و نشان غائب ہو چکا ہے جو کہ کچھ عرصہ پہلا موجود تھے ۔ کچھ لو گوں کو خیال ہے کہ اس مقام پر مسجد کے سامنے ایک بڑا پانی کا کنوں تھا جس سے وضو کے لئے پا نی استعمال کیا جاتا تھا اور مسجد کے کے سامنے ایک کھلی زمین بھی تھی جس میں مسافر آرام کر تے تھے ۔
2۔۔۔
گاوں چوہا گجر میں موجود قدیم بو لی مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ آرکیالوجی ایکٹ کے مطابق 70 سال سے زائد عرصہ گزر جا نے والی عمارتیں تاریخ کا حصہ بن جا تی ہیں پشاور میں بیسیوں تاریخی عمارتیں ہیں جو کہ خستہ حال ہیں حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ پر کا م کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے شہر کے گرد Fahad express storyوال سٹی اور دیگر قدیم عمارتوں کو محفوظ کر نے کے باتیں کی جا تی ہیں لیکن تاحال ان منصوبو ں پر کو ئی عمل درآمد نہ ہو نے کے برابر ہے چوہا گجر میں واقع بو لی مسجد کی کی بحالی کے لئے کو ئی بھی ذمہ داری قبول نہیں ر ہا اور متعلقہ حکام کا بولی مسجد کی اہمیت کو نظر انداز کر نا صوبے میں تبدلی کے دعوﺅں کی نفی کر تا ہے

3۔۔۔۔
صوبا ئی دارلحکومت پشاورکا شما ر ا ان شہر وں میں ہوتا ہے جہاں مختلف ادوار میں تہذ بیں پنبتی رہی ہیں۔ پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جو کہ ہر وقت آباد رہا ہے ۔جس کے خدوخا ل آج بھی شہر اور گردونواح میں موجود کھنڈارات میں محسوس کئے جا سکتے ہیں یہ کھنڈارات ہمیں اس تاریخی شہر کی ہزاروں سال تہذیب اور اس میں بسنے والی ہنر مندوںں کی ؑظمت کا پتا دیتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ جس قوم میں کھنڈارات نہیں ہو تے ان کی تاریخ نہیں ہو تی ۔ صوبا ئی حکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں تمام کھنڈارت کی بحالی کےلئے اقدامات کرے تاکہ ہمارا قومی ورثہ محفوظ رہے ۔